مندرجات کا رخ کریں

قرآن میں تدبر

ویکی شیعہ سے

قرآن میں تدبر، قرآنی آیات میں گہرائی کے ساتھ غور و فکر کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ قرآن فہمی کا ایک بنیادی اور ضروری عمل ہے جس کے بغیر تلاوت قرآن کی صحیح طور پر برکات حاصل نہیں ہوتیں۔ اہل علم کے مطابق تدبر کا مقصد صرف الفاظ کی تلاوت نہیں، بلکہ آیات کے معانی اور مفاہیم پر غور کرنا، ان میں پوشیدہ حکمتوں کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ امام خمینی کے نزدیک قرآن میں تدبر، انسان کو وحیانی حقیقت تک پہنچاتا ہے، دل کو منور کرتا ہے اور یقین کے مقام تک رسائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تدبر انسان کو فتنوں اور گناہوں سے بچاتا ہے اور اسے اللہ پر توکل کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ بے‌ ایمانی، باطنی طہارت نہ ہونا اور غلو و تقصیر کو قرآن میں تدبر کی راہ میں موجود رکاوٹوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔

اہمیت و مقام

تدبر دینی اصطلاح میں قرآنی آیات میں گہرائی کے ساتھ غور و فکر کرنے کو کہتے ہیں۔[1] تلاوتِ قرآن کے آداب اور علوم قرآن کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ قرآن میں تدبر کرنا ہے، یہاں تک کہ مفسرین کا ماننا ہے کہ تدبر کے بغیر قرآن پڑھنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے؛ کیونکہ قرآن کے نزول کا مقصد آیات پر عمل کرنا، معانی پر توجہ دینا اور اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا ہے۔[2] امام‌خمینی کے نزدیک قرآن کے بنیادی مقاصد تک پہنچنے کے لیے آیاتِ الہی میں تدبر ضروری ہے اور یہ قراءت قرآن کے اہم آداب میں سے ہے۔ ان کے مطابق قرآن کے معانی میں تدبر دل پر اثرانداز ہونے اور مقامِ یقین تک پہنچنے کا سبب بنتا ہے۔[3]

قرآن میں تدبر کے اثرات

امام خمینی کے مطابق قرآن میں آگاہانہ تدبر کا پہلا اثر یہ ہے کہ اس کی وحیانی ہونے کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ یہ آیاتِ الہی کے مضامین اور اسلوب میں پائی جانے والی حیرت انگیز ہم آہنگی کی وجہ سے ہے۔ جو شخص قرآن کے معانی میں تدبر کرتا ہے، آہستہ آہستہ اس کے دل پر اثر ہوتا ہے اور وہ ’’اقرأ واصعد‘‘ کی حقیقت کو پالیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بلاواسطہ کلامِ الہی کو خود متکلم سے سنتا ہے۔ تدبر کا دوسرا اثر دین کی صحیح معرفت ہے۔ اگر انسان تدبر کا سلسلہ جاری رکھے تو یہ اس کی عادت میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اس کے لئے قرآن کے حقیقی معارف کے دروازے کھلتے ہیں۔ ایک اور اثر قلبی سکون و اطمینان ہے۔ امام خمینی کے مطابق انسان کو آیاتِ الہی میں تدبر کر کے قلبی سکون اور صحت و شفا کے مراتب، نچلے درجے (ملکی قوے) سے لے کر انتہائی نتیجے (قلبِ سلیم) تک پہنچنا چاہیے۔ تدبر کا ایک اور اثر فتنوں اور گناہوں سے نجات اور اللہ پر توکل و بھروسا ہے۔[4]

تدبر میں عقل کا کردار

مفسرین قرآن میں تدبر کرنے میں عقل کے کردار پر زور دیتے ہیں ۔[5] امام خمینیؒ قرآن میں تدبر کو آیاتِ الٰہی کے فہم و ادراک میں عقل کے کارآمد ہونے کی اہم دلیل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک آسمانی کتابوں اور انبیائے الٰہی کا نزول اسی لئے ضروری ہے کہ انسان عقل رکھتا ہے اور ہدایت و رہنمائی کا محتاج ہے؛ چنانچہ ہر شخص اپنی عقلی صلاحیت اور باطنی پاکیزگی کے مطابق قرآن سے استفادہ کر سکتا ہے اور اس میں تدبّر کر سکتا ہے۔[6]

