مندرجات کا رخ کریں

"تحویل قبلہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>Mabbassi
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>Mabbassi
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 12: سطر 12:
::(اے رسول(ص)) تحویل قبلہ کی خاطر) تیرا بار بار آسمان کی طرف منہ کرنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ تو ضرور اب ہم تمہیں موڑ دیں گے اس قبلہ کی طرف جو تمہیں پسند ہے۔ بس اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف موڑ دیجئے۔ اور (اے اہل ایمان) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے منہ (نماز پڑھتے وقت) اسی طرف کیا کرو۔ جن لوگوں کو (آسمانی) کتاب (تورات وغیرہ) دی گئی ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ کا فیصلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے ہے اور یہ حق ہے۔ اور جو کچھ (یہ لوگ) کر رہے ہیں اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ (144)
::(اے رسول(ص)) تحویل قبلہ کی خاطر) تیرا بار بار آسمان کی طرف منہ کرنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ تو ضرور اب ہم تمہیں موڑ دیں گے اس قبلہ کی طرف جو تمہیں پسند ہے۔ بس اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف موڑ دیجئے۔ اور (اے اہل ایمان) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے منہ (نماز پڑھتے وقت) اسی طرف کیا کرو۔ جن لوگوں کو (آسمانی) کتاب (تورات وغیرہ) دی گئی ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ (تحویل قبلہ کا فیصلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے ہے اور یہ حق ہے۔ اور جو کچھ (یہ لوگ) کر رہے ہیں اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ (144)


یہ آیت  قبلہ کی تبدیلی کو بیان کرتی ہے اور اسے آیت قبلہ <ref>علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۱، ص۳۳؛ طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۵.</ref> کے نام سے مشہور ہے ۔  نیز [[سورہ بقرہ]] ۱۴۲ویں،<ref>شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۲، ص۳-۴؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۱، ص۴۱۴.</ref> ۱۴۳ویں <ref>فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۱۰۷.</ref> اور ۱۵۰ویں <ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۹.</ref>  کو بھی آیات قبلہ سے یاد کرتے ہیں ۔  بعض  مفسرین بقرہ کی  ۱۴۲ تا ۱۴۴ تک کی آیات کو تحویل قبلہ کی آیات سمجھتے ہیں ۔ <ref> طنطاوی، الوسیط، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۹۴.</ref>
یہ آیت  قبلہ کی تبدیلی کو بیان کرتی ہے اور اسے آیت قبلہ <ref>علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۸۱، ص۳۳؛ طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۵.</ref> کے نام سے مشہور ہے ۔  نیز [[سورہ بقرہ]] ۱۴۲ویں،<ref>شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۲، ص۳-۴؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۱، ص۴۱۴.</ref> ۱۴۳ویں <ref>فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۱۳ق، ج۴، ص۱۰۷.</ref> اور ۱۵۰ویں <ref>طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۲۹.</ref>  کو بھی آیات قبلہ سے یاد کرتے ہیں ۔  بعض  مفسرین بقرہ کی  ۱۴۲ تا ۱۴۴ تک کی آیات کو تحویل قبلہ کی آیات سمجھتے ہیں ۔ <ref> طنطاوی، الوسیط، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۹۴.</ref>


