مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ بقرہ آیت نمبر 10

ویکی شیعہ سے
سورہ بقرہ آیت نمبر 10
آیت کی خصوصیات
سورہسورہ بقرہ
آیت نمبر10
پارہ1
موضوعاعتقادی
مضمونمنافقین کی دلی بیماری


سورہ بقرہ کی آیت نمبر 10 منافقین کے دل و جان میں موجود بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ کہ اللہ اس میں مزید اضافہ فرما دیتا ہے۔[1] یہ آیت سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات (8 سے 20 تک) کے درمیان واقع ہے، جس میں منافقین کی پہچان، ان کی صفات اور ان کے رویوں کو بیان کیا گیا ہے۔[2]

فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ(11) ان کے دلوں میں بیماری ہے پس اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھادی اور ان کے لیے دردناک عذاب اس وجہ سے ہے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔



سورہ بقرہ آیت نمبر 10

بعض شیعہ مفسرین اس آیت سے استناد کرتے ہوئے نفاق اور جھوٹ کو منافقین کی صفات قرار دیتے ہوئے[3] اسے ایک مستقل نفسیاتی بیماری[4] قرار دیتے ہیں۔[5]

دل و جان کی بیماری کی تفسیر کے سلسلے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض نے اسے اللہ[6] اور دین[7] میں شک سے تعبیر کیا ہے، جبکہ بعض نے اسے نفاق،[8] کفر اور رسول خداؐ کے ساتھ دشمنی[9] یا آپؐ کے ساتھ حسد[10] سے تعبیر کیا ہے۔

آیت میں موجود اس جملے «فَزَادَہُمُ اللَّہُ مَرَضًا» کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابتدا میں کسی کے دل و جان کو بیمار نہیں کرتا؛[11] بلکہ دل کی بیماری اور اس کا بڑھنا خود انسان کے گمراہی کا راستہ اختیار کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔[12] بعض دوسرے علما نے اس عبارت کو بددعا سے تعبیر کیا ہے، یعنی اللہ ان کی بیماری میں مزید اضافہ فرما دے۔[13]

آیت میں لفظ «يَكْذِبُونَ» کی بعض نے کذب اعتقادی، یعنی اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب سے تفسیر کی ہے،[14] جبکہ بعض نے اسے کذب زبانی (جھوٹ بولنا) قرار دیا ہے۔[15] بعض قرآت میں «يَكْذِبُونَ» کے بجائے «يُكَذِّبُونَ» کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی جھٹلانے کے ہیں جو عام جھوٹ سے بڑھ کر ہے؛ کیونکہ تکذیب کے معنیٰ کسی سچے شخص کو جھوٹا ٹھہرانے کے ہیں۔[16]

بعض روایات میں حضرت علیؑ کی بیعت کی تکذیب اور عہد شکنی کو اس آیت کے مصادیق میں شمار کیا گیا ہے۔[17]

حوالہ جات

  1. رضایی، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج1، ص178۔
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج1، ص93۔
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج1، ص94۔
  4. رضایی، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج1، ص178۔
  5. رضایی، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج1، ص178۔
  6. طباطبایی، الميزان، 1393ھ، ج5، ص378۔
  7. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی،‌ ج1، ص135۔
  8. شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج1، ص72؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی،‌ ج1، ص135۔
  9. طبرسی، جوامع الجامع، 1412ھ، ج1، ص20۔
  10. فیض کاشانی، الأصفى في تفسير القرآن، 1376شمسی، ج1، ص14۔
  11. جوادی آملی، تسنیم، 1390شمسی، ج2، ص263۔
  12. جوادی آملی، تسنیم، 1390شمسی، ج2، ص263؛ رضایی، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج1، ص178-179۔
  13. شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج1، ص72۔
  14. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی،‌ ج1، ص135؛ جوادی آملی، تسنیم، 1390شمسی، ج2، ص269۔
  15. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی،‌ ج1، ص135؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج1، ص94۔
  16. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی،‌ ج1، ص135۔
  17. حسن بن على، التفسیر المنسوب إلى الإمام الحسن العسکری(ع)، 1409ھ، ج1، ص114۔

مآخذ

  • جوادی آملی، عبداللہ، تسنیم، قم، اسراء، آٹھویں اشاعت، زمستان 1390ہجری شمسی۔
  • حسن بن على، التفسیر المنسوب إلى الإمام الحسن العسکری(ع)، تحقیق مدرسہ امام مہدى(ع)، قم، مدرسۃ الإمام المہدی(ع)‏، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہش‌ہای تفسیر و علوم قرآن، 1387ہجری شمسی۔
  • شیخ طوسى، محمد بن حسن، التبیان فى تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیرعاملى، بیروت، دار احیاء التراث العربى، پہلی اشاعت، بی‌تا۔
  • طباطبایی محمد حسین، الميزان في تفسير القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، 1393ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، تفسير جوامع الجامع، قم، حوزہ علمیہ قم مرکز مدیریت قم، 1412ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تحقیق محمدجواد بلاغی، تہران، ناصرخسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانی، محمدمحسن، الأصفى في تفسير القرآن، قم، مكتب الإعلام الإسلامي، 1376ہجری شمسی۔
  • مدرسی، سید محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