مسودہ:شجرہ طیبہ سکول میناب پر امریکی حملہ
| واقعہ کی تفصیل | شجرہ طیّبہ سکول میناب پر امریکہ کا میزائل حملہ |
|---|---|
| زمان | 28 فروری 2026ء |
| مکان | شہر میناب، صوبہ ہرمزگان ایران |
| عناصر | امریکی فوج |
| نقصانات | 156 شہید (120 طلبہ+26 ٹیچرز ...) اور 95 زخمی |
| عکس العمل | ایرانی حکام، اقوام متحدہ، یونسکو اور مختلف ممالک کے متعدد شخصیات کی طرف سے حملے کی مزمت کی گئی اور ان بچوں کے نام مختلف یادگاری مجالس برگزار کی گئیں |
| مربوط | جنگ رمضان، آیت اللہ خامنہ ای کا قتل |
'شجرۂ طیبہ پرائمری سکول میناب پر امریکی حملہ'، یہ واقعہ امریکہ کی جانب سے ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں واقع شجرۂ طیبہ پرائمری سکول پر 28 فروری 2026ء کو جنگِ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی پیش آیا۔ اس حملے میں 156 افراد شہید اور 95 افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت سکول کے بچوں کی تھی؛ شہداء میں 73 لڑکے اور 47 لڑکیاں شامل تھیں۔
ایرانی حکام نے اس حملے کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کی، تاہم ان دونوں ممالک نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بعض تحقیقی رپورٹوں منجملہ نیویارک ٹائمز اور رائٹرز نے ابتدائی شواہد اور استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی نوعیت کی بنیاد پر اس حملے میں امریکی افواج کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی رپورٹ میں امریکہ کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بعض دیگر رپورٹوں میں اس حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کا مقصد ایرانی مسلح افواج کی عوامی مقبولیت اور حمایت کو خدشہ دار بنانا بیان کیا گیا ہے۔
اس حملے میں غیر عسکری مقاصد کو ہدف قرار دئے جانے کی بنا پر متعدد اداروں اور حکام نے اس واقعے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی یا جنگی جرم قرار دیا ہے۔ اسی سلسلے میں ایرانی حکام، یونیسکو، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نیز اٹلی اور چین سمیت مختلف ممالک کے حکام نے شدید ردِّ عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ اسی طرح ایرانی حوازات علمیہ کے سربراہ علی رضا اعرافی نے دنیائے مسحیت کے روحانی رہنما پوپ کے نام اپنے خط میں اس واقعے پر مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کی۔
اس سانحے کے بعد شہداء کی یاد میں متعدد ثقافتی اور فنّی آثار پیش کئے گئے اور مختلف ممالک میں یادگاری تقریبات منعقد ہوئیں۔ اسی طرح فرشتگانِ میناب جیسے عناوین کے تحت مختلف آثاری مجموعے شائع کئے گئے ہیں۔
محرکات اور واقعے کی تفصیل
میناب کے شجرۂ طیبہ پرائمری اور پری پرائمری اسکول پر میزائل حملہ، جسے جنگ رمضان کا سب سے خونی واقعہ قرار دیا گیا ہے،[1] 28 فروری 2026ء کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں پیش آیا۔[2] اس حملے میں شہداء کی حتمی تعداد 156،[3] زخمیوں کی تعداد 95[4] یا 96[5] افراد بتائی گئی ہے۔ شہداء میں 120 سکول کے بچے (73 لڑکے اور 47 لڑکیاں)، 26 خواتین معلمات، بچوں کے والدین میں سے سات افراد (چار مرد اور تین خواتین)، ایک اسکول بس ڈرائیور، اسکول سے ملحقہ کلینک کی فارمیسی کا ایک ٹیکنیشن اور ایک چھ ماہ کا جنین شامل تھا۔[6] اس سے قبل مختلف مراحل میں شہداء کی تعداد 165،[7] 168[8] اور 170[9] بھی بیان کی گئی، جبکہ ایک مرحلے پر 168 افراد کو سرکاری اعداد و شمار کے طور پر بھی اعلان کیا گیا تھا۔[10]

رپورٹوں کے مطابق اس حملے میں امریکی ساخت دو ٹام ہاک (Tomahawk) کروز میزائل مدرسے پر آگرے۔[11] بعض ذرائع نے تین میزائل حملوں کا ذکر کیا ہے۔[12] پہلے میزائل کے گرنے کے بعد موجود افراد عمارت کے مختلف حصوں خصوصا مسجد میں پناہ لینے لگے، تاہم بعد میں ہونے والے حملوں میں ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔[13]
