مندرجات کا رخ کریں

"صارف:Hkmimi/تمرین" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
==مفہوم‌شناسی==
==معنا==
بازار میں کمیاب اور لوگوں کی ضرورت کی چیزوں کو ان کی قیمت بڑھ جانے کی امید سے ذخیرہ اندوزی کرنے کو احتکار کہا جاتا ہے۔<ref>ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۲۰۸.</ref> بعض نے احتکار کی تعریف میں خرید کی قید بھی اضافہ کیا ہے یعنی چیزوں کو خرید لے اور پھر بیچنے سے اجتناب کرے جبکہ لوگوں کی ضرورت بھی ہو اور بازار سے ناپید ہو تو اسے احتکار کہتے ہیں۔ جبکہ بعض نے صرف چیزوں کو ذخیرہ اندوزی کر کے رکھنے کو احتکار کہا ہے وہ چیزیں جس طرح سے بھی اس تک پہنچی ہوں (جیسے زراعت یا تجارت سے حاصل کیا ہو) تو اسے احتکار کہتے ہیں۔<ref> امام خمینی، کتاب البیع، ۱۴۲۱ق، ج۳، ص۶۱۱.</ref> احتکار کرنے والے شخص کو مُحْتکر کہتے ہیں۔<ref>ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۲۰۸.</ref>ایک روایت میں پیغمبر اکرمؐ نے محتکر کو ملعون کہا ہے۔<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۶۵.</ref>
مسافر کا کسی جگہ پورے دس دن رہنے کے ارادے کو قصد اقامت کہا جاتا ہے۔<ref>نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۴، ۳۰۳.</ref> رہنے کا قصد متحقق ہونے اور اس کے احکام لاگو ہونے کے لیے کسی خاص نیت کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ مسافر کو یہ یقین ہو کہ اس جگہ پورے دس دن رہنا ہے تو یہی کافی ہے۔<ref>نجفی، جواہر الکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۴، ۳۰۳.</ref>اسی طرح اس جگہ اپنی مرضی سے رہنا بھی ضروری نہیں بلکہ اگر اسے یہ معلوم ہو کہ کسی جگہ اسے دس دن زبردستی رکھا جائے گا تو بھی رہنے کا قصد ثابت ہوتا ہے اور اس کے احکام لاگو ہونگے۔<ref>توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۹۱۴.</ref>
فقہ کے باب بیع<ref> شیخ انصاری، المکاسب المحرمه، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۲۹۴؛ امام خمینی، کتاب البیع، ۱۴۲۱ق، ج۳، ص۶۱۱.</ref> حقوق اور اقتصاد میں  میں احتکار اور اس سے مربوط احکام بیان ہوتے ہیں۔ اسی طرح شیعہ روائی مصادر میں بھی احتکار سے مربوط ایک باب مخصوص ہے۔<ref>مثال کے طور پر مراجعہ کریں: کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۶۴-۱۶۵؛ طوسی، تهذیب الاحکام، ج۷، ص۱۵۸-۱۶۳.</ref> [[شیخ انصاری]] نے اسے احتکار طعام (کھانے کی ذخیرہ اندوزی) کے عنوان سے بیان کیا ہے۔<ref>شیخ انصاری، المکاسب المحرمہ، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۲۹۴.</ref>
==دس دن سے مراد==
دس دن سے مراد یہ ہے کہ مسلسل دس دن اور نو راتیں رہنے کا ارادہ کرے جن کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔ لہذا اگر کوئی شخص پہلے دن سے دسویں دن کے آخر تک رہنے کا ارادہ کرے تو اقامت کا قصد کرسکتا ہے۔<ref>یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۱۴۴.</ref>اگر کسی نے پہلے دن کے آغاز سے رہنے کا ارادہ نہیں کیا ہے تو وہ کسی بھی ٹائم ارادہ کرسکتا ہے مثال کے طور پر اگر پہلے دن کے ظہر سے اقامت کا ارادہ کرے تو اس صورت میں گیارہویں دن کے ظہر تک رہنے کا ارادہ کرے تاکہ دس دن پورے ہوسکیں۔<ref>یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۱۴۴.</ref>


