مسودہ:سورہ نور آیت نمبر 63
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ نور |
| آیت نمبر | 63 |
| پارہ | 18 |
| شان نزول | رکھتا ہے |
| موضوع | پیغمبر اکرمؑ اور آپ کا احترام اور اطاعت کا لازم ہونا |
سورۂ نور آیت نمبر 63 پیغمبر اکرمؐ کے مقام و مرتبے، آپؐ کے احترام اور اطاعت کی ضرورت سے متعلق ہے۔ اس آیت میں مؤمنوں کو پیغمبرؐ کے ساتھ عام لوگوں جیسا برتاؤ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور آپؐ کے حکم کی نافرمانی کرنے والوں کو اس کے دنیوی اور اخروی انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔ تفسیری کتابوں میں عبارت «دعاء الرسول» کی مختلف تشریحات ملتی ہیں، جن میں پیغمبرؐ کی دعوت اور حکم، آپؐ کو مخاطب کرنے کے آداب اور آپؐ کی دعا کا مستجاب ہونا شامل ہیں۔
تعارف
سورۂ نور آیت نمبر 63 میں پیغمبر اکرمؐ کے مقام و مرتبے اور آپؐ کے ساتھ طرز سلوک اور باہمی تعامل کے آداب بیان کئے گئے ہیں۔[1] اس آیت میں مؤمنوں کو پیغمبرؐ کے احترام اور آپؐ کے مقام و مرتبے کی صحیح معرفت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔[2]نیز پیغمبرؐ کی دعوت نظر انداز کرنے والے مخالفین اور منافقوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔[3]
لَّا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٦٣﴾
اے ایمان والو! اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح نہ بناؤ۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ لے کر کھسک جاتے ہیں۔ جو لوگ حکمِ خدا سے انحراف کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔
سورۂ نور، آیت 63
مفسرین کے مطابق اس آیت میں پیغمبرؐ کے حکم کی مخالفت کرنے والوں کو دنیوی مصیبت اور اخروی عذاب سے خبردار کیا گیا ہے۔[4] تفسیری کتابوں میں دنیوی مصیبت کی مختلف تشریحات بیان ہوئی ہیں، جن میں کفر،[5] نفاق،[6] گمراہی،[7] قتل[8] اور ظالم حاکم کا تسلط[9] شامل ہیں۔
بعض شیعہ مفسرین نے اس آیت کو آیت 62 سے مربوط قرار دیا ہے۔ پچھلی آیت میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو پیغمبرؐ کی دعوت قبول کرتے ہیں اور آپؐ کی اجازت کے بغیر مجلس سے نہیں اٹھتے۔ اس کے برعکس، آیت 63 میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو پیغمبرؐ کی دعوت کو نظر انداز کرتے ہیں اور خاموشی سے مجلس سے نکل جاتے ہیں۔[10]
تفسیری مآخذ میں اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں بھی چند واقعات نقل ہوئے ہیں۔ ان میں جنگِ احزاب کے دوران خندق کھودنے کے کام سے بعض افراد کا خاموشی سے چلے جانا،[11] بعض افراد کا جہاد سے واپس لوٹ جانا[12] اور پیغمبرؐ کے خطبہ دیتے وقت آپؐ کی اجازت کے بغیر مسجد سے نکل جانا شامل ہیں۔[13]
دعاء الرسول کے معنی
تفسیری مآخذ میں «دعاء الرسول» کے مختلف معنی بیان کئے گئے ہیں:
- پیغمبرؐ کی دعوت اور آپ کا فرمان: اس تفسیر کے مطابق «دعاء الرسول» سے مراد پیغمبر اکرمؐ کی دعوت اور آپؐ کا حکم ہے۔[14] اس دعوت میں ایمان، عمل صالح، نماز جماعت اور اجتماعی امور میں مشورت کی دعوت بھی شامل ہے۔[15] اس تفسیر کی رو سے پیغمبرؐ کی دعوت عام لوگوں کی دعوت جیسی نہیں، کیونکہ آپؐ کا حکم درحقیقت اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ لہٰذا آپؐ کی اطاعت واجب ہے۔[16] جب کہ آپؐ کے حکم سے روگردانی اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت ہے۔[17] بعض مفسرین نے پیغمبرؐ کی مخالفت کرنے والوں کے لئے آیت میں وارد تنبیہ کو بھی آپؐ کی اطاعت کے واجب ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔[18] پیغمبرؐ کے حکم کی مخالفت یا تو آپؐ کی ہدایت کے برخلاف عمل کرنے سے ہوتی ہے یا اس پر عمل نہ کرنے سے۔[19]
- پیغمبرؐ کو مخاطب کرنے میں ادب و احترام: اس تفسیر کے مطابق، «دعاء الرسول» سے مراد پیغمبرؐ کو مخاطب کرنے کا طریقہ ہے۔ اس بنا پر، آپؐ کو محض «محمد» یا «ابوالقاسم» کہہ کر مخاطب نہیں کرنا چاہیے،[20] بلکہ «یا رسول اللہ» اور «یا نبی اللہ» جیسے تعظیمی کلمات کے ساتھ ادب و تواضع سے مخاطب کرنا چاہیے۔[21] بعض مفسرین نے پیغمبرؐ کو نام لے کر مخاطب کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔[22] ایک روایت کے مطابق، اس آیت کے نزول کے بعد حضرت فاطمہؑ نے پیغمبرؐ کو «یا رسول اللہ» کہہ کر مخاطب کیا۔ اس پر پیغمبرؐ نے فرمایا کہ یہ آیت آپؑ اور آپؑ کے اہلِ خانہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی اور آپؐ کو «اے ابا جان!» کہہ کر پکارنا زیادہ پسند ہے۔[23]