اس حملے کے محرکات کے بارے میں مختلف آراء پیش کی گئی ہیں۔ الجزیرہ کے تحقیقاتی شعبے نے اسے ایک دانستہ کارروائی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس کا مقصد ایرانی عوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہونا اور ایرانی مسلح افواج کے لئے عوامی حمایت کو کم کرنا تھا۔[14]
یہ مدرسہ صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں واقع ہے۔[15] آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے صوبہ ہرمزگان کو غیر معمولی عسکری اہمیت حاصل ہے اور اسے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔[16] الجزیرہ کے مطابق شجرۂ طیبہ سکول ماضی میں انتظامی اعتبار سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے بعض مراکز سے وابستہ تھا اور اس میں سپاہ کے بعض اہلکاروں کے بچے بھی زیر تعلیم تھے؛[17] تاہم یہ مدرسہ صرف انہی کے لئے مخصوص نہیں تھا۔[18] مختلف ذرائع کے مطابق اس سکول کو 2016ء میں سید الشہداء عسکری کمپلیکس" سے انتظامی طور پر الگ کر دیا گیا تھا۔[19]

اسی روز میناب کے مذکورہ اسکول کے علاوہ صوبۂ فارس کے شہر لامرد میں بھی ایک پرائمری اسکول اور ایک اسپورٹس ہال بھی امریکہ اور اسرائیل کے میزائل حملوں کا نشانہ بنے، جن میں رپورٹوں کے مطابق کم از کم 21 عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔[20]
حملے کی ذمہ داری
ایرانی حکام نے میناب کے شجرۂ طیبہ سکول پر ہونے والے حملے کو ایک دانستہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کی۔[21] بعض ذرائع ابلاغ،[22] بالخصوص "نیویارک ٹائمز"[23] اور رائٹرز[24] نے اپنی ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر اس حملے میں امریکی افواج کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی رپورٹ میں امریکہ کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔[25]
امریکی کانگریس کے بعض اراکین[26] اور سینیٹر کرس وین ہولن نے بھی اس حملے کی ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد کی۔[27] اس کے مقابلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس حملے کا ذمہ دار خود ایران ہے اور یہ بھی کہا کہ ایران کے پاس ٹام ہاک میزائل موجود ہیں؛[28] تاہم نیویارک ٹائمز نے اس دعوے کو دستیاب شواہد سے متصادم قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ٹام ہاک کروز میزائل صرف امریکی فوج کے زیر استعمال ہیں۔[29] اسی طرح "رائٹرز"[30] اور متعدد عسکری ماہرین[31] نے بھی ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ ایران اور نہ ہی اسرائیل کے پاس اس نوعیت کے ٹام ہاک میزائل موجود ہیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے بھی اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔[32] اس سے قبل امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) اور اسرائیلی فوج بھی یہ کہہ چکے تھے کہ انہیں اس حملے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔[33]

بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک ایک ہی اسکول پر متعدد میزائل داغے جانے کا واقعہ محض عملیاتی غلطی(Operational Error) کے مفروضے سے مطابقت نہیں رکھتا۔[34] اسی طرح متعدد عسکری ماہرین نے ٹام ہاک میزائلوں کی انتہائی دقیق نشانہ زنی (Precision) کا حوالہ دیتے ہوئے اس احتمال کو بھی بعید قرار دیا کہ اسکول کو غلطی سے کسی فوجی ہدف کے طور پر نشانہ بنایا گیا ہو۔[35] البتہ بعض ذرائع ابلاغ نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا کہ ممکن ہے حملہ پرانی یا غلط انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔[36]
بعض رپورٹوں کے مطابق شجرۂ طیبہ سکول کو نشانہ بنانے والے میزائل بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈے سے داغے گئے تھے۔[37]
