التبیان فی تفسیر القرآن (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
التبیان فی تفسیر القرآن
التبیان فی تفسیر القرآن.jpg
مؤلف شیخ طوسی (متوفی460ھ)
زبان عربی
موضوع تفسیر قرآن
تعداد جلد 10 مجلد
ناشر دار احياء التراث العربي
محل نشر بیروت

التبیان فی تفسیر القرآن قرآن مجید کی تفسیر کے سلسلے میں لکھی گئی ایک کتاب ہے جسے محمد بن حسن طوسی(385-460ھ) جو شیخ طوسی یا شیخ الطائفہ کے نام سے معروف ہے۔ یہ تفسیر شیعہ تفاسیر میں پہلی تفسیر ہے جو کامل اور جامع ہے یعنی شیعہ تفاسیر میں یہ پہلی تفسیر ہے جو مکمل قرآن کی تفسیر پر مشتمل اور متعدد تفسیر روشوں کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب تفسیری منابع میں قدیمی منابع میں شمار ہوتی ہے اور بہت سارے شیعہ مفسرین نے اس سے سرمشق لیا ہے۔ شیخ طوسی نی معصومینؑ اور صحابہ کرام سے روایات نقل کرنے کے علاوہ عقل پر سے اور دوسرے علوم سے استفادہ کرتے ہوئے گذشتہ اور معاصر مفسرین کے نظریات کی جانچ پڑتال کی ہے۔ اسی لئے بعض افراد نے اس تفسیر کو قرآن کی مختلف علوم و فنون جیسے صرف، نحو، اشتقاق، معانی، بیان، حدیث، فقہ، کلام اور تاریخ وغیرہ کا مجموعہ قرار دیا ہے۔[1]

مؤلف

تفصیلی مضمون: شیخ طوسی

محمد بن حسن بن علی بن حسن جو شیخ طوسی یا شیخ الطائفہ کے نام سے معروف ہے مایہ ناز شیعہ فقہاء اور محدثین میں سے ایک ہے۔ آپ کتب اربعہ میں سے دو کتابوں، التہذیب الاحکام اور الاستبصار کے مؤلف ہیں۔ شیعوں کے علمی اور ثقافتی تحریک میں آپ ایک نمایاں کردار کے حامل ہیں۔

سید مرتضی کی وفات کے بعد آپ شیعہ مذہب کے روح رواں تھے۔ آپ مختلف شاگردوں کی تربیت اور مختلف علوم جیسے فقہ، کلام، اور حدیث میں دسیوں قلمی آثار کی وجہ سے اسلامی دنیا میں ایک بے نظیر مقام پر فائز ہیں۔[2]

شیخ طوسی کے عظیم کارناموں میں حوزہ علمیہ نجف کی تأسیس اور شیعوں میں اجتہاد کو رواج دینے اور فقہ و اصول میں شیعہ اجتہاد کو اہل سنت اجتہاد کے مقابلے میں استقلال بخشنا شامل ہیں۔[3]

تألیف کا مقصد

کتاب کے مقدمے میں خود شیخ طوسی کے بقول انہوں نے اس تألیف کے ذریعے گذشتہ تفاسیر کی کمزوری کو برطرف کرنا چاہتے تھے۔ ان کے بقول اس وقت تک شیعہ علماء میں سے کسی نے بھی کوئی ایسی جامع تفسیر نہیں لکھی تھی جو مختلف پہلوں جیسے کلامی، حدیثی اور لغوی پہلوں سے قرآن کی تمام آیات کی تفسیر پر مشتمل ہو اور اس میں تمام تفسیری احادیث کو ذکر کریں اور گذشتہ تمام مفسرین کے نظریات سے تفصیلی بحث کی جائے اور جس چیز کی ضرورت محسوس ہو اس کی خود تفسیر کرے۔ صرف ایک گروہ نے تفسیر سے متعلق احادیث کو جمع کیا ہے بغیر اس کے کہ تمام روایات اور مفسرین کی نظریات کو بطور کامل استقصاء کرکے ان کا تجزیہ اور تحلیل کرے اور اپنی طرف سے کسی چیز کا اضافہ بھی کرے۔[4]

