مندرجات کا رخ کریں

حلیہ نویسی

ویکی شیعہ سے
آیت 24 فاطر اور سورہ قلم آیت 4 میں موجود القاب پیغمبر خداؐ کی شمائل نگاری

حِلیہ نویسی یا شمائل نگاری[1] خطاطی کی مُذہَّب (سنہرے حروف میں تحریر) اسلامی فن ہے جس میں حضرت محمدؐ کے اوصاف بیان کیے جاتے ہیں[2] اور مسلمانوں کے نزدیک اسے متبرک سمجھا جاتا ہے۔[3] اسلامی فنون لطیفہ میں حِلیہ اُن متون کو کہا جاتا ہے جو عموماً خطِ نستعلیق میں حضرت محمدؐ کی ظاہری، اخلاقی اور عملی خصوصیات،[4] نیز ائمہؑ اور بعض اوقات رسول خداؐ کے اصحاب[5] کی صفات بیان کرتے ہیں۔[6]

رنگین خط نستعلیق میں حلیہ نویسی، محرر: علی نقی شیرازی، سنہ 1332ھ، دوره قاجار

لفظ "حِلیہ" لغوی طور پر زیور اور آرائش کے معنی میں استعمال ہوتا ہے[7] اور یہ قرآن کریم کی بعض آیات، جیسے سورہ نحل آیت 14 اور سورہ فاطر آیت 12 میں بھی استعمال ہوا ہے۔[8] حلیہ نویسی کا مقصد رسول اکرمؐ سے عقیدت و محبت کا اظہار ہے نیز آپؐ کی شفاعت کی امید، بلاؤں سے حفاظت اور رزق میں برکت کا حصول سمجھا جاتا ہے۔[9]

حلیہ نویسی کے آغاز کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں؛ بعض محققین حافظ عثمان (متوفیٰ: 1109ھ) کو اس فن کا موجد قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ میرعلی ہروی اور سلطان علی مشہدی کو اس فن کے ابتدائی علمبرداروں میں شمار کرتے ہیں۔ بعض دیگر محققین کے نزدیک اس فن کی ابتدا آٹھویں صدی ہجری کے اواخر میں ہرات سے ہوئی۔[10]

ایران میں حلیہ نویسی تیموری دور کے اواخر سے رائج ہوئی اور خاص طور پر صفوی دور میں عثمانی حلیات کے نام سے مختلف اسلوب کے ساتھ فروغ پائی۔[11] ایران کی تیرھویں صدی ہجری کے بعض فن پاروں میں امام علیؑ کی تمثال (خیالی تصویر) بھی نظر آتی ہے۔[12]

حوالہ جات

  1. کاظمی، علل گرایش بہ شمایل‌نگاری مکتوب در ہنر اسلامی و مطالعہ موردی شمایل‌نگاشت‌ہا در دورہ صفوی، 1390شمسی، ص49۔
  2. فخری، دانشنامہ جہان اسلام، 1375شمسی، ج14، ص63۔
  3. فخری، دانشنامہ جہان اسلام، 1375شمسی، ج14، ص63۔
  4. خلیلی، ہنر قلم، 1379شمسی، ص46؛ محمدی‌پارسا، «بررسی جایگاہ تاریخی عرفانی امام علی(ع) در ہنر خوشنویسی اسلامی»، ص91۔
  5. فخری، دانشنامہ جہان اسلام، 1375شمسی، ج14، ص63۔
  6. کاظمی، «واکاوی مسألہ شمایل‌نگاری در ہنر اسلامی در چیستی شمایل‌نگاری مکتوب»، ص71۔
  7. راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، 1412ھ، ص254۔
  8. تمین، تجزیہ و تحلیل حلیہ نگاری در ہنر اسلامی، 94–1395شمسی، ص33۔
  9. قربانی، «ہنر خوشنویسی در دورہ عثمانی»، ص149۔
  10. کاظمی، «واکاوی مسألہ شمایل‌نگاری در ہنر اسلامی در چیستی شمایل نگاری مکتوب»، ص66۔
  11. کاظمی، «واکاوی مسألہ شمایل‌نگاری در ہنر اسلامی در چیستی شمایل‌نگاری مکتوب»، ص70۔
  12. خلیلی، ہنر قلم، 1379شمسی، ص49۔

مآخذ

  • قرآن۔
  • تمین، الہہ، تجزیہ و تحلیل حلیہ‌ نگاری در ہنر اسلامی، دورہ کارشناسی ارشد رشتہ صنایع دستی، تہران، دانشکدہ ہنر، دانشگاہ سورہ، 95-1394ہجری شمسی۔
  • خلیلی، ناصر، ہنر قلم، تہران، کارنگ، 1379ہجری شمسی۔
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات الفاظ القرآن، بیروت، دار الشامیۃ، 1412ھ/1992ء۔
  • کاظمی، سامرہ، علل گرایش بہ شمایل‌نگاری مکتوب در ہنر اسلامی و مطالعہ موردی شمایل‌نگاشت‌ہا در دورہ صفوی، دورہ دکتری رشتہ‌ی حکمت ہنرہای دینی، قم، دانشکدہ ادیان دانشگاہ ادیان و مذاہب، 1390ہجری شمسی۔
  • کاظمی، سامرہ، «واکاوی مسألہ شمایل‌نگاری در ہنر اسلامی در چیستی شمایل‌نگاری مکتوب»، نشریہ مبانی نظری ہنرہای تجسمی، شمارہ 11، بہار و تابستان 1400ہجری شمسی۔
  • محمدی‌پارسا، عبداللہ، «بررسی جایگاہ تاریخی عرفانی امام علی(ع) در ہنر خوشنویسی اسلامی»، فصلنامہ الہیات ہنر، شمارہ یازدہم، زمستان 1396ہجری شمسی۔
  • فخری، حجت، دانشنامہ جہان اسلام ذیل حلیہ‌نویسی، تہران، بنیاد دایرہ المعارف اسلامی، 1375ہجری شمسی۔
  • قربانی، مہدی، «ہنر خوشنویسی در دورہ عثمانی» ، نشریہ مطالعات آسیای صغیر ویژہ نامہ فرہنگستان، شمارہ 5، بہار و تابستان 1397ہجری شمسی۔