مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حضرت عیسی کا عروج

ویکی شیعہ سے

حضرت عیسیٰ کا عروج، سے مراد حضرت عیسی کا براہ راست آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان مشہور نظریہ کے مطابق حضرت عیسیٰ نہ تو قتل ہوئے اور نہ ہی سولی پر چڑھائے گئے بلکہ انہیں براہ راست آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں، اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ممکن ہے سولی سے بچ جانے کے بعد ان کی طبیعی موت ہوئی ہو۔ عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسیٰ سولی پر چڑھائے گئے اور دوبارہ زندہ ہونے کے بعد آسمان پر چلے گئے۔

عروج کی نوعیت کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے صرف روحانی سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے روحانی اور جسمانی دونوں مانتے ہیں۔ بعض روایات جیسے وہ روایات جو امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت حضرت عیسی کے نزول یا معراج کے واقعے میں پیغمبر اکرمؐ کا حضرت عیسی کو دیکھنے سے متعلق ہیں، کو جسمانی عروج کے دلائل کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت حضرت عیسیٰ کے نزول کو یقینی واقعات میں شمار کیا جاتا ہے اور شیعہ اور اہل سنت دونوں مصادر میں اس کے بارے میں متعدد روایات بیان ہوئی ہیں۔

اسلام اور مسیحیت میں اختلاف

حضرت عیسیٰ کے عروج سے مراد ان کا آسمان پر جانا اور اب تک زندہ ہونا ہے۔[1] قرآن میں سورہ نساء کی آیت 158 اور سورہ آل عمران کی آیت 55 میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[2]بعض مصادر کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے 585 سال پہلے[3] اور 21 رمضان کی رات کو[4] حضرت عیسیٰ کی 32[5] یا 33[6] سال کی عمر میں رونما ہوا۔ امام باقر علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں منقول ہے کہ امام علی علیہ السلام کی شہادت کی رات، حضرت عیسیٰ کے عروج کی رات کے ساتھ ہی ہے۔[7]

مسیحیت کے مطابق حضرت عیسیٰ کو سولی پر چڑھایا گیا[8] جس کے نتیجے میں آپ کی موت واقع ہوئی[9] اور آپ کو دفن کیا گیا۔[10] دن کے تیسرے دن ان کے شاگردوں نے دیکھا کہ ان کی لاش قبر میں موجود نہیں تھی۔[11] حضرت عیسیٰ کے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد انہوں نے اپنے شاگردوں سے ملاقات کی[12] اور پھر آسمان پر چلے گئے۔[13] یہ واقعہ چاروں انجیلوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔[14] اس کے برعکس قرآن واضح طور پر کہتا ہے[15]کہ حضرت عیسیٰ نہ قتل ہوئے اور نہ ہی سولی پر چڑھائے گئے؛[16] بلکہ روایات کے مطابق[17] ان کی جگہ غلطی سے ایک اور شخص قتل ہوا اور لوگوں نے یہ سمجھا کہ حضرت عیسیٰ شہید ہو گئے ہیں۔[18]

عروج کے وقت حضرت عیسیٰ کی حیات کی کیفیت

مسلمان علماء کے درمیان اس بات پر اختلاف رائے ہے کہ آیا حضرت عیسیٰ عروج سے پہلے طبیعی موت وفات پا گئے تھے یا بغیر موت کے براہ راست آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں۔[19] قرآن اور مسلمانوں کے درمیان مشہور رائے کے مطابق[20] حضرت عیسیٰ نہ قتل ہوئے اور نہ سولی پر چڑھائے گئے[21] بلکہ انہیں آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں[22] اور قیامت سے پہلے واپس آئیں گے۔[23] بعض دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ ممکن ہے حضرت عیسیٰ سولی سے بچ جانے کے بعد طبیعی موت وفات پا گئے ہوں اور پھر زندہ ہونے کے بعد انہیں آسمان پر اٹھا لئے گئے ہوں۔[24]

لفظ "مُتَوَفِّیکَ" سے مراد

سورہ آل عمران کی آیت 55 میں بھی لفظ "مُتَوَفِّیکَ" استعمال ہوا ہے جس سے مختلف مفاہیم اخذ کئے گئے ہیں:

  • طبیعی موت: اس کا مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ عروج سے پہلے وفات پا گئے تھے اور اس مفہوم کے مطابق عروج موت کے بعد ہوا ہے۔[25]
  • قبض روح یا دریافت روح: یہ تعبیر لازمی طور پر حقیقی موت کی طرف اشارہ نہیں کرتی اور اس سے مراد حضرت عیسیٰ کے زمین سے آسمان کی طرف منتقلی لیتے ہیں۔[26]
  • آسمان پر عروج کی تشبیہ: یہ لفظ حضرت عیسی کے آسمان پر عروج ہونے کو تشبیہی اور تمثیلی طور پر بیان کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اب زمین پر موجود نہیں ہیں۔[27]

عروج کا جسمانی یا روحانی ہونا

مفسرین حضرت عیسیٰ کے عروج کی نوعیت کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں؛[28] بعض اسے سورہ نساء کی آیت 158 کے ظاہری مفہوم کے مطابق روحانی مانتے ہیں[29] جبکہ بعض اسے روحانی اور جسمانی دونوں مانتے ہیں۔[30] بعض محققین کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ کے عروج کو ان کی فضیلت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور فضیلت روحانی و جسمانی دونوں ہونے کا تقاضا کرتی ہے؛ کیونکہ روحانی عروج صرف حضرت عیسیٰ کے ساتھ مختص نہیں ہے۔[31] اسی طرح امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت حضرت عیسی کا آسمان سے نازل ہونا[32] نیز پیغمبر اکرمؐ کا معراج میں انہیں دیکھنے کی بعض روایات کو جسمانی عروج کے دلائل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[33] بعض روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ کا عروج روح و جسم دونوں کے ساتھ ہوا ہے۔[34] امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ کے عروج کے بعد آسمان و زمین کے درمیان ان کی روح قبض کی گئی اور پھر انہیں آسمانوں پر لے جایا گیا جہاں ان کی روح دوبارہ ان کے جسم میں واپس لوٹ آئی۔[35]

امام زمانہ کے ظہور کے وقت حضرت عیسی کی واپسی کو ظہور کی یقینی نشانیوں اور واقعات میں سے سمجھا جاتا ہے[36] جو مسلمانوں کے درمیان متفق علیہ ہے۔[37] بعض مفسرین سورہ آل عمران کی آیت 46[38] اور سورہ نساء کی آیت نمبر 159[39] کو بھی اسی موضوع سے مربوط مانتے ہیں۔ اہل سنت منابع میں 28 روایات[40] اور شیعہ منابع میں 30 مستفیض روایات[41] حضرت عیسیٰ کی واپسی کے بارے میں منقول ہیں۔