شیخ طوسی اس بات کے معتقد ہیں کہ اہل سنت علماء نے بھی تفسیر کے حوالے سے ہر روایت یا حدیث کو نقل کیا ہے اس وجہ سے اختصار اور کسی ایک موضوع پر تمرکز کرنے سے قاصر رہے ہیں یا صرف قرآن کے مشکل اور غیر مانوس الفاظ کی توضیح اور تشریح کرنے پر اکتفاء کی ہیں۔ درمیان میں ایک گروہ نے مختصر کوشش کی ہے تاکہ ان دو روشوں کے درمیان ایک تیسری روش پر عمل کرتے ہوئے کسی ایک علم جس میں خود ان کو تخصص حاصل ہو میں قرآن کی تفسیر کی جائے۔ شیخ طوسی نے تیسرے گروہ منجملہ ابو مسلم محمد بن بحر اصفہانی (متوفی 320ھ) اور علی بن عیسی رمانی (متوفی 384ھ) جو علماء معتزلہ میں سے ہیں کی تفاسیر کو پسند کیا ہے لیکن انہیں بھی یہ تذکر دیا ہے کہ انہوں نے بھی مختلف علوم کے لحاظ سے تفسیر نہیں کی ہیں اس کے علاوہ کبھی مطالب کو بے جا زیادہ طول دیا ہے جن کی ذکر کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے خود اس کام کا ارادہ کیا تاکہ ایک ایسی تفسیر لکھی جائے جو مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ جامع اور کامل بھی ہو جس میں علوم قرآن کے مختلف مسائل جیسے قرائت، معانی بیان، صرف و نحو اور متشابہات سے بحث ہو نیز ملحدوں اور باطل گروہ جیسے اہل جبر و تشبیہ وغیرہ کے طعنوں اور اعتراضات کا جواب بھی دی جاسکے۔ شیخ طوسی نے یہ وعدہ دیا ہے کہ نہ اس قدر مختصر ہو گی کہ مطالب کو سمجھنا مشکل ہو جائے اور نہ اختصار کا دامن ہاتھ سے جانے دے گا۔[5]