- پیغمبرؐ کی دعا کا مستجاب ہونا: اس نظریے کے مطابق، «دعاء الرسول» سے مراد پیغمبرؐ کی اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے، کیونکہ آپؐ کی دعا مستجاب ہوتی ہے۔[24] اس تفسیر کے مطابق، آیت لوگوں کو پیغمبرؐ کے غضب اور بددعا سے خبردار کرتی ہے۔[25]
بعض مفسرین نے ان آخری دو تفسیروں کو آیت کے سیاق و مضمون سے ہم آہنگ نہیں سمجھا ہے۔[26]
حوالہ جات
- ↑ ملاحظہ کیجئے: شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466؛ طبرسی، جوامع الجامع، ج4، ص102؛ طباطبائی، المیزان، ج15، ص166۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص248۔
- ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ج14، ص223۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص467؛ طبرسی، جوامع الجامع، ج4، ص102؛ طباطبائی، المیزان، ج15، ص167۔
- ↑ طبری، جامع البیان، ج17، ص391۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص467؛ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص248۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص567؛ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ج14، ص225۔
- ↑ قمی، تفسیر القمی، ج2، ص110۔
- ↑ طبرسی، جوامع الجامع، ج4، ص102؛ جوادی آملی، «تفسیر سورۂ نور، جلسہ 38»، پورٹل اسراء۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص167؛ طبرسی، جوامع الجامع، ج4، ص102؛ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ج14، ص221۔
- ↑ طبرسی، جوامع الجامع، ج4، ص102۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466؛ طبرسی، جوامع الجامع، ج4، ص102؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص566۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466؛ سیوطی، الدر المنثور، ج5، ص61۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: طباطبائی، المیزان، ج15، ص166؛ جوادی آملی، «تفسیر سورۂ نور، جلسہ 38»، پورٹل اسراء؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص566۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص166۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص166؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص566؛ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، ج14، ص224۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص248۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466؛ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص248۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466؛ قمی، تفسیر القمی، ج2، ص110۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466؛ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص248۔
- ↑ مدرسی، من ہدی القرآن، ج6، ص86۔
- ↑ ابن شہرآشوب، مناقب، ج3، ص320۔
- ↑ ملاحظہ کریں: جوادی آملی، «تفسیر سورۂ نور، جلسہ 38»، پورٹل اسراء۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص466؛ طبری، جامع البیان، ج17، ص388۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج15، ص167؛ جوادی آملی، «تفسیر سورۂ نور، جلسہ 38»، پورٹل اسراء؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص567۔
مآخذ
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل أبیطالب(ع)، قم، علامہ، پہلی اشاعت، 1379ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، «تفسیر سورہ نور، جلسہ 38» (سورہ نور کی تفسیر جلسہ نمبر 38)، پورٹال اسراء، تاریخ درج مطلب: 28 دسمبر 2011ء، تاریخ مشاہدہ: 27 اکتوبر 2026ء۔
- رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، تفسیر و علوم قرآن، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- سیوطی، عبدالرحمن، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، 1404ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بیتا۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، جوامع الجامع، کربلا، العتبۃ العباسیۃ المقدسۃ قسم شوؤن المعارف الإسلامیۃ و الإنسانیۃ، 1439ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، 1408ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، جامع البیان عن تاویل آی القرآن، قاہرہ، ہجر، 1422ھ۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق طیب موسوی جزایری، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1363ہجری شمسی۔
- مدرسی، محمدتقی، من ہدی القرآن، بیروت، دار القاری، 1429ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