مسودہ:باپ کا قصاص
باپ کا قصاص ایک اسلامی حکم ہے جس کی بنیاد پر اگر باپ اپنی اولاد کو قتل کر دے تو اس پر قصاص کا حکم نافذ نہیں ہوتا اور اس کی سزا دیت، کفارہ اور تعزیر تک محدود رہتی ہے۔ تاہم شرعی لحاظ سے اولاد کو قتل کرنا حرام ہے اور قتلِ نفس کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ موضوع غیرت کے نام پر قتل، خصوصاً بیٹیوں کے قتل سے وابستہ ہونے کی وجہ سے عوامی اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس حکم کی فقہی بنیاد احادیث اور اجماع ہیں، اگرچہ اس اجماع کو مدرکی اور غیر معتبر قرار دیا جاتا ہے۔ شیعہ فقہا کی اکثریت نے اس حکم کے دائرے کو دادا تک بھی بڑھا دیا ہے، تاہم اگر کوئی اپنی زوجہ کو قتل کرے اور مقتولہ کی اولاد اس کا وارث ہو، اس صورت میں باپ کے قصاص کے امکان پر علما کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔
یہ حکم ایران کے اسلامی تعزیراتی قانون میں بھی موجود ہے۔ بعض محققین نے اس حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت یا اولاد کشی کے رجحان سے نمٹنے کے لیے ثانوی عناوین جیسے "افساد فی الارض" وغیرہ سے استفادے پر زور دیا ہے۔
مفہوم شناسی اور پس منظر
اسلامی فقہ کے مطابق باپ کو اپنی اولاد کے قتل پر قصاص نہیں کیا جاتا ہے،[1] اگرچہ وہ گناہ گار ہوتا ہے اور اس پر دیت، کفارہ اور تعزیر جیسی سزائیں عائد ہوتی ہیں۔[2] یہ حکم بیٹے اور بیٹی کے درمیان مساوی طور پر جاری ہوتا ہے۔[3] اکیسویں صدی تک شیعہ فقہ میں اس حکم کی مخالفت نہیں ملتی[4] اور بیشتر اہل سنت فقہا نے بھی اسی نظریے کو قبول کیا ہے،؛[5] البتہ بعض مالکی فقہا باپ کے قصاص کے قائل ہیں۔[6]
یہ موضوع اولاد کشی، خصوصاً بیٹیوں کے قتل کے واقعات میں اضافے[7] اور اکیسویں صدی کے اوائل میں ان کے سماجی ذرائع ابلاغ پر آنے کے سبب حقوق دانوں، عدالتی حکام اور عوامی رائے کی توجہ کا مرکز بنا۔[8]
شیعہ فقہا کی اکثریت نے باپ کے عدم قصاص کے حکم کو دادا تک بھی عمومیت دی ہے، لیکن بعض نے اس سلسلے میں تردید کا اظہار کیا ہے۔[9] نیز شیعہ فقہ میں عدم قصاص کا حکم ماں کو شامل نہیں ہوتا۔[10]
اولاد کے قتل میں باپ کو سزا
اسلام میں باپ کا اپنی اولاد کو قتل کی حرمت قرآن کی آیات اور احادیث کی رو سے دین کی ضروریات میں سے شمار ہوتی ہے۔[11] کوئی ایسی روایت یا فتویٰ موجود نہیں جو اس عمل کو مستثنیٰ قرار دے،[12] اور قصاص معاف ہونے کے باوجود باپ کا اپنی اولاد کو قتل کرنا آدم کشی کی ایک قسم ہے۔[13] قرآن کی بعض آیات میں خصوصاً اولاد کشی کی قباحت بیان ہوئی ہے، کیونکہ بعض اوقات والدین اپنی اولاد کے ساتھ گہرے جذباتی تعلق کے باوجود انہیں قتل کر دیتے ہیں جو سنگ دلی اور جہالت کی علامت ہے۔[14]
اگرچہ اس معاملے میں باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا لیکن اس کے مجرمانہ عمل[15] کے لیے دیت، کفارہ اور تعزیر جیسی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔[16] شیعہ محدث شیخ صدوق نے امام محمد باقرؑ سے روایت نقل کی ہے کہ باپ سے قصاص نہیں لیا جائے گا لیکن اسے سخت سزا دی جائے گی اور اس کے آبائی شہر سے جلاوطن کر دیا جائے گا۔[17] شیعہ فقیہ محمد حسن نجفی نے اس روایت کو ان موارد سے مربوط قرار دیا ہے جہاں حاکم شرع مناسب سمجھے۔[18]