== حکم==
==احکام==
احتکار حرام یا مکروہ ہونے کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔<ref>مجلسی، مرآۃ العقول، ۱۴۰۴ق، ج۱۹، ص۱۵۴.</ref>شیعہ مشہور فقہاء کے مطابق اگر چیزیں بازار میں ضرورت سے کم ہوں اور ان کا ذخیرہ کر کے رکھنے سے مسلمان بازار کو ضرر پہنچتا ہو تو ایسا احتکار حرام ہے۔<ref>مجلسی، مرآۃ العقول، ۱۴۰۴ق، ج۱۹، ص۱۵۴-۱۵۵.</ref> [[شہید اول]] نے احتکار طعام کو مکروہ تجارت کے ذیل میں ذکر کیا ہے۔<ref>شهید اول، المعۃ الدمشقیۃ، ۱۴۱۰ق، ص۱۰۴.</ref> لیکن اگر لوگوں کو اس کی ضرورت ہونے کی صورت میں [[شہید ثانی]] نے [[شرح لمعہ]] میں اسے حرام ہونے کو قوی سمجھا ہے اور شہید اول کی طرف نسبت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی کتاب دروس میں احتکار حرام ہونے کا قائل ہوئے ہیں۔<ref> شہید ثانی، الروضۃ البہیۃ، ۱۴۱۰ق، ج۳، ص۲۱۸.</ref>بعض فقہا کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی شدہ چیزوں کی طرف لوگ اگر محتاج ہوں اور بازار میں ملتی بھی نہ ہوں تو حاکم محتکر کو ان چیزوں کو بیچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔<ref>ابن فہد حلی، المہذب، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۷۰.</ref>لیکن ان چیزوں کی خود سے کوئی قیمت نہیں لگا سکتا ہے۔<ref>قطب راوندی، فقہ القرآن، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۲.</ref>  
توضیح المسائل کے مطابق قصدِ اقامت کے بعض احکام مندرجہ ذیل ہیں:
* جو مسافر کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس جگہ اسے نماز پوری پڑھنی چاہئے<ref>توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۹۱۴.</ref> اور روزہ بھی صحیح ہے۔<ref>توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۱۱۹۵.</ref>
* کسی جگہ دس دن رہنے کا ارادہ کرنے کے بعد اس شرط کے ساتھ وہاں نماز پوری پڑھ سکتا ہے کہ پورے دس دن اسی ایک ہی جگہ رہنے کا قصد رکھتا ہو۔ لہذا اگر کسی نے دس دن نجف اور کوفہ دونوں میں رہنے کا ارادہ کرے تو نماز کو قصر پڑھنا ہوگا۔<ref>توضیح المسائل، ج۱، ص۹۱۵، ۹۱۶.</ref>
* قصدِ اقامت یقینی ہو؛ مثال کے طور پر مسافر یوں ارادہ کرے کہ اگر کوئی مناسب جگہ ملے تو وہاں دس دن ٹھہرے گا تو ایسی صورت میں نماز قصر پڑھے۔<ref>توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۹۱۸.</ref>


احتکار حرام ہونے کا فلسفہ نظام درہم برہم ہونے اور لوگوں کو عسر و حرج لازم آنے سے روکنا بیان ہوا ہے۔<ref>محقق داماد، «احتکار»، دایرة المعارف بزرگ اسلامی، ج۶، ص۶۴۲.</ref>  
===قصد اقامت سے انصراف===
جس نے دس دن رہنے کا ارادہ کیا ہے اور اب اپنے قصد سے منصرف ہوجائے یا دس دن تک رہنے یا نہ رہنے میں شک ہو تو نماز قصر پڑھنا ہوگا اور روزہ بھی نہیں رکھ سکتا ہے؛ لیکن اگر ایک چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد منصرف ہوجائے یا مردد ہوجائے تو ایسی صورت میں جب تک اس جگہے پر ہے تب تک نماز پوری پڑھے اور روزہ بھی وہاں پر صحیح ہے۔<ref>توضیح المسائل مراجع، ۱۳۹۲ش، ج۱، ص۹۱۹، ۹۲۰.</ref>
 
==بلاد کبیرہ اور قصدِ اقامت==
{{اصلی مضمون|بلاد کبیرہ}}
بِلاد کبیرہ ایک فقہی اصطلاح ہے اس سے مراد عام بڑے شہر ہیں۔<ref>مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲ش، ج۲، ص۱۲۶.</ref>بڑے شہروں میں اقامت کے ارادہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اکثر فقہاء کہ کہنا ہے کہ بڑے شہروں کے جس علاقے میں بھی رہیں سب ایک ہی جگہ شمار ہوتے ہیں؛<ref>نجفی، جواہر الکلام، ج۱۴، ص۳۰۷، ۳۰۸.</ref> جبکہ [[امام خمینی]] جیسے بعض فقہا کا کہنا ہے کہ بلاد کبیرہ میں دس یا دس سے زیادہ دن رہنے کے قصد کے لیے وہی محلہ معتبر ہے جس میں رہنے کا قصد کیا ہے۔<ref>مراجعہ کریں: امام خمینی، استفتائات، ۱۴۲۲ق، ص۲۱۳.</ref>


