مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 17
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | بقرہ |
| آیت نمبر | 17 |
| پارہ | 1 |
| موضوع | عقیدتی |
| مضمون | منافقین |
سورہ بقرہ آیت نمبر 17 میں منافقین کی حالت کو ایسے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے جو تاریکی میں آگ روشن کرتا ہے اور اس روشنی سے اس کے اردگرد کا ماحول اسے دکھائی دینے لگتا ہے؛ لیکن جب آگ بجھ جاتی ہے تو وہ دوبارہ تاریکی اور حیرت و سرگردانی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔[1] اس سے پیشرو آیات میں منافقین کی صفات بیان کرنے کے بعد یہ آیت اس تشبیہ کے ذریعے ان کی حالت اور انجام کو واضح کرتی ہے۔[2]
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ ﴿١٧﴾
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی۔ اور جب آگ نے اس کے گرد و نواح کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کی روشنی (بینائی) سلب کر لی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا اب انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
سورہ بقرہ آیت نمبر 17
سید محمد حسین طباطبائی نے کتاب المیزان میں بیان کیا ہے کہ منافقین ایسے شخص سے تشبیہ دیے گئے ہیں جو شدید تاریکی میں صحیح اور غلط راستے میں تمیز نہیں کرسکتا۔ راستہ تلاش کرنے کے لیے وہ آگ روشن کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ ہوا یا بارش جیسے کسی سبب کے ذریعے اس آگ کو بجھا دیتا ہے اور وہ دوبارہ تاریکی میں رہ جاتا ہے۔[3] امام رضاؑ سے منقول ایک روایت میں ان کی روشنی چھین لیے جانے کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا۔[4] ناصر مکارم شیرازی تفسیر نمونہ میں اس تشبیہ کو منافقین کی اس سوچ کا عکاس قرار دیتے ہیں کہ وہ دونوں گروہوں کے مفادات سے فائدہ اٹھائیں اور دونوں طرف سے پہنچنے والے خطرات سے محفوظ رہیں۔ لیکن یہ عارضی روشنی آخرکار ختم ہوجاتی ہے اور انہیں تاریکی اور سرگردانی میں چھوڑ دیتی ہے۔[5]
بعض شیعہ روائی تفاسیر میں اس آیت کے تأویلی مفاہیم بھی نقل ہوئے ہیں۔ سید ہاشم بحرانی نے تفسیر البرہان میں امام موسیٰ کاظمؑ سے نقل کیا ہے کہ یہاں نور سے مراد امام علیؑ کی ولایت ہے؛ منافقین نے ظاہری طور پر اس ولایت کو قبول کیا، لیکن اپنے باطنی کفر اور عہد شکنی کے باعث اس کی ہدایت سے محروم ہوگئے۔[6] امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت میں بھی آگ روشن کرنے سے مراد رسول خداؐ کے زمانۂ ہدایت کو، جبکہ نور کے ختم ہوجانے سے مراد آنحضرتؐ کی رحلت کے بعد اہل بیتؑ کی فضیلت کے پوشیدہ ہوجانے اور غصب خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[7]
حوالہ جات
مآخذ
- بحرانى، ہاشم بن سليمان، البرہان فى تفسير القرآن، تحقيق: قسم الدراسات الاسلاميۃ موسسۃ البعثۃ- قم، تہران، بنياد بعثت، 1416ھ۔
- حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نورالثقلین، قم، اسماعیلیان، 1415ھ۔
- طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
- مشہدى، محمد بن محمدرضا، تفسير كنز الدقائق و بحر الغرائب، تہران، سازمان چاپ وانتشارات وزارت ارشاد اسلامى، 1368ہجری شمسی۔