مندرجات کا رخ کریں

صارف:Waziri/تختہ مشق

ویکی شیعہ سے
یہ صارف
9 سال،  1 مہینہ اور 27 دن سے ویکی شیعہ میں مشارکت کر رہا ہے۔



آماده ترجمه و نیاز به هماهنگی

گزارش

نئی ترمیم

6 فروری 2026ء کو پاکستان کے جنوب مشرقی اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع ایک شیعہ مسجد خدیجۃ الکبری میں خودکش حملہ ہوا۔ یہ دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا، جس میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہوئے۔[4][5]

ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم ابتدائی تحقیقات میں تحریک طالبان پاکستان یا دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان جیسے عسکریت پسند گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سمیت پاکستانی رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت کی اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔

پس منظر

2001ء سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان میں سنی اور شیعہ مسلمان کے درمیان جاری فرقہ وارانہ کشیدگی ماضی میں بھی تشدد کی صورت اختیار کرتی رہی ہے۔ عسکریت پسند تنظیمیں، بشمول تحریک طالبان پاکستان اور دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان اس سے قبل مذہبی اجتماعات کے دوران ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں۔[6]

یہ حملہ پاکستان میں جاری شدت پسندانہ سرگرمیوں کے تناظر میں پیش آیا، جن میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں حالیہ حملے بھی شامل ہیں۔[1] اسلام آباد کو عموماً سخت سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے ایک محفوظ شہر سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث اس نوعیت کے واقعات غیر معمولی قرار دیے جاتے ہیں۔[7]

حملہ

یہ دھماکا اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کلاں میں واقع خدیجۃ الکبری مسجد میں نمازِ جمعہ شروع ہونے کے فوراً بعد ہوا۔ پولیس کے مطابق خودکش بمبار کو مسجد کے داخلی دروازے پر روکا گیا، جس کے بعد اس نے مسجد کے اندر یا اس کے قریب دھماکا خیز مواد پھاڑ دیا۔ دھماکے سے مسجد کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور ملبہ آس پاس کے علاقوں میں بکھر گیا۔[7][6][8]

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد مسجد میں شدید افراتفری پھیل گئی اور نمازی جائے وقوع سے نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔ ٹیلی وژن فوٹیج میں دکھایا گیا کہ امدادی کارکن اور سیکیورٹی اہلکار زخمیوں کو اسپتال منتقل کر رہے تھے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا۔[1]

جانی نقصانات

ابتدائی اطلاعات میں کم از کم 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں تصدیق کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 31 اور زخمیوں کی تعداد 169 تک پہنچ گئی۔[4] متاثرین میں اکثریت اُن نمازیوں کی تھی جو جمعہ کی اجتماعی نماز میں شریک تھے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سمیت اسلام آباد کے متعدد اسپتالوں میں زخمیوں کو منتقل کیا گیا، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔[6]

تفتیش

دولت اسلامیہ- ولایت پاکستان (جو دولت اسلامیہ کی ایک علاقائی شاخ ہے) نے ٹیلی گرام پر حملے کی ذمے داری قبول کی اور ایک تصویر جاری کی جس میں مبینہ طور پر حملہ آور کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے۔[9][10] پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر تحریک طالبان پاکستان سے تعلق کے شواہد سامنے آئے، حالانکہ حالیہ عرصے میں ٹی ٹی پی نے کسی شیعہ عبادت گاہ کو نشانہ نہیں بنایا۔ دیگر تجزیوں میں حملے کی نوعیت اور انداز کو دیکھتے ہوئے دولت اسلامیہ ولایت خراسان کے ممکنہ کردار کی بھی نشان دہی کی گئی۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد میں گشت بڑھا دیا جبکہ تحقیقات کا عمل جاری ہے۔[11][12][13]