"ویکی شیعہ:ہفتہ وار منتخب مقالے/2022/4" کے نسخوں کے درمیان فرق
Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
'''عمارۃ بن عبد سلولی '''یا '''عمارۃ بن عبید سلولی''' [[کوفہ]] کے ایک [[شیعہ]] ہیں جنہوں نے [[قیس بن مسہر صیداوی]] اور [[عبدالرحمان بن عبد اللہ ارحبی]] کے ساتھ کوفہ والوں کی طرف سے دوسری بار لکھے جانے والے خطوط [[مکہ]] جاکر [[امام حسینؑ]] کی خدمت میں پہنچائے اور پھر اپنے ساتھیوں اور [[مسلم بن عقیل]] کے ساتھ کوفے لوٹ آئے۔ عمارہ نے [[ہانی بن عروہ]] کو مشورہ دیا تھا کہ [[ابن زیاد]] کو اپنے گھر میں قتل کر ڈالے لیکن ہانی نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ طبری نے اپنی کتاب [[تاریخ طبری]] میں ان کا نام عمارۃ بن عبید سلولی اور اپنی [[تفسیر]] میں ان کا نام عمارۃ بن عبد سلولی لکھا ہے۔ | '''عمارۃ بن عبد سلولی '''یا '''عمارۃ بن عبید سلولی''' [[کوفہ]] کے ایک [[شیعہ]] ہیں جنہوں نے [[قیس بن مسہر صیداوی]] اور [[عبدالرحمان بن عبد اللہ ارحبی]] کے ساتھ کوفہ والوں کی طرف سے دوسری بار لکھے جانے والے خطوط [[مکہ]] جاکر [[امام حسینؑ]] کی خدمت میں پہنچائے اور پھر اپنے ساتھیوں اور [[مسلم بن عقیل]] کے ساتھ کوفے لوٹ آئے۔ عمارہ نے [[ہانی بن عروہ]] کو مشورہ دیا تھا کہ [[ابن زیاد]] کو اپنے گھر میں قتل کر ڈالے لیکن ہانی نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ طبری نے اپنی کتاب [[تاریخ طبری]] میں ان کا نام عمارۃ بن عبید سلولی اور اپنی [[تفسیر]] میں ان کا نام عمارۃ بن عبد سلولی لکھا ہے۔ | ||
[[شیخ طوسی]] کی کتاب [[رجال طوسی]] میں ایک شخص رزین بن عبید سلولی کوفی کو [[امام سجاد]] کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے۔ دور حاضر کے محقق محمد ہادی امینی نے اپنی کتاب («اصحاب امیر المومنین(ع) والرواۃ عنہ») میں لکھا ہے کہ عمارۃ بن عبد کوفی سلولی [[تابعین]] اور راویوں میں سے ہیں اور قابل اعتماد ہیں۔ | [[شیخ طوسی]] کی کتاب [[رجال طوسی]] میں ایک شخص رزین بن عبید سلولی کوفی کو [[امام سجاد]] کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے۔ دور حاضر کے محقق محمد ہادی امینی نے اپنی کتاب («اصحاب امیر المومنین(ع) والرواۃ عنہ») میں لکھا ہے کہ عمارۃ بن عبد کوفی سلولی [[تابعین]] اور راویوں میں سے ہیں اور قابل اعتماد ہیں۔ | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 15:35، 27 جنوری 2022ء
عمارۃ بن عبد سلولی یا عمارۃ بن عبید سلولی کوفہ کے ایک شیعہ ہیں جنہوں نے قیس بن مسہر صیداوی اور عبدالرحمان بن عبد اللہ ارحبی کے ساتھ کوفہ والوں کی طرف سے دوسری بار لکھے جانے والے خطوط مکہ جاکر امام حسینؑ کی خدمت میں پہنچائے اور پھر اپنے ساتھیوں اور مسلم بن عقیل کے ساتھ کوفے لوٹ آئے۔ عمارہ نے ہانی بن عروہ کو مشورہ دیا تھا کہ ابن زیاد کو اپنے گھر میں قتل کر ڈالے لیکن ہانی نے ان کی بات تسلیم نہیں کی۔ طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری میں ان کا نام عمارۃ بن عبید سلولی اور اپنی تفسیر میں ان کا نام عمارۃ بن عبد سلولی لکھا ہے۔
شیخ طوسی کی کتاب رجال طوسی میں ایک شخص رزین بن عبید سلولی کوفی کو امام سجاد کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے۔ دور حاضر کے محقق محمد ہادی امینی نے اپنی کتاب («اصحاب امیر المومنین(ع) والرواۃ عنہ») میں لکھا ہے کہ عمارۃ بن عبد کوفی سلولی تابعین اور راویوں میں سے ہیں اور قابل اعتماد ہیں۔