مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سوہ زمر آیت نمبر 18

ویکی شیعہ سے
سورہ زمرہ آیت نمبر 18
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ زمر
آیت نمبر18
پارہ23
محل نزولمکہ
موضوعاعتقادی
مضموناولوا الالباب اور خدا کے ہدایت یافتہ بندوں کی خصوصیات


سورہ زمر آیت نمبر 18، میں اولوا الالباب اور اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ بندوں کی دو خصوصیات بیان کی گئی ہے؛ مختلف باتوں کو سننا اور بہترین قول کی پیروی کرنا۔ اہلِ بیتؑ کی احادیث میں اس آیت کو حدیث نقل کرنے میں امانت داری (یعنی روایت میں کمی بیشی نہ کرنے) اور شیعہ ائمہؑ کی پیروی پر منطبق کیا گیا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں «القول» کے مفہوم کے بارے میں دو بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ اس سے قرآن اور توحیدی تعلیمات مراد لیتے ہیں اور اس نظریہ کے مطابق صیغۂ تفضیل «اَحسن» اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نیک اقوال میں سے بہترین قول کو اختیار کیا جائے۔ اس کے مقابلے میں دوسرا گروہ «القول» کو ہر قسم کی گفتگو، خواہ حق ہو یا باطل، کے معنی میں لیتے ہیں اور اس بنا پر «اَحسن» کی تشخیص کے لئے عقل اور عقلی دلائل سے مدد لینے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

ہدایت یافتہ اور عقل مند لوگوں کی دو خصوصیات

سورہ زمر آیت 18 اور اس سے ماقبل آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ اور صاحبِ عقل بندوں (اولوا الالباب) کی بعض صفات بیان کی گئی ہے۔ قرآن ان دونوں آیات میں اسلوب تقابل سے استفادہ کرتے ہوئے حق سے منہ موڑنے والے مشرکین کے مقابلے میں اللہ کے ایسے بندوں کا ذکر کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کی بشارت حاصل ہوئی ہے۔[1]

الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ ‎﴿١٨﴾
جو (ہر کہنے والے کی) بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ ہدایت دیتا ہے اور یہی صاحبانِ عقل ہیں۔



سورہ زمر آیت نمبر 18

بعض مفسرین نے زمر کی 18ویں ایت کو اس سے پہلے والی آیت کے ساتھ مربوط قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق سورہ زمر کی 17ویں کے آخر میں مذکور بشارت («فَبَشِّرْ عِبادِ») ان بندوں کے لئے ہے [2] جو ہمیشہ حق کی تلاش میں رہتے ہیں اور حق کو پہچان لینے کے بعد اس کی پیروی کرتے ہیں۔[3] اسی لئے اس آیت کو ان بندوں کی صفات پر مشتمل قرار دیا گیا ہے۔[4]

تفسیر مجمع البیان میں مذکور ہے کہ لفظ «عبادِ» دراصل «عبادی» (میرے بندے) تھا، جس میں یائے متکلم کو حذف کرکے اس کی جگہ کسرہ باقی رکھا گیا ہے۔[5]

قولِ اَحسن

قولِ اَحسن کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان دو بنیادی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ اس سے قرآن اور توحیدی تعلیمات مراد لیتا ہے جبکہ دوسرا گروہ اسے ہر قسم کے قول خواہ حق ہو یا باطل پر مشتمل سمجھتا ہے۔[6]

«القول» سے مراد قرآن اور توحیدی تعلیمات

شیخ طوسی التبیان میں «القول» سے مراد قرآن اور توحیدی معارف لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک لفظ «أَحْسَنَہُ» اس بات کی دلیل ہے کہ مؤمنین اچھے اقوال میں سے بہترین کو اختیار کرتے ہیں۔[7] طبرسی نے بھی مجمع البیان میں اسی نوعیت کی تفسیر پیش کی ہے۔[8]

علی استرآبادی نے تأویل الآیات الظاہرۃ میں «القول» کو قرآن سے تفسیر کیا ہے۔[9] بعض دیگر مفسرین نے اسے زیادہ فضیلت رکھنے والی آیات سے تعبیر کیا ہے[10] جبکہ بعض کے نزدیک اس سے مراد قرآن کی محکم آیات ہیں جن کی پیروی واجب ہے، متشابہ آیات کے برخلاف جن کی مستقل پیروی سے منع کیا گیا ہے۔[11]

بعض تفاسیر میں «قولِ اَحسن» کو قرآن کی دیگر آیات کی روشنی میں دعوتِ الٰہی اور توحیدی کلمات سے تفسیر کیا گیا ہے۔[12]

«القول» سے مراد مطلق گفتار

فخر رازی اور ملاصدرا کے نزدیک «القول» سے مراد تمام اقوال ہیں، خواہ وہ حق ہوں یا باطل۔[13] اس نظریہ کے مطابق انسان کی ہدایت اس میں ہے کہ وہ مختلف اقوال کو سننے کے بعد ان میں سے بہترین اور صحیح ترین قول کو اختیار کرے اور عقل کے ذریعے حق و باطل میں امتیاز قائم کرے۔[14]