بعض ذرائع ابلاغ اور تجزیہ نگاروں نے اس واقعے کا موازنہ ایسے دوسرے واقعات سے کیا ہے جن میں امریکہ یا اسرائیل پر غیر فوجی مراکز کو نشانہ بنانے، بعد ازاں ذمہ داری سے انکار کرنے یا الزام مخالف فریق پر عائد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ بعد کی تحقیقات میں ابتدائی دعوے غلط ثابت ہوئے۔[38]
ردِّ عمل

شجرۂ طیبہ سکول میناب پر حملے کے بعد ایرانی حکام، بین الاقوامی اداروں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر ردِّ عمل سامنے آیا۔ ایرانی صدر مملکت مسعود پزشکیان نے اس واقعے کو ایرانی قوم کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہنے والا سانحہ قرار دیا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسے ایک صریح اور کھلا جرم قرار دیا۔[39] یونیسکو نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین اور صریح خلاف ورزی قرار دیا۔[40] اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش اور اقوامِ متحدہ کے متعدد ماہرین نے بھی اس حملے کی مذمت کی۔ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا،[41] جبکہ اقوامِ متحدہ کے بعض خصوصی ماہرین نے اسے روم آئین نامہ (Rome Statute) کے مطابق جنگی جرم کی تعریف میں شامل قرار دیا۔[42]
اٹلی کی وزیرِ اعظم[43] اور چین کی وزارتِ خارجہ[44] نے بھی علیحدہ علیحدہ بیانات میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اس حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسکول یا اسپتال پر بمباری غلطی نہیں بلکہ جنگی جرم ہے۔[45] الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ اور متعدد انسانی حقوق کے مبصرین نے اس امر پر زور دیا کہ شجرۂ طیبہ سکول ایک مکمل طور پر غیر فوجی تعلیمی ادارہ تھا اور وہاں موجود سکول کے بچے اور اساتذہ عام شہری تھے؛ لہٰذا اس پر حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کے منافی ہے۔[46]
ایران کے حوازات علمیہ کے سربراہ علی رضا اعرافی نے پوپ لیو چهاردہم کے نام اپنے خط میں اس حملے کو جنگی جرم کی نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پوپ اس کی مذمت کریں اور واضح کریں کہ اس نوعیت کی کارروائیاں مسیحیت کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔[47]
حملے کے بعد متعدد حلقوں کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ تباہ شدہ سکول کی عمارت کو ایک یادگار یا عجائب گھر (میوزیم) کی صورت میں محفوظ رکھا جائے۔[48] اسی دوران اعلان کیا گیا کہ آیت اللہ سیستانی کی ہدایت اور عتبۂ حسینی کے تعاون سے اسی مقام پر جدید تعلیمی سہولیات سے آراستہ ایک نیا اسکول تعمیر کیا جائے گا۔[49] متعدد مخیر حضرات اور معروف شخصیات نے بھی اسکول کی تعمیرِ نو میں تعاون کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔[50]
ایران کی تنظیمِ نوسازی، ترقی و تجهیزِ مدارس کے سربراہ نے اعلان کیا کہ شہداءِ میناب کے نام سے دو نئے اسکول اور اس سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کی یاد میں 168 تعلیمی ادارے تعمیر کئے جائیں گے۔[51] اسی طرح اپریل 2026ء میں پاکستان میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے لئے روانہ ہونے والے ایرانی مذاکراتی وفد نے اپنے قافلے کا نام "میناب 168" رکھا۔[52]
اس حملے کے شہداء کی اجتماعی تشییع جنازہ 3 مارچ 2026ء کو شہر میناب میں عوام اور ہرمزگان کے صوبائی حکام کی وسیع شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔[53] اس کے علاوہ ایران کے مختلف شہروں اور دیگر ممالک، ازجملہ پاکستان،[54] میکسیکو[55] اور کینیڈا[56] میں بھی تعزیتی اجتماعات، یادگاری تقریبات اور دعائیہ محافل منعقد کی گئیں۔
-
امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں میناب کے بچوں کی تصاویر کی نمائش۔[57]
-
حرمِ امام رضا(ع) میں فرشتگانِ مقاومت کے عنوان سے میناب کے شہید طلبہ کی یاد میں منعقدہ تقریب (24 اپریل 2026ء)۔
-
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے میناب کے طلبہ کے قتلِ عام کے خلاف احتجاج۔[58]