==سرگذشت قبلہ==
==سرگذشت قبلہ==
سطر 21: سطر 21:
*دیگر بعض روایات کی بنا پر  مسلمان  مکہ میں جس طرف منہ کر کے نماز پڑھنا چاہتے پڑھ سکتے تھے لیکن  پیامبر(ص) نے اپنے لیے  بیت المقدس کا انتخاب کیا۔ <ref>شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۲۴؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۲، ص۶.</ref>
*دیگر بعض روایات کی بنا پر  مسلمان  مکہ میں جس طرف منہ کر کے نماز پڑھنا چاہتے پڑھ سکتے تھے لیکن  پیامبر(ص) نے اپنے لیے  بیت المقدس کا انتخاب کیا۔ <ref>شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۱، ص۴۲۴؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۲، ص۶.</ref>
*روایات اس کی بھی حکایت کرتی ہیں کہ ہجرت سے پہلے  کعبہ مسلمانوں کا قبلہ تھا۔ <ref>زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۲۰۰؛ قرطبی، تفسیر قرطبی، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۱۵۰.</ref> یہ اس بات کا لازمہ ہے کہ قبلہ کی دو مرحلوں میں تبدیلی ہوئی یعنی کعبہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے کعبہ ۔
*روایات اس کی بھی حکایت کرتی ہیں کہ ہجرت سے پہلے  کعبہ مسلمانوں کا قبلہ تھا۔ <ref>زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۲۰۰؛ قرطبی، تفسیر قرطبی، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۱۵۰.</ref> یہ اس بات کا لازمہ ہے کہ قبلہ کی دو مرحلوں میں تبدیلی ہوئی یعنی کعبہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے کعبہ ۔
*بعض تفسیری منابع کے مطابق  سورہ بقرہ کی ۱۱۵ ویں آیت : <font color=green>{{حدیث|وَ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَأَینَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ}}</font> کو دیکھتے ہوئے  پیامبر(ص) اور مسلمانوں کی  [[تخییر]] کے قائل ہوئے ہیں ۔ <ref>ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۷۵ش، ج۲، ص۲۰۲.</ref> وہ اسکی تائید میں ہجرت سے پہلے [[براء بن معرور]] کے مکہ کے سفر میں کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے اور رسول کی مخالفت نہ کرنے کو ذکر کرتے ہیں  
*بعض تفسیری منابع میں علما سورہ بقرہ کی ۱۱۵ ویں آیت : <font color=green>{{حدیث|وَ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَأَینَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ}}</font> کو دیکھتے ہوئے  پیامبر(ص) اور مسلمانوں کی  [[تخییر]] کے قائل ہوئے ہیں ۔ <ref>ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۷۵ش، ج۲، ص۲۰۲.</ref> وہ اسکی تائید میں ہجرت سے پہلے [[براء بن معرور]] کے مکہ کے سفر میں کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے اور رسول کی مخالفت نہ کرنے کو ذکر کرتے ہیں  
<ref>ابن ہشام، السیرة النبویہ، بیروت، ج۱، ص۴۳۹-۴۴۰.</ref> جبکہ اس کے مقابلے میں بعض علما مذکورہ آیت کو سفر میں نافلہ کے ادا کرنے سے مربوط سمجھتے ہیں ۔<ref> طبرسی، مجمع البیان، ج۱، ص۴۲۱.</ref> بعض تاریخی روایات کی بنا پر  براء بن معرور کا یہ سفر ہجرت کے بعد پیش آیا اور وہ نماز کعبہ کی طرف منہ کر نماز ادا کرتا ہے جبکہ  پیامبر اکرم(ص)  بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے ۔جب آنحضرت کو برا کے اس عمل کی خبر پہنچی تو آپ نے اسے اس کام سے منع کیا اور اس نے اسے قبول کیا ۔ <ref>ابن ہشام، السیره النبویہ، بیروت، ج۱، ۴۳۹-۴۴۰</ref>
