مسودہ:سید محمد الموسوی

سید محمد الموسوی، 32 سالہ ایرانی نژاد[1]بحرینی شیعہ شہری[2] ہیں جو بحرینی سکیورٹی فورسز کی حراست میں شہید ہوئے،[3] اور ان کی تشییع جنازہ آل خلیفہ کے خلاف مظاہروں میں تبدیل ہوگئی۔[4] سید محمد کی تشییع شہر المحرق میں ہوئی جس میں سینکڑوں شیعوں نے شرکت کی اور ہیہات منا الذلۃ اور آل خلیفہ حکومت کے خلاف احتجاجی نعرے لگائے۔[5] میڈل ایسٹ آئی نیوز ایجنسی نے جنازے میں شریک افراد کے حوالے سے اس واقعے کو بحرینی حکومت کی جانب سے خوف و ہراس پھیلانے اور مخالفین کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا۔[6] الوفاق اسلامی قومی اتحاد، بحرین کی سب سے بڑی شیعہ جماعت نے الموسوی خاندان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی حکومت نے شہریوں کے قتل، انتقام اور تشدد جیسے واقعات کے ذریعے اپنی حقیقی نوعیت ظاہر کر دی ہے۔[7]
خبری رپورٹوں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے بحرین میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔[8] میڈل ایسٹ آئی کے مطابق اس جنگ کے آغاز سے کم از کم 220 افراد بشمول الموسوی گرفتار کئے جا چکے ہیں۔[9] گرفتار ہونے والوں پر اکثر ایران سے ہمدردی رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جن میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ماتمی جلوسوں کا انعقاد یا امریکی اڈوں پر ایران کے حملوں کی حمایت میں مواد شائع کرنا وغیرہ۔[10]
رپورٹوں کے مطابق الموسوی کو 19 مارچ 2026ء کو سحری کے وقت چند دیگر افراد کے ہمراہ بغیر کسی واضح وجوہات کے گرفتار کیا گیا۔[11] ان کے خاندان کو 10 دن تک ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی یہاں تک کہ انہیں الموسوی کی لاش لینے کے لئے ہسپتال بلایا گیا۔[12] رپورٹوں میں الموسوی کے چہرے اور جسم پر تشدد اور زخم کے نشانات دیکھے گئے۔[13] جنیوا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم یورومڈ مانیٹر نے بھی الموسوی کے جسم پر وسیع پیمانے پر خون مردگی اور متعدد زخموں کی اطلاع دی۔[14] "ہارڈ اور سانس اٹیک" کو ان کی موت کی اصل علت قرار دینے کے باوجود، انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس بیان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔[15] بحرین کی وزارت داخلہ نے ان پر ایران کے لئے جاسوسی کا الزام عائد کیا۔[16] بورومڈ مانیٹر نے بھی ان کی موت کی بین الاقوامی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔[17]

موسوی نے 15 سال کی عمر سے آل خلیفہ حکومت کے خلاف جدوجہد شروع کی۔ مجموعی طور پر بارہ سال قید میں گزارے اور جیل میں تفسیر قرآن اور حفظ کی کلاسیں لیتے تھے۔ رہائی کے بعد حکومت مخالف جدوجہد سے دستبرداری کے حلف نامے پر دستخط کرنے پر آمادہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی سزا میں پانچ سال کا اضافہ کر دیا گیا۔[18] ایران میں سید ابراہیم رئیسی کی حکومت کے دور میں بحرین اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعاون کی بنیاد پر ایران کی جانب سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کی درخواست پر سید محمد الموسوی کو بھی معافی مل گئی اور اپریل 2024ء کو آل خلیفہ جیل سے آزاد ہوئے۔[19]
حوالہ جات
- ↑ «بحرین کے جیلوں سے شہادت کی بلندیوں تک؛ ذلت کے مقابلے میں سید محمد کی بے تابی»، برنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «تازہ شادی شدہ بحرینی جوان کی آل خلیفہ حکومت کے شکنجے میں شہادت کی مکمل رپورٹ»، ابنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ بحرینی حکومت نے سید محمد الموسوی کو شکنجے میں شہید کردیا، نورنیوز نیوز ایجنسی۔
- ↑ «سید محمد الموسوی کی شہادت پر بحرین میں لوگوں کے غم و غصے»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی۔
- ↑ «بحرینی حکومت نے سید محمد الموسوی کو شکنجے میں شہید کر دیا»، نورنیوز نیوز ایجنسی۔
- ↑ «تازہ شادی شدہ بحرینی جوان کی آل خلیفہ حکومت کے شکنجے میں شہادت کی مکمل رپورٹ»، ابنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی۔
- ↑ «تازہ شادی شدہ بحرینی جوان کی آل خلیفہ حکومت کے شکنجے میں شہادت کی مکمل رپورٹ»، ابنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی
- ↑ Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی؛ «بحرین کے جیلوں سے شہادت کی بلندیوں تک؛ ذلت کے مقابلے میں سید محمد کی بے تابی»، برنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی؛ «بحرینی حکومت نے سید محمد الموسوی کو شکنجے میں شہید کر دیا»، نورنیوز نیوز ایجنسی۔
- ↑ Bahrain: Urgent investigation required into Al-Mousawi’s death in custody amid torture concerns، یورومڈ مانیٹر۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی؛ «تازہ شادی شدہ بحرینی جوان کی آل خلیفہ حکومت کے شکنجے میں شہادت کی مکمل رپورٹ»، ابنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ Bahrain: Urgent investigation required into Al-Mousawi’s death in custody amid torture concerns، یورومڈ مانیٹر۔
- ↑ «بحرین کے جیلوں سے شہادت کی بلندیوں تک؛ ذلت کے مقابلے میں سید محمد کی بے تابی»، برنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، میدل ایسٹ آئی۔
مآخذ
- «بحرین کے جیلوں سے شہادت کی بلندیوں تک؛ ذلت کے مقابلے میں سید محمد کی بے تابی»، برنا نیوز ایجنسی، تاریخ انتشار: 15 فروردین 1405ہجری شمسی۔
- «بحرینی حکومت نے سید محمد الموسوی کو شکنجے میں شہید کر دیا»، نورنیوز نیوز ایجنسی، تاریخ انتشار: 7 فروردین 1405ہجری شمسی۔
- «سید محمد الموسوی کی شہادت پر بحرین میں لوگوں کے غم و غصے»، دفاع مقدس نیوز ایجنسی، تاریخ انتشار: 8 فروردين 1405ہجری شمسی۔
- «تازہ شادی شدہ بحرینی جوان کی آل خلیفہ حکومت کے شکنجے میں شہادت کی مکمل رپورٹ»، ابنا نیوز ایجنسی، تاریخ انتشار: 8 فروردین 1405ہجری شمسی۔
- 'Down with the king': Death of Bahraini in custody sparks angry dissent، تاریخ انتشار: 28 مارس 2026ء، میڈل ایسٹ آئی۔
- Bahrain: Urgent investigation required into Al-Mousawi’s death in custody amid torture concerns، تاریخ انتشار: 29 مارس 2026ء، یورومیڈ مانیٹر۔