مسودہ:خمس سے فرار
خمس سے فرار اس عمل کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص خمس کی ادائیگی سے بچنے کے لیے اپنا مال کسی اور کو ہبہ کر دے یا اسے منتقل کر دے۔[1] بعض فقہا کے مطابق، اگر یہ منتقلی صرف ظاہری ہو اور اصل مالک خمسی سال ختم ہونے کے بعد واپس مال لے لے، تو پھر بھی اس پر خمس ادا کرنا واجب ہے۔ اس لیے کہ در حقیقت اس کی ملکیت کسی اور کی طرف منتقل نہیں ہوئی ہے اور اسی صورت میں بھی اس کا اپنا مال شمار ہوتا ہے۔[2]
فقہا اس صورت میں بھی مختلف رائے رکھتے ہیں جہاں مال کی منتقلی حقیقی ہو، لیکن مقصد خمس کی ادائیگی سے بچنا ہو۔ محمد حسن نجفی اور شیخ انصاری جیسے فقہاء کا کہنا ہے کہ صرف خمس سے بچنے کی نیت سے خمس ساقط نہیں ہوتا اور اسے ادا کرنا ضروری ہے۔[3] امام خمینی کے فتوے کے مطابق بھی اگر بیوی یا بچے کو ہبہ کرنے کا مقصد خمس کی ادائیگی سے بچنا ہو تو اس سے خمس کا وجوب ساقط نہیں ہوتا۔[4] اس کے برعکس، بعض فقہا جیسے سید محمد رضا گلپائیگانی اور محمد تقی بہجت کہتے ہیں کہ اگر ہبہ یا منتقلی عرف کے لحاظ سے وصول کنندہ کے شایانِ شان ہو تو خمس ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔[5] سید ابو القاسم خوئی نے بھی معیار یہ بتایا ہے کہ یہ عمل عرفی میں رائج ہو اور عرف اس پر کسی کو ملامت نہ کرے۔[6] محمد تقی بہجت کے فتوے کے مطابق، خمس سے بچنے کے لیے خمس کا سال تبدیل کرنا یا گھریلو سامان خریدنا جائز ہے۔[7]
فقہ میں زکات کی ادائیگی سے بچنے کی نیت کے بارے میں بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔[8] محمد حسن نجفی کے مطابق، شیخ طوسی کے بعد کے اکثر فقہا نے ایسی صورتوں میں جن میں سکے کو دھات کے ٹکڑوں میں تبدیل کیا جاتا ہے؛ زکات کے عدم وجوب کا فتویٰ دیا ہے۔[9] جبکہ سید مرتضی نے شیخ طوسی سے پہلے کے فقہا کو ایسی صورتوں میں زکات کے وجوب کا قائل بتایا ہے۔[10]
حوالہ جات
- ↑ بہبہانی، «درس خارج فقہ محمدعلی بہبہانی»، مدرسہ فقاہت ویبسائٹ۔
- ↑ بہبہانی، «درس خارج فقہ محمدعلی بہبہانی»، مدرسہ فقاہت ویبسائٹ؛ سیستانی، «استفادہ از مال یا بخشش آن بہ جہت فرار از خمس» (خمس سے بچنے کی غرض سے مال کا استعمال یا اسے ہبہ کرنا)، دفتر آیت اللہ سیستانی کی ویبسائٹ۔
- ↑ نجفی، مجمع الرسائل، 1425ھ، ص528؛ شیخ انصاری، حاشیہ بر صراط النجاۃ، 1415ھ، ص204۔
- ↑ خمینی، استفتاءات، 1422ھ، ج1، ص405۔
- ↑ بہجت، استفتائات، 1428ھ، ج3، ص124؛ گلپایگانی، مجمع المسائل، 1409ھ، ج1، ص350۔
- ↑ خویی، حاشیہ بر صراط النجاۃ، 1416ھ، ج1، ص190۔
- ↑ بہجت، استفتائات، 1428ھ، ج3، ص124۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص184-185۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص184-185۔
- ↑ سید مرتضی، الانتصار، 1415ھ، ص219۔
مآخذ
- بہبہانی، محمدعلی، «درس خارج فقہ»، مدرسہ فقاہت ویبسائٹ، تاریخ درج مطلب: 19 نومبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 5 جون 2024ء۔
- بہجت، محمدتقی، استفتاءات، قم، دفتر حضرت آیۃ اللہ بہجت، پہلی اشاعت، 1428ھ۔
- خمینی، سید روحاللہ، استفتاءات، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، پانچویں اشاعت، 1422ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، حاشیہ بر صراط النجاۃ، قم، مكتب نشر المنتخب، پہلی اشاعت، 1416ھ۔
- سیستانی، سید علی، «استفادہ از مال یا بخشش آن بہ جہت فرار از خمس»(خمس سے بچنے کی غرض سے مال کا استعمال یا اسے ہبہ کرنا)، دفتر آیت اللہ سیستانی کی ویبسائٹ، تاریخ مشاہدہ:5 جون 2024ء۔
- شیخ انصاری، مرتضی، حاشیہ بر صراط النجاۃ، قم، کنگرہ جہانی بزرگداشت شیخ اعظم انصاری، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- سید مرتضی، علی بن حسین، الانتصار فی الانفرادات الامامیۃ، قم، جامعہ مدرسین، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
- گلپایگانی، سید محمدرضا، مجمع المسائل، قم، دار القرآن الکریم، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دارالاحیاء لتراث العربی، بیروت، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
- نجفی، محمدحسن، مجمع الرسائل، مشہد، مؤسسہ صاحب الزمان علیہالسلام، 1415ھ۔