<ref>ابن ہشام، السیرة النبویہ، بیروت، ج۱، ص۴۳۹-۴۴۰.</ref> جبکہ اس کے مقابلے میں بعض علما مذکورہ آیت کو سفر میں نافلہ کے ادا کرنے سے مربوط سمجھتے ہیں ۔<ref> طبرسی، مجمع البیان، ج۱، ص۴۲۱.</ref> بعض تاریخی روایات کی بنا پر  براء بن معرور کا یہ سفر ہجرت کے بعد پیش آیا اور وہ نماز کعبہ کی طرف منہ کر نماز ادا کرتا ہے جبکہ  پیامبر اکرم(ص)  بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کرتے تھے ۔جب آنحضرت کو برا کے اس عمل کی خبر پہنچی تو آپ نے اسے اس کام سے منع کیا اور اس نے اسے قبول کیا ۔ <ref>ابن ہشام، السیره النبویہ، بیروت، ج۱، ۴۳۹-۴۴۰</ref>
<!--
==چگونگی تغییر قبله==
به گفته روایات، در روز تغییر قبله، [[پیامبر]](ص) به سوی بیت المقدس [[نماز ظهر]] می‌گزارد و طبق معمول، مردان پشت سر ایشان و زنان پشت مردان به نماز ایستاده بودند. پس از ادای دو رکعت از نماز، [[جبرئیل]] بر [[پیامبر(ص)]] نازل شد و با ابلاغ آیه ۱۴۴ [[سوره بقره]] پیامبر(ص) را به سوی کعبه برگرداند.<ref> ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیه، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۲۷۵.</ref>


درباره لحظه تغییر قبله یا مکان برگزاری کامل نخستین نماز پیامبر(ص)، به سوی کعبه پس از تغییر قبله اختلافاتی در گزارش‌ها وجود دارد.<ref>عسقلانی، فتح الباری، بیروت، ج۱، ص۹۸؛ الحلبی، السیرة الحلبیه، ۱۴۰۰ق، ج۲، ص۳۵۲-۳۵۳.</ref>
==  قبلہ کی تبدیلی کی کیفیت==
برخی از گزارش‌ها تغییر قبله را در نماز عصر یا صبح دانسته‌اند.<ref> ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶-۱۸۷؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۲۶۹.</ref> در خصوص زمان تغییر قبله نیز اختلاف است اما علامه طباطبایی معتقد است که صحیح‌ترین قول برای زمان تغییر قبله ماه رجب سال دوم از هجرت، يعنى ماه هفدهم از هجرت‏ می‌باشد.<ref>طباطبایی، ترجمه تفسير الميزان، ۱۳۷۴ش، ج‏۱، ص ۴۹۷.
روایات کے مطابق تحویل قبلہ کے روز  [[پیامبر]](ص)  بیت المقدس کی طرف [[نماز ظہر]] ادا کر رہے تھے اور معمول کے مطابق مرد اور عورتیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے کھڑے تھے ۔ دو رکعت  نماز ادا کرنے کے بعد  [[جبرائیل]] وحی لے کر [[پیمبر(ص)]] پر نازل ہوئے سورہ بقرہ کی  ۱۴۴ ویں آیت پہنچانے کے ساتھ  پیامبر(ص) کا رخ کعبہ کی جانب موڑ دیا ۔<ref> ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ شیخ صدوق، من لا یحضره الفقیہ، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۲۷۵.</ref>
 
تحویل قبلہ یا کعبہ کی طرف رسول خدا کی مکمل نماز کے مقام میں اختلاف منقول ہوا ہے ۔<ref>عسقلانی، فتح الباری، بیروت، ج۱، ص۹۸؛ الحلبی، السیرة الحلبیہ، ۱۴۰۰ق، ج۲، ص۳۵۲-۳۵۳.</ref>
بعض روایات میں تحویل قبلہ نماز عصر یا نماز صبح میں کہا گیا ہے ۔ <ref> ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶-۱۸۷؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۲۶۹.</ref> نیز در خصوص زمان تغییر قبلہ کی تحویل کے مخصوص وقت میں بھی اختلاف مذکور ہے  اما علامہ طباطبائی معتقد ہیں کہ تحویل قبلہ کے  صحیح‌ ترین قول کے مطابق ماه رجب ہجرت کا سال دوم ہے ۔ <ref>طباطبائی، ترجمہ تفسير الميزان، ۱۳۷۴ش، ج‏۱، ص ۴۹۷.
