مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:محمد کی اقتدا (کتاب)

ویکی شیعہ سے
اقتدا بہ محمد(ص)
مشخصات
مصنفکارل ارنسٹ
موضوعاسلام کے بارے میں غلط تصورات کا جواب
زبانانگریزی
ترجمہجرمن، فرانسیسی، عربی، ترکی اور کوریائی
طباعت اور اشاعت
ناشرہرمس، حقیقت
مقام اشاعتتہران
اردو ترجمہ
مترجمقاسم کاکائی، حسن نورائی


کتاب محمدؐ کی اقتداء، یہ کتاب امریکی اسلام شناس اور یونیورسٹی کے پروفیسر کارل ارنسٹ کی تصنیف ہے جو مغربی قارئین کو اسلام سے روشناس کروانے اور اس دین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے لکھی گئی ہے۔ ارنسٹ نے کتاب کی تالیف کا بنیادی مقصد "اسلام کا انسانی چہرہ آشکار کرنا" قرار دیا ہے۔

یہ کتاب اسلامی ممالک میں توجہ حاصل کر چکی ہے اور ایران، مصر، ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں اس کے مصنف کو متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ کتاب محمدؐ کی اقتداء کو شمالی کیرولائنا یونیورسٹی میں اسلام کے تعارف کے مضمون کے طور پر باقاعدہ نصاب کا حصہ ہے۔

اس کتاب کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، جن میں جرمن، فرانسیسی، عربی، ترکی، اردو اور کورین شامل ہیں۔ اس کتاب کے دو فارسی تراجم موجود ہیں، جن میں پہلا ترجمہ قاسم کاکائی نے کیا ہے۔

تعارف

کتاب "محمدؐ کی اقتداء"(Following Muhammad: Rethinking Islam in the Contemporary World) امریکی اسلام شناس اور یونیورسٹی پروفیسر کارل ارنسٹ کی تصنیف ہے، جو مغربی قارئین کو اسلام سے روشناس کروانے اور اس دین کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے لکھی گئی ہے۔[1] مصنف نے کتاب کے دیباچے میں سوال اٹھایا ہے: "آج کل لفظ "اسلام" سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں کیا تصور ابھرتا ہے؟[2] اور کارل کا ماننا ہے کہ مغربی میڈیا اور اشاعتی اداروں میں مناسب طریقے سے اسلام کا تعارف نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ کتاب اسلام کے بارے میں عام طور پر انجام پانے والے کاموں کے متبادل کے طور پر تحریر کی ہے، جو اسلامی مذہبی روایت اور مسلمانوں کے معاصر مسائل کے بارے میں ایک ہمدردانہ، مستدل اور تجزیاتی نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔[3] مصنف کے مطابق اس کتاب میں مغرب میں اسلام کے بارے میں موجود عامیانہ تصورات سے فاصلہ اختیار کرنے اور اسلام کی ایک غیر بنیاد پرستانہ تفہیم پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔[4]

کتاب محمدؐ کی اقتداء کو طلبا کے لیے بطور نصابی ماخذ[5] متعارف کروایا گیا ہے اور یہ شمالی کیرولائنا یونیورسٹی میں "تعارف اسلام" کے مضمون کے طور پر باقاعدہ نصاب میں شامل ہے۔[6] یہ تصنیف مختلف اسلامی ممالک بشمول مصر، ترکی، ملائیشیا اور انڈونیشیا میں توجہ حاصل کر چکی ہے اور مصنف کے لیے ایوارڈز کا باعث بنی ہے۔[7] ایران میں بھی تحقیقاتی ادارہ حکمت و فلسفہ اور شیراز یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اس کتاب کی تحریر پر مصنف کو ایک ایوارڈ دیا۔[8] سعودی عرب اور پاکستان میں بھی کتاب کو پذیرائی دینے کا ارادہ تھا، لیکن کتاب میں شیعہ اسلام پر توجہ دینے اور وہابیت پر تنقید کے باعث یہ پذیرائی عمل میں نہ آسکی۔[9]

کتاب کے اہداف و مقاصد

ارنسٹ نے اپنی کتاب کا بنیادی مقصد "اسلام کا انسانی چہرہ آشکار کرنا" قرار دیا ہے، یہ وہ کام ہے جو صرف "جہالت کے پردوں" کو ہٹانے سے ممکن ہے جو صدیوں سے اہل یورپ اور امریکیوں کے ذہنوں پر سایہ فگن ہیں۔[10] ان کے مطابق، اسلام کے بارے میں اس فکری تعمیر نو کے لیے دو قسم کے اقدامات ضروری ہیں: پہلا قدم، مسلمانوں کی ایک مکمل، جامع اور انسانی تصویر پیش کرنا جو موجودہ دقیانوسی تصورات فرسودہ روایات کے برعکس ہو؛ اور دوسرا قدم، عمومی بے اعتنائی کے بجائے تاریخی حافظے کو زندہ کرنا تاکہ استعمار جیسے موضوعات فراموش نہ ہوں۔[11]

