مسودہ:نعیم بن مسعود اشجعی
| کوائف | |
|---|---|
| کنیت | ابو سلمہ |
| دینی معلومات | |
| اسلام لانا | جنگ خندق |
| ہجرت | مدینہ |
| نمایاں کارنامے | جنگ خندق کے موقع پر دشمنان اسلام کے درمیان اختلاف پیدا کرنا |
نُعَیْم بن مَسْعُود بن عامِر[1] جن کی کنیت ابو سلمہ تھی،[2] وہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابی[3] اور قبیلہ بنی اَشْجَع سے تعلق رکھتے تھے۔[4] انہوں نے جنگ خندق کے دوران اسلام قبول کیا۔[5] نعیم کو ایک زیرک اور ہوشیار شخص قرار دیا گیا ہے۔[6] شیعہ[7] اور غیر شیعہ منابع[8] میں جنگ خندق کے دوران مسلمانوں کے دشمنوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے اور ان کے لشکر کو منتشر کرنے میں ان کے کردار کا ذکر ملتا ہے۔[9] یہ واقعہ تاریخی[10] اور غیر تاریخی منابع[11] میں نقل ہوا ہے، تاہم شیعہ تاریخی محقق جعفر مرتضی نے اس روایت کے صحیح ہونے کے بارے میں کچھ خدشات کا اظہار کیا ہے۔[12]
روایات کے مطابق مسلمان ہونے کے بعد نعیم نے پیغمبر اکرمؐ کے سامنے آپؐ کی مدد کرنے کے سلسلے میں اپنی آمادگی کا اعلان کیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے انہیں دشمنوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کا مشورہ دیا اور فرمایا کہ جنگ ایک چال ہے۔ نعیم کے قبیلہ بنی قریظہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔[13] چنانچہ وہ ان کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ قریش شکست کی صورت میں انہیں تنہا چھوڑ دیں گے۔ اس لئے انہوں نے مشورہ دیا کہ جب تک قریش کے سرداروں کو یرغمال بنا کر ان کے حوالے نہ کیا جائے ان کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ اس کے بعد وہ قریش کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ بنی قریظہ اپنے معاہدے پر پشیمان ہیں اور قریش کے سرداروں کو یرغمال بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان باتوں سے دونوں فریقوں کے درمیان بدگمانی پیدا ہوگئی۔[14] قریش کے سرداروں نے عکرمہ بن ابیجہل کو بنی قریظہ کے پاس بھیجا تاکہ انہیں جنگ جاری رکھنے پر آمادہ کرے۔ بنی قریظہ نے قریش کی طرف سے کچھ افراد کو یرغمال کے طور پر ان کے تحویل میں دئے جانے کی شرط پر تعاون کرنے کا اظہار کیا، لیکن قریش نے یہ شرط قبول نہیں کی۔ نتیجتاً دونوں فریقوں کے درمیان بدگمانی میں اضافہ ہوا اور دشمنوں کا اتحاد ٹوٹ گیا۔[15]
نعیم مسلمان ہونے سے پہلے قریش کے ساتھ تعاون کرتے تھے۔ تاریخی منابع کے مطابق ابوسفیان نے جنگ احد کے موقع پر وعدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال مسلمانوں سے جنگ کرے گا، لیکن پیغمبر اکرمؐ اور مسلمانوں کی تیاری کے باوجود مقررہ وقت پر وہ جنگ کے لئے حاضر نہیں ہوا۔[16] اس نے نُعَیم بن مسعود کو، جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، مسلمانوں کے پاس بھیجا تاکہ انہیں مشرکین کے لشکر کی کثرت سے خوف زدہ کریں اور جنگ سے باز رکھیں۔[17] بعض محققین نے اس واقعے میں نعیم کو قریش کا جاسوس قرار دیا ہے۔[18] اس واقعے کے بعد سورہ آل عمران آیت نمبر 173 ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مسلمانوں کو دشمن کی طاقت اور اس کے لشکر کی کثرت سے خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ شیعہ منابع میں نعیم کو ان افراد کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔[19] یہ واقعہ امام باقرؑ سے منقول ایک روایت میں بھی نقل ہوا ہے۔[20] آیت اللہ مکارم شیرازینے بھی اس نظریے کو بعض مفسرین کی طرف منسوب کیا ہے۔[21]