</ref>
</ref>


==مکان وقوع تغییر قبله==
== تغییر قبلہ کے وقوع کا مکان==
در زمینه محل واقعه تغییر قبله، میان مورخان، اتفاق نظر وجود ندارد. منابع تاریخی سه مکان را برای این واقعه ذکر کرده‌اند:
تغییر قبلہ کے واقعے کے متعلق  مورخان اتفاق نظر موجود نہیں ہے ۔  تاریخی منابع میں تین مکان اس واقعے کیلئے ذکر ہوئے ہیں:
* مسجد محله بنی سَلِمة در شمال غربی مدینه<ref> قائدان، تاریخ و آثار اسلامی، ۱۳۸۶ش، ص۲۶۸.</ref> که به [[مسجد ذو قبلتین]]<ref>ابن النجار، الدرة الثمینه، دار الارقم، ص۱۱۵؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۳۰۸.</ref> مشهور است. بییشتر مورخان این مسجد را مکان وقوع تغییر قبله دانسته‌اند؛<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۴۲؛ زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۲۰۲.</ref>
* مدینہ کے شمال غرب میں محلہ بنی سَلِمۃ کی مسجد <ref> قائدان، تاریخ و آثار اسلامی، ۱۳۸۶ش، ص۲۶۸.</ref> کہ جو  [[مسجد ذو قبلتین]]<ref>ابن النجار، الدرة الثمینہ، دار الارقم، ص۱۱۵؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۳۰۸.</ref> کے نام سے مشہور ہے. اکثر  مورخین اس مسجد کو قبلہ کی تبدیلی کے وقوع کا مقام سمجھتے ہیں ۔ ؛<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۴۲؛ زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۲۰۲.</ref>
* مسجد قبیله «بنی سالم بن عوف» که پیامبر(ص) نخستین [[نماز جمعه]] را در آن گزارد؛<ref>قمی، تفسیر قمی، ج۱، ص۶۳</ref>
* بنی سالم بن عوف کے محلے کی مسجد میں رسولخدا(ص) نے پہلی  [[نماز جمعہ]] ادا کی ۔ ؛<ref>قمی، تفسیر قمی، ج۱، ص۶۳</ref>
* [[مسجدالنبی]].<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ السمهودی، وفاء الوفاء، ۲۰۰۶م، ج۱، ص۲۷۸.</ref>
* [[مسجدالنبی]].<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ سمہودی، وفاء الوفاء، ۲۰۰۶م، ج۱، ص۲۷۸.</ref>


==مشکل تغییر قبله در حال نماز جماعت==
==مشکل تغییر قبله در حال نماز جماعت==
<!--
[[بیت المقدس]] در سمت شمال [[مدینه]] و [[مسجدالحرام]] در جهت جنوب آن است. از این رو، پیامبر(ص) به عکس آن جهت که روی بدان داشت، چرخیده است.<ref> ابن النجار، الدرة الثمینه، دار الارقم، ص۱۲۶.</ref>
[[بیت المقدس]] در سمت شمال [[مدینه]] و [[مسجدالحرام]] در جهت جنوب آن است. از این رو، پیامبر(ص) به عکس آن جهت که روی بدان داشت، چرخیده است.<ref> ابن النجار، الدرة الثمینه، دار الارقم، ص۱۲۶.</ref>
بر این اساس این شبهه پدید آمده است که در این نماز، مأمومان بر امام و نیز زنان بر مردان پیش افتاده‌اند؛<ref>نک: الصالحی، سبل الهدی، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۳۷۰.</ref> اما برخی منابع گفته‌اند، پیامبر(ص) پس از چرخیدن به سوی کعبه، از جای خود در جلو مسجد به سمت آخر آن حرکت کرده است<ref>ابن النجار، الدرة الثمینه، دار الارقم،  ص۱۲۶؛ الصالحی، سبل الهدی، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۳۷۲.</ref> و مأمومان نیز به پیروی از امام جماعت خود، رو به کعبه جا به جا شده‌اند.<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۲۶۹؛ السمهودی، وفاء الوفاء، ۲۰۰۶م، ج۱، ص۲۷۸.</ref> بر پایهٔ این گزارش، امام جماعت به چرخش۱۸۰ یا ۱۶۰<ref> قائدان، تاریخ و آثار اسلامی، ۱۳۸۶ش، ص۳۰۶.</ref> درجه‌ای اکتفا نکرده است؛ زیرا پشت سر او در [[مسجد]]، جایی نبود تا صف مردان و زنان تشکیل شود.<ref>السمهودی، وفاء الوفاء، ۲۰۰۶م، ج۳، ص۳۷۲.</ref>