روش تفسیر

علم تفسیر
اہم تفاسیر
شیعہ تفاسیر:
سنی تفاسیر:
تفسیری رجحان
تفسیری روشیں
اقسام تفسیر
اصطلاحات علم تفسیر
  • اس تفسیر میں شیخ طوسی کی تفسیری روش گذشتہ شیعہ تفاسیر سے کچھ مختلف ہے گویا یہ شیعہ پہلی تفسیر ہے جس میں صرف روایت تفسیری کو جمع کرنے پر اکتفا نہیں کی گئی بلکہ خود مفسر کی طرف سے تجزیہ و تحلیل اور اجتہاد کا اضافہ بہی کیا ہے۔ شیخ طوسی نے اس کتاب میں معصومینؑ اور صحابہ کرام سے روایات کو ذکر کرنے اور گذشتہ مفسرین کی نظریات کو نقل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا نظریہ بہی بیان کیا ہے۔ اس سے پہلے شیعہ تفاسیر جیسے تفسیر قمی(تیسری صدی کے اواخر اور چوتھی صدی کے اوائل)، عیاشی(تیسری صدی) وغیرہ میں صرف آیات کے ضمن میں وارد ہونے والی روایات کو نقل کرتے تھے اور خود ان تفاسیر کے مؤلفین کسی قسم کی کوئی تجریہ یا تحلیل اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرتے تھے۔ اہل سنت مفسرین میں طبری(متوفی 310ھ) اپنی مشہور تفسیر "جامع البیان فی تفسیر القرآن" کے ساتھ اس روش میں شیخ طوسی پر سبقت لے گئے ہیں۔
  • شیخ طوسی نے اپنی تفسیر میں شیعہ روایات کی تعداد کو کم کیا اور بعض معاصر محققین کے بقول آپ اس روش میں ایک اور شیعہ مفسر "ابوالقاسم حسین بن علی جو وزیر مغربی (370418 ق) کے نام سے مشہور تھا کی تفسیر المصابیح فی تفسیر القرآنسے متأثر ہیں۔ [6] اس روش نے بعد والے ادوار کے شیعہ تفاسیر میں بھی راہ پیدا کی اگرچہ بعد والے بعض تفاسیر میں گذشتہ روش کی پیروی کی گئی ہے مثال کے طور پر سلسلہ صفویہ کے دور کی تفاسیر میں تفسیر روایی کے علاوہ کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ہے۔ [7] ظاہرا گذشتہ کی طرف اس بازگشت اس دور میں اخباریوں کی تسلط کا منہ بولتا ثبوت ہے جو روایات پر خاطر خواہ توجہ دیتے تھے۔ اس سب کے باوجود شیخ طوسی نے کتاب کے مقدمے میں گذشتہ اور معاصر جن تفسیری روشوں کا ذکر کیا ہے ان میں تفسیر مغربی کا نام نہیں لیا ہے۔
  • التبیان ان تفاسیر میں سے ہیں جنہیں ان میں استعمال ہونے والے منابق کو مد نظر رکھتے ہوئی "چند منبعی" یا "جامع" تفاسیر کہلاتا ہے۔ اس تفسیر میں مصنف نے اپنی تفسیری استنباطات میں کئی تفسیری منابع اور مستندات منجملہ قرآن، روایت اور عقل سے استفادہ کیا ہے۔[8] التبیان اس جہت سے کہ آیات کی تفسیر میں ایک ساتھ عقل اور نقل دونوں منابع سے استفادہ کیا ہے، گذشتہ شیعہ تفاسیر مسے ممتاز ہے۔
  • تفسیر کلامی: شیخ طوسی عقلی، فلسفی اور کلامی مباحث پر مسلط تھے اسی بنا پر موضوع کی مناسبت سے کلامی موضوعات پر بہت بجث کی ہیں اور آیات کی تبیین میں عقلی روش سے بہت زیادہ کام لیا ہے۔ آپ بعض مواقع پر کسی آیت کی تفسیر کرتے وقت کلامی فرقوں منجملہ مرجئہ کے عقاید کو نقل کر کے ان پر تنقید بہی کی ہیں۔[9]
  • تفسیر ادبی: آیات کی معانی تک پہنچنے کیلئے لغوی، صرفی اور نحوی کلمات کے تجزیہ و تحلیل پر اس تفسیر میں زیادہ توجہ دیا ہے۔ [10] شیخ طوسی نے لغوی تجزیہ و تحلیل میں معتبر ادبی منابع اور فصیح عربی اشعار سے بہی مدد لیا ہے۔[11]
  • اکثر موارد میں کسی آیت کی تفسیر میں گذشتہ مقسرین اور اہل سنت کے تفسیری منابع ابن عباس وغیرہ کے نظریات کو بھی ذکر کرکے ان پر تحقیق کی ہے۔[12]