-
حرم امام رضا(ع) میں مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے شہداء کی یاد میں تعاملی دیوارنگاری۔
-
یمنی کارٹونسٹ کمال شرف کا میناب کی شہید طالبات کی یاد میں تیار کردہ کارٹون۔
فنّی اور ثقافتی آثار
شجرۂ طیبہ سکول میناب پر حملے اور اس کے شہداء کی یاد میں متعدد فنّی، ادبی اور ثقافتی تخلیقات پیش کی گئیں۔ ان میں غلام رضا صنعتگر کی آواز میں «زنگِ پرواز» (پرواز کی گھنٹی)،[59] زانکو کی آواز میں «بخواب آروم» (آرام سے سوجاؤ)،[60] محسن حسینی کی آواز میں «انشائے آخر» (آخری انشاء)،[61] رضا صادقی کی آواز میں «گلِ میناب» (میناب کے پھول) اور «موهای خاکی» (خاکی بال)،[62] اور حامد ہمایون کی آواز میں «نقطۂ پایان» (نقطۂ اختتام) شامل ہیں۔[63]
انجمن موسیقی ایران نے مختلف فنکاروں کی جانب سے میناب کے شہید بچوں کی یاد میں تخلیق کردہ موسیقی کو «فرشتگانِ میناب» (میناب کے فرشتے) کے عنوان سے ایک موسیقی مجموعے (Album) کی صورت میں شائع کیا۔[64] ایران کی وزارتِ ثقافت و ارشادِ اسلامی کے دفترِ موسیقی کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اعلان کیا کہ شجرۂ طیبہ سکول کے شہداء کی یاد میں ایک سمفنی (Symphony) تیار کی جا رہی ہے۔[65]
ایران کے مختلف شہروں میں میناب کے شہید بچوں کی یاد میں متعدد عوامی اور عملی نمائش (Field Performance) پر مبنی ڈرامائی پروگرام منعقد کئے گئے۔ ان میں سب سے نمایاں قومی نمائشی پروگرام «بہ کدامین گناہ؟» (کسی جرم میں؟) تھا، جو میناب کے شہید بچوں کی شہادت کے چہلم کے موقع پر ایران کے 21 صوبوں میں بیک وقت پیش کیا گیا۔[66]
جنوبی کوریا کی بین الاقوامی امن انجمن نے بھی جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کے مغربی حصے میں امریکہ کے اس حملے کی یاد میں ایک تصویری نمائش منعقد کی، جس کا نقرہ تھا: "ہم ان معصوم بچیوں کی یاد کو سلام پیش کرتے ہیں جو امریکی ٹام ہاک میزائلوں کے حملے میں شہید ہوئیں۔"[67]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «مدرسۂ شجرۂ طیبہ پر حملے کے شہداء کی حتمی تعداد کا اعلان»، تابناک۔
- ↑ «ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ (28 فروری 2026ء تا حال)»، اسپوتنک نیوز۔
- ↑ «میناب کے شہداء کی تلاش کا مرحلہ مکمل؛ 165 طلبہ شہید ہوئے»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی؛ «میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کے خونی ہفتہ کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟»، بی بی سی فارسی۔
- ↑ «مدرسۂ شجرۂ طیبہ پر حملے کے شہداء کی حتمی تعداد کا اعلان»، تابناک۔
- ↑ «میناب کے شہداء کی تلاش کا مرحلہ مکمل؛ 165 طلبہ شہید ہوئے»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی؛ «میناب کے شہر کے طالبات کے پرائمری اسکول پر میزائل حملے میں 165 افراد جاں بحق»، بی بی سی فارسی؛ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «Middle East war’s ‘spiral of conflict’ drives mounting civilian toll»، UN News؛ «میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کے خونی ہفتہ کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟»، بی بی سی فارسی۔
- ↑ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کے خونی ہفتہ کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟»، بی بی سی فارسی۔
- ↑ «ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ (28 فروری 2026ء تا حال)»، اسپوتنک نیوز۔
- ↑ «Minab: When the world’s most precise missile chose a classroom»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «مڈل ایسٹ آئی کی روایت: میناب اسکول کے سانحے میں دوسرا دھماکا کسی کو زندہ نہ چھوڑ سکا»، العالم نیوز نیٹ ورک۔
- ↑ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network؛ «Bombed Iranian girls school had vivid website and yearslong online presence»، Reuters.
