مسودہ:سورہ توبہ آیت 52
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ توبہ |
| آیت نمبر | 52 |
| پارہ | 10 |
| محل نزول | مدینہ |
| مضمون | راہ خدا میں جان دینے کو بھلائی سمجھنا |
| مربوط آیات | سورہ توبہ آیت نمبر 50، سورہ توبہ آیت نمبر 51 |
سورہ توبہ آیت 52 جو آیہ «إحدَی الحُسْنَیَیْن» کے نام سے مشہور ہے، شہادت اور دشمن پر فتح و پیروزی دونوں کو نیک امور میں سے قرار دیتی ہے اور انہیں عزت و کرامت کا سبب گردانتی ہے۔[1] یہ آیت، جو مدینہ میں نازل ہوئی،[2] ان منافقین کے جواب میں سمجھی جاتی ہے جو سورہ توبہ کی آیت 50 کے مطابق مسلمانوں کی شکست پر خوش ہوتے تھے۔[3] نیز یہ آیت پچھلی آیت (سورہ توبہ آیت 51) کا تسلسل ہے جس میں اللہ کو مؤمنین کا سرپرست معرفی کیا گیا ہے۔ وہ خدا جو اپنے بندوں کے لیے بھلائی کے سوا کچھ نہیں چاہتا، خواہ وہ راہِ حق میں شہادت ہی کیوں نہ مقدر ہوجائے۔[4]
قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۖ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا ۖ فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ ﴿٥٢﴾
اے پیغمبر(ص) کہہ دیجیے! کہ تم ہمارے بارے میں دو بھلائیوں (فتح یا شہادت) میں سے ایک کے سوا اور کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ اور ہم تمہارے بارے میں اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تمہیں سزا دے۔ خواہ اپنی طرف سے دے یا ہمارے ہاتھوں سے؟ سو تم انتظار کرو۔ اور ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔
سورہ توبہ آیت نمبر 52
تفسیر نمونہ کے مطابق، سورہ توبہ کی آیت 52 در حقیقت عہدِ رسالت میں مسلمانوں کی ترقیوں اور فتوحات کا اصل راز بیان کرتی ہے۔ کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اے مسلمانو!تم ہر حال میں فتح یاب ہو۔ خواہ تم دشمن کو مار دو یا خود مارے جاؤ۔ اسی لیے جو مجاہد اس جذبے کے ساتھ میدانِ جنگ میں قدم رکھتا ہے وہ کبھی دشمن سے نہیں ڈرتا۔[5]
«حُسنَیَین» (دو نیکیوں) سے مراد راہِ خدا میں شہادت یا کافروں پر فتح و پیروزی بتائی گئی ہے۔[6] محمد حسین طباطبائی نے سورہ توبہ آیت 50 سے استناد کرتے ہوئے مصیبت کو بھی ایک طرح کا حسنہ (بھلائی) قرار دیا ہے۔[7] کیونکہ مسلمانوں کی فتح یا شکست دونوں کا انجام کار راہِ خدا کی رضا کے مطابق ہوتا ہے اور اخروی ثواب کا باعث بنتا ہے۔[8]
امام علیؑ سے منقول ایک روایت میں عبارت «اِحدَی الحُسْنَیَیْن» جنگ کے علاوہ دوسرے معاملے میں بھی استعمال ہوئی ہے۔ آنحضرت نے اس شخص کا انجام جو خیانت میں آلودہ نہ ہو، دو نیکیوں میں سے ایک قرار دیا ہے؛ یا تو پروردگار کی ملاقات اور اس کی نعمتوں سے بہرہ مندی، یا پھر دنیوی زندگی میں روزی کی فراخی اور برکت۔[9] سید علی خامنہ ای کے مطابق، امام خمینی کا «اِحدَی الحُسْنَیَیْن» کے بارے میں نقطۂ نظر بھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا۔ بلکہ اُن کا عقیدہ تھا کہ اگر کوئی کام رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کیا جائے تو اس کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ کیونکہ انسان یا تو اس عمل میں کامیاب ہو جاتا ہے یا اگر کامیابی نہ بھی ملے تو اس نے اپنا فرض ادا کر دیا اور بارگاہِ الٰہی میں سربلند ہوگا۔[10]
حوالہ جات
- ↑ مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج4، ص53۔
- ↑ طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، 1378شمسی، ج9، ص193۔
- ↑ طباطبایی، ترجمہ تفسیر المیزان، 1378شمسی، ج9، ص412؛ تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج7، ص442۔
- ↑ قرائتی، تفسیر نور، 1388شمسی، ج5، ص77۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج7، ص444۔
- ↑ مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج4، ص53؛ مدرّسی، من ہدی القرآن، 1419ھ، ج4، ص194۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج9، ص307۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج9، ص307۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص57۔
- ↑ خامنہای، شخصیت امام خمینی «قدس سرہ»، 1398شمسی، ص154۔
مآخذ
- ابناعثم، أحمد بن اعثم، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الأضواء، 1411ھ۔
- ابنطاووس، علی بن موسی، اللہوف علی قتلی الطفوف، ترجمہ سید احمد فہری زنجانی، تہران، نشر جہان، 1348ہجری شمسی۔
- خامنہای، سید علی، شخصیت امام خمینی «قدس سرہ»، تہران، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ خامنہای، انتشارات انقلاب اسلامی، 1398ہجری شمسی۔
- صادقی ارزگانی، محمدامین، «"ما رایت الاجمیلا" حضرت زینب (س) برگرفتہ از "احدی الحسنیین" قرآن است»("ما رایت الاجمیلا" قرآن کی آیت "احدی الحسنیین" سے ماخوذ ہے)، خبررساں ایجنسی ایکنا، تاریخ نشر 17 اکتوبر 2017ء، تاریخ مشاہدہ: 24 جولائی 2025ء۔
- طباطبایی سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، تیسری اشاعت، 1352ہجری شمسی۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، ترجمہ تفسیر المیزان، مترجم: موسوی، محمدباقر، جامعہ مدرسین حورہ علمیہ قم، گیارہویں اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
- قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن، 1388ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات الکوفی، تہران، مؤسسۃ طبع و نشر، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- مدرّسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