مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 11

ویکی شیعہ سے
سورہ بقرہ آیت نمبر 11
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ بقرہ
آیت نمبر11
پارہ1
شان نزولمنافقین
موضوعاعتقادی
مربوط آیاتسورہ بقرہ کی آیات 8 سے 20 اور سورہ منافقین


سورہ بقرہ آیت نمبر 11، منافقین کی حقیقت بیان کرتے ہوئے انہیں زمین میں فساد پھیلانے والا قرار دیتی ہے جبکہ وہ خود کو مصلح قرار دیتے ہیں۔[1] سورہ بقرہ میں مدینہ کے منافقیں کا ذکر پہلی بار اس سورۃ کی آٹھویں آیت میں آیا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیات میں ان کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں، منجملہ ان میں گیارہویں آیت بھی شامل ہے۔

آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق منافقین کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اصلاح کا دعویٰ کرتے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو فقط اصلاح کرنے والے ہیں۔[2]

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ‎﴿١١﴾
اور جب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔



سورہ بقرہ آیت نمبر 11

اہل سنت مفسر فخر رازی یہ احتمال دیتے ہیں کہ یہ گفتگو رسول اللہؐ یا بعض مومنین اور منافقین کے درمیان ہوئی ہوگی۔[3]

شیعہ مفسر محسن قرائتی کے مطابق اگرچہ منافقین نصیحت قبول کرنے والے نہیں ہیں پھر بھی بہتر ہے کہ انہیں وعظ و نصیحت کی جائے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کیا جائے۔[4] نیز ان کا خیال ہے کہ نفاق فساد کا سبب ہے اور منافق اپنی منافقت کے ذریعے خود کو عوام پسند اور اصلاح طلب ظاہر کرنے اور بے جا تعریف اور چاپلوسی کے ذریعے دوسروں کو دھوکہ دینے اور اپنے برے اعمال کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔[5]

شرف الدین استرآبادی اور سید ہاشم بحرانی نے تفسیر امام حسن عسکری سے روایت نقل کرتے ہوئے سورہ بقرہ کی 11ویں آیت کو ان منافقین پر منطبق کیا ہے جنہوں نے غدیر کے دن امام علیؑ سے اپنی بیعت توڑ دی تھی۔[6]

حوالہ جات

  1. شیخ طوسى، التبيان فى تفسير القرآن‏، بی تا، ج1، ص74؛ طبرسى، مجمع البيان فى تفسير القرآن، 1372شمسی، ج1، ص138۔
  2. مكارم شيرازى، تفسير نمونہ‏، 1374شمسی، ج1، ص94۔
  3. فخر رازى، مفاتيح الغيب‏، 1420ھ، ج2، ص306۔
  4. قرائتى، تفسير نور، تہران،‏ 1383شمسی، ج1، ص60۔‏
  5. قرائتى، تفسير نور، تہران،‏ 1383شمسی، ج1، ص60۔‏
  6. استرآبادى، تأويل الآيات الظاہرۃ، 1409ھ، ج1، ص46؛ بحرانى، البرہان فى تفسير القرآن‏، 1416ھ، ج1، ص140۔

مآخذ

  • استرآبادى، على، تأويل الآيات الظاہرۃ في فضائل العترۃ الطاہرۃ، مصحح: استاد ولى، حسين‏، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامي‏، 1409ھ۔
  • بحرانى، ہاشم بن سليمان، البرہان فى تفسير القرآن‏، تحقيق: قسم الدراسات الاسلاميۃ موسسۃ البعثۃ، تہران، بنياد بعثت‏، 1416ھ۔
  • طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، ‏ تحقيق: محمد جواد بلاغى، تہران، انتشارات ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسى، محمد بن حسن، التبيان فى تفسير القرآن‏، تحقيق: احمد قصيرعاملى، بیروت، دار احياء التراث العربى‏، بی تا۔
  • فخر رازى، محمد بن عمر، مفاتيح الغيب‏، بیروت، دار احياء التراث العربی‏، 1420ھ۔
  • قرائتى، محسن، تفسير نور، تہران، مركز فرہنگى درسہايى از قرآن،‏ 1383ہجری شمسی۔‏
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسير نمونہ‏، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، 1374ہجری شمسی۔