- ↑ «میناب کے شجرۂ طیبہ اسکول کے خونی ہفتہ کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟»، بی بی سی فارسی۔
- ↑ «Bombed Iranian girls school had vivid website and yearslong online presence»، Reuters؛ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «نیویارک ٹائمز کی رپورٹ: ایران کے خلاف جنگ کے پہلے روز اسکولوں، لامرد اور رہائشی علاقوں پر میزائل حملے»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «نیویارک ٹائمز کی تحقیق کے مطابق امریکہ غالباً میناب اسکول پر حملے کا ذمہ دار ہے»، ریڈیو فردا؛ «رائٹرز نے دو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا: میناب اسکول پر حملہ غالباً امریکہ نے کیا»، آر ایف آئی؛ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network؛ «ویڈیو تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ میناب اسکول کے قریب گرنے والا میزائل ٹام ہاک کروز میزائل تھا»، بی بی سی فارسی.
- ↑ «U.S. Tomahawk Hit Naval Base Beside Iranian School, Video Shows»، The New York Times.
- ↑ «Bombed Iranian girls school had vivid website and yearslong online presence»، Reuters.
- ↑ «ایمنسٹی انٹرنیشنل: امریکہ کو ایران کے میناب اسکول پر حملے کے جرم کا جواب دینا ہوگا»، العالم نیوز نیٹ ورک.
- ↑ «سابق امریکی حکام نے میناب اسکول پر مہلک حملے کے بارے میں پینٹاگون کی خاموشی پر تنقید کی»، بی بی سی فارسی.
- ↑ «سینیٹ میں اقلیتی رہنما: ٹرمپ میناب اسکول کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں»، تابناک.
- ↑ «نیویارک ٹائمز نے میناب اسکول سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کر دیا»، العالم نیوز نیٹ ورک؛ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «U.S. Tomahawk Hit Naval Base Beside Iranian School, Video Shows»، The New York Times؛ «ویڈیو تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ میناب اسکول کے قریب گرنے والا میزائل ٹام ہاک کروز میزائل تھا»، بی بی سی فارسی.
- ↑ «Bombed Iranian girls school had vivid website and yearslong online presence»، Reuters.
- ↑ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «میناب کے طالبات کے اسکول پر میزائل حملے میں 165 افراد جاں بحق»، بی بی سی فارسی؛ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «امریکی صحافی: کوئی شخص غلطی سے کسی اسکول پر دو مرتبہ بمباری نہیں کرتا»، مشرق نیوز؛ «میناب اسکول پر دوسرا حملہ؛ یہ اب غلطی نہیں بلکہ جنگی جرم ہے»، تابناک.
- ↑ «Minab: When the world’s most precise missile chose a classroom»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «U.S. Tomahawk Hit Naval Base Beside Iranian School, Video Shows»، The New York Times؛ «ویڈیو تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ میناب اسکول کے قریب گرنے والا میزائل ٹام ہاک کروز میزائل تھا»، بی بی سی فارسی.
- ↑ «ہاشم الحیدری: میناب کا جنگی جرم بحرین سے داغے گئے میزائلوں کے ذریعے انجام دیا گیا»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی.
- ↑ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network؛ «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network؛ «سابق امریکی حکام نے میناب اسکول پر مہلک حملے کے بارے میں پینٹاگون کی خاموشی پر تنقید کی»، بی بی سی فارسی.
- ↑ «میناب میں طلبہ پر حملہ ایک صریح جرم ہے»، ایرنا۔
- ↑ «Deadly bombing of Iran primary school ‘a grave violation of humanitarian law’: UNESCO»، UN News.
