مندرجات کا رخ کریں

"قریش" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,676 بائٹ کا اضافہ ،  9 دسمبر 2018ء
م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>Abbashashmi
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>Abbashashmi
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 48: سطر 48:
پہلا گروہ: انہوں نے عبد شمس بن عبد مناف کی سربراہی میں بنی مخزوم، بنی سهم بن عمرو، بنی جمح بن عمرو اور بنی عدی بن کعب کیساتھ مل کر بنی عبد الدار کیساتھ پیمان باندھا۔  
پہلا گروہ: انہوں نے عبد شمس بن عبد مناف کی سربراہی میں بنی مخزوم، بنی سهم بن عمرو، بنی جمح بن عمرو اور بنی عدی بن کعب کیساتھ مل کر بنی عبد الدار کیساتھ پیمان باندھا۔  
دوسرا گروہ: انہوں نے عبد الدار عامر بن ہاشم بن عبد مناف کی زیر قیادت؛ بنی ‌اسد بن عبد العزی، بنی‌ زهره بن کلاب، بنی ‌تیم بن مرة بن کعب اور بنی‌حارث بن فهر بن مالک کیساتھ مل کر ’’عبد مناف‘‘ کی حمایت کا اعلان کیا۔
دوسرا گروہ: انہوں نے عبد الدار عامر بن ہاشم بن عبد مناف کی زیر قیادت؛ بنی ‌اسد بن عبد العزی، بنی‌ زهره بن کلاب، بنی ‌تیم بن مرة بن کعب اور بنی‌حارث بن فهر بن مالک کیساتھ مل کر ’’عبد مناف‘‘ کی حمایت کا اعلان کیا۔
پس ہر گروہ نے دوسرے کے خلاف عہد و پیمان باندھ لیے۔
پس ہر گروہ نے دوسرے کے خلاف عہد و پیمان باندھ لیا۔ عبد مناف کے حامیوں نے اپنے ہاتھ عطر کے ایک برتن میں ڈال کر کعبہ سے مس کیے اور اپنی ثابت قدمی کا یقین دلایا۔ اس کے جواب میں عبد الدار کے حامیوں نے بھی اپنے ہاتھ خون کے ایک برتن سے تر کر کے کعبہ کی دیوار پر ملے اور قسم کھائی کہ اس وقت تک سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور آرام نہیں کریں گے کہ جب تک کامیاب نہ ہو جائیں۔ <ref> ابن هشام، السیرة النبویة، دار المعرفة، ص۱۳۱-۱۳۲؛ بلاذری،انساب الاشراف، ۱۹۹۶م، ج۱، ص۵۶.</ref> البتہ آخرکار دونوں فریقوں نے صلح پر رضامندی ظاہر کر دی اور مکہ کے عہدوں کو آپس میں تقسیم کر لیا۔<ref> ابن هشام، السیرة النبویه، دار المعرفة، ص۱۳۲؛ بلاذری،انساب الاشراف، ۱۹۹۶م، ص۵۶.</ref> 
 
== حلف الفضول ==
===حلف الفضول===
اصلی مضمون: [[ حلف الفضول ]]
{{اصلی|حلف الفضول}}
اس معاہدے کا سبب یہ تھا کہ یمن کے بنو زبید کا ایک آدمی مکہ آیا اور [[ عاص بن وائل سھمی ]] کو ایک جنس فروخت کی؛ مگر عاص نے اس کے پیسے دینے میں تاخیر کی یہاں تک کہ وہ شخص مایوس ہو کر کوہ ابوقبیس کے اوپر چڑھ کر اشعار کے قالب میں فریادیں بلند کرنے لگا۔ کچھ قریشی اس واقعے پر شرمندہ ہوئے اور چارہ جوئی کی تدبیر کرنے لگے۔ [[ زبیر بن عبد المطلب ]] اس کام میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے قریشی گروہوں کو [[ دار الندوۃ ]] میں جمع کیا اور وہاں سے [[ عبد اللہ بن جدعان ]] کے گھر چلا گئے۔ یہاں پیمان باندھا کہ ’’ہر مظلوم کی مدد اور اس کا حق لینے کیلئے ایک دوسرےے کی مدد کریں گے اور اجازت نہیں دیں گے کہ مکہ میں کسی پر ظلم ہو‘‘۔ قریش نے اس پیمان کو [[ حلف الفضول ]] کا نام دیا۔ <ref> مسعودی، مروج الذهب، ص۲۷۱؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۱۸.</ref>  
اس عہد و پیمان کا سبب یہ تھا کہ بنی زبید سے ایک شخص مکہ آیا اور [[عاص بن وائل سہمی]] کو کچھ سامان بیچا؛ لیکن عاص قیمت ادا کرنے میں تعلل کے شکار ہو‎ئے اور یہ شخص مجبور ہوکر کوہ ابوقبیس پر گیا اور اشعار کی صورت میں اپنی شکایت کا اعلان کیا۔ قریش کے کچھ لوگ اس واقعے کی وجہ سے شرمسار ہوگئے اور چارہ جو‎ئی کے درپے ہو‎ئے۔ اس کام میں پہل کرنے والا [[زبیر بن عبدالمطلب]] تھا جس نے قریش کو [[دار الندوہ]] میں بلایا اور وہاں سے [[عبداللہ بن جدعان]] کے گھر چلے گئے اور وہاں عہد کیا « ہر مظلوم کی مدد کریں اور اس کا حق لینے میں سب ساتھ دیں اور کسی کو یہ اجازت نہ دیں کہ مکہ میں کو‎ئی کسی پر ظلم کرے۔» قریش نے اس عہد و پیمان کو [[حلف الفضول]] نام دیا۔<ref>مسعودی؛ مروج الذہب، ص۲۷۱؛ تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸.</ref>
== جنگیں ==  
 
اسلام سے پہلے قبائل کے درمیان بہت سی جنگیں ہوئیں کہ جس میں قریش کے کچھ لوگ بھی شامل ہوئے۔ ان میں سے معروف ترین جنگیں وہ تھیں کہ جو حرام مہینوں میں لڑی جانے کی وجہ سے [[ حروبِ فجار ]] کے نام سے مشہور ہوئیں۔ <ref> یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۱۷.</ref> اسلام کے بعد بھی قریش نے [[ پیغمبرؐ ]] اور [[ مسلمانوں ]] سے جنگیں لڑیں کہ جن میں سے مشہور ترین جنگیں [[ غزوہ بدر ]] ، [[ غزوہ احد ]] اور [[ غزوہ خندق ]] ہیں۔ <ref> ر.ک به مدخل غزوه</ref>
==جنگیں==
قریش نے دوسرے قبیلوں کے ساتھ بہت ساری جنگیں لڑیں اور ان میں سے سب سے مشہور [[فجار کی جنگیں]] اور «یوم الغنب» تھیں۔


==حوالہ جات==
==حوالہ جات==
گمنام صارف