تدریجی نزول

نامکمل زمرہ
فاقد سانچہ
ویکی شیعہ سے

تدریجی نُزولِ یا تفصیلی نزولِ سے مراد پیغمبراکرمؐ پر قرآن مجید کا 23 سال کے عرصے میں زمان و مکان کے شرائط کے مطابق ایک یا متعدد آیات کا نزول ہے۔ اکثر مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن مجید شب قدر میں دفعی اور اجمالی طور پر نازل ہوا جبکہ اس کے نزول تدریجی کا آغاز روز بعثت پیغمبر اکرمؐ، سورہ علق کی ابتدائی آیات کے نزول سے ہوا اور سورہ نصر کے نزول کے بعد سلسلہ نزول قرآن اختتام پذیر ہوا۔ بعض مفسرین، قرآن مجید کے نزولِ دفعی کا سرے سے انکار کرتے ہوئے اس کے شب قدر میں نزول کو نزول تدریجی کا سرآغاز قرار دیتے ہیں۔ نزول تدریجی قرآن مجید کی بعض حکمتیں یہ ہیں: حضرت محمدؐ اور آپؐ کے اصحاب کے دلوں کو تسکین اور تقویت دینا اور مسلمانوں کو دینی احکام سے بتدریج آشنا کرانا۔

معنی و مفہوم

مفسرین کے مطابق قرآن کریم، رسول خداؐ کے دوران رسالت میں زمان و مکان کے شرائط کے مطابق جبرئیلؑ کے ذریعے بتدریج نازل ہوا؛ علوم قرآن کی اصطلاح میں اسے «نزول تدریجی» یا «نزول تفصیلی» کہتے ہیں؛[1] اس کے مقابلے نزولِ دفعی کا ذکر آتا ہے جس کے مطابق قرآن مجید شب قدر کو ایک ہی دفعہ میں پیغمبر اکرمؐ کے قلب مطہر پر نازل ہوا۔[2] اکثر مفسرین نے نزول تدریجی کے دورانیے کو 23 سال قرار دیا ہے۔[3] علما کا ایک گروہ اس دورانیے کو 20سال قرار دیتے ہیں۔[4] نزول تدریجی کی متبادل تعبیریں یہ ہیں: «نزول تفصیلی»، «نزول مفرقی»، «قرآن تنزیلی»، «تنجیم قرآن»، «تدرج نزول»، «تجدد نزول» اور «تنزل تدریجی»۔[5]

نزول کا آغاز

اکثر مفسرین شیعہ اور اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ بعثت رسول خداؐ کے ساتھ ہی قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا؛ اس وقت سورہ علق کی ابتدائی چند آیات نازل ہوئیں۔[6] اسی طرح سورہ نصر، نزول کے اعتبار سے پیغمبرؐ پر نازل ہونے والا آخری سورہ ہے۔[7] البتہ کچھ قلیل روایات میں آیا ہے کہ سب سے پہلے نازل ہونے والا سورہ، سورہ حمد یا سورہ ضحیٰ یا سورہ نجم ہے اسی طرح آیہ اکمال اور سورہ مائدہ نزول کے اعتبار سے پیغمبرؐ پر نازل ہونے والا سب سے آخری آیہ اور سورہ ہے۔[8] قرآن کے نزول دفعی کے منکریں؛ شیخ مفید، سید مرتضی، زمخشری اور ابن شہر آشوب کا عقیدہ ہے کہ قرآن صرف تدریجی انداز میں پیغمبرخداؐ پر نازل ہوا ہے۔[9] نزول دفعی کے ان منکرین کے مطابق جن آیات میں کہا گیا ہے کہ «ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے»[10] یا «رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا»،[11] ان آیات میں شب قدر اور ماہ رمضان کو نزول قرآن کے آغاز کے طور پر بتایا گیا ہے۔[12]

دلائل اور حکمتیں

مفسرین قرآن، سورہ بنی اسرائیل کی آیت106 کو نزول تدریجی کی سب سے اہم دلیل سمجھتے ہیں؛ جس میں ارشاد خداوندی ہے: «اور قرآن کو ہم نے جدا جدا رکھا ہے تاکہ آپ اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ہم نے اسے بتدریج نازل کیا ہے»[13] قرآنی آیات اور احادیثِ معصومینؑ کے مطابق قرآن کے نزول تدریجی کی حکمتوں میں سے ایک اہم حکمت یہ تھی کہ مسلمان ایک ہی مرتبہ میں تمام احکام الہی کا مکلف قرار نہ پائیں بلکہ استمرار زمانہ، شرائط مکان و زمان اور پیش آنے والے واقعات کے مطابق مسلمان احکام الہی اور عقائد سےآشنا ہوجائیں،[14] اسی طرح نزول تدریجی کی ایک اور حکمت یہ تھی کہ مسلمان آیات قرآنی کا بآسانی فہم و ادراک اور ان پر عمل کریں۔[15] قرآن و احادیث میں نزول تدریجی کی بعض دیگر حکمتیں یوں بیان ہوئی ہیں:

