مسودہ:رے کی گندم
رے کی گندم، امام حسینؑ کے کلام کا ایک مشہور اقتباس ہے جسے آپ نے واقعہ کربلا کے دوران عمر بن سعد سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا۔ اس روایت کے مطابق امام حسینؑ نے عمر بن سعد سے کہا کہ میری شہادت کے بعد تم رے کی گندم میں سے بہت تھوڑی مقدار سے زیادہ نہیں کھا سکوگے اور عنقریب قتل کئے جاؤگے۔[1]
بعض منابع میں عراق کی گندم کی تعبیر بھی نقل ہوئی ہے۔[2] ان روایات میں سے ایک کے مطابق امام حسینؑ نے عمر بن سعد سے کہا: «مجھے امید ہے کہ تم عراق کی گندم میں سے تھوڑی مقدار سے زیادہ نہیں کھا سکو گے»۔[3] عمر بن سعد نے جواب میں کہا: «اگر گندم نہیں ہوگی تو جو ہی کھا لونگا»۔[4] ایک اور روایت کے مطابق امام حسینؑ نے عمر سعد سے کہا مجھے قتل کرنے کے بعد تمہیں رے کی حکومت نہیں ملے گی۔[5]
"رے کی گندم" کی تعبیر صراحت کے ساتھ صرف سید ہاشم بحرانی (متوفی: 1107 یا 1109ھ) کی کتاب مدینۃ المعاجز میں نقل ہوئی ہے۔[6] تاہم اسی کتاب کے ایک اور مقام پر[7] اور متعدد دیگر منابع[8] میں گندم عراق کی تعبیر آئی ہے۔ اس کے باوجود "گندم رے" کی تعبیر زیادہ مشہور ہوگئی ہے۔[9] اس بنا پر بعض محققین یہ احتمال دیتے ہیں کہ گندم ری کی تعبیر روایت نقل کرنے میں غلطی یا روایت کے نسخوں میں اختلاف کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔[10]
تاریخی روایات کے مطابق "حکومت رے" کا حصول ان محرکات میں سے ایک تھا جن کی بنا پر عمر بن سعد عبید اللہ بن زیاد کا حکم قبول کیا اور واقعہ کربلا میں شرکت کی۔[11] عمر بن سعد سے منسوب بعض اشعار[12] میں بھی اس خواہش کی عکاسی نظر آتی ہے۔[13] اس بنا پر رے کی گندم سے مراد "حکومت رے" ہے[14] اور فارسی ادب میں بھی یہ تعبیر ایسے منصب یا منفعت کے حصول کے لئے کی جانے والی کوششوں پر بطور کنایہ استعمال کیا جاتا ہے جس تک انسان کسی صورت نہیں پہنچ پاتا. یہ تعبیر فارسی زبان کے بعض محاورں میں بھی یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے مثلا «ہم از گندم ری جاماندہ، ہم از خرمای بغداد» (نہ رے کی گندم ہاتھ آئی، نہ بغداد کی کھجوریں)۔[15]
حوالہ جات
- ↑ بحرانی، مدینۃ معاجز...، ج4، ص62۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: شیخ مفید، الإرشاد، ج2، ص132؛ مسعودی، إثبات الوصیۃ، ص167؛ ابناعثم، الفتوح، ج5، ص93؛ اخطب خوارزم، مقتل الحسینؑ، ج1، ص348۔
- ↑ شیخ مفید، الإرشاد، ج2، ص132۔
- ↑ ابنشہرآشوب، مناقب، ج10، ص35؛ اخطب خوارزم، مقتل الحسینؑ، ج1، ص348۔
- ↑ ابنہارون، تیسیر المطالب، ص151۔
- ↑ بحرانی، مدینۃ معاجز...، ج4، ص62۔
- ↑ مدینۃ معاجز...، ج3، ص482۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: شیخ مفید، الإرشاد، ج2، ص132؛ مسعودی، إثبات الوصیۃ، ص167؛ ابناعثم، الفتوح، ج5، ص93؛ اخطب خوارزم، مقتل الحسینؑ، ج1، ص348۔
- ↑ حسینی طہرانی، «پانویس»، مطلع انوار، ج13، ص358۔
- ↑ حسینی طہرانی، «پانویس»، مطلع انوار، ج13، ص358۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص389۔
- ↑ ابناعثم، الفتوح، ج5، ص96۔
- ↑ محمدی ریشہری، دانشنامہ ری، ج2، ص141۔
- ↑ محمدی ریشہری، دانشنامہ ری، ج2، ص140۔
- ↑ «ہم از گندم ری جاماندہ، ہم از خرمای بغداد»، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ۔
مآخذ
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالبؑ، قم، المکتبۃ الحیدریۃ، 1390ہجری شمسی۔
- ابناعثم، محمد بن علی، الفتوح، بیروت، دار الأضواء، 1411ھ۔
- ابنہارون، یحیی بن حسین، تیسیر المطالب فی أمالی أبی طالب، یمن، مؤسسۃ الإمام زید بن علی الثقافیۃ، 1422ھ۔
- اخطب خوارزم، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیہ السلام، قم، أنوار الہدی، 1381ہجری شمسی۔
- بحرانی، ہاشم بن سلیمان، مدینۃ معاجز الأئمۃ الإثنی عشر و دلائل الحجج علی البشر، قم، بنیاد معارف اسلامی، 1371ہجری شمسی۔
- حسینی طہرانی، محمدمحسن، «پانویس»، مطلع انوار، تالیف محمد حسین حسینی طہرانی، تہران، مکتب وحی، 1394ہجری شمسی۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، المؤتمر العالمی لألفیۃ الشیخ المفید، 1372ہجری شمسی۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الأمم و الملوک، بیروت، بے نا، بے تا۔
- محمدی ریشہری، محمد، دانشنامہ ری، قم، دار الحدیث، 1398ہجری شمسی۔
- مسعودی، علی بن حسین، إثبات الوصیۃ للإمام علی بن أبیطالب، قم ، انصاریان، 1385ہجری شمسی۔
- «ہم از گندم ری جاماندہ، ہم از خرمای بغداد» (نہ رے کی گندم ہاتھ آئی، نہ بغداد کی کھجوریں)، حوزہ آفیشل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 27 دسمبر 2017ء، تاریخ مشاہدہ: 10 اکتوبر 2026ء۔