احتکار کی حرمت یا کراہت کے بارے میں شیعہ فقہا نے شیعہ روائی مصادر میں پیغمبر اکرمؐ اور امام صادقؑ سے منقول روایات<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۶۴.</ref> اور امام علیؑ کے [[عہد نامہ مالک اشتر]]<ref>نهج البلاغه، نامه ۵۳.</ref> سے استناد کیا ہے جس میں احتکار سے روک تھام کرنے کا کہا گیا ہے۔<ref>حسینی عاملی، مفتاح الکرامه، دار احیاء التراث العربی، ج۴، ص۱۰۷.</ref> ایک روایت میں{{نوٹ|{{حدیث|فَإِنَّهُ يُكْرَهُ أَنْ يَحْتَكِرَ الطَّعَام‏}}}} کراہت کا لفظ استعمال ہوا ہے، بعض فقہاء نے اس لفظ سے حرام<ref>بحرانی، الحدائق الناضره، ۱۴۰۵ق، ج۱۷، ص۶۱؛ شیخ انصاری، المکاسب المحرمه، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۲۹۵.</ref> اور بعض نے [[کراہت]] استنباط کیا ہے۔<ref>مراجعہ کریں: حسینی عاملی، مفتاح الکرامہ، دار احیاء التراث العربی، ج۴، ص۱۰۷.</ref>
===دائرہ کار===
احادیث میں گندم، جو، خرما، کشمش اور تیل کے احتکار کا ذکر آیا ہے۔<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۶۴.</ref> اسی لیے علامہ مجلسی کے بقول شیعہ مشہور فقہاء نے انہی چیزوں میں احتکار کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور دیگر موارد ان میں شامل نہیں کیا ہے۔<ref>مجلسی، مرآۃ العقول، ۱۴۰۴ق، ج۱۹، ص۱۵۴-۱۵۵.</ref> بعض نے نمک بھی ان اجناس میں شامل کیا ہے۔<ref>قطب راوندی، فقہ القرآن، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۵۲.</ref>البتہ بعض روایات میں کلی طور احتکارِ طعام سے منع ہوا ہے۔<ref>طوسی، تہذیب الاحکام، ج۷، ص۱۵۹-۱۶۲.</ref>اور بعض امامیہ فقہا نے احتکار حرام ہونے کے حکم میں تمام غذائی چیزوں کا احتکار شامل ہونے کو بعید نہیں سمجھا ہے۔<ref> اصفہانی، وسیلۃ النجاۃ، ۱۴۲۲ق، ص۳۲۸-۳۲۹.</ref>جبکہ بعض نے اس میں تمام ضروری چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کو شامل کیا ہے، جیسے غذائی چیزیں، کپڑے اور مکان۔ آخری گروہ نے قاعدہ لاضرر، قاعدہ لاحرج اور احتکار سے مربوط روایت سے استناد ہے۔<ref> محقق داماد، تحلیل و بررسی احتکار از نظرگاه فقه اسلام، ۱۳۶۲ش، ص۵۵.</ref>
بعض فقہا نے روایات میں ذکر شدہ موارد کو نمونہ اور مثال لیا ہے اور ان کو قضایاے خارجی قرار دیا ہے قضایاے حقیق نہیں، لہذا ان کا کہنا ہے کہ احکتار روایت میں مذکورہ موارد سے مختص نہیں ہے بلکہ اس کے موارد کا تعیین حکومتِ اسلامی کی ذمہ داری ہے۔<ref> حائری، ابتغاء الفضیلہ، انتشارات طباطبایی، ج۱، ص۱۹۶، به نقل از محقق داماد، «احتکار»، دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج۶، ص۶۴۲-۶۴۳.</ref>
{{Quote box
|class = <!-- Advanced users only.  See the "Custom classes" section below. -->
|title =<font size=3me>[[عہد نامہ مالک اشتر]] سے اقتباس </font>
|quote =  <font color=green>
ذخیرہ اندوزی سے منع کرنا ، کیونکہ رسول اﷲﷺ نے اس سے ممانعت فرمائی ہے اور خریدو فروخت صحیح ترازؤوں اور مناسب نرخوں کے ساتھ بسہولت ہونا چاہئے کہ نہ بیچنے والے کو نقصان ہو اور نہ خریدنے والے کو خسارہ ہو ۔اس کے بعد بھی کوئی ذخیرہ اندوزی کے جرم کا مرتکب ہو تو اُسے مناسب حد تک سزا دینا۔</font> <br/>
|source = <small>نہج البلاغہ </small>
|align = left
|width = 250px
|border =
|fontsize = 15px
|bgcolor =#ffeebb
|qalign =justify
|salign = left
}}
==سزا==


