سورہ احزاب آیت نمبر 45
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | احزاب |
| آیت نمبر | 45 |
| پارہ | 21 |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | پیغمبر اکرمؐ کا گواہ اور مبشر و نذیر ہونا |
| مضمون | پیغمبر اکرمؐ کے اوصاف |
| مربوط آیات | سورہ فتح آیت نمبر 8، سورہ فرقان آیت نمبر 56 اور سورہ اسراء آیت نمبر 105 |
سورہ احزاب آیت نمبر 45 میں پیغمبر اکرمؐ کی تین اہم خصوصیات اور ذمہ داریاں بیان ہوئی ہیں۔[1] اس آیت میں خداوند متعال پیغمبر اکرمؐ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم نے آپؐ کو (اپنی امت کے اعمال پر) گواہ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔[2]
يَا أَيُّہَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاہِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً
اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
سورہ احزاب آیت نمبر 45
یہی مفہوم قرآن میں تین اور مقامات یعنی سورۂ فتح کی آٹھویں آیت، سورۂ فرقان کی 56ویں آیت اور سورہ اسراء کی 105ویں آیت میں بھی ذکر ہوا ہے،[3] البتہ سورہ فرقان کی 56ویں آیت[4] اور سورہ اسراء کی 105ویں آیت[5] میں «شاہداً» کا لفظ نہیں آیا ہے۔
لفظ «شاہد» کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں،[6] لیکن یہاں اس آیت میں اس سے مراد گواہ ہے۔[7] مفسرین نے اس آیت سے استناد کرتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کو امت کے اعمال اور کردار پر ناظر اور گواہ قرار دیا ہے۔[8] اس مفہوم کی تائید کے لیے انہوں نے دیگر آیات جیسے سورۂ بقرہ کی 12ویں[9] اور 143ویں آیت[10] نیز سورۂ توبہ کی 105ویں آیت[11] سے استدلال کیا ہے، جن میں واضح طور پر پیغمبر اکرمؐ کو بطور شاہد اور گواہ متعارف کرایا گیا ہے۔[12]
قرآن کریم کی متعدد آیات میں پیغمبر اکرمؐ کو «مبشر» یا «بشیر» خوشخبری دینے والے کی صفت اور «نذیر» یا «منذر» ڈرانے والے کی صفت سے مزین کیا گیا ہے، یا ان صفات کو آپؐ کی رسالت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔[13]
شہید مطہری ان دو صفات کی باہمی وابستگی کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں: پیغمبر اکرمؐ ایک طرف بشارت دینے والا یا رہنمائی کرنے والا ہے تو دوسری طرف ڈرانے والا یا خبردار کرنے والا ہے۔ اگر آپؐ صرف رہنما اور راستہ دکھانے والے ہوتے اور راستے میں موجود خطرات سے متعلق خبردار اور ان سے ڈرانے والے نہ ہوتے، تو ممکن ہے کوئی شخص راستہ تو پالے مگر اس راستے میں موجود خطرات سے بے خبر اور غافل رہے چونکہ اس سے متعلق اسے خبردار نہیں کرایا گیا ہے، ایسے میں وہ اس خیال سے کہ میں سیدھی راہ پر چل رہا ہوں، ممکن ہے گڑھے میں جا گرے۔[14] مطہری مزید کہتے ہیں کہ بشارت کا پہلو ترغیب اور تشویق پیدا کرتا ہے، جبکہ انذار کا پہلو تنبیہ اور خطرے سے آگاہی کا حامل ہے، اور دین کے مبلغ کے لیے ضروری ہے کہ وہ تبلیغ میں ان دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر تبلیغ کریں۔[15]
حوالہ جات
- ↑ سورہ احزاب، آیہ 45؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص72؛ طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج16، ص329-330۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص72؛ طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج16، ص329-330۔
- ↑ سورہ فتح، آیہ 8؛ سورہ فرقان، آیہ 56۔
- ↑ سورہ فرقان، آیہ 56۔
- ↑ سورہ اسراء، آیہ 105۔
- ↑ طریحی، مجمع البحرین، انتشارات مرتضوی، ج3، ص77؛ مکارم شیرازی، لغات در تفسیر نمونہ، 1387ش، ص310۔
- ↑ مشکینی، تفسیر روان، 1392ش، ج7، ص450۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص72؛ طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج16، ص329۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج16، ص330۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص72۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج17، ص362۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص72؛ طباطبایی، المیزان، ج16، ص330؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج17، ص362۔
- ↑ سورہ فتح، آیہ 8؛ سورہ مائدہ، آیہ 19؛ سورہ اسراء، آیہ 105؛ سورہ فرقان، آیہ 56۔
- ↑ مطہری، آشنایی با قرآن، 1402ش، ج10، ص164۔
- ↑ مطہری، سیرہ نبوی، 1402ش، ص180-181۔
مآخذ
- قرآن کریم
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
- طریحی، فخرالدین بن محمد، مجمع البحرین، بیروت، دار ومکتبۃ الہلال، 1985ء۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
- مشکینی، علی، تفسیر روان، قم، مؤسسہ علمی و فرہنگی دارالحدیث، 1392ہجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، آشنایی با قرآن، قم، انتشارات صدرا، 1402ہجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، سیرہ نبوی، قم، انتشارات صدرا، 1402ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، لغات در تفسیر نمونہ، قم، امام علی بن ابی طالب(ع)، چاپ اول، 1387ہجری شمسی۔