حکم کو مخصوص موارد تک محدود کرنا
اولاد کو قتل کیے جانے کی صورت میں باپ سے قصاص نہ لینے کے حکم پر بعض علما اور محققین نے تشکیک کا اظہار کیا ہے۔ اکیسویں صدی عیسوی کے شیعہ عالم یوسف صانعی اس حکم کی عمومیت کے مخالف ہیں۔[19] وہ متعلقہ روایات کو معتبر ماننے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ باپ کے قصاص کا استثنا صرف ان موارد تک محدود ہے جہاں قتل جذبات کے زیر اثر یا اولاد کی خیرخواہانہ نصیحتوں سے سرکشی کی بنا پر ہوا ہو۔[20]
باپ سے قصاص نہ لینے کے دلائل اور حکمتیں
باپ کے اپنی اولاد کے قتل میں عدم قصاص پر متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔[21] ان روایات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگرچہ وہ تواتر تک نہ پہنچی ہوں، تاہم عدم قصاص کے حکم کو قطعی طور پر ثابت کیا جاسکتا ہے۔[22] انہی روایات میں سے ایک وہ روایت ہے جو حضرت علیؑ سے منقول ہے کہ اگر باپ اپنی اولاد کو قتل کرے تو اس کا قصاص نہیں لیا جائے گا، لیکن اولاد کا باپ کے قتل میں قصاص لیا جاسکتا ہے۔[23] فقہا نے انہی روایات کی بنیاد پر باپ کے قصاص کو آیات قصاص کے عموم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔[24]
شیعہ فقہا نے اجماع کو بھی باپ سے قصاص نہ لینے کی ایک دلیل قرار دیا ہے،[25] اگرچہ بعض اسے اجماع مدرکی (یعنی روایات پر مبنی اجماع) قرار دیتے ہوئے[26] اسے شرعی حکم صادر کرنے کے لیے معتبر نہیں مانتے۔[27]
اس حکم کے لیے بعض حکمتیں بھی بیان کی گئی ہیں،[28] جن میں سے ایک یہ ہے کہ باپ اولاد کے وجود کا سبب ہے اور اولاد باپ کے خاتمے کا سبب نہیں بن سکتی۔[29] اولاد کے لیے باپ سے قصاص لینے کا حق باپ کی قدرتی سرپرستی اور ولایت سے متضاد ہے؛[30] نیز پیغمبر خداؐ کی روایات اولاد اور اس کے اموال کو باپ سے متعلق قرار دیتی ہیں۔[31] بعض محققین نے ان حکمتوں پر نقد بھی کیا ہے۔[32]
جمہوری اسلامی ایران کے قانون میں
ایران کے اسلامی تعزیراتی قانون نے روایات[33] اور اکثر مسلمان فقہا کی رائے کی بنیاد پر اولاد یا پوتوں کے قتل میں باپ اور دادا سے قصاص لینے کو حکم کو نافذ نہیں سمجھا گیا ہے۔[34] اس قانون کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد سنہ 2021ء میں اس حکم کی اصلاح کے لیے ایک بل منظور ہوا جس کے تحت ملاقات، حضانت، حق ولایت، قیمومت اور سرپرستی کے حوالے سے بعض حدبندیاں کی گئیں۔ اس اصلاح کا مقصد ان قتل عمدی میں تعزیری سزاؤں کے روک تھام میں اضافہ بتایا گیا ہے جن میں قصاص نافذ نہیں ہوتا۔[35]
ثانوی عناوین کے تحت باپ کی سزا کا امکان
بعض محققین نے تنقید کی ہے کہ ایران کا عدالتی نظام اولاد بالخصوص بیٹی کے قتل سے نمٹنے میں عمومی طور پر نرمی کا رویہ رکھتا ہے[36] اور اس کے روک تھام کا انتظام نہیں۔[37] اسی لیے وہ باپ سے قصاص نہ لینے کے حکم پر نظرثانی اور زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ کے ذریعے تعزیراتی قانون میں اصلاح کو ضروری قرار دیتے ہیں۔[38] اس اصلاح کے نتیجے میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر باپ کے عمل کی ظلم اور عدوانی نوعیت ثابت ہوجائے تو ثانوی عناوین جیسے محاربہ اور افساد فی الارض کے تحت[39] اس پر سخت سزا کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔[40]
