مندرجات کا رخ کریں

اسلام آباد میں شیعہ مسجد اور امام بارگاہ پر خودکش حملہ(2026ء)

ویکی شیعہ سے
مسجد و امام بارگاہ حضرت خدیجہ (س)

اسلام آباد میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد اور امام بارگاہ پر خودکش حملہ، 6 فروری 2026ء کو پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد کے جنوب مشرقی علاقے ترلائی کلاں میں واقع شیعہ مسلمانوں کی مسجد و امام بارگاہ حضرت خدیجۃ الکبری(س) میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً 170 افراد زخمی ہوئے۔[1]

اس واقعے کو 2020ء میں امامیہ مسجد پشاور پاکستان میں ہونے والے دھماکے کے بعد سب سے مہلک فرقہ وارانہ حملہ قرار دیا گیا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔[2]

پاکستانی حکام اور مختلف مذہبی اور سماجی شخصیات[3] نیز ایران،[4] افغانستان،[5] متحدہ عرب امارات،[6] چین، ترکی اور امریکہ سمیت متعدد ممالک کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کی۔[7]

پاکستانی حکام نے ہندوستان اور افغانستان پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم دونوں ممالک نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔[8] یمن کی انصار اللہ تحریک نے بھی امریکہ کو اس نوعیت کی کاروائیوں کی حمایت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔[9]

حوالہ جات