مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 9
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ بقرہ |
| آیت نمبر | 9 |
| پارہ | 1 |
| موضوع | نفاق |
| مضمون | منافقین کا خدا اور مومنین کو دھوکہ دینا |
| مربوط آیات | سورہ نساء آیت نمبر 142 |
سورہ بقرہ آیت نمبر 9، میں خدا اور مؤمنین کی نسبت منافقین کی دغابازی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے[1] اور یہ واضح کیا گیا ہے منافقین حقیقت میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں لیکن انہیں اس حقیقت کا احساس نہیں ہے۔[2] یہی مفہوم سورہ نساء آیت نمبر 142 میں بھی آیا ہے۔[3]
يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
خدا اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ وہ خود اپنے سوا کسی کو دھوکہ نہیں دیتے۔ مگر انہیں اس کا (احساس) نہیں ہے۔
بعض شیعہ مفسرین کے مطابق سورہ بقرہ آیت نمبر 8 سے 20 تک منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں[4] اور ان کی بعض خصوصیات جیسے ظاہری ایمان،[5] مکر و فریب، فساد پھیلانا اور حماقت[6] کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ آیت میں خدا کو دھوکہ دینے سے مراد پیغمبر اسلامؐ کو دھوکہ دینا ہے جو درحقیقت خدا کو دھوکہ دینا شمار ہوتا ہے۔[7] منافقین اپنے آپ کو مؤمن ظاہر کرکے اور عبادی اعمال انجام دے کر، جہاں اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں وہیں کافروں کے لئے جاسوسی بھی کرتے ہیں۔[8]
بعض شیعہ مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ منافقین اپنی تمام توانائیوں کو دغابازی اور مکر و فریب میں صرف کرتے ہیں۔[9] آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق منافقین خدا اور مؤمنین کی حقیقی معرفت نہ رکھنے کی وجہ سے یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ خدا کو دھوکہ دے سکتے ہیں اسی بنا پر وہ ریاکاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔[10]حالانکہ خدا نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ رکھا ہے[11] تاکہ وہ دھوکہ بازی کے نتیجے میں سیدھے راستے سے بھٹک جائیں[12] اور اپنی انسانی حقیقت کھو بیٹھیں۔[13]
حوالہ جات
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ہجری شمسی، ج1، ص93۔
- ↑ رضایى اصفہانى، تفسیر قرآن مہر، 1387ہجری شمسی، ج1، ص176۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1390ہجری شمسی، ج2، ص255۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج1، ص55۔
- ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، 1387ہجری شمسی، ج1، ص173۔
- ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، 1387ہجری شمسی، ج1، ص180-181۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج1، ص134؛ جوادی آملی، تسنیم، 1390ہجری شمسی، ج2، ص254۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1390ہجری شمسی، ج2، ص248؛ اسی طرح ملاحظہ کریں: شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج1، ص69۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسر نمونہ، 1374ہجری شمسی، ج1، ص93۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1390ہجری شمسی، ج2، ص254۔
- ↑ شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج1، ص69؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج1، ص134؛ جوادی آملی، تسنیم، 1390ہجری شمسی، ج2، ص256۔
- ↑ شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج1، ص69؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372ہجری شمسی، ج1، ص134۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1390ہجری شمسی، ج2، ص256۔
مآخذ
- جوادی آملی، عبد اللہ، تسنیم، قم، اسراء، آٹھویں اشاعت، زمستان 1390ہجری شمسی۔
- حسن بن على، التفسیر المنسوب إلى الإمام الحسن العسکری، تحقیق مدرسہ امام مہدى، قم، مدرسہ امام مہدى، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
- رضایى اصفہانى، محمدعلى، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہشہاى تفسیر و علوم قرآن، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- شیخ طوسى، محمد بن حسن، التبیان فى تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیرعاملى، بیروت، دار احیاء التراث العربى، پہلی اشاعت، بیتا.
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تحقیق محمدجواد بلاغی، تہران، ناصرخسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