کیا باپ ماں کے قتل کے بدلے میں سزا پائے گا؟
باپ سے قصاص کے موارد میں سے ایک وہ ہے جب باپ اپنی زوجہ (اپنی اولاد کی ماں) کو قتل کرے اور اولاد مقتولہ کی وارث ہو۔ شیعہ فقہا اس سلسلے میں باپ سے قصاص لینے کے بارے میں اختلاف رائے رکھتے ہیں اور شیعہ تاریخ کے مختلف ادوار میں قصاص اور عدم قصاص کے دو نظریات رائج اور مشہور رہے ہیں۔[41] ناصر مکارم شیرازی کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں اولاد اپنے باپ کا قصاص نہیں لے سکتی اور صرف دیت وصول کرنے کا حق رکھتی ہے۔[42] اس کے برعکس محمد تقی بہجت باپ کے قصاص کے امکان پر زور دیتے ہیں، اگرچہ احتیاطاً دیت پر صلح کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔[43] قصاص کے حامیوں کا ماننا ہے کہ باپ سے قصاص نہ لینے سے متعلق روایات صرف اولاد کے قتل تک محدود ہیں اور ان میں ماں کا قتل شامل نہیں۔[44]
حوالہ جات
- ↑ ذوالفقارطلب و جمالی، «قصاص پدر و مادر در برابر قتل عمدی فرزند از دیدگاہ مذاہب اسلامی»(اسلامی مذاہب کے نزدیک اولاد کے عمدی قتل کے بدلے میں والدین سے قصاص)، ص95۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج42، ص169۔
- ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1412ھ، ج10، ص64۔
- ↑ فتحی، پروین کندرود، «آسیبشناسی فقہی و حقوقی قتلہای ناموسی در نظام حقوقی ایران و پاکستان»(ایران اور پاکستان کے قانونی نظام میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتلوں کا فقہی اور قانونی تنقیدی جائزہ)، ص82۔
- ↑ ذوالفقارطلب و جمالی، «قصاص پدر و مادر در برابر قتل عمدی فرزند از دیدگاہ مذاہب اسلامی»(اسلامی مذاہب کے نزدیک اولاد کے عمدی قتل کے بدلے میں والدین سے قصاص)، ص95۔
- ↑ ذوالفقارطلب و جمالی، «قصاص پدر و مادر در برابر قتل عمدی فرزند از دیدگاہ مذاہب اسلامی»(اسلامی مذاہب کے نزدیک اولاد کے عمدی قتل کے بدلے میں والدین سے قصاص)، ص100۔
- ↑ جوانمرد و دیگران، «بررسی عوامل اجتماعی-فرہنگی موثر بر قتلہای ناموسی»(غیرت کے نام پر ہونے والے قتلوں پر اثر انداز ہونے والے سماجی و ثقافتی عوامل کا جائزہ)، ص49۔
- ↑ حیدری پیدنی، «چالشہا و رویکردہای قانون مجازات اسلامی در مورد قتل فرزند دختر توسط پدر»(باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کے بارے میں قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے چیلنجز اور اس کے قانونی اور عملی رویّے)، ص627۔
- ↑ مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، موسوعہ الفقہ الاسلامی المقارن، 1432ھ، ج6، ص323۔
- ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1412ھ، ج10، ص64۔
- ↑ زندی و ہنرجو، «بررسی چرایی عدم قصاص پدر، بہ سبب قتل فرزند در حقوق کیفری ایران؛ با توجہ بہ جایگاہ حقوق کودکان»(ایران کے فوجداری قانون میں بچے کے قتل کے سبب باپ کو قصاص نہ دیے جانے کی وجوہات کا جائزہ؛ حقوقِ اطفال کے مقام کے تناظر میں)، ص38۔