نعیم نے اسلام قبول کرنے کے بعد مدینہ میں سکونت اختیار کی۔[22] جنگ خندق میں اپنے کردار کی بنا پر وہ خود کو پیغمبر اکرمؐ کے رازوں کا امین سمجھتے تھے۔[23] ان کی اولاد بھی اپنے آپ کو پیغمبر(ص) کے امین کی اولاد کہہ کر متعارف کراتی تھی۔[24] بعض کتابوں میں پیغمبر اکرم(ص) کا نعیم کے نام ایک مکتوب بھی نقل ہوا ہے۔[25] اہل سنت کے حدیثی منابع میں ان کے توسط سے بعض احادیث بھی نقل ہوئی ہیں۔[26] بعض روایات کے مطابق ان کی وفات عثمان کے دورِ خلافت میں ہوئی، جبکہ بعض دیگر روایات میں امام علیؑ کی حکومت کے زمانے میں انہیں قتل کئے جانے کا ذکر ملتا ہے۔[27]
حوالہ جات
- ↑ ابنقانع، معجم الصحابۃ، ج14، ص5099۔
- ↑ ابنحجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج10، ص466۔
- ↑ ابنقانع، معجم الصحابۃ، ج14، ص5099۔
- ↑ ابنحزم اندلسی، جمہرۃ انساب العرب، ص249۔
- ↑ قاضی نعمان، شرح الأخبار، ج1، ص297۔
- ↑ علاونہ، تطریز الکساء، ج1، ص272۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، ج1، ص181؛ قاضی نعمان، شرح الأخبار، ج1، ص297-299۔
- ↑ ابنجوزی، المنتظم، ج5، ص18۔
- ↑ اسماعیلی، «نعیم بن مسعود»، ج7، ص320۔
- ↑ ابنسعد، الطبقات الکبری، ج4، ص209؛ ذہبی، تاریخ الإسلام، ج3، ص358۔
- ↑ بیہقی، دلائل النبوۃ، ج3، ص445۔
- ↑ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم، ج11، ص200-202۔
- ↑ اسماعیلی، «نعیم بن مسعود»، ج7، ص320۔
- ↑ آیتی، تاریخ پیامبر اسلام، صص398-400۔
- ↑ آیتی، تاریخ پیامبر اسلام، صص398-400۔
- ↑ بلاذری، أنساب الأشراف، ج1، ص340۔
- ↑ مقریزی، إمتاع الأسماع، ج1، ص193؛ مقریزی، إمتاع الأسماع، ج1، ص193۔
- ↑ نقیپورفر، پژوہشی پیرامون تدبر در قرآن، ص322۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، ج1، ص11؛ ابنشہر آشوب، متشابہ القرآن و مختلفہ، ج2، ص277۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج2، ص889۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج2، ص587۔
- ↑ نووی، تہذیب الأسماء و اللغات، ص342۔
- ↑ زرکلی، الأعلام، ج8، ص41۔
- ↑ ابنسعد، الطبقات الصغیر، ج1، ص113۔
- ↑ احمدی میانجی، مکاتیب الرسول، ج3، ص273۔
- ↑ مجموعۃ من المؤلفین، کتاب المسند الجامع، ج15، ص545۔
- ↑ خزاعی، تخریج الدلالات السمعیۃ علی ما کان فی عہد رسول اللہ(ص)، ص477۔
مآخذ
- آیتی، محمدابراہیم، "تاریخ پیامبر اسلام"، مصحح: ابوالقاسم گرجی، تہران، دانشگاہ تہران، 1369ہجری شمسی۔
- ابنحزم اندلسی، ابومحمد علی بن احمد، "جمہرۃ انساب العرب"، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، پہلی اشات، 1418ھ۔
- ابنجوزی، عبدالرحمن بن علی، "المنتظم"، محقق: محمد عبدالقادر عطا، مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
