امام باڑہ غفران مآب
Appearance
| ابتدائی معلومات | |
|---|---|
| بانی | سید دلدار علی نقوی |
| استعمال | امام باڑہ |
| محل وقوع | لکھنؤ، ہندوستان |
| مشخصات | |
| موجودہ حالت | فعال |
| معماری | |
امام باڑہ غُفران مآب ہندوستان کے شہر لکھنؤ میں موجود مشہور امام باڑوں میں سے ایک ہے۔[1] عزاداری امام حسینؑ اور دیگر دینی رسومات اس امام باڑے میں منعقد کیے جاتے ہیں۔[2]
امام باڑہ غفران مآب کی تعمیر سنہ 1127ھ میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔[3] یہ مذہبی عمارت ہندوستان کے شیعہ عالم دین سید دلدار علی نقوی کی یاد میں ان کے لقب غفران مآب کے نام سے مشہور ہوگئی۔[4]
بعض تاریخی مصادر کے مطابق ہندوستان کے 100 سے زائد علما اس امام باڑے میں مدفون ہیں،[5] ان میں سید دلدارعلی نقوی[6] اور ان کے بیٹے سید محمد المعروف سلطان العلماء شامل ہیں۔[7]
حوالہ جات
- ↑ «سید غفران علی دلدار مآب»، علمای ہند۔
- ↑ «امام باڑہ غفران مآب میں یوم علی اصغر منایاگیا، خواتین نی شیر خوار بچوں کی ساتہ شرکت کی»، ETV Bharat Urdu۔
- ↑ «سید دلدارعلی نقوی (غفران مآب)»، مرکز احیاء آثار بر صغیر۔
- ↑ «سید دلدارعلی نقوی (غفران مآب)»، مرکز احیاء آثار بر صغیر۔
- ↑ «آرامستان دلدار»، پایگاہ اطلاعرسانی امامت۔
- ↑ «سید غفران علی دلدار مآب»، علمای ہند۔
- ↑ ضابط، «نقش علمای مہاجر ایرانی در ترویج تشیع در لکهنوی ہند»، پایگاہ اطلاعرسانی حوزہ۔
مآخذ
- «آرامستان دلدار»، پایگاہ اطلاعرسانی امامت، تاریخ درج مطلب: 3 فروری 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 30 دسمبر 2025ء۔
- «امام باڑہ غفران مآب میں یوم علی اصغر منایاگیا، خواتین نی شیر خوار بچوں کی ساتہ شرکت کی»، ETV Bharat Urdu، تاریخ مشاہدہ: 30 دسمبر 2025ء۔
- «سید دلدارعلی نقوی (غفران مآب)»، مرکز احیاء آثار بر صغیر، تاریخ مشاہدہ: 30 دسمبر 2025ء۔
- «سید غفران علی دلدار مآب»، علمای ہند، تاریخ مشاہدہ: 30 دسمبر 2025ء۔
- ضابط، حیدررضا، «نقش علمای مہاجر ایرانی در ترویج تشیع در لکهنوی ہند»، پایگاہ اطلاعرسانی حوزہ، تاریخ درج مطلب: 31اکتوبر 2009ء، تاریخ مشاہدہ: 30 دسمبر 2025ء۔