- ↑ «اقوامِ متحدہ نے میناب اسکول پر حملے کی مذمت کی»، نور نیوز۔
- ↑ «UN experts strongly condemn deadly missile strike on girls’ school in Iran, call for independent investigation»، UN Human Rights.
- ↑ «اٹلی کی وزیرِ اعظم نے میناب کی طالبات کے قتلِ عام کی مذمت کی»، العالم نیوز نیٹ ورک۔
- ↑ «چین نے امریکہ کا نام لیے بغیر میناب اسکول پر حملے کی مذمت کی»، آر ایف آئی۔
- ↑ «Bombing hospital or school isn't a 'miscalculation' but 'war crimes': WHO chief»، Anadolu Ajansı.
- ↑ «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network.
- ↑ «آیت اللہ اعرافی کا پوپ، سربراہِ کلیسائے کیتھولک، کے نام اہم خط»، خبرگزاریِ حوزہ۔
- ↑ «مدرسۂ شجرۂ طیبہ، میناب کو میوزیم میں تبدیل کیا جائے گا»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ «آیت اللہ سیستانی کی ہدایت پر میناب میں نیا اسکول تعمیر کیا جائے گا»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ دیکھیے: «میناب کے بچوں کے لئے فنکاروں اور خیر خواہوں کی خصوصی مہم»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ «میناب کے شہید طلبہ کی یاد میں 168 اسکول تعمیر کیے جائیں گے»، تابناک۔
- ↑ «ایرانی مذاکراتی وفد کے قافلے کا نام "میناب 168" رکھا گیا»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ «ہرمزگان نے میناب کے شہید طلبہ کو تاریخی انداز میں سپردِ خاک کیا»، العالم نیوز نیٹ ورک۔
- ↑ «پاکستان کے شہر پاراچنار میں میناب کے شہید بچوں کو خراجِ عقیدت»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ «میکسیکو میں میناب کے طلبہ کی یاد میں خصوصی تقریب»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ «وینکوور میں میناب کے شہید بچوں کی یاد میں تقریب»، ہمشہری آن لائن۔
- ↑ «برکلے یونیورسٹی میں میناب کے بچوں کی تصاویر کی نمائش»، خبرگزاری صدا و سیما۔
- ↑ «وائٹ ہاؤس کے سامنے میناب کے بچوں کے قتلِ عام کے خلاف احتجاج»، نور نیوز۔
- ↑ «غلام رضا صنعتگر کی آواز میں "زنگِ پرواز" جاری»، شہرآرا نیوز۔
- ↑ «زانکو کی آواز میں "بخواب آروم" جاری»، شہرآرا نیوز۔
- ↑ «میناب کے بچوں کی یاد میں "انشائے آخر" جاری»، شہرآرا نیوز۔
- ↑ «جنگِ رمضان کے دوران وطن کے لئے پیش کیے گئے ایک سو سے زائد حماسی نغمے»، مشرق نیوز۔
- ↑ «جنگِ رمضان کے دوران وطن کے لئے پیش کیے گئے ایک سو سے زائد حماسی نغمے»، مشرق نیوز۔
- ↑ «اختتامی تقریب "برای ایران" میں "فرشتگانِ میناب" البم کی رونمائی»، خبرگزاری فارس۔
- ↑ «میناب کے شہداء کے موضوع پر دو سمفنیوں کی تیاری»، شہرآرا نیوز۔
- ↑ «میناب کے بچوں کی یاد میں قومی نمائشی پروگرام "بہ کدامین گناہ؟"»، خبرگزاری صدا و سیما۔
- ↑ «جنوبی کوریا میں میناب اسکول کے شہداء کی تصویری نمائش»، شہرآرا نیوز۔
مآخذ
- مدرسۂ شجرۂ طیبہ پر حملے کے شہداء کی حتمی تعداد کا اعلان، تابناک، تاریخِ اشاعت: 9 اپریل 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 28 اپریل 2026ء۔
- «میناب میں مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے خونی ہفتہ کے بارے میں اب تک کیا معلوم ہے؟»، بی بی سی فارسی، تاریخِ اشاعت: 6 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 2 مئی 2026ء۔
- «ایرانی مذاکراتی وفد کے قافلے کا نام "میناب 168" رکھا گیا | مذاکراتی ٹیم کے طیارے کے اندر کی منفرد تصاویر»، ہمشہری آن لائن، تاریخِ اشاعت: 11 اپریل 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 27 اپریل 2026ء۔
- «جنوبی کوریا میں میناب اسکول کے شہداء کی تصویری نمائش»، شہرآرا نیوز، تاریخِ اشاعت: 28 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 21 اپریل 2026ء۔