- ↑ زندی و ہنرجو، «بررسی چرایی عدم قصاص پدر، بہ سبب قتل فرزند در حقوق کیفری ایران؛ با توجہ بہ جایگاہ حقوق کودکان»(ایران کے فوجداری قانون میں بچے کے قتل کے سبب باپ کو قصاص نہ دیے جانے کی وجوہات کا جائزہ؛ حقوقِ اطفال کے مقام کے تناظر میں)، ص39۔
- ↑ حیدری پیدنی، «چالشہا و رویکردہای قانون مجازات اسلامی در مورد قتل فرزند دختر توسط پدر»(باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کے بارے میں قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے چیلنجز اور اس کے قانونی اور عملی رویّے)، ص627۔
- ↑ حیدری پیدنی، «چالشہا و رویکردہای قانون مجازات اسلامی در مورد قتل فرزند دختر توسط پدر»(باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کے بارے میں قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے چیلنجز اور اس کے قانونی اور عملی رویّے)، ص627۔
- ↑ زندی، ہنرجو، «بررسی چرایی عدم قصاص پدر، بہ سبب قتل فرزند در حقوق کیفری ایران؛ با توجہ بہ جایگاہ حقوق کودکان»(ایران کے فوجداری قانون میں بچے کے قتل کے سبب باپ کو قصاص نہ دیے جانے کی وجوہات کا جائزہ؛ حقوقِ اطفال کے مقام کے تناظر میں)، ص43۔
- ↑ محقق حلّی، شرائع الإسلام، 1408ھ، ج4، ص199، مدرسی، الفقہ الاسلامی (الرسالۃ العملیۃ)، 1431ھ، ج3، ص268؛ فتحی و پروین کندرود، «آسیبشناسی فقہی و حقوقی قتلہای ناموسی در نظام حقوقی ایران و پاکستان»(ایران اور پاکستان کے قانونی نظام میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتلوں کا فقہی اور قانونی تنقیدی جائزہ)، ص82۔
- ↑ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج4، ص120۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج42، ص170۔
- ↑ جمشیدیراد و ویسی، «لزوم بازنگری در حکم عدم اجرای قصاص پدر در قتل عمدی فرزند از مجرای فقہ پویا و اصلاح قانون مجازات اسلامی»(زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ اور قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے تناظر میں اصلاح کے ذریعے، اولاد کے عمدی قتل میں باپ پر قصاص نافذ نہ ہونے کے حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت)، ص100۔
- ↑ «قصاص قتل فرزند توسط پدر یا مادر»(اولاد کے قتل میں ماں یا باپ کا قصاص)، دفتر آیتاللہ صانعی کی اطلاعات سے مربوط ویب سائٹ۔
- ↑ فیاضی، «بازپژوہی دلایل قصاص نشدن پدر بر قتل فرزند»(باپ کے ہاتھوں اولاد کے قتل پر قصاص نہ ہونے کے دلائل کا تحقیقی جائزہ)، ص122؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج7، ص298؛ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج4، ص367۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج42، ص169۔
- ↑ شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، 1407ھ، ج10، ص238۔
- ↑ فیاضی، «بازپژوہی دلایل قصاص نشدن پدر بر قتل فرزند»(باپ کے ہاتھوں اولاد کے قتل پر قصاص نہ ہونے کے دلائل کا تحقیقی جائزہ)، ص122۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج42، ص169؛ مکارم شیرازی، کتاب النکاح، 1424ھ، ج7، ص85۔
- ↑ جمشیدیراد و ویسی، «لزوم بازنگری در حکم عدم اجرای قصاص پدر در قتل عمدی فرزند از مجرای فقہ پویا و اصلاح قانون مجازات اسلامی»(زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ اور قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے تناظر میں اصلاح کے ذریعے، اولاد کے عمدی قتل میں باپ پر قصاص نافذ نہ ہونے کے حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت)، ص102۔