آیات اور روایات میں محتکر کی سزا واضح طور پر بیان نہیں ہوئی ہے اسی لیے بعض نے عہدنامہ مالک اشتر سے استناد کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی کرنے والی کی سزا [[تعزیر]] قرار دیا ہے جس کی کیفیت اور مقدار [[حاکم شرع]] معین کرے گا۔<ref>محقق داماد، «احتکار»، دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج۶، ص۶۴۳-۶۴۴.</ref>
اور مختلف ممالک کے قوانین میں بھی احکتار کو جرم قرار دیا گیا ہے۔<ref>محقق داماد، «احتکار»، دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج۶، ص۶۴۳-۶۴۴.</ref>


==حوالہ جات==
==حوالہ جات==
{{حوالہ جات2}}
{{حوالہ جات2}}


== منابع==
==مآخذ==
* ابن فہد حلی، احمد بن محمد، المہذب البارع فی شرح المختصر النافع، تصحیح: مجتبی عراقی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۰۷ھ۔
* امام خمينى، سيدروح‌الله، استفتائات، قم، ‌دفتر انتشارات اسلامى، چاپ پنجم، ۱۴۲۲ق.‌
* ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، تصحیح: احمد فارس، بیروت، دارالفکر-دارصادر، ۱۴۱۴ھ۔
* توضیح المسائل  مراجع، تحقیق سيدمحمدحسين بنى‌هاشمى خمينى‌، قم، ‌دفتر انتشارات اسلامى، چاپ هشتم، ۱۳۹۲ق.‌
* اصفہانی، ابوالحسن، وسیلۃ النجاۃ، شارح: امام خمینی، قم، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۴۲۲ھ۔
* مؤسسه دایرة المعارف فقه اسلامی، فرهنگ فقه مطابق با مذهب اهل بیت علیهم السلام، چاپ اول، ۱۳۹۲ش.
* امام خمینی، سید روح اللہ، کتاب البیع، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۴۲۱ھ۔
* نجفی، محمدحسن، جواهر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، الطبعة السابعة، بی تا.
* بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرہ فی احکام العترۃ الطاہرہ، تصحیح: محمدتقی ایروانی - سید عبدالرزاق مقرم، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۰۵ھ۔
* یزدی، سیدمحمدکاظم، العروة الوثقی (المُحَشّیٰ)، تحقیق احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۹ق.
* حائری، مرتضی، ابتغاء الفضیلہ، قم، انتشارات طباطبایی، بی‌تا.
{{احکام مسافر}}
* حسینی عاملی، سید جواد بن محمد، مفتاح الکرامہ فی شرح القواعد العلامہ، تصحیح: محمدباقر حسینی شہیدی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
 
* شہید اول، محمد بن مکی، اللمعۃ الدمشقیہ فی فقہ الامامیہ، تصحیح: محمدتقی مروارید و علی‌اصغر مروارید، بیروت، دارالتراث، ۱۴۱۰ھ۔
[[en:Intention of staying ten days]]
* شہید ثانی، زین الدین بن علی، الروضۃ البہیہ فی شرح اللمعۃ الدمشقیہ، شارح: سید محمد کلانتر، قم، کتابفروشی داوری، ۱۴۱۰ھ۔
* شیخ انصاری، مرتضی بن محمدامین، المکاسب المحرمہ و البیع و الخیارات، تصحیح: مجمدجواد رحمتی و سید احمد حسینی، قم، منشورا دار الذخائر، ۱۴۱۱ھ۔
* طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تحقیق: حسن موسوی خرسان، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
* قطب راوندی، سعید بن عبداللہ، فقہ القرآن، تصحیح: سید احمد حسینی، قم، انتشارات کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی، ۱۴۰۵ھ۔
* کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
* مجلسی، محمدباقر، مرآۃ العقول فی شرح اخبار الرسول، تصحیح: سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۴ھ۔
* [http://www.cgie.org.ir/fa/publication/entryview/3966 محقق داماد، «احتکار»، دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۷۳شمسی ہجری۔]
* محقق داماد، مصطفی، تحلیل و بررسی احتکار از نظرگاہ فقہ اسلام، تہران، ۱۳۶۲شمسی ہجری۔
{{عدالتی احکام}}
{{احکام اقتصادی}}
confirmed، movedable، protected، منتظمین، templateeditor
8,755

ترامیم