  • پیغمبر اسلام کی تشفی خاطر.
  • پیغمبر خداؐ اور آپؐ کے اصحاب کے دلوں کی مضبوطی اور ایمان میں اضافے کے لیے۔
  • آیات قرآن کے حفظ میں آسانی اور قرآن کو محفوظ کرنے کی خاطر۔
  • مسلمانوں کو زمان و مکان کے تقاضوں کے مطابق احکام الہی سے آشنا کرانا مقصود تھا۔
  • اسلامی معاشرے میں فرحت و انبساط ایجاد کرنے کی خاطر۔
  • مناسب وقت میں مسلمانوں کے سوالات کا جواب دینے کی خاطر۔[16]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. فرهنگ نامه علوم قرآن، «نزول تدریجی قرآن کریم»، ص983.
  2. انصاری، «نزول دفعی قرآن کریم» ص2226.
  3. ناصحیان، علوم قرآنی در مکتب اهل بیت، 1389ہجری شمسی، ص118.
  4. ناصحیان، علوم قرآنی در مکتب اهل بیت، 1389ہجری شمسی، ص118.
  5. فرهنگ نامه علوم قرآن، «نزول تدریجی قرآن کریم»، ص983.
  6. ناصحیان، «نزول دفعی قرآن، شبهات و پاسخ‌ها»،‌ ص74.
  7. ناصحیان، علوم قرآنی در مکتب اهل بیت، 1389ہجری شمسی، ص110.
  8. ناصحیان، علوم قرآنی در مکتب اهل بیت، 1389ہجری شمسی، ص114.
  9. رامیار، تاریخ قرآن، 1369ہجری شمسی، ص191؛ ناصحیان، علوم قرآنی در مکتب اهل بیت، 1389ہجری شمسی، ص72.
  10. سوره قدر، آیه1.
  11. سوره بقره، آیه185.
  12. رامیار، تاریخ قرآن، 1369ہجری شمسی، ص191.
  13. وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا: سوره بنی اسرائیل، آیه106.
  14. انصاری، مسعود، «نزول تدریجی قرآن کریم»، ص2228.
  15. انصاری، مسعود، «نزول تدریجی قرآن کریم»، ص2228.
  16. اسماعیلی زاده، «اسرار و حکمت‌های نزول تدریجی از دیدگاه قرآن»، ص72-90.

مآخذ

  • قرآن کریم.
  • اسماعیلی زادہ، عباس، «اسرار و حکمت‌ہای نزول تدریجی از دیدگاہ قرآن»، در نشریہ الہیات و حقوق دانشگاہ رضوی، شمارہ 5، زمستان1383ہجری شمسی.
  • انصاری، مسعود، «نزول تدریجی قرآن کریم»، در مجموعہ مقالات دانشنامہ قرآن، تہران، نشر دوستان، 1377ہجری شمسی.
  • انصاری، مسعود، «نزول دفعی قرآن کریم»، در مجموعہ مقالات دانشنامہ قرآن، تہران، نشر دوستان، 1377ہجری شمسی.
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، موسسہ انتشارات امیرکبیر، 1369ہجری شمسی.
  • بی‌نا، مقالہ «نزول تدریجی قرآن کریم» در فرہنگ نامہ علوم قرآن، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، 1394ہجری شمسی.
  • معرفت، محمد ہادی، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات سمت، 1383ہجری شمسی.
  • ناصحیان، علی اصغر، علوم قرآنی در مکتب اہل بیت، مشہد، نشر دانشگاہ علوم اسلامی رضوی، 1389ہجری شمسی.
  • ناصحیان، علی اصغر، «کاوشی نو در چگونگی قرآن کریم»،‌ در نشریہ علوم قرآن و حدیث، شمارہ 5، زمستان 1376ہجری شمسی.
  • ناصحیان، علی اصغر، «نزول دفعی قرآن، شبہات و پاسخ‌ہا»،‌ در نشریہ الہیات و حقوق، شمارہ 17، پاییز 1384ہجری شمسی.