- ↑ جمشیدیراد و ویسی، «لزوم بازنگری در حکم عدم اجرای قصاص پدر در قتل عمدی فرزند از مجرای فقہ پویا و اصلاح قانون مجازات اسلامی»(زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ اور قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے تناظر میں اصلاح کے ذریعے، اولاد کے عمدی قتل میں باپ پر قصاص نافذ نہ ہونے کے حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت)، ص102۔
- ↑ مکارم شیرازی، کتاب النکاح، 1424ھ، ج7، ص85۔
- ↑ شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، 1412ھ، ج10، ص64؛ روحانی، فقہ الصادق، 1435ھ، ج39، ص398۔
- ↑ زندی، ہنرجو، «بررسی چرایی عدم قصاص پدر، بہ سبب قتل فرزند در حقوق کیفری ایران؛ با توجہ بہ جایگاہ حقوق کودکان»(ایران کے فوجداری قانون میں بچے کے قتل کے سبب باپ کو قصاص نہ دیے جانے کی وجوہات کا جائزہ؛ حقوقِ اطفال کے مقام کے تناظر میں)، ص40۔
- ↑ محدث نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج18، ص239۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: جمشیدیراد و ویسی، «لزوم بازنگری در حکم عدم اجرای قصاص پدر در قتل عمدی فرزند از مجرای فقہ پویا و اصلاح قانون مجازات اسلامی»(زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ اور قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے تناظر میں اصلاح کے ذریعے، اولاد کے عمدی قتل میں باپ پر قصاص نافذ نہ ہونے کے حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت)، ص102؛ ذوالفقار طلب، جمالی، «قصاص پدر و مادر در برابر قتل عمدی فرزند از دیدگاہ مذاہب اسلامی»(اسلامی مذاہب کے نزدیک اولاد کے عمدی قتل کے بدلے میں والدین سے قصاص)، ص95۔
- ↑ فیاضی، «بازپژوہی دلایل قصاص نشدن پدر بر قتل فرزند»(باپ کے ہاتھوں اولاد کے قتل پر قصاص نہ ہونے کے دلائل کا تحقیقی جائزہ)، ص121۔
- ↑ جمشیدیراد و ویسی، «لزوم بازنگری در حکم عدم اجرای قصاص پدر در قتل عمدی فرزند از مجرای فقہ پویا و اصلاح قانون مجازات اسلامی»(زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ اور قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے تناظر میں اصلاح کے ذریعے، اولاد کے عمدی قتل میں باپ پر قصاص نافذ نہ ہونے کے حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت)، ص99؛ «قانون مجازات اسلامی»(اسلامی کیفری قانون)، مجلس شورای اسلامی سےمتعلق تحقیقاتی مرکز۔
- ↑ «عدم رعایت تناسب جرم و مجازات در تعیین مجازات تعزیری قتل (2)»(قتل کی تعزیری سزا کے تعین میں جرم اور سزا کے تناسب کی عدم رعایت2)، شورای نگہبان سے متعلق تحقیقاتی مرکز۔
- ↑ حیدری پیدنی، «چالشہا و رویکردہای قانون مجازات اسلامی در مورد قتل فرزند دختر توسط پدر»(باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کے بارے میں قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے چیلنجز اور اس کے قانونی اور عملی رویّے)، ص631۔