بر این اساس این شبهه پدید آمده است که در این نماز، مأمومان بر امام و نیز زنان بر مردان پیش افتاده‌اند؛<ref>نک: الصالحی، سبل الهدی، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۳۷۰.</ref> اما برخی منابع گفته‌اند، پیامبر(ص) پس از چرخیدن به سوی کعبه، از جای خود در جلو مسجد به سمت آخر آن حرکت کرده است<ref>ابن النجار، الدرة الثمینه، دار الارقم،  ص۱۲۶؛ الصالحی، سبل الهدی، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۳۷۲.</ref> و مأمومان نیز به پیروی از امام جماعت خود، رو به کعبه جا به جا شده‌اند.<ref>ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۱۸۶؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۲۶۹؛ السمهودی، وفاء الوفاء، ۲۰۰۶م، ج۱، ص۲۷۸.</ref> بر پایهٔ این گزارش، امام جماعت به چرخش۱۸۰ یا ۱۶۰<ref> قائدان، تاریخ و آثار اسلامی، ۱۳۸۶ش، ص۳۰۶.</ref> درجه‌ای اکتفا نکرده است؛ زیرا پشت سر او در [[مسجد]]، جایی نبود تا صف مردان و زنان تشکیل شود.<ref>السمهودی، وفاء الوفاء، ۲۰۰۶م، ج۳، ص۳۷۲.</ref>
سطر 50: سطر 51:
==واکنش‌ها و پیامدها==
==واکنش‌ها و پیامدها==
تغییر قبله واکنش‌ها و پیامدهایی داشت که برخی از آنها از قرار زیر است:
تغییر قبله واکنش‌ها و پیامدهایی داشت که برخی از آنها از قرار زیر است:
*شماری از مسلمانان از بر باد رفتن پاداش عبادت‌های گذشته خود و مردگانشان ابراز نگرانی کردند.<ref> مقاتل، تفسیر مقاتل، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۱۴۶.</ref> پیامبر(ص) با تلاوت آیه ۱۴۳ سوره بقره به آنان پاسخ داد: {{متن قرآن|وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بِالنَّاسِ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ|ترجمه= خدا ایمان شما را تباه نمى‌كند، چراکه او بر مردمان مهربان و بخشاینده است|سوره=بقره|آیه=۱۴۳}}.<ref> بیهقی،‌ دلائل النبوه، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۷۵؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۱، ص۴۱۷.</ref>
*شماری از مسلمانان از بر باد رفتن پاداش عبادت‌های گذشته خود و مردگانشان ابراز نگرانی کردند.<ref> مقاتل، تفسیر مقاتل، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۱۴۶.</ref> پیامبر(ص) با تلاوت آیه ۱۴۳ سوره بقره به آنان پاسخ داد: {{متن قرآن|وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بِالنَّاسِ لَرَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ|ترجمہ= خدا ایمان شما را تباه نمى‌كند، چراکه او بر مردمان مهربان و بخشاینده است|سوره=بقره|آیه=۱۴۳}}.<ref> بیهقی،‌ دلائل النبوه، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۷۵؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۱، ص۴۱۷.</ref>


*زبان سرزنش مشرکان متعصب و دشمن اسلام، که مسلمانان را به سبب قبله‌کردن [[بیت المقدس]]، نکوهش می کردند، کوتاه شد. بسیاری از دیگر مردم حجاز که علاقه‌ای ویژه به کعبه داشتند، با تغییر قبله مسلمانان به کعبه، به اسلام نزدیک شدند و یکی از موانع اسلام‌آوردن آنها از میان رفت. قرآن به این مطلب اشاره کرده است: «از هر جا بیرون شدی، روی خود را به سوی مسجدالحرام کن تا مردم بهانه‌ای بر ضد شما نداشته باشند.»<ref>سوره بقره، آیه ۱۵۰.</ref>