مصنف

کارل ارنسٹ

کارل ویلیم ارنسٹ (پیدائش 5 ستمبر 1950ء) ایک امریکی اسلام شناس اور متعدد یونیورسٹیوں میں مطالعات اسلامی کے پروفیسر ہیں۔[12] انہوں نے عربی، فارسی اور اردو زبانوں کے مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے مطالعات اسلامی، تصوف اور اسلامی ثقافت پر تحقیقی اور تدریسی امور انجام دئے ہیں اور اسی سلسلے میں متعدد تصانیف شائع کی ہیں۔[13] ارنسٹ نے سنہ 1981ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔[14] انہوں نے ہندوستان، پاکستان اور ترکی کے متعدد تحقیقی سفر کیے اور تدریس اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے خلیج فارس، ترکی، ایران اور جنوب مشرقی ایشیا کا سفر کیا۔[15] وہ سنہ 1992ء سے 2022ء تک شمالی کیرولائنا یونیورسٹی کے شعبہ دینی مطالعات کے مجلس مدرسین کے رکن رہے۔[16] ان کے خیال میں اسلام کسی خاص مقام، زمانے یا زبان سے جڑا ہوا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک وسیع اور عالمگیر دین ہے جو تاریخ کے دوران مختلف مقامات اور زبانوں میں تشکیل پایا ہے۔[17]

کتاب کے مندرجات

کتاب "محمد کی پیروی" ایک دیباچہ اور چھ ابواب پر مشتمل ہے۔[18]

  • پہلی فصل: اسلام مغرب کی نظر میں

ارنسٹ نے پہلی فصل کے تین حصوں میں اہل مغرب کی اسلام کے بارے میں نظر کے تاریخی سیر و ارتقاء کا جائزہ لیا ہے۔ پہلے حصے میں، وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ مغرب اور اسلام کے درمیان آج کے سیاسی دشمنانہ تعلقات دونوں طرف سے مذہبی دعوؤں کے پس منظر میں تشکیل پائے ہیں۔[19] اس فصل کے دوسرے حصے کا عنوان "قرون وسطیٰ سے عصر حاضر تک اسلام مخالف نقطہ ہائے نظر" ہے اور اس حصے میں مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے درمیان تاریخی تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔[20] کتاب کی پہلی فصل کے تیسرے حصے کا عنوان "اسلام کے بارے میں نقطہ نظر میں تعصب سے اجتناب" ہے۔ مصنف تعصب کی سب سے بڑی مثال مسلمانوں کو ایک جیسا سمجھنا اور ان کی زندگی میں موجود تمام اقتصادی، جغرافیائی، سیاسی، نسلی، قومی، لسانی، تاریخی جیسے عوامل کو مذہبی عامل میں سمونا قرار دیتے ہیں اور اسی موضوع پر بحث کرتے ہیں۔[21]

  • دوسری فصل: اسلام کو دین کی صورت میں دیکھنا

مصنف نے اس کتاب کی دوسری فصل میں لفظ "دین" کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے اور اسلام کو نسلی اور قومی مسائل سے مخلوط ہونے کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔[22]

  • تیسری فصل: اسلام کے مقدس مصادر

کتاب کی تیسری فصل قرآن اور سنت سے مخصوص ہے اور اسلامی معارف میں "رحمۃ للعالمین" کے طور پر پیغمبر اسلامؐ کے مرکزی کردار پر تاکید کرتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس فصل میں مصنف، ولایت کا مسئلہ اٹھا کر، شیعہ نظریات کے قریب ہوگئے ہیں اور انہوں نے قرآن کے خلاف دشمنانہ موقف، بالخصوص سلمان رشدی کی تصنیف آیات شیطانی پر بھی روشنی ڈالی ہے اور اس کا جواب دیا ہے۔[23]

  • چوتھی فصل: اخلاق اور دنیوی زندگی

مصنف نے چوتھی فصل میں اسلام کی تعلیمات کے عملی پہلوؤں، بشمول اخلاق اور فقہ پر روشنی ڈالی ہے۔[24]

  • پانچویں فصل: عملی معنویت

پانچویں فصل میں مصنف اسلام کی عرفانی اور معنوی جہتوں پر بحث کرتا ہے اور شیعہ ائمہ اور صوفی مشائخ کو دو روایات تشیع اور تصوف میں روحانیت اور عرفان کے رہنما اور سرچشمے کے طور پر زیر بحث لاتا ہے۔ اس فصل میں وہابیوں کی ولایت کے تصور کے خلاف مخالفت جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئے ہیں۔[25]

چھٹی فصل: نتیجہ

کتاب کی آخری فصل جس کا عنوان ہے "اکیسویں صدی میں اسلام پر نظر ثانی"[26] اسلام اور وقت کے تقاضوں کے مسئلے کے ساتھ ساتھ روایت اور جدیدیت کے تعامل پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں مندرج مطالب کا مقصد یہ ہے کہ کس طرح "آئیڈیالوجی" اور "ٹیکنالوجی" مسلمانوں اور غیر مسلموں کے اسلام کے بارے میں نقطہ نظر کو متاثر کرتی ہیں۔[27]

کتاب کے تراجم

کتاب "محمدؐ کی پیروی" کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، جن میں جرمن، فرانسیسی، عربی، ترکی ، کورین اور اردو شامل ہیں۔[28] دو مترجمین نے علیٰحدہ علیٰحدہ اس کتاب کو فارسی زبان میں ترجمہ کیا ہے؛ پہلا ترجمہ قاسم کاکائی نے کیا، جو شیراز یونیورسٹی میں فلسفہ و عرفان اسلامی کے پروفیسر ہیں۔[29] یہ نسخہ، جو مصنف کے دیباچے اور مترجم کے دیباچے پر مشتمل ہے، اور ہرمس پبلیکیشنز نے اسے شائع کیا[30] اور یہ سنہ 2011ء میں پیغمبر اسلامؐ کے یوم ولادت پر منظر عام پر آیا۔[31] کتاب کا دوسرا ترجمہ حسن نورائی بیدخت نے کیا ہے اور یہ شہرام پازوکی کے دیباچے کے ساتھ حقیقت پبلیکیشنز سے شائع ہوا ہے۔[32]

حوالہ جات

  1. امیدی‌سرور، «دربارہ اقتدا بہ محمد(ص)»، کتاب نیوز
  2. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص1۔
  3. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص1۔
  4. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص1۔
  5. امیدی‌سرور، «دربارہ اقتدا بہ محمد(ص)»، کتاب نیوز
  6. «مقایسہ دو ترجمہ کتاب اقتدا بہ محمد(ص)»(اقتدا بہ محمدؐ کے دو تراجم کا تقابلی جائزہ)، مرکز و کتابخانہ مطالعات اسلامی۔
  7. «شناخت وارونہ غربی ہا از اسلام»(مغربیوں کی جانب سے اسلام کی معکوس شناخت)، خبرگزاری مہر۔
  8. «شناخت وارونہ غربی ہا از اسلام»(مغربیوں کی جانب سے اسلام کی معکوس شناخت)، خبرگزاری مہر۔
  9. «شناخت وارونہ غربی ہا از اسلام»(مغربیوں کی جانب سے اسلام کی معکوس شناخت)، خبرگزاری مہر۔
  10. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص9۔
  11. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص10۔
  12. کریمی، «کارل ویلیام ارنست»، ایران‌شناسی۔
  13. کریمی، «کارل ویلیام ارنست»، ایران‌شناسی۔
  14. کریمی، «کارل ویلیام ارنست»، ایران‌شناسی۔
  15. کریمی، «کارل ویلیام ارنست»، ایران‌شناسی۔
  16. کریمی، «کارل ویلیام ارنست»، ایران‌شناسی۔
  17. «واژہ‌ہای تجربہ: ترجمہ کارل ارنست از اسلام»، مرکز و کتابخانہ مطالعات اسلامی۔
  18. «کتاب اقتدا بہ محمد (ص) پروفسور کارل ارنست»، ایسنا۔
  19. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص24- 25۔
  20. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص27۔
  21. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص45۔
  22. «شناخت وارونہ غربی ہا از اسلام»(مغربیوں کی جانب سے اسلام کی معکوس شناخت)، خبرگزاری مہر۔
  23. «شناخت وارونہ غربی ہا از اسلام»(مغربیوں کی جانب سے اسلام کی معکوس شناخت)، خبرگزاری مہر۔
  24. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص149؛ «شناخت وارونہ غربی ہا از اسلام»(مغربیوں کی جانب سے اسلام کی معکوس شناخت)، خبرگزاری مہر۔
  25. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390ش، ص183؛ «کتاب اقتدا بہ محمد (ص) پروفسور کارل ارنست»، ایسنا۔
  26. ارنست، اقتدا بہ محمد(ص)، 1390شمسی، ص221۔
  27. «شناخت وارونہ غربی ہا از اسلام»(مغربیوں کی جانب سے اسلام کی معکوس شناخت)، خبرگزاری مہر۔
  28. امیدی‌سرور، «دربارہ اقتدا بہ محمد(ص)»، کتاب نیوز
  29. «قاسم کاکایی»، ایران کتاب۔
  30. «اقتدا بہ محمد»، انتشارات ہرمس۔
  31. «کتاب اقتدا بہ محمد (ص) پروفسور کارل ارنست»، ایسنا۔
  32. «اقتدا بہ محمد (ص): بازاندیشی اسلام در جہان معاصر»(عصرِ حاضر کی دنیا میں اسلام پر ازسرِنو غور و فکر)، خانہ ادبیات و کتاب ایران۔

مآخذ