- ↑ حیدری پیدنی، «چالشہا و رویکردہای قانون مجازات اسلامی در مورد قتل فرزند دختر توسط پدر»(باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کے بارے میں قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے چیلنجز اور اس کے قانونی اور عملی رویّے)، ص626۔
- ↑ جمشیدیراد و ویسی، «لزوم بازنگری در حکم عدم اجرای قصاص پدر در قتل عمدی فرزند از مجرای فقہ پویا و اصلاح قانون مجازات اسلامی»(زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ اور قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے تناظر میں اصلاح کے ذریعے، اولاد کے عمدی قتل میں باپ پر قصاص نافذ نہ ہونے کے حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت)، ص98۔
- ↑ ایزدیفرد و دیگران، «مجازات پدر در قتل فرزند»(اولاد کے قتل میں باپ کو سزا)، ص114۔
- ↑ زندی، ہنرجو، «بررسی چرایی عدم قصاص پدر، بہ سبب قتل فرزند در حقوق کیفری ایران؛ با توجہ بہ جایگاہ حقوق کودکان»(ایران کے فوجداری قانون میں بچے کے قتل کے سبب باپ کو قصاص نہ دیے جانے کی وجوہات کا جائزہ؛ حقوقِ اطفال کے مقام کے تناظر میں)، ص44 - 45۔
- ↑ مرادی، «قصاص پدر توسط فرزندی کہ ولی دم است»(وارث اولاد کے ذریعے باپ سے قصاص)، ص117۔
- ↑ مکارم شیرازی، استفتاءات، 1427، ج2، ص519۔
- ↑ بہجت، استفتاءات، 1428ھ، ج4، ص464۔
- ↑ حیدری، «امکان قصاص پدر توسط فرزند در آراء فقہی و قوانین جزایی»(فقہی آراء اور فوجداری قوانین میں اولاد کے ذریعے باپ سے قصاص کے امکان کا جائزہ)، ص 93۔
مآخذ
- ایزدیفرد، علیاکبر، محمد محسنی دہکلانی، امین یوسفی، «مجازات پدر در قتل فرزند»(اولاد کے قتل میں باپ سے قصاص)، مجلہ مبانی فقہی حقوق اسلامی، شمارہ 7، بہار و تابستان 1390ہجری شمسی۔
- بہجت، محمدتقی، استفتاءات، قم، دفتر حضرت آیۃ اللہ بہجت، پہلی اشاعت، 1428ھ۔
- جمشیدیراد، محمدصادق، مریم ویسی، «لزوم بازنگری در حکم عدم اجرای قصاص پدر در قتل عمدی فرزند از مجرای فقہ پویا و اصلاح قانون مجازات اسلامی»(زمان و مکان سے ہم آہنگ فقہ اور قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے تناظر میں اصلاح کے ذریعے، اولاد کے عمدی قتل میں باپ پر قصاص نافذ نہ ہونے کے حکم پر نظرِ ثانی کی ضرورت)، مجلہ پژوہشنامہ نوین فقہی حقوقی زنان و خانوادہ، شمارہ 16، پاییز 1400ہجری شمسی۔
- جوانمرد، محمد و طاہا عشایری، الہام عباسی، «بررسی عوامل اجتماعی-فرہنگی موثر بر قتلہای ناموسی»(ایران اور پاکستان کے قانونی نظام میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتلوں کا فقہی اور قانونی تنقیدی جائزہ)، مجلہ فصلنامہ مددکاری اجتماعی، دورہ 9، شمارہ 3، 1399ہجری شمسی۔
- حیدری پیدنی، شہرام، «چالشہا و رویکردہای قانون مجازات اسلامی در مورد قتل فرزند دختر توسط پدر»(باپ کی جانب سے بیٹی کے قتل کے بارے میں قانونِ تعزیراتِ اسلامی کے چیلنجز اور اس کے قانونی اور عملی رویّے)، مجلہ علوم انسانی و اسلامی در ہزارہ سوم، دورہ 2، شمارہ 6، بہار 1400ہجری شمسی۔
- حیدری، علیمراد، «امکان قصاص پدر توسط فرزند در آراء فقہی و قوانین جزایی»، فصلنامہ مطالعات اسلامی فقہ و اصول، دورہ 44، شمارہ 3، پاییز 1391ہجری شمسی۔
