مسودہ:سورج گرہن
سورج گرہن یا کسوف روئے زمین پر ایک قدرتی مظہر ہے جسے اسلام میں قدرت الہی کی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی فقہ کے مطابق سورج گرہن کے وقت نماز آیات پڑھنا واجب ہے اور بعض فقہی منابع میں اس کی قضا کی صورت میں غسل کرنا مستحب قرار دیا گیا ہے۔
سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جائے اور اس کا سایہ زمین کے کچھ حصوں کو ڈھانپ لے۔ دورِ جاہلیت میں سورج گرہن کو بڑی ہستیوں کی موت یا ولادت سے منسوب کیا جاتا تھا لیکن اسلامی مصادر میں اس عقیدے کو خرافات میں سے شمار کیا گیا ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق، جب رسول خداؐ کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہوا اور اسی وقت سورج گرہن ہوا تو آپؐ نے اس خیال کو غلط قرار دیا کہ گرہن کا کسی کی موت یا زندگی سےکوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

سورج گرہن کے سلسلہ میں اسلامی نقطہ نظر
سورج گرہن (کسوف) ایک فلکیاتی مظہر ہے جس میں چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے اور اس کا سایہ زمین کے کسی حصے پر پڑتا ہے۔[2] سورج گرہن مکمل یا جزوی طور پر واقع ہوتا ہے۔ مکمل سورج گرہن میں سورج کا قرص مکمل طور پر چاند سے ڈھک جاتا ہے۔[3]
سورج گرہن خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی
شیعہ[4] اور اہل سنت،[5] کے تفسیری منابع میں سورج گرہن جیسے مظاہر کو خدا کی آیات (نشانیوں) میں سے شمار کیا گیا ہے۔
امام زین العابدینؑ نے ایک روایت میں فرمایا کہ شیعہ لوگ کسوف جیسے واقعات میں خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔[6] شیخ مفید نے امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق، سورج گرہن کو ان واقعات میں سے قرار دیا گیا ہے جو انسانوں کو خوف خدا اور یاد خدا کا سبب بنتے ہیں۔[7] اس روایت میں کسوف کے وقت دعا اور نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔[8]
امام محمد باقرؑ کی ایک روایت میں سورج گرہن جیسے قدرتی مظاہر کو قیامت کی نشانیوں میں سے شمار کیا گیا ہے اور یہ نصیحت کی گئی ہے کہ انسان انہیں دیکھ کر قیامت کو یاد کرے۔[9] اسی بنا پر، بعض دینی مصادر میں کسوف کو خدا کو یاد کرنے، دعا کرنے اور خدا کی قدرت کے سامنے اپنی بے بسی پر غور کرنے کا وقت قرار دیا گیا ہے۔[10]
نماز آیات اور سورج گرہن کا غسل
اسلامی فقہ میں سورج گرہن کے وقت نمازِ آیات پڑھنا واجب ہے اور فقہا کا اس کے وجوب پر اتفاق نظر پایا جاتا ہے۔[11] بعض روایات میں کسوف (سورج گرہن) کے وقت نماز کو خدا سے پناہ مانگنے کی ایک شکل قرار دیا گیا ہے۔[12]
سورج گرہن کی نمازِ آیات کا وقت گرہن کے آغاز سے لے کر روشنی کے لوٹنے کے شروع ہونے تک[13] یا مکمل طور پر روشنی لوٹ آنے تک[14] ہے۔ اگر کسوف اور خسوف کی نمازِ آیات اپنے وقت پر نہ پڑھی جائے تو اس کی قضا کرنا واجب ہے۔[15] عیون اخبار الرضا میں امام رضاؑ سے منقول ہے کہ نمازِ کسوف کی ایک وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ چاہتے تھے کہ مسلمان اس حادثہ کے رونما ہوتے وقت خدا کی پناہ میں جائیں۔[16]
بعض احادیث میں اس شخص کے لیے جو نمازِ آیاتِ کسوف ادا نہ کر سکے ہو، غسل کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔[17] بہت سے فقہاء نے ان روایات کو صحیح السند قرار دیا ہے۔[18] شیعہ فقہاء کے مابین اس غسل کے وجوب یا استحباب پر اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔[19] چودہویں صدی کے بعض فقہاء نے اس غسل کو احتیاط واجب قرار دیا ہے،[20] جبکہ بعض دوسروں نے اسے "قصدِ رجاء" (یعنی ثواب کی امید میں بغیر وجوب کے)[21] کرنے کی ترغیب دی ہے۔
پیغمبر اکرم کے بیٹے ابراہیم کی وفات کے وقت سورج گرہن
