مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:بأی ذنب قتلت

ویکی شیعہ سے
بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ تکویر
آیت نمبر9
پارہ30
موضوعزندہ دفن کی جانے والی لڑکیوں کے بارے میں
مربوط آیاتسورہ اسراء آیت نمبر 31


بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ، ("اسے کس گناہ کی وجہ سے قتل کیا گیا؟") سورہ تکویر کی نویں آیت ہے جو زندہ دفن کی جانے والی لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ظاہراً یہ تعبیر قیامت کے دن ایک کمسن مقتول لڑکی سے پوچھے جانے والے سوال پر مبنی ہے۔

مفسرین کے مطابق آیت کا اصل مقصد قاتلوں کی ملامت، مذمت اور ان پر خدا کے شدید غضب کو بیان کرنا ہے۔ تفاسیر اور احادیث میں یہ تعبیر وسیع مفہوم کی حامل ہے اور اسے ہر بے گناہ انسان یا ناحق پامال کئے گئے حق پر بھی منطبق کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے "بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ" کا جملہ مذہبی اور مزاحمتی محفلوں میں ہر قسم کے ظلم کے شکار افراد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق یہ آیت امام حسینؑ اور اہل بیتؑ کی محبت میں شہید ہونے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

زندہ دفن کی جانے والی لڑکی

«بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ سورہ تکویر کی نویں آیت ہے۔[1] یہ تعبیر قیامت کے دن[2] ایک کمسن بچی سے پوچھے جانے والے سوال پر مبنی ہے جسے ناحق قتل کی گئی ہے۔[3] پہلی آیت میں اس بچی کے لئے «مَوْءُودَۃ» کی تعبیر استعمال کی گئی ہے۔[4] «مَوْءُودَۃ» عربی میں اس لڑکی کو کہتے ہیں جسے زندہ دفن کر دیا گیا ہو۔[5]

مفسرین کے مطابق اگرچہ آیت کا ظاہری طور پر زندہ دفن کی جانے والی لڑکی سے پوچھے جانے والے سوال پر مشتمل ہے، لیکن اصل مقصد قاتل کی مذمت اور ملامت ہے، یعنی: تُو نے ایک بے گناہ لڑکی کو زندہ حالت میں کیوں دفنا دیا؟[6] تفاسیر میں اس جملے کو قاتل پر خدا کے شدید غضب کی علامت قرار دیا گیا ہے[7] جو ایک قسم کی دھمکی[8] اور سخت توبیخ [9] کا پہلو بھی موجود ہے۔

قرآن کی دوسری آیات جیسے سورہ اسراء آیت نمبر 31[10] اور سورہ انعام آیت نمبر 151[11] میں بھی بچیوں کے زندہ دفن کئے جانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ ‎﴿9﴾‏
کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی؟



سورہ تکویر آیت نمبر 9

تمام مظلوموں سے سوال

اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہونے والے خاندانوں کے بارے میں "بأی ذنب قتلت" کی تعبیر پر مبنی ایک کارٹون

قرآن میں «بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ» کا جملہ «مَوْءُودَۃ» (زندہ دفن کی جانے والی لڑکی) کے لئے استعمال ہوا ہے۔[12] تاہم مفسرین اس آیت کو وسیع مفہوم کا حامل قرار دیتے ہیں،[13] یہاں تک کہ یہ تعبیر ناحق قتل ہونے والے ہر شخص یا ظالمانہ طور پر پایمال ہونے والے ہر حق کے لئے بھی استعمال ہونے لگی ہے۔[14] اس مفہوم کی توسیع بعض روایات سے بھی ثابت ہوتی ہے۔[15] بحار الانوار میں سورہ تکویر کی نویں آیت کی تأویل میں 12 روایات نقل ہوئی ہیں جن میں آیت کے ظاہری معنی کے علاوہ دوسرے معانی مراد لئے گئے ہیں۔[16]

«بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ»[17] یا اس جیسی دوسری تعبیرات [18] ان بچوں[19] اور بے گناہ افراد کے لئے استعمال کی جاتی ہیں جو ظلم کے ساتھ ناحق قتل کر دئے گئے ہوں۔[20] اسی طرح یہ جملہ نوحوں، مرثیوں[21] اور دشمنوں کے خلاف مزاحمتی ادبی فن پاروں میں بھی استعمال ہونے لگا ہے۔[22] بعض روایات کے مطابق یہ آیت امام حسینؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[23] نیز کہا گیا ہے کہ امام حسینؑ کی مظلومیت اور ناحق شہادت کی وجہ سے «بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ» کا جملہ آپ پر صدق آتا ہے۔[24]

اہل بیت کی محبت کے بارے میں سوال

بعض روایات میں آیت «بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ» کو پیغمبر اسلامؐ کے قریبی افراد[25] اور اہل بیتؑ سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔[26] ان روایات میں مذکورہ آیت اور اہل بیتؑ کے درمیان دو طرح کے تعلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ امام باقرؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق اہل بیت کی محبت اور دوستی امت پر واجب ہے اور جو شخص اس محبت کا انکار کرتا ہے اس سے اس آیت کی بنیاد پر سوال کیا جائے گا۔[27] بعض دوسری احادیث کے مطابق سورہ تکویر کی نویں آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اہل بیتؑ کی محبت کی راہ میں شہید ہوئے ہوں۔[28]

