مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ نساء آیت نمبر 116

ویکی شیعہ سے
سورہ نساء آیت نمبر 116
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ نساء
آیت نمبر116
پارہ5
محل نزولمدینہ
مضمونشرک کا قابل بخشش نہ ہوا اور شرک کے علاوہ باقی گناہوں کا قابل بخشش ہونا
مربوط آیاتسورہ نساء آیت نمبر 48، سورہ زمرہ آیت نمبر 53


سورہ نساء آیت نمبر 116 یہ بیان کرتی ہے کہ ہر گناہ معاف ہو سکتا ہے،[1] سوائے شرک کے جسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔[2] مفسرین اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتے ہیں۔[3]

یہ آیت قرآن کریم کی سب سے زیادہ امیدبخش آیات میں شمار ہوتی ہے۔[4] آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق سورۂ نساء کی 48ویں آیت میں شرک کے مفسدے کا الٰہی پہلو بیان کیا گیا ہے، جبکہ اس آیت میں شرک کے مفسدے اور نقصانات کو انسانوں کے حوالے سے واضح کیا گیا ہے۔[5] مفسرین کے نزدیک ان دونوں آیات میں شرک کے مفسدے اور نقصانات کو بیان کرنا اس موضوع کی غیر معمولی اہمیت کی واضح دلیل ہے۔[6]

بعض مفسرین کے نزدیک شرک کے علاوہ باقی گناہوں کی بخشش سے مراد یہ ہے کہ یہ گناہیں اصولاً مغفرت کے قابل ہیں،[7] تاہم ان کی معافی اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔[8]

سورہ نساء آیت نمبر 16


إِنَّ اللَّہَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِہِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا
بے شک اللہ اس جرم کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (جو کم درجہ کے جرائم ہیں) جس کے لئے چاہتا ہے، بخش دیتا ہے۔ اور جو کسی کو اس کا شریک ٹھرائے، وہ گمراہ ہوا (اور اس میں) بہت دور نکل گیا۔

علامہ طباطبائی نے سورۂ نساء کی آیت نمبر 116 کو گزشتہ آیت کی توضیح یا اس کی دلیل قرار دیتے ہوئے ان آیات کے سیاق و سباق کی روشنی میں رسول اکرمؐ سے دشمنی کو شرک کے مصادیق میں شمار کیا ہے۔[9] آیت کے آخر میں شرک کو ’’دور کی گمراہی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کے بارے میں ملا فتح اللہ کاشانی کہتے ہیں کہ اس سے مراد ضلالت کی انتہا اور گمراہی کا پست ترین درجہ ہے۔[10]

آیت کے سبب نزول کے بارے میں منقول ہے کہ ایک بوڑھے اعرابی نے رسول خداؐ سے اپنے انجام کے بارے میں سوال کیا، اس حال میں کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہا تھا، لیکن وہ شرک کا مرتکب نہیں ہوا تھا اور نہ کفر اختیار کیا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔[11] ایک دوسری روایت کے مطابق یہ آیت طُعَیمَۃ بن ابیرق کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مرتد ہو گیا تھا۔[12]

تفاسیر میں آیا ہے کہ شرک کے ساتھ کوئی بھی نیک عمل انسان کی نجات کا باعث نہیں بنتا۔[13] اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرک کا معاف نہ ہونا اس صورت میں ہے جب انسان شرک کی حالت میں دنیا سے چلا جائے، ورنہ توبہ کی صورت میں ہر گناہ قابل معاف ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص409۔
  2. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج5، ص83۔
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج4، ص132؛ قرائتی، 1388شمسی، تفسير نور، ج2، ص164۔
  4. قرائتی، تفسیر نور، 1388شمسی، ج2، ص163۔
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج4، ص133۔
  6. طبرسی، جوامع الجامع، 1412ھ، ج1، ص288؛ بیضاوی، أنوار التنزیل، 1418ھ، ج2، ص97۔
  7. قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، 1375شمسی، ج2، ص453۔
  8. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1407ھ، ج6، ص113۔
  9. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج5، ص83.
  10. کاشانی، منہج الصادقین، کتابفروشی اسلامیہ، ج3، ص115۔
  11. میبدی، کشف الاسرار، 1371شمسی، ج2، ص689.
  12. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1408ھ، ج6، ص113۔
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص409۔
  14. قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، 1375شمسی، ج2، ص453۔

مآخذ

  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مشہد، آستان قدس رضوی، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی، 1408ھ۔
  • بیضاوی، عبداللہ بن عمر، أنوار التنزیل و أسرار التأویل، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، 1418ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، تصحیح ابوالقاسم گرجی، قم، حوزہ علمیہ قم، 1412ھ۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، تفسیر الکبیر، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، 1420ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس‌ہایی از قرآن، 1388ہجری شمسی۔
  • قرشی بنابی، علی‌اکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت، مرکز چاپ و نشر، 1375ہجری شمسی۔
  • کاشانی، فتح‌اللہ بن شکراللہ، منہج الصادقین فی إلزام المخالفین، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، بی‌تا۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الإسلامی، 1371ہجری شمسی۔
  • میبدی، احمد بن محمد، کشف الاسرار و عدۃ الابرار، تہران، امیرکبیر، 1371ہجری شمسی۔