- «میناب کے شہداء کی تلاش مکمل؛ 165 طلبہ شہید ہوئے»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی، تاریخِ اشاعت: 1 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 2 مئی 2026ء۔
- «ویڈیو تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ میناب اسکول کے قریب گرنے والا میزائل ٹام ہاک کروز میزائل تھا»، بی بی سی فارسی، تاریخِ اشاعت: 9 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 2 مئی 2026ء۔
- «میناب کے شہداء اور شہید قائد کے موضوع پر دو سمفنیوں کی تیاری»، شہرآرا نیوز، تاریخِ اشاعت: 13 اپریل 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 19 اپریل 2026ء۔
- «ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ (28 فروری 2026ء تا حال)»، اسپوتنک نیوز، تاریخِ مشاہدہ: 25 اپریل 2026ء۔
- «جنگِ رمضان میں وطن کے لئے نغمہ پڑھنے والے فنکار؛ سو سے زائد حماسی نغموں کا شاہکار»، خبرگزاری مشرق، تاریخِ اشاعت: 20 اپریل 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 25 اپریل 2026ء۔
- «چین نے امریکہ کا نام لیے بغیر میناب کے اسکول پر حملے کی مذمت کی»، آر ایف آئی، تاریخِ اشاعت: 13 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 2 مئی 2026ء۔
- «"فرشتگانِ میناب" البم کی اختتامی تقریب "برای ایران" میں رونمائی»، خبرگزاری فارس، تاریخِ اشاعت: 11 اپریل 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 19 اپریل 2026ء۔
- «میناب کے بچوں کی یاد میں قومی نمائشی پروگرام "بہ کدامین گناہ؟"»، خبرگزاری صدا و سیما، تاریخِ اشاعت: 5 اپریل 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 25 اپریل 2026ء۔
- «سابق امریکی حکام نے میناب اسکول پر مہلک حملے کے بارے میں پینٹاگون کی خاموشی پر تنقید کی»، بی بی سی فارسی، تاریخِ اشاعت: 29 اپریل 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 4 مئی 2026ء۔
- «میناب کے طالبات کے ابتدائی اسکول پر میزائل حملے میں 165 افراد جاں بحق»، بی بی سی فارسی، تاریخِ اشاعت: 1 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 29 اپریل 2026ء۔
- «Al Jazeera investigation: Iran girls’ school targeting likely ‘deliberate’»، Al Jazeera Media Network, Published: 3 March 2026, Accessed: 2 May 2026.
- «Bombing hospital or school isn't a 'miscalculation' but 'war crimes': WHO chief», Anadolu Ajansı, Published:15 March 2026, Accessed: 4 May 2026.
- «Bombed Iranian girls school had vivid website and yearslong online presence», Reuters, Published:12 March 2026, Accessed: 4 May 2026.
- «Who bombed the Iranian girls’ school, killing more than 170? What we know»، Al Jazeera Media Network, Published:12 March 2026, Accessed: 2 May 2026.
- «Deadly bombing of Iran primary school ‘a grave violation of humanitarian law’: UNESCO»، UN News, Published: 1 March 2026 2026, Accessed: 2 May 2026.
- «Middle East war’s ‘spiral of conflict’ drives mounting civilian toll», UN News, Published: 16 March 2026 2026, Accessed: 2 May 2026.
- «UN experts strongly condemn deadly missile strike on girls’ school in Iran, call for independent investigation», UN Human Rights, Published:6 March 2026, Accessed: 2 May 2026.
- «U.S. Tomahawk Hit Naval Base Beside Iranian School, Video Shows», The New York Times, Published: 11 March 2026, Accessed: 2 May 2026.