- ذوالفقارطلب، مصطفی، محمد جمالی، «قصاص پدر و مادر در برابر قتل عمدی فرزند از دیدگاہ مذاہب اسلامی»، فصلنامہ فقہ مقارن، دورہ 1، شمارہ 2، آذر 1392ہجری شمسی۔
- روحانی، محمدصادق، فقہ الصادق، قم، آیین دانش، 1435ھ۔
- زندی، مہدی و محسن ہنرجو، «بررسی چرایی عدم قصاص پدر، بہ سبب قتل فرزند در حقوق کیفری ایران؛ با توجہ بہ جایگاہ حقوق کودکان»، فصلنامہ پاسخ، دورہ 8، شمارہ 29 ، خرداد 1402ہجری شمسی۔
- شہید ثانی، زینالدین بن علی، الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
- شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: علیاکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، محقق، حسن موسوی خرسان، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- «عدم رعایت تناسب جرم و مجازات در تعیین مجازات تعزیری قتل (2)»(قتل کی تعزیری سزا کے تعین میں جرم اور سزا کے تناسب کی عدم رعایت2)، پژوہشکدہ شورای نگہبان، تاریخ درج مطلب: 1 فروری 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 3 نومبر 2025ء۔
- فتحی، مرتضی، ابوالفضل پروین کندرود، «آسیبشناسی فقہی و حقوقی قتلہای ناموسی در نظام حقوقی ایران و پاکستان»(ایران اور پاکستان کے قانونی نظام میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتلوں کا فقہی اور قانونی تنقیدی جائزہ)، مطالعات تطبیقی حقوق کشورہای اسلامی، دورہ 3، شمارہ 2، تیر 1404ہجری شمسی۔
- فیاضی، محمدتقی، «بازپژوہی دلایل قصاص نشدن پدر بر قتل فرزند»(باپ کے ہاتھوں اولاد کے قتل پر قصاص نہ ہونے کے دلائل کا تحقیقی جائزہ)، دورہ 12، شمارہ 1، شہریور 1401ہجری شمسی۔
- «قانون مجازات اسلامی»، مجلس شورای اسلامی سے متعلق تحقیقاتی مرکز، تاریخ مشاہدہ: 3 نومبر 2025ء۔
- «قصاص قتل فرزند توسط پدر یا مادر»(اولاد کے قتل میں ماں باپ سے قصاص)، اطلاعاتی ویب سائٹ دفتر آیتاللہ صانعی، تاریخ مشاہدہ: 3 نومبر 2025ء۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علیاکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، موسوعہ الفقہ الاسلامی المقارن، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہلبيت، محمود شاہرودی کے زیر نظر، 1432ھ۔
- محدث نوری، حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1408ہجری شمسی۔
- محقق حلّی، نجمالدین جعفر بن حسن، شرائع الإسلام فی مسائل الحلال و الحرام، محقق و مصحح: عبدالحسین بقال، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1408ھ۔
- مدرسي، سيد محمدتقي، الفقہ الاسلامي (الرسالۃ العمليۃ)، بیروت، مركز العصر، نویں اشاعت، 1431ھ۔
- مرادی، میثم، «قصاص پدر توسط فرزندی کہ ولی دم است»(وارث اولاد کا باپ سے قصاص)، رسائل، سال 6، شمارہ 1، خزاں اور سرما 1399ہجری شمسی۔
- مكارم شيرازى، ناصر، كتاب النكاح، مرتبہ: محمدرضا حامدی، قم، مدرسۃ الامام علی بن ابیطالب، 1424ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، استفتاءات جدید، محقق و مصحح: ابوالقاسم علیاننژادی، قم، انتشارات مدرسہ امام علی بن ابی طالب(ع)، دوسری اشاعت، 1427ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الإسلام، محقق و مصحح: عباس قوچانی، علی آخوندی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