*زبان سرزنش مشرکان متعصب و دشمن اسلام، که مسلمانان را به سبب قبله‌کردن [[بیت المقدس]]، نکوهش می کردند، کوتاه شد. بسیاری از دیگر مردم حجاز که علاقه‌ای ویژه به کعبه داشتند، با تغییر قبله مسلمانان به کعبه، به اسلام نزدیک شدند و یکی از موانع اسلام‌آوردن آنها از میان رفت. قرآن به این مطلب اشاره کرده است: «از هر جا بیرون شدی، روی خود را به سوی مسجدالحرام کن تا مردم بهانه‌ای بر ضد شما نداشته باشند.»<ref>سوره بقره، آیه ۱۵۰.</ref>
سطر 78: سطر 79:
*شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویه، من لا یحضره الفقیه، به کوشش غفاری، قم، نشر اسلامی، ۱۴۰۴ق.
*شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویه، من لا یحضره الفقیه، به کوشش غفاری، قم، نشر اسلامی، ۱۴۰۴ق.
*شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان، به کوشش العاملی، بیروت، ‌دار احیاء التراث العربی.
*شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان، به کوشش العاملی، بیروت، ‌دار احیاء التراث العربی.
*طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم: انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ق.
*طباطبائی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم: انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ق.
*طباطبایی، سیدمحمدحسین، ترجمه تفسیر المیزان، قم: انتشارات اسلامی، ۱۳۷۴ش.
*طباطبائی، سیدمحمدحسین، ترجمہ تفسیر المیزان، قم: انتشارات اسلامی، ۱۳۷۴ش.
*طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البیان فى تفسیر القرآن، تهران: ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش
*طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البیان فى تفسیر القرآن، تهران: ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش
*طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فى تفسیر القرآن، به کوشش گروهی از علماء، بیروت، اعلمی، ۱۴۱۵ق.
*طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فى تفسیر القرآن، به کوشش گروهی از علماء، بیروت، اعلمی، ۱۴۱۵ق.
سطر 86: سطر 87:
*طنطاوی، محمد سید، التفسیر الوسیط للقرآن الکریم، قاهره، ‌دار المعارف، ۱۴۱۲ق.
*طنطاوی، محمد سید، التفسیر الوسیط للقرآن الکریم، قاهره، ‌دار المعارف، ۱۴۱۲ق.
*عسقلانی، ابن حجر، فتح الباری شرح صحیح البخاری، بیروت، ‌دار المعرفه.
*عسقلانی، ابن حجر، فتح الباری شرح صحیح البخاری، بیروت، ‌دار المعرفه.
*علامه مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، ‌دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
*علامہ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، ‌دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
*فخر رازی، التفسیر الکبیر(مفاتیح الغیب)، قم، دفتر تبلیغات، ۱۴۱۳ق.
*فخر رازی، التفسیر الکبیر(مفاتیح الغیب)، قم، دفتر تبلیغات، ۱۴۱۳ق.
*قائدان، اصغر، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمه و مدینه منوره، تهران، مشعر، ۱۳۸۶ش.
*قائدان، اصغر، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمه و مدینه منوره، تهران، مشعر، ۱۳۸۶ش.
گمنام صارف