- ابنحجر عسقلانی، احمد بن علی، "الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ"، تحقیق: عادل احمد عبدالموجود، علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- ابنحجر عسقلانی، احمد، "تہذیب التہذیب"، ہند، مطبعۃ دائرۃ المعارف النظامیۃ، پہلی اشاعت، 1326ھ۔
- ابنسعد، محمد بن سعد، "الطبقات الکبری"، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، دوسری اشاعت، 1418ھ۔
- ابنسعد، محمد بن سعد، "الطبقات الصغیر"، مصحح: بشار عواد معروف، محمد زاہد جول، تونس، دار الغرب الإسلامی، 2009ء۔
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، "متشابہ القرآن و مختلفہ"، مقدمہ: شہرستانی، قم، انتشارات بیدار، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- ابنقانع، عبدالباقی بن قانع، "معجم الصحابۃ"، محقق: حمدی دمرداش محمد، خلیل ابراہیم قوتلای، بیروت، دار الفکر، 2004ء۔
- احمدی میانجی، علی، "مکاتیب الأئمۃ(ع)"، قم، دار الحدیث، پہلی اشاعت، 1426ھ۔
- اسماعیلی، «نعیم بن مسعود»، "دایرۃ المعارف صحابہ پیامبر اعظم(ص)"، تدوین: عبدالرضا عسگری، زیرنظر: محمدہادی یوسفی غروی، تہران، سازمان تبلیغات اسلامی، 1393ہجری شمسی۔
- بلاذری، احمد بن یحیی، "انساب الاشراف"، تحقیق: زکار، سہیل، زرکلی، ریاض، بیروت، دار الفکر، پہلی اشاعت، 1417ھ۔
- بیہقی، احمد بن حسین، "دلائل النبوۃ"، محقق: عبدالمعطی امین قلعجی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1405ھ۔
- خزاعی، علی بن محمد، "تخریج الدلالات السمعیۃ علی ما کان فی عہد رسول اللہ(ص)"، محقق: احسان عباس، بیروت، دارالغرب الإسلامی، 1999ء۔
- ذہبی، محمد بن احمد، "تاریخ الاسلام"، تحقیق: عمر عبد السلام تدمری، بیروت، دار الکتاب العربی، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
- زرکلی، خیرالدین، "الاعلام"، بیروت، دار العلم للملایین، آٹھویں اشاعت، 1989ء۔
- طبرسی، فضل بن حسن، "مجمع البیان فی تفسیر القرآن"، مقدمہ: محمدجواد بلاغی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- عاملی، جعفر مرتضی، "الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم"، قم، دار الحدیث، پہلی اشاعت، 1426ھ۔
- علاونہ، "تطریز الکساء فی التساوی بین أسماء الرجال و النساء"، ریاض، دار ابن حزم، 2004ء۔
- قاضی نعمان مغربی، نعمان بن محمد، "نعشرح الاخبار فی فضائل الأئمۃ الأطہار(ع)"، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
- قمی، علی بن ابراہیم، "تفسیر القمی"، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
- مجموعۃ من المؤلفین، "کتاب المسند الجامع"، محققان: بشار عواد، السید أبو المعاطی محمد النوری، أحمد عبد الرزاق عید، أیمن إبراہیم الزاملی، محمود محمد خلیل، کویت، دار الجیل، 1993ء۔
- مقریزی، تقی الدین، "امتاع الاسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع"، تحقیق: محمد عبدالحمید نمیسی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، "تفسیر نمونہ"، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- نقیپورفر، ولیاللہ، "پژوہشی پیرامون تدبر در قرآن"، تہران، انتشارات اسوہ، 1381ہجری شمسی۔
- نووی، یحیی بن شرف، "تہذیب الأسماء و اللغات"، مصحح: عادل مرشد، عامر غضبان، دمشق، دار الرسالۃ العالمیۃ، 2009ء۔