قرآن میں تدبر کے موانع

قرآن کریم میں تدبر ان اہم امور میں سے ہے جو انسان کا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط کرتا ہے، لیکن یہ ہمیشہ بعض موانع کی زد میں رہتا ہے۔ ان میں بے‌ ایمانی، باطن طہارت کا نہ ہونا اور غلو و تقصیر شامل ہیں۔[7] امام‌خمینی کے مطابق آیاتِ الہی میں تدبر کی ایک رکاوٹ باطنی طہارت کا نہ ہونا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ انسان کے ہر عمل کی ایک ملکوتی صورت ہوتی ہے جس کے ذریعے نفس کے ملکوتی باطن میں نورانیت یا ظلمت پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا قرآن میں تدبر دل کے نورانی ہونے اور دل کے قفل کھلنے کے بغیر بے اثر ہے۔[8] نیز امام خمینی کے مطابق قرآن میں تدبر کے دیگر موانع میں غلوّ و تقصیر اور ظاہر یا باطن پر رک جانا شامل بھی ہے۔ ان کے مطابق قرآن کے ظاہر پر قناعت اور اس کے الفاظ پر اکتفا کرنا باطن قرآن سے محرومی کا سبب ہے جو بعض کے اعتقاد کو لاحق ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ قرآن میں تدبر اور اس کے بلند معارف تک پہنچنے سے محروم رہ جاتے ہیں اور ظاہر ہی کے مرحلے پر رک جاتے ہیں۔[9]

حوالہ جات

  1. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، ج1، ص125-134؛ طباطبائی، المیزان، ج5، ص19۔
  2. مجلسی، بحار الانوار، ج92، ص182؛ طبرسی، مجمع البیان، ج2، ص554؛ کنز العمال، ج2، 205؛ جوادی، تفسیر تسنیم، ج1، ص57؛ معرفت، التمہید فی علوم القرآن، ج2، ص349۔
  3. امام‌خمینی، آداب الصلاۃ، ص203-205؛ شرح چہل حدیث، ص500؛ صحیفہ، ج16، ص34۔
  4. امام‌خمینی، آداب الصلاۃ، ص 203-208؛ صحیفہ امام، ج16، ص34؛ شرح چہل حدیث، ص500۔
  5. طبرسی، المجمع البیان، ج1، ص81؛ لنکرانی، مدخل التفسیر، ص159-160؛ معرفت، تفسیر و مفسران، ج2، ص226؛ جوادی، تفسیر تسنیم، ج1، ص57۔
  6. امام‌خمینی، صحیفہ امام، ج20، ص408-409، ج4، ص186؛ شرح چہل حدیث، ص559-560؛ آداب الصلاۃ، ص249-250؛ تہذیب الاصول، ج2، ص165؛ انوار الہدایہ، ج1، ص243-247۔
  7. کوہی، مراتب انس با قرآن، ص177-182۔
  8. امام‌خمینی، صحیفہ امام، ج18، ص446-447؛ آداب الصلاۃ، ص246؛ کوہی، مراتب انس با قرآن، 182-183۔
  9. امام‌خمینی، آداب الصلاۃ، ص355-356؛ کوہی، مراتب انس با قرآن، ص183-184۔

مآخذ

  • سیدروح‌اللہ، امام‌خمینی، انوارالہدایہ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1385ہجری شمسی۔
  • سیدروح‌اللہ، امام‌خمینی، آداب الصلاۃ، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1384ہجری شمسی۔
  • سیدروح‌اللہ، امام‌خمینی، تہذیب الأصول، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1381ہجری شمسی۔
  • سیدروح‌اللہ، امام‌خمینی، شرح چہل حدیث، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1388ہجری شمسی۔
  • سیدروح‌اللہ، امام‌خمینی، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام‌خمینی، 1389ہجری شمسی۔
  • حیدر،آملی، تفسیر المحیط الاعظم، تہران، انتشارات وزارت ارشاد، 1442ھ۔
  • عبداللہ، جوادی، تفسیر تسنیم، قم، نشر اسراء، 1387ہجری شمسی۔
  • سیدمحمدحسین، طباطبائی، تفسیر المیزان، قم، انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
  • حسن، طبرسی، مجمع البیان، بیروت، دار المعرفہ، 1408ھ۔
  • علیرضا، کوہی، مراتب انس با قرآن در اندیشہ امام‌خمینی، تہران، نشر عروج، 1394ہجری شمسی۔
  • محمد، لنکرانی، مدخل التفسیر، تہران، نشر حیدری، 1396ھ۔
  • علاءالدین، متقی ہندی، کنزالعمال فی سنن الاقوال والافعال ، بیروت، مؤسسہ الرسالۃ، 1409ھ۔
  • محمدباقر، مجلسی، بحارالانوار، بیروت، موسسۃ الوفاء، 1404ھ۔
  • محمدہادی، معرفت، التمہید فی علوم القرآن، قم، نشر الاسلامی، 1415ھ۔
  • محمدہادی، معرفت، تفسیر و مفسران، قم، موسسہ فرہنگی التمہید، 1379ہجری شمسی۔