مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:غلامی

ویکی شیعہ سے

غلامی ایک سماجی اور قانونی معاہدہ تھا جس کے تحت ایک شخص دوسرے کی ملکیت میں آ جاتا تھا اور بعض حقوق سے محروم ہو جاتا تھا۔ یہ چیز ظہور اسلام کے وقت وقت عام اور رائج تھی۔ اسلام نے غلامی کو قبول تو کیا، لیکن اس معاہدے پر مخصوص پابندیاں عائد کر کے اس میں اصلاحات نافذ کیں اور غلامی کے پرانے طریقوں کو ممنوع قرار دے دیا۔

فقہا کے ہاں غلامی کے حکم کے بارے میں اختلافِ نظر پایا جاتا ہے؛ اہل تشیع کی اکثریت اسے دائمی احکام میں سے سمجھتی ہے جو عملاً وقت اور حالات کے بدل جانے کی وجہ سے نافذ نہیں رہا، جبکہ دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ حالات کے بدل جانے سے غلامی کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔

اسلام نے غلاموں کے لیے کئی حقوق مقرر کیے، جیسے کھانے پینے اور لباس کی فراہمی، تشدد کی ممانعت، شادی کا حق، محدود ملکیت کا حق، نیز بعض عبادات اور سزاؤں میں تخفیف۔ نیز اسلام نے غلاموں کے تدریجی آزاد ہونے کے لیے کئی راستے مقرر فرمائے، جن میں عتق (آزاد کرنا)، مکاتبہ (رقم ادا کر کے آزادی حاصل کرنے کا معاہدہ) اور بعض خاص مذہبی یا قانونی حالات میں آزادی شامل ہیں۔

قرآن مجید، شیعہ حدیثی منابع نیز نبی اکرم ﷺ اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سیرت، غلاموں کے ساتھ نیک سلوک، ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے تدریجی آزاد کرنے پر زور دیتی ہے۔ اسلامی معاشروں میں غلامی آہستہ آہستہ کم ہوتی گئی اور عملاً ختم ہو گئی، اگرچہ بعض غیر اسلامی معاشروں میں یہ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی تک جاری رہی۔ محققین کا ماننا ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر نے غلامی کے خاتمے کو بتدریج یقینی بنایا۔

اسلام میں غلامی کی حیثیت

غلامی سے مراد ایک انسان کا دوسرے انسان کی ملکیت میں آ جانا ہے، جس سے غلام کے حقوق محدود ہو جاتے ہیں۔ یہ رائج زمانہ قدیم تہذیبوں اور معاشروں میں عام تھا اور اسلام کے ظہور کے بعد بھی بعض علاقوں میں انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی تک قائم رہی۔

قرآن مجید کی بعض آیات، جیسے "مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" (جن کے تم مالک ہو گئے ہو)، غلاموں اور لونڈیوں نیز ان کے تعلقات کے بارے میں ہیں۔ اسی طرح شیعہ منابعِ حدیث، جیسے کتب اربعہ، میں غلاموں سے متعلق احکام اور اخلاقی ہدایات بیان ہوئی ہیں۔ فقہی کتب میں غلامی کے احکام "عتق"، "تدبیر"، "مکاتبہ" اور "استیلاد" جیسے ابواب میں بیان ہوئے ہیں۔ نیز دیگر فقہی ابواب جیسے نماز، زکوٰۃ، حج، جهاد، نکاح اور وراثت میں بھی غلاموں سے متعلقہ احکام زیر بحث آئے ہیں۔

غلامی کا حکم عارضی ہے یا دائمی؟

فقہا کے ہاں غلامی کے حکم کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں:

ایک دائمی حکم جس پر عمل محدود ہے:

فقہا کی اکثریت کا ماننا ہے کہ غلامی کی اجازت اسلام کے دائمی احکام میں سے ہے۔ مثال کے طور پر، آیت اللہ سید محمدرضا گلپایگانی نے اپنے زمانے میں غلاموں کی خرید و فروخت کو شرعی اصولوں کے مطابق قرار دیا۔

تاریخی حالات کے بدل جانے سے حکم کا منسوخ ہو جانا:

بعض فقہا غلامی کو مخصوص تاریخی حالات تک محدود سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں حالات کے بدل جانے سے یہ حکم خود بخود ختم ہو گیا ہے۔ آیت اللہ مکارم شیرازی اور آیت اللہ حسینعلی منتظری نے دورِ حاضر میں