"تابعین" کے نسخوں کے درمیان فرق
م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں) مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
سطر 24: | سطر 24: | ||
ممکن ہے یہ اصطلاح [[رسول اکرمؐ]] کی کلام مبارک سے ماخوذ ہو جہاں پر آپؐ [[اویس قرنی|اویس قَرَنی]] کے بارے میں فرماتے ہیں: {{حدیث|"اِنَّ خیرَ التابعینَ رَجلٌ یقالُ لَهُ اویس|ترجمہ=بہترین تابعی اویس نامی مرد ہے}}؛<ref> مسلم بن حجاج، ج۲، ص۱۹۶۸</ref> اس کے بعد بتدریج تابعین ان تمام افراد کو کہا جانے لگا جنہوں نے رسول اکرمؐ کو دیکھے بغیر شرعی احکام اور مسائل کو آپ کے اصحاب سے اخذ کی ہیں۔ | ممکن ہے یہ اصطلاح [[رسول اکرمؐ]] کی کلام مبارک سے ماخوذ ہو جہاں پر آپؐ [[اویس قرنی|اویس قَرَنی]] کے بارے میں فرماتے ہیں: {{حدیث|"اِنَّ خیرَ التابعینَ رَجلٌ یقالُ لَهُ اویس|ترجمہ=بہترین تابعی اویس نامی مرد ہے}}؛<ref> مسلم بن حجاج، ج۲، ص۱۹۶۸</ref> اس کے بعد بتدریج تابعین ان تمام افراد کو کہا جانے لگا جنہوں نے رسول اکرمؐ کو دیکھے بغیر شرعی احکام اور مسائل کو آپ کے اصحاب سے اخذ کی ہیں۔ | ||
== تعداد== | == تعداد== | ||
تعداد | تابعین کی تعداد بہت زیادہ اور قابل شمارش نہیں ہے کیونکہ رسول خداؐ کی رحلت کی وقت کم از کم ایک لاکھ چودہ ہزار صحابی موجود تھے،<ref> ابن کثیر، اختصار علوم الحدیث، ص۱۲۸ بہ نقل از ابوزُرْعہ رازی </ref> اور چونکہ تابعی صدق آنے کی شرط صرف کسی صحابہ سے ملاقات کرنا ہے اور صحابہ بھی مختلف ممالک اور شہروں میں پھیلے ہوئے تھے، اس بنا پر تابعین کی تعداد کو دقیق مشخص کرنا آسان کام نہیں ہے۔ <ref> خطیب، ص۴۱۱</ref> خاص طور پر اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ بعض صحابہ حتی پہلی صدی ہجری کی اواخر تک زندہ تھے۔<ref> ابن کثیر، اختصار علوم الحدیث، ص۱۲۸ـ۱۳۱</ref> تابعین میں سے آخری شخص سنہ 180 ہجری قمری میں اس دنیا سے رحلت کر گیا ہے۔<ref> مامقانی، ج۳، ص۳۱۳.</ref> | ||
== طبقات | == تابعین کے طبقات ==<!-- | ||
=== دیدگاه ابن حبان === | === دیدگاه ابن حبان === | ||
تابعین طبقاتی دارند، برخی مانند ابن حبّان همه تابعین را به اعتبار آنکه در ملاقات با صحابه مشترک اند، یک طبقه دانستهاند.<ref> ابوشهبه، ص۵۴۲.</ref> | تابعین طبقاتی دارند، برخی مانند ابن حبّان همه تابعین را به اعتبار آنکه در ملاقات با صحابه مشترک اند، یک طبقه دانستهاند.<ref> ابوشهبه، ص۵۴۲.</ref> |