ڈھانچہ اور مضامین

  • یہ کتاب قرآن کی موجود ترتیب کے ساتھ تمام سورتوں اور آیات کی تفسیر پر مشتمل ہے۔ گذشتہ شیعہ تفاسیر چیسے تفسیر ابوحمزہ ثمالی(م 148 ق)، جو محمد بن‌قاسم استرآبادی (م ح 380 ق) کے نقل کے مطابق امام حسن عسکری سے منسوب ہے، تفسیر فرات‌ کوفی(تیسری اور چوتھی صدی کے بزرگان میں سے ہیں) اور تفسیر قمی(تیسری صدی کے اواخر اور جوتھی صدی کے اوائل)، میں قرآن کی بعض آیات کو ذکر نہیں کئے گئے تھے۔
  • ہر سورہ کی تفسیر کی کیفیت اور ترتیب یوں ہے کہ شروع میں سورہ کا نام ، مکی اور مدنی ہونا، ناسخ اور منسوخ کا موجود ہونا اور نہ ہونا اور اس کے علاوہ بعد دیگر مشخصات کا ذکر کیا ہے۔ الفاظ کے لغوی معنی، اختلاف قرائات، صرف، نحوی اور بلاغت کے نکات کا تذکرہ دوسرے مرحلے میں اسکے بعد آیات کی تشریح اور تفسیر اور آخر میں اس بارے میں مختلف مفسیرین کی اقوال اور نظریات کی چھان بین کی گئی ہے۔
  • اسباب نزول آیات کی بررسی اور ان سے مرتبط کلامی مسائل اور فقہی مباحث اس کتاب کے مختلف جگہوں پر دکھائی دیتی ہیں یہاں تک کہ اس تفسیر کا کلامی اور فقہی پہلو دوسرے پہلوں پر غالب آگئی ہے۔ مختلف مذاہب کے درمیان پائی جانے والی فقہی اختلافات سے شیخ طوسی کی آشنائی اور آگاہی کے سبب بہت سارے مواقع پر ان کی فقہی تجزیہ و تحلیل نے تطبیقی اور موازنہ والی کیفیت اختیار کی ہے۔
  • شیخ طوسی متن قرآن کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے دو فصل لایا ہے۔ پہلی فصل میں "تفسیر سے پہلے جن مطالب سے آگاہی ضروری ہے" کے عنوان سے شیخ طوسی نے مختصر طور پر تحریف قرآن کی نفی کی ہے چاہے وہ قرآن میں کسی چیز کے اضافے کے ذریعے سے ہو یا قرآن سے کسی چیز کو کم کرنے اور حذف کرنے کے ذریعے سے ہو۔ [13] دوسری فصل میں "قرآن کے اسامی اور سورتوں اور آیات کی نامگزاری" کے عنوان سے قرآن کے اسامی اور سورہ اور آیت جیسے کچھ اصطلاحات پر بحث کی ہیں جن سے آشنائی قرآن کی تفسیر میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔[14]

تفسیر التبیان کی اہمیت

التبیان کی اہمیت اس کے مطالب اور مضامین سے ہٹ کر زیادہ تر اس کی روش تفسیری کی وجہ سے ہے جس نے شیعہ تفسیر نویسی کے عمل میں ایک نئی روح پھونکی ہے اور بعد کی ادوار میں شیعہ مفسرین کیلئے ایک نمونہ عمل میں تبدیل ہوئی ہے۔[15] بعد میں آنے والے شیعہ مفسرین اور کتاب‌شناسوں نے اس کتاب کی تعریف کرتے ہوئے اس کے محاسن بیان کئے ہیں۔[16] فضل بن حسن طبرسی مولف تفسیر مجمع البیان نے تصریح کی ہے کہ تفسیر نویسی میں "التبیان" ان کیلئے مشعل راہ بنی ہے۔[17]

منابع

  • شیخ طوسی نے اس کتاب کی تألیف میں متعدد تفسیری منابع سے استفادہ کیا ہے۔ ان میں طبری کی کتاب جامع البیان عن تأویل‌ القرآن نمایاں ہے، شیخ نے مطالب اور روش دونوں حوالوں سے اس کتاب سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔[18] دوسری کتاب جو محققین کے بقول "التبیان" کے مطالب کے علاوہ روش تفسیر پر بھی گہرا اثر چھوڑی ہے وہ شیعہ عالم دین ابوالقاسم حسین بن علی جو وزیر مغربی کے نام سے معروف ہیں کی کتاب المصابیح فی تفسیر القرآن ہے۔ [19] تقریبا 200 تاریخی روایات، سیرت اور اسباب النزول کو پہلی بار اس تفسیر میں "مغربی" نے ذکر کیا ہے جن میں سے اکثر التبیان پھر وہاں سے مجمع البیان میں وارد ہوئی ہیں۔ [20]
  • اس کتاب کے تفسیری منابع میں بعض صحابہ اور تابعین کی روایات بھی ہیں۔ یہ روایات گذشتہ شیعہ تفاسیر جو ہم تک پہنچی ہیں میں بہت کم تفسیری منابع کے عنوان سے استعمال ہوئی ہیں۔ مثلا ابن عباس، عبداللہ بن مسعود، اُبی بن کعب، ابو سعید خدری مجاہد بن جبر مکی، ضحاک بن مزاحماور طاووس بن کیان جیسے افراد کی روایات۔ [21]
  • اس کتاب میں آیات کے فقہی نکات کے بیان میں سب سے اہم منبع کتاب خلاف ہے جو ان کی اپنی تألیف ہے۔[22]