حوالہ جات

  1. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج11، ص262؛ قرائتی، تفسیر نور، 1388شمسی، ج2، ص207۔
  2. رضایی، «معراج پیامبر(ص) اور عروج عیسی(ع) کا تطبیقی جائزہ»، ص157۔
  3. طبری، تاریخ الطبری، 1387ھ، ج1، ص585۔
  4. قمی، وقایع الأیام، ناشر نور مطاف، ص79۔
  5. طبری، تاریخ الطبری، 1387ھ، ج1، ص585۔
  6. ابن‌کثیر، البدایۃ و النہایۃ، 1407ھ، ج2، ص95۔
  7. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص457۔
  8. انجیل لوقا، باب 23، آیہ32 - 34۔
  9. انجیل متی، باب 27: آیہ50۔
  10. انجیل لوقا، باب 23، آیہ50 - 54۔
  11. انجیل لوقا، باب 24، آیات 1-3۔
  12. انجیل متی، باب 28: آیات 16 -20۔
  13. انجیل مرقس، باب 16: آیہ 19۔
  14. بیگدلی، «مقایسہ دیدگاہ عروج و رجعت حضرت عیسی(ع) در اسلام و مسیحیت»، ص34
  15. معرفت، شبہات و ردود حول القرآن الکریم، 1423ھ، ص102۔
  16. سورہ نساء، آیہ 157۔
  17. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص132۔
  18. مدرسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج2، ص248۔
  19. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص759۔
  20. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص569۔
  21. معرفت، شبہات و ردود حول القرآن الکریم، 1423ھ، ص106۔
  22. بیگدلی، «مقایسہ دیدگاہ عروج و رجعت حضرت عیسی(ع) در اسلام و مسیحیت»، ص37۔
  23. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج2، ص759۔
  24. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج2، ص72۔
  25. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج2، ص71؛ زمخشری، الکشاف، ج1، ص366۔
  26. بیگدلی، «مقایسہ دیدگاہ عروج و رجعت حضرت عیسی(ع) در اسلام و مسیحیت»، ص37۔
  27. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج2، ص71۔
  28. سید قطب، فی ظلال القرآن، 1412ھ، ج2، ص802۔
  29. مراغی، تفسیر المراغی، بیروت، ج6، ص15۔
  30. معرفت، شبہات و ردود حول القرآن الکریم، 1423ھ، ص106؛ مراغی، تفسیر المراغی، بیروت، ج6، ص15۔
  31. سعدی، شرح النسفیۃ، 1380شمسی، ص322۔
  32. سعدی، شرح النسفیۃ، 1380شمسی، ص322۔
  33. مراغی، تفسیر المراغی، بیروت، ج6، ص15۔
  34. رضایی، «معراج پیامبر(ص) اور عروج عیسی(ع) کا تطبیقی جائزہ»، ص159۔
  35. شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا، 1378ھ، ج1، ص215۔
  36. قزوینی، امام مہدی(عج) از ولادت تا ظہور، 1387شمسی، ص678۔
  37. کورانی، عصر الظہور، 1430ھ، ص245۔
  38. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج2، ص550۔
  39. طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج5، ص134-135؛ صادقی تہرانی، الفرقان، 1365شمسی، ج7، ص439۔
  40. کورانی و دیگران، معجم الاحادیث الامام مہدی(عج)، 1428ھ، ج2، ص399-493۔
  41. بخشی، «امام زمانہؑ کے ظہور کے بعد حضرت عیسی کے کردار کی وضاحت»، ص116۔

مآخذ

  • ابن‌کثیر دمشقی‏، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دار الفکر، 1407ھ۔
  • بخشی، سعید، «امام زمانہؑ کے ظہور کے بعد حضرت عیسی کے کردار کی وضاحت»، مجلہ مشرق موعود، سال چہاردہم، شمارہ 53، بہار 1399ہجری شمسی۔
  • بیگدلی، حسن، «مقایسہ دیدگاہ عروج و رجعت حضرت عیسی(ع) در اسلام و مسیحیت»، مجلہ معارف قرآن و عترت، سال دوم، شمارہ 5، پاییز 1395.
  • رضایی، آمنہ، «معراج پیامبر(ص) اور عروج عیسی(ع) کا تطبیقی جائزہ»، مجلہ حدیث و اندیشہ، شمارہ 13، بہار و تابستان 1391ہجری شمسی۔
  • سعدی، عبدالملک عبدالرحمن، شرح النسفیۃ فی العقیدۃ الإسلامیۃ، سنندج، 1380ہجری شمسی۔
  • سید قطب، فی ظلال القرآن، بیروت، قاہرہ، دارالشروق، سترہویں اشاعت، 1412ھ۔
  • شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق و مصحح: مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، پہلی اشاعت، 1378ھ۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن، قم، انتشارات فرہنگ اسلامی، دوسری اشاعت، 1365ہجری شمسی۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین‏، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی‏، پانچویں اشاعت‏، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: محمدجواد بلاغی‏، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری (تاریخ الامم و الملوک)، تحقیق: محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، دوسری اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تیسری اشاعت، 1420ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن‏، 1388ہجری شمسی۔
  • قزوینی، محمدکاظم، امام مہدی(ع) از ولادت تا ظہور، قم، نشر الہادی، 1387ہجری شمسی۔
  • قمی، عباس، وقایع الایام، ناشر نور مطاف، قم، بی تا۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • کورانی عاملی، علی، عصر الظہور، 1408ھ، بی‌جا، بی‌نا۔
  • کورانی، علی و دیگران، معجم الاحادیث الامام مہدی(ع)، قم، انتشارات مسجد مقدس جمکران، 1428ھ۔
  • مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مراغی، احمد بن مصطفی، تفسیر المراغی، داراحیاء التراث العربی، بیروت، بی‌تا۔
  • معرفت، محمدہادی‏، شبہات و ردود حول القرآن الکریم‏، قم‏، موسسہ فرہنگی انتشاراتی التمہید، 1423ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