مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ حدید آیت نمبر 23

ویکی شیعہ سے
سورہ حدید آیت نمبر 23
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ حدید
آیت نمبر23
پارہ27
محل نزولمدینہ


سورہ حدید آیت نمبر 23 مؤمنوں کو زندگی کے مختلف حالات اور واقعات کے مقابلے میں روحانی توازن برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے۔[1] مفسرین امام علیؑ اور امام باقرؑ کے ارشادات کی روشنی میں اس آیت کو زہد کی حقیقت کا بیان[2] اور زندگی کے نشیب و فراز کے مقابلے میں افراط و تفریط سے اجتناب کی دعوت شمار کرتے ہیں۔[3] اسی طرح پیغمبر اکرمؐ کے فرزند ابراہیم کی وفات پر حضورؐ کے غم و اندوہ کا حوالہ دیتے ہوئے غم اور خوشی کے احساس کو ایک فطری امر قرار دیتے ہیں؛ البتہ ایسے غم کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں جو انسان کو یادِ خدا اور اپنے فرائض کی انجام دہی سے غافل کر دے۔[4]

لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ‎﴿٢٣﴾
یہ تقدیر اس لئے ہے کہ جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس کا افسوس نہ کرو اور جو مل جائے اس پر غرور نہ کرو کہ اللہ اکڑنے والے مغرور افراد کو پسند نہیں کرتا ہے۔



سورہ حدید آیت نمبر 23

اہل سنت مفسر ابن عاشور اس آیت کی روشنی میں حد سے گزرنے والی خوشی کو تکبر اور تفاخر کا سبب قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسی خوشی خداوندمتعال کو پسند نہیں ہے۔[5] علامہ طباطبائی کے مطابق تکبر اور تفاخر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان الٰہی نعمتوں کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرے اور انہیں اپنی ذاتی صلاحیت اور استحقاق کا نتیجہ سمجھے۔[6]

علامہ طباطبائی کے نزدیک یہ آیت اس سے ماقبل آیت کا نتیجہ اور تکملہ ہے کیونکہ گزشتہ آیت میں بیان ہوا ہے کہ تمام حوادث اور واقعات ان کے وقوع سے پہلے ہی تقدیرِ الٰہی میں ثبت ہو چکے ہیں۔[7] آیت اللہ مکارم شیرازی تفسیر نمونہ میں اس آیت اور اس سے پہلی آیت سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خوشی اور غم میں اعتدال برقرار رکھنے کا حکم ان حوادث سے متعلق ہے جو انسان کے اختیار سے باہرہوتے ہیں، جیسے قدرتی آفات یا عزیزوں کا انتقال، لیکن جو مشکلات انسان کے گناہ یا کوتاہیوں کے نتیجے میں پیدا ہوں، ان کے بارے میں انسان کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے اور ان کی اصلاح و تلافی کے لئے کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ سورہ شوریٰ آیت نمبر 30 بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔[8]

علامہ طباطبائی کے مطابق سورہ حدید کی مذکورہ آیت اور اس سے پہلے اور بعد والی آیات میں لوگوں کو انفاق کی ترغیب، بخل سے باز رہنے کی تلقین اور دنیا سے دل نہ لگانے کی دعوت دی گئی ہے۔[9]

حوالہ جات

  1. طباطبائی، المیزان، 1390ھ، ج19، ص167۔
  2. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج7، ص254؛ مشکینی، تفسیر روان، 1392شمسی، ج8، ص126۔
  3. تسخیری و نعمانی، المختصر المفید، 1431ھ، ص540۔
  4. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج7، ص423۔
  5. ابن عاشور، التحریر والتنویر، 1420ھ، ج27، ص371۔
  6. طباطبائی، المیزان، 1390ھ، ج19، ص168۔
  7. طباطبائی، المیزان، 1390ھ، ج19، ص167۔
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ش، ج23، ص362-363 و 367۔
  9. طباطبائی، المیزان، 1390ھ، ج19، ص168۔

مآخذ

  • ابن عاشور، محمد طاہر، تفسیر التحریر والتنویر، بیروت، مؤسسۃ التاریخ العربی، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
  • تسخیری، محمدعلی و محمد سعید نعمانی، المختصر المفيد في تفسير القرآن المجيد، تہران، المجمع العالمي للتقريب بين المذاہب الاسلامیۃ. المعاونیۃ الثقافیۃ، 1431ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
  • مشکینی، علی، تفسیر روان، قم، مؤسسہ دارالحدیث، 1392ہجری شمسی۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، قم، دارالکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