علامہ طباطبائی نے «قول» کی تفسیر ایسے کلام سے کی ہے جو انسان کو حق تک بہتر طریقے سے پہنچائے اور زیادہ خیرخواہانہ ہو۔[15] ان کے نزدیک یہ رجحان انسانی فطرت سے جنم لیتے ہیں جو فطری طور پر خیر اور کمال کی طرف مائل ہوتی ہے۔[16] اسی بنا پر انسان جب حق کے مختلف درجات سے روبرو ہوتا ہے تو اعلیٰ اور برتر درجہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔[17]

آیت اللہ مکارم شیرازی بھی «القول» کو صرف قرآن کے معنی میں لینے کو قابل قبول نہیں سمجھتے اور آیت کے ظاہر کو عمومی اقوال سے متعلق قرار دیتے ہیں۔[18] ان کے مطابق آیت مختلف آراء اور اقوال کا جائزہ لے کر شعوری اور آگاہانہ انتخاب کرنے کی دعوت دیتی ہے۔[19]

تفسیری روایات

اہل بیتؑ سے منقول روایات میں سورہ زمر آیت نمبر 18 کی تفسیر کے ضمن میں حدیث کو غور سے سننے، امانت داری کے ساتھ حدیث نقل کرنے اور حق کی پیروی پر زور دیا گیا ہے۔[20]

امام صادقؑ سے مروی ایک روایت کے مطابق اس آیت سے مراد شیعہ ائمہؑ کے سچے پیروکار ہیں؛[21] یعنی وہ لوگ جو اہلِ بیتؑ کی احادیث کو بغیر کسی کمی بیشی کے نقل کرتے ہیں۔[22]

ایک دوسری روایت میں امام کاظمؑ نے ہشام بن حکم سے خطاب کرتے ہوئے ان افراد کو «اہلِ عقل اور فہم و فراست کے مالک افراد» قرار دیا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین قول کی پیروی کرنے کی بنا پر ہدایت یافتہ اور صاحبان خرد قرار دیا ہے۔[23]

امام علیؑ نے بھی محمد بن حنفیہ کے نام اپنی وصیت میں کان کی ذمہ داری یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ باطل اور نادرست باتوں کو سننے سے اجتناب کرے اور نیک و حق باتوں کی طرف توجہ دے۔ آپؑ نے اس مفہوم کو سورہ زمر آیت نمبر 18 سے مربوط قرار دیا ہے۔[24]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص411۔
  2. شیخ طوسی، التبیان، ج9، ص17؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج26، ص437۔
  3. حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج14، ص200۔
  4. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص250۔
  5. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص770۔
  6. مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج1، ص38۔
  7. شیخ طوسی، التبیان، ج9، ص17۔
  8. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص770۔
  9. استرآبادی، تأویل الآیات الظاہرۃ، 1409ھ، ص21۔
  10. شیخ طوسی، التبیان، ج9، ص17۔
  11. مصباح یزدی، قرآن شناسی، 1394شمسی، ج1، ص42۔
  12. قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج8، ص155۔
  13. فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج26، ص437؛ ملاصدرا، شرح اصول الکافی، 1383شمسی، ج1، ص253۔
  14. فخر رازی، مفاتیح الغیب، 1420ھ، ج26، ص437؛ ملاصدرا، شرح اصول الکافی، 1383شمسی، ج1، ص253۔
  15. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص250۔
  16. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص250۔
  17. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص250۔
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص413۔
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج19، ص412۔
  20. بحرانی، البرہان، 1416ھ، ج44، ص703۔
  21. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص770۔
  22. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص51۔
  23. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص13؛ حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج4، ص482۔
  24. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج2، ص626؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج15، ص168۔

مآخذ

  • استرآبادی، علی، تأویل الآیات الظاہرۃ فی فضائل العترۃ الطاہرۃ، مصحح: استادولی، حسین‏، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی‏، 1409ھ۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن‏، تحقیق: قسم الدراسات الاسلامیۃ موسسۃ البعثۃ، تہران، بنیاد بعثت‏، 1416ھ۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، مصحح: مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام‏، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام‏، 1409ھ۔
  • حسینی ہمدانی، سید محمد، انوار درخشان‏، تحقیق: محمدباقر بہبودی، تہران، کتابفروشی لطفی، 1404ھ۔
  • حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، تحقیق: سید ہاشم رسولی محلاتی‏، قم،‏ انتشارات اسماعیلیان‏، 1415ھ۔‏
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ‏، مصحح: علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم‏، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن‏، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی‏، بی تا۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن‏، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1417ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ‏ تحقیق: محمدجواد بلاغی، تہران، انتشارات ناصرخسرو، 1372ہجری شمسی۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب‏، بیروت، دار احیاء التراث العربی‏، 1420ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن،‏ 1383ہجری شمسی۔‏
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری، تہران، انتشارات الکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، مرآۃ العقول فی شرح أخبار آل الرسول‏، مصحح: ہاشم رسولی محلاتی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1404ھ۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، قرآن شناسی، قم، موسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینی رہ، 1394ہجری شمسی۔‏
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ‏، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
  • ملاصدرا، محمد بن ابراہیم، شرح أصول الکافی، مصحح: محمد خواجوی، تہران، مؤسسہ مطالعات و تحقیقات فرہنگی‏، 1383ہجری شمسی۔