تفسیر تبیان کے خلاصے

تفسیر تبیان کو دو شیعہ عالم نے خلاصہ کئے ہیں:

  1. "مختصر التبیان" تألیف ابن ادریس حلی.[23] انہوں نے اس کتاب میں شیخ طوسی کے اصولی اور فقہی نظریات کی مخالفت کی ہیں۔[24]
  2. "مختصر التبیان" تألیف ابوعبداللہ محمد بن ہارون معروف بہ ابن کال۔[25]

طباعت

یہ کتاب مکررا طباعت کے مراحل سے گذرتی رہی ہے منجملہ:

  1. سنگی طباعت دو جلدوں میں جس کا اہتمام میرزا علی آقا شیرازی اور سید عبدالرسول روغنی زادہ اصفہانی نے سنہ 1365 ھ میں کیا۔
  2. اسکی حدید طباعت دس جلدوں میں احمد شوقی اور احمد حبیب قصیر کی تحقیق و تصحیح اور آقا بزرگ تہرانی کے مقدمے کے ساتھ سنہ 1409 ھ میں۔

حوالہ جات

  1. صدر، ص 339۔
  2. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ص183۔
  3. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ص181۔
  4. طوسی، ج1، ص1 - 3۔
  5. طوسی، ج1، ص1 - 3۔
  6. http://cqs.blogfa.com/post/99
  7. http://cqs.blogfa.com/post/99
  8. معرفت، 1380: 2/ 245
  9. برای نمونہ نک: ج3، ص181؛
  10. طوسی، ج1، ص23۔
  11. ذیل عنوان منابع در ہمین مقالہ۔
  12. ج1، ص57۔
  13. طوسی، ج1، ص3 و 4۔
  14. طوسی، ج1، ص 7 22۔
  15. ذیل عنوان ویژگیہای روشی ہمین مقالہ۔
  16. الذریعہ، ج 3، ص 329؛ بحر العلوم،الفوائد الرجالیہ، ج 3، ص 228
  17. مجمع البیان، ج 1، ص 75۔
  18. ذیل عنوان ویژگیہای روشی، ہمین مقالہ۔
  19. کریمی نیا، 1390، ص119۔
  20. http://cqs.blogfa.com/post/99
  21. محسن قاسم پور، تحلیلی بر رویکرد تفسیری شیخ طوسی در تبیان۔
  22. طوسی، ج1، ص25۔
  23. الذریعہ، ج 20، ص 184۔
  24. الفوائد الرجالیہ، ج 3، ص 229۔
  25. الذریعہ، ج 20، ص 185۔


مآخذ

  • بحرالعلوم، سید محمد مہدی، الفوائد الرجالیۃ، تہران، مکتبۃ الصادق، 1363 شمسی۔
  • تہرانی، آقابزرگ، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دارالاضواء، 1403ھ۔
  • صدر، حسن، تأسیس الشّیعۃ لعلوم الاسلام، بغداد، 1370ش.، چاپ افست تہران، بی‌تا۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، 1415ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، مکتبۃ الاعلام الاسلامی، 1409ھ۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق: احمد قصیرعاملی،‌دار احیاء التراث العربی، اول، بیروت، بی تا۔
  • معرفت، محمدہادی، تفسیر و مفسران(ترجمہ)، مؤسسہ فرہنگی التمہید، قم: 1380 شمسی۔