شیعہ کتب احادیث میں امام موسی کاظمؑ[22] سے اور اہل سنت کے ذرائع میں بھی، یہ نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے چھوٹے بیٹے ابراہیم کی وفات کے دن سورج گرہن لگا تھا۔[23] دورِ جاہلیت میں سورج اور چاند گرہن کو بڑی شخصیات کی پیدائش یا موت سے منسوب کیا جاتا تھا۔[24] ان روایات کے مطابق، ابراہیم کی وفات کے بعد کچھ لوگوں نے سورج گرہن کو ان کی موت سے جوڑ دیا تو پیغمبر اسلامؐ نے اعلان کیا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور ان کا گرہن لگنا کسی کی موت یا زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ نیز آپؐ نے مسلمانوں کو کسوف کے وقت نماز پڑھنے کی دعوت دی۔[25] یہ روایت معمولی اختلاف کے ساتھ اہلِ سنت کے منابع میں بھی نقل کی گئی ہے۔[26]
بعض مسلمان مفکرین، جن میں جعفر سبحانی[27] اور مرتضی مطہری شامل ہیں، نے پیغمبر اکرمؐ کے اس موقف کو توہم پرست عقائد کے خلاف مزاحمت اور عوام الناس کے عام خیالات سے فائدہ اٹھانے سے گریز کی ایک مثال قرار دیا ہے۔[28]
حوالہ جات
- ↑ «بہترین عکس ہا از کسوف»(سرج گرہن کی ایک بہترین تصویر)، مشرقنیوز۔
- ↑ «خورشیدگرفتگی یا کسوف چیست؟(سورج گرہن یا کسوف کیا ہے؟)»، اسپاش (ایران کا سب سے بڑا خلائی خبری ادارہ)۔
- ↑ «خورشیدگرفتگی یا کسوف چیست؟(سورج گرہن یا کسوف کیا ہے؟)»، اسپاش (ایران کا سب سے بڑا خلائی خبری ادارہ)۔
- ↑ شریف لاہیجی، تفسیر شریف لاہیجی، 1373شمسی، ج2، ص566؛ قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج1، ص358۔
- ↑ طبرانی، التفسیر الکبیر، 2008ء، ج3، ص8۔
- ↑ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج1، ص540۔
- ↑ شیخ مفید، المقنعۃ، 1413ھ، ص208۔
- ↑ شیخ مفید، المقنعۃ، 1413ھ، ص208۔
- ↑ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، 1375شمسی، ج2، ص484۔
- ↑ «آیات الہی: کسوف و خسوف: خورشید گرفتگی و ماہ گرفتگی؛ کیفیت خواندن نماز آیات(کسوف و خسوف اور نماز آیات پڑھنے کا طریقہ)»، پورتال انہار۔
- ↑ بنیفضل، مدارک تحریر الوسیلة، 1380شمسی، ج2، ص97۔
- ↑ شیخ مفید، المقنعۃ، 1413ھ، ص208۔
- ↑ امام خمینی، تحریرالوسیلہ، دارالعلم، ج1، ص192۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج11، ص409۔
- ↑ علامہ حلی، تبصرۃ المتعلمین، 1411ھ، ص48۔
- ↑ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا علیہ السلام، 1378شمسی، ج2، ص115۔
- ↑ ابنأبیجمہور، عوالی اللئالی، 1405ھ، ج2، ص174۔
- ↑ خوئی، موسوعۃ الإمام الخوئی، 1418ھ، ج10، ص63۔
- ↑ علامہ حلی، مختلف الشیعہ، 1413ھ، ج1، ص317۔
- ↑ «واجب غسلیں»، آیت اللہ سیستانی کی ویب سائٹ۔
- ↑ «حکم انجام غسل برای قضا شدن نماز آیات بہ علت ماہ گرفتگی(چاند گرہن کی وجہ سے نماز آیات قضا ہونے پر غسل کرنے کا حکم)»، پایگاہ اطلاعرسانی دفتر آیتاللہ مکارم شیرازی(آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے دفتر کا اطلاع رسانی مرکز)۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص208؛ برقی، المحاسن، 1371ھ، ج2، ص313۔
- ↑ محمدی، «مطالعہ تطبیقی گزارشہای موجود از کسوف دربارہ زمان درگذشت فرزند پیامبر(پیغمبر اکرمؐ کے بیٹے کی وفات کے وقت سورج گرہن سے متعلق روایات کا تقابلی جائزہ)»، ص110۔
- ↑ قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، 1364شمسی، ج15، ص364۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص208؛ برقی، المحاسن، 1371ھ، ج2، ص313۔
- ↑ بخاری، صحیح بخاری، 1422ھ، ج2، ص23؛ بلاذری، انساب الاشراف، 1417ھ، ج1، ص452۔
- ↑ سبحانی، فروغ ابدیت، 1385شمسی، ص52۔
- ↑ مطہری، سیری در سیرہ نبوی، 1390شمسی، ص121-122؛ مطہری، وحی و نبوت، 1389شمسی، ص138۔
مآخذ
- «آیات الہی: کسوف و خسوف: خورشید گرفتگی و ماہ گرفتگی؛ کیفیت خواندن نماز آیات(کسوف و خسوف: سورج گرہن اور چاند گرہن؛ نماز آیات پڑھنے کا طریقہ)»، انہار پورٹل، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری، 2024۔
- ابنأبیجمہور، محمد بن زینالدین، عوالی اللئالی العزیزیۃ فی الأحادیث الدینیۃ، قم، دار سید الشہداء، 1405ھ۔
