مسودہ:سورہ انفال آیت نمبر 60
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ انفال |
| آیت نمبر | 60 |
| پارہ | 10 |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | دفاعی |
| مضمون | مؤمنین کی دفاعی تیاری |
سورۂ انفال آیت نمبر 60 میں مؤمنین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق جنگی توانائی اور ساز وسامان فراہم کریں۔[1] اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر آیت اللہ خامنہ ای لفظ «قُوَّۃ» کی تفسیر مختلف پہلوؤں سے طاقت حاصل کرنے سے کرتے ہیں جیسے عسکری، علمی اور تنظیمی طاقت۔[2] شیعہ مرجع تقلید اور مفسر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کے نزدیک اس سے مراد ہر وہ مادی اور معنوی طاقت ہے جو دشمن پر غلبہ حاصل کرنے میں مؤثر ہو۔[3] تفسیر مجمع البیان میں قوۃ کی تفسیر انسانی طاقتوں کو اسلحہ سے لیس کرنے، دفاعی قلعہ بندیوں کی تعمیر اور معاشرتی اتحاد و انسجام کے طور پر کی گئی ہے۔[4] بعض روایات میں «قُوَّۃ» سے جنگی آلات، جیسے تیر، ڈھال اور تلوار مراد لئے گئے ہیں،[5] بلکہ سفید بالوں کو خضاب کرنے کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے تاکہ مجاہدین کی ہیبت دشمن پر قائم ہو۔[6] امام سجادؑ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے ایک غزوہ کے موقع پر دشمن کو مرعوب کرنے کے لئے بالوں کو خضاب کرنے کا حکم دیا تھا۔[7]
بعض شیعہ فقہاء نے مذکورہ آیت اور پیغمبر اکرمؐ سے مروی وہ احادیث جن میں «قُوَّۃ» کی تفسیر تیراندازی سے کی گئی ہے، سے تیراندازی کے مقابلوں کے جائز ہونے پر استدلال کیا ہے۔[8]
وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ﴿٦٠﴾
(اے مسلمانو!) تم جس قدر استطاعت رکھتے ہو ان (کفار) کے لئے قوت و طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو۔ تاکہ تم اس (جنگی تیاری) سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن کو اور ان کھلے دشمنوں کے علاوہ دوسرے لوگوں (منافقوں) کو خوفزدہ کر سکو۔ جن کو تم نہیں جانتے البتہ اللہ ان کو جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ کی راہ (جہاد) میں خرچ کروگے تمہیں اس کا پورا پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کسی طرح ظلم نہیں کیا جائے گا۔
سورہ انفال آیت نمبر 60

بعض مفسرین جیسے علامہ طباطبائی اور فاضل مقداد کے نزدیک مسلمانوں کی دفاعی اور عسکری طاقت میں اضافہ کرنے کا مقصد دشمن کے دل میں خوف پیدا کرنا، اسلامی معاشرے کے حقوق کا دفاع کرنا اور اس کے مثبت نتائج سے فائدہ اٹھانا ہے۔[9] آیت اللہ خامنہ ای نے بھی دشمن کے دل میں خوف پیدا کرنے کو اس آیت کے اہم مقاصد اور ایک مؤثر حفاظتی سبب قرار دیا ہے۔[10] امام خمینیؒ نے اس آیت کو اسلامی نظام کے تحفظ اور امت مسلمہ کی آزادی و خودمختاری کے دفاع کی ضرورت پر دلالت کرنے والی آیت قرار دیا ہے اور عصر غیبت میں اسلامی حکومت کے قیام کی ضرورت پر بھی اس سے استدلال کیا ہے۔[11] اس آیت کا ایک حصہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے لوگو کی ڈیزائنینگ میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔[12]
تعبیر «وَآخَرِينَ مِنْ دُونِہِمْ لَا تَعْلَمُونَہُمُ اللَّہُ يَعْلَمُہُمْ (ترجمہ: جن کو تم نہیں جانتے لیکن اللہ انہیں جانتا ہے)» کی تفسیر کے بارے میں مختلف آراء پیش کئے گئے ہیں۔[13] بنی قریظہ؛ اہل فارس؛ منافقین؛[14] اور جنات۔[15] علامہ طباطبائی کے نزدیک اس سے مراد منافقین اور وہ دشمن ہیں جنہوں نے ابھی عملی طور پر اپنی دشمنی ظاہر نہیں کی، لیکن ان کی جانب سے دشمنی کا امکان موجود ہے۔[16]
آیت کے آخری حصے میں دفاعی توانائی کو مضبوط بنانے کے لیے راہِ خدا میں انفاق اور خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے اجر و ثواب کی ضمانت کی گئی ہے۔[17] علامہ طباطبائی کے مطابق یہ حصہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اللہ کی راہ میں دیا جانے والا مال، خصوصاً جہاد اور دفاع کے میدان میں، دنیا اور آخرت دونوں میں عادلانہ طور پر اپنے اجر و ثواب کے ساتھ انسان کی طرف لوٹایا جائے گا۔[18]
حوالہ جات
- ↑ علامہ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج9، ص114۔
- ↑ خامنہ ای، سخنرانی «مراسم دانش آموختگی دانشجویان دانشگاہ امام حسین(ع)»۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج7، ص222۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج4، ص852۔
- ↑ عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج2، ص165-164۔
- ↑ عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج2، ص164۔
- ↑ بحرانی، البرہان، مؤسسۃ البعثۃ، ج2، ص706۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1387ھ، ج6، ص289؛ ابن ادریس حلی، السرائر، 1410ھ، ج3، ص146؛ طباطبایی، ریاض المسائل، 1418ھ، ج10، ص233–234؛ ابن برّاج، المہذب، 1406ھ، ج1، ص330۔
- ↑ علامہ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج9، ص117؛ فاضل مقداد، کنز العرفان، المکتبۃ المرتضویۃ، ج1، ص388۔
- ↑ خامنہ ای، سخنرانی «مراسم دانش آموختگی دانشجویان دانشگاہ امام حسین(ع)»۔
- ↑ خمینی، ولایت فقیہ، 1423ھ، ص33۔
- ↑ «سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا لوگو کیسے تیار کیا گیا؟»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی کی آفیشل ویب سائٹ۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج4، ص853۔
- ↑ فاضل مقداد، کنز العرفان، 1425ھ، ج1، ص388۔
- ↑ طبری، جامع البیان، ج14، ص37–38۔
- ↑ علامہ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج9، ص116۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج7، ص228۔
- ↑ علامہ طباطبایی، تفسیر المیزان، 1417ھ، ج9، ص116–117۔
مآخذ
- «سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا لوگو کیسے تیار کیا گیا؟»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی کی آفیشل ویب سائٹ، تاریخ انتشار: 22 اپریل سنہ 1914ء، تاریخ مشاہدہ: 15 نومبر 2023ء۔
- ابن ادریس حلی، محمد بن منصور، السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1410ھ۔
- ابن برّاج، عبد العزیز، المہذب، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1406ھ۔
- خامنہ ای، سید علی، سخنرانی «مراسم دانش آموختگی دانشجویان دانشگاہ امام حسین(ع)» در دانشگاہ امام حسین(ع)، 21 مہر 1398ہجری شمسی۔
- خمینی، سید روح اللہ، ولایت فقیہ، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، بارہویں اشاعت، 1423ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الامامیہ، تحقیق: سید محمد تقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویہ، تیسری اشاعت، 1387ھ۔
- طباطبایی، سید علی، ریاض المسائل فی تحقیق الاحکام بالدلائل، قم، موسسہ آل البیت، پہلی اشاعت، 1418ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
- عروسی حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، تحقیق: سید ہاشم رسولی محلاتی، قم، انتشارات اسماعیلیان، چوتھی اشاعت، 1415ھ۔
- علامہ طباطبایی، سید محمد حسین، تفسیر المیزان، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پانچویں اشاعت، 1417ھ۔
- فاضل مقداد، جمال الدین، کنز العرفان فی فقہ القرآن، تہران، المکتبۃ المرتضویۃ، بی تا۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