مسودہ:تناثر النجوم کا سال
سال تَناثُر النُجوم، جس کے معنی ہیں "ستاروں کے بکھرنے یا ٹوٹنے کا سال"، جو سنہ 329 ہجری کی طرف اشارہ ہے۔ اس نام کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس سال بہت سے بڑے علمی اور مذہبی شخصیات (یعنی علم و دین کے ستارے) وفات پا گئے؛[1] ان میں خاص طور پر شیعہ علما جیسے: کتاب الکافی کے مصنف محمد بن یعقوب کلینی،[2] امام مہدیؑ کے چوتھے نائبِ خاص، علی بن محمد سمری[3] اور شیخ صدوق کے والد علی بن حسین بن بابویہ قمی شامل تھے۔[4] اسی طرح اہلِ سنت کے علما میں حنفی فقیہ احمد بن محمد طحاوی،[5] معتزلی متکلم، عبداللہ بن احمد بلخی،[6] معتزلی مفسر، علی بن عیسی رمانی[7] بھی اسی سال وفات پاگئے ہیں۔ اسی سال غیبتِ صغری کا اختتام اور غیبتِ کبریٰ کا آغاز ہوا۔[8]
بعض مؤرخین نے "سالِ تناثر النجوم" کو 241 ہجری[9] یا 323 ہجری[10] جیسے دوسرے سالوں پر بھی منطبق کیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ ان دو سالوں کی ایک رات ایسی تھی جس میں آسمان سے بہت سے اجرامِ آسمانی یا ستارے ٹوٹ کر گرے اور بجھ گئے۔ محمد تقی شوشتری نے اپنی کتاب قاموس الرجال میں بعض تاریخی شواہد[11] کی بنیاد پر یہ رائے دی گئی ہے کہ "ستاروں کے ٹوٹنے" کا واقعہ 323 ہجری میں پیش آیا، جب قرامطہ نے مکہ پر حملہ کیا تھا اسی رات آسمان سے کئی ستارے گر گئے۔[12] جبکہ النجوم الزاہرہ کے مصنف بردی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمادی الثانی سنہ 241 ہجری میں پیش آیا، جب عیسیٰ بن جعفر بن محمد بن عاصم کو خلیفہ متوکل کے حکم سے قتل کیا گیا، اور اسی سال امام احمد بن حنبل کا بھی انتقال ہوا۔[13]
حوالہ جات
- ↑ قمی، الکنى والألقاب، 1368شمسی، ج3، ص270؛ مجلسی، بحار الأنوار، 1404ھ، ج51، ص359؛ تہرانی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، 1403ھ، ج16، ص389۔
- ↑ نجاشی، رجال، 1416ھ، ص377۔
- ↑ شیخ طوسی، الغیبۃ، 1411ھ، ص241–242۔
- ↑ نجاشی، رجال، 1416ھ، ص260۔
- ↑ ذہبی، سیر أعلام النبلاء، 1405ھ، ج15، ص27۔
- ↑ ابن مرتضی، طبقات المعتزلۃ، 1961ء، ص92، ابن ندیم، الفہرست، 1978ء، ص232۔
- ↑ یاقوت حموی، معجم الأدباء، 1993ھ، ج13، ص324۔
- ↑ صدر، تاریخ الغیبۃ الصغری، دارالتعارف، 1392ھ، ج1، ص345۔
- ↑ بردی، النجوم الزاہرہ، بی تا، ج2، ص304۔
- ↑ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ؛ 1385ھ، ج8، ص311؛ مسعودی، مروج الذہب، بی تا، ج4، ص20۔
- ↑ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ھ، ج8، ص311؛ مسعودی، مروج الذہب، بی تا، ج4، ص20۔
- ↑ تستری، قاموس الرجال، 1410ھ، ج7، ص437۔
- ↑ بردی، النجوم الزاہرہ، بی تا، ج2، ص304۔
مآخذ
- مجلسی، محمدباقر، بِحارُ الاَنوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، 1404ھ۔
- ابن اثیر، عزالدین، الکامل فی التاریخ. بیروت، دار صادر، 1385ھ۔
- ابن مرتضی، احمد بن یحیی، طبقات المعتزلۃ، تحقیق سوسن زکریا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1961ء۔
- ابن ندیم، محمد بن اسحاق، الفہرست، بیروت، دارالمعرفہ، 1978ء۔
- بردی، یوسف بن تغری، النجوم الزاہرہ فی ملوک مصر و القاہرہ، مصر، دارالکتب، بی تا.
- تستری، محمدتقی، قاموس الرجال، قم، مؤسسہ نشر جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1410ھ۔
- تہرانی، آقابزرگ، الذریعۃ إلى تصانیف الشیعۃ، بیروت، دارالاضواء، 1403ھ۔
- ذہبی، شمس الدین، سیر أعلام النبلاء، تحقیق شعیب ارنؤوط، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1405ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الغیبۃ، قم، مؤسسۃ المعارف الاسلامیۃ، 1411ھ۔
- صدر، سید محمد، تاریخ الغیبۃ الصغری، بیروت، دارالتعارف، چاپ اول، 1392ھ۔
- قمی، عباس، الکنى والألقاب، قم، دار الکتب الإسلامیۃ، 1368ش.
- مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، بیروت، دارالہجرۃ، بی تا.
- نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، 1416ھ۔
- یاقوت حموی، شہاب الدین، معجم الأدباء، تحقیق إحسان عباس، بیروت، دار الغرب الاسلامی، 1993ء۔