حوالہ جات

  1. سورہ تکویر، آیہ9.
  2. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص407.
  3. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج7، ص524.
  4. سورہ تکویر، آیہ8.
  5. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج‏10، ص282؛ طبرانی، التفسیر الکبیر، 2008م، ج6، ص448.
  6. ابن سلیمان بلخی، تفسیر مقاتل بن سلیمان، 1423ھ، ج4، ص602.
  7. نہاوندی، نفحات الرحمن، 1386شمسی، ج6، ص434.
  8. ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، 1408ھ، ج20، ص162.
  9. ابن ابی ثعلبہ، تفسیر ابن ابی زمنین، 2003م، ص492.
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج12، ص100.
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج6، ص33-34.
  12. طالقانی، پرتوی از قرآن، 1362شمسی، ج3، ص177.
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج26، ص176.
  14. طالقانی، پرتوی از قرآن، 1362ھ، ج3، ص177.
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج26، ص176.
  16. مجلسی، بحارالأنوار، 1403ھ، ج23، ص254- 157
  17. شاد، «بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَت؟!».
  18. أبوسنہ، «و اذا المسلمون سئلوا بأی ذنب قتلوا»، ص24.
  19. ابوالعباس، «بأی ذنب قتلت!»، الأہرام المسائی.
  20. مثلا ملاحظہ کریں: گودرزی، «و بأی ذنب قتلت؟ و بہ کدامین گناہ کشتہ شدند؟»، ص72؛ «آیت اللہ قاضی طباطبائی کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے، بای ذنب قتلت».
  21. «بای ذنب قتلت»، نوا.
  22. برای نمونہ ر.ک: الامام، «بأی ذنب قتلت»، ص34-35.
  23. ابن قولویہ، کامل الزیارات، 1356شمسی، ص63؛ استرآبادی، تأویل الآیات الظاہرۃ، 1409ھ، ص742.
  24. شاد، «بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَت؟!».
  25. کوفی، تفسیر فرات الکوفی، 1410ھ، ص542.
  26. خصیبی، الہدایۃ الکبری، 1419ھ، ص418.
  27. ابن شہرآشوب مازندرانی، مناقب آل أبی طالب، 1379ھ، ج4، ص84؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص295.
  28. ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، 1405ھ، ج2، ص949.

مآخذ

  • ابن ابی ثعلبہ (ابن ابی زمنین)، یحیی بن سلام، تفسیر ابن أبی زمنین، محقق: م‍ح‍م‍دح‍س‍ن اس‍م‍اع‍ی‍ل ش‍اف‍ع‍ی، احمد فرید مزیدی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 2003ء۔
  • ابن سلیمان بلخی، مقاتل، تفسیر مقاتل بن سلیمان، تحقیق: عبداللہ محمود شحاتہ، بیروت، دار إحیاء التراث، پہلی اشاعت، 1423ھ۔
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالب علیہم السلام، قم، انتشارات علامہ، پہلی اشاعت، 1379ھ۔
  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، محقق و مصحح: عبدالحسین امینی، دارالمرتضویۃ، نجف، پہلی اشاعت، 1356ہجری شمسی۔
  • أبوسنہ، کمال، «و اذا المسلمون سئلوا بأی ذنب قتلوا»، مجلہ البصائر، شمارہ 743، ربیع الثانی 1436ھ۔
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، تحقیق: محمد جعفر یاحقی، محمد مہدی ناصح، مشہد، اسلامی تحقیقاتی مرکز آستان قدس رضوی، 1408ھ۔
  • استرآبادی، علی، تأویل الآیات الظاہرۃ فی فضائل العترۃ الطاہرۃ، محقق و مصحح: حسین استادولی، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامی، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • الامام، فہمی، «بأی ذنب قتلت»، مجلہ الوعی الاسلامی، سال 30، شمارہ 3137، محرم 1413ھ۔
  • ابوالعباس، محمد، «بأی ذنب قتلت!»، الأہرام المسائی، تاریخ درج مطلب: 12 دسامبر 2025ء، تاریخ اخذ: 12 مئی سنہ 2026ء۔
  • شاد، حامد، «بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَت؟!»، سایت تبیان، تاریخ درج مطلب: 23 اکتوبر سنہ 2006ء، تاریخ اخذ: 12 مئی سنہ 2026ء۔
  • «بای ذنب قتلت»، نوا، تاریخ اخذ: 12 مئی سنہ 2026ء۔
  • «آیت اللہ قاضی طباطبائی کی شہادت کی برسی کی مناسبت سے، بای ذنب قتلت»، مجلہ جہاد، شمارہ 41، 12 آبان 1361ہجری شمسی۔
  • خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایۃ الکبری، بیروت، البلاغ، 1419ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ: شیخ آقابزرگ تہرانی، تحقیق: احمد قصیرعاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی تا۔
  • طالقانی، سید محمود، پرتوی از قرآن، تہران، شرکت سہامی انتشار، چوتھی اشاعت، 1362ہجری شمسی۔
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، التفسیر الکبیر، اردن، دار الکتاب الثقافی، 2008ء۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق و مصحح: سید طیب موسوی جزائری، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علی اکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات الکوفی، مصحح: محمد کاظم، تہران، وزارۃ الثقافۃ و الإرشاد الإسلامی، 1410ھ۔
  • گودرزی، طاہرہ، «و بأی ذنب قتلت؟ و بہ کدامین گناہ کشتہ شدند؟»، حکمت سینوی، شمارہ 17، دی و بہمن 1380ہجری شمسی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • نہاوندی، محمد، نفحات الرحمن فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ البعثۃ، 1386ہجری شمسی۔
  • ہلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الہلالی، محقق و مصحح: محمد انصاری زنجانی خوئینی، قم، نشر الہادی، پہلی اشاعت، 1405ھ۔