- امام خمینی، سید روحاللہ، تحریرالوسیلہ، قم، مؤسسہ مطبوعات دارالعلم، بیتا۔
- بخاری، محمد بن اسماعیل، الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اللہ(ص) و سننہ و أیامہ (صحیح بخاری)، محقق: محمد زہیر بن ناصر، بیروت، دار طوق النجاۃ، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- برقی، احمد بن محمد، المحاسن، محقق و مصحح: جلالالدین محدث، قم، دار الکتب الإسلامیۃ، دوسری اشاعت، 1371ھ۔
- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: سہیل زکار، ریاض زرکلی، بیروت، دار الفکر، پہلی اشاعت، 1417ھ۔
- بنیفضل، مدارک تحریر الوسیلۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1380یجری شمسی۔
- «بہترین عکس ہا از کسوف(سورج گرہن کی بہترین تصویر)»، مشرقنیوز، تاریخ درج مطلب:13 اپریل 2024، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری 2024ء۔
- «حکم انجام غسل برای قضا شدن نماز آیات بہ علت ماہ گرفتگی(چاند گرہن کی وجہ سے نماز آیات قضا ہونے پر غسل کرنے کا حکم)»، آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے دفتر کا اطلاع رسانی مرکز، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری 2024ء۔
- «خورشیدگرفتگی یا کسوف چیست؟(سورج گرہن کیا ہے؟)»، اسپاش (ایران کا سب سے بڑا خلائی خبری ادارہ)، تاریخ درج مطلب: 20 جون 2022ء، تاریخ مشاہدہ: 14 فروری 2024ء۔
- خوئی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الإمام الخوئی، قم، مؤسسۃ إحیاء آثار الامام الخوئی، 1418ھ۔
- سبحانی، جعفر، فروغ ابدیت، قم، بوستان کتاب، 1385یجری شمسی۔
- شریف لاہیجی، محمد بن علی، تفسیر شریف لاہیجی، تحقیق: میرجلال الدین حسینی ارموی (محدث)، تہران، دفتر نشر داد، پہلی اشاعت، 1373یجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، محقق و مصحح: مہدی لاجوردی، تہران، نشر جہان، پہلی اشاعت، 1378یجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: علیاکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ مفید، محمّد بن محمد بن نعمان، المقنعۃ، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- طبرانی، سلیمان بن احمد، التفسیر الکبیر، اردن، دار الکتاب الثقافی، 2008م.
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، تبصرۃ المتعلمین فی احکام الدین، تصحیح محمدہادی یوسفی غروی، تہران، مؤسسہ چاپ و نشر، 1411ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعہ فی احکام الشریعہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1413ھ۔
- «غسل / غسلہای واجب»، دفتر آیتاللہ سیستانی ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 25 بہمن 1404یجری شمسی۔
- فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین، قم، انتشارات رضی، پہلی اشاعت، 1375یجری شمسی۔
- قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، انتشارات ناصر خسرو، پہلی اشاعت، 1364یجری شمسی۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علیاکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- محمدی، اردشیر، «مطالعہ تطبیقی گزارشہای موجود از کسوف دربارہ زمان درگذشت فرزند پیامبر(پیغمبر اکرمؐ کے صاحبزادے کی وفات کے وقت سورج گرہن سے متعلق روایات کا تقابلی جائزہ)»، پژوہشنامہ تاریخ تشیع(تحقیق نامہ تاریخ تشیع)، شمارہ 10، بہار 1404یجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، سیری در سیرہ نبوی، تہران، صدرا، 1390یجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، وحی و نبوت، تہران، صدرا، 1389یجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جواہرالکلام فی شرح شرائع الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، تہران، دار احیاء التراث العربی، 1404ھ۔
- یعقوبی، احمد بن أبییعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، پہلی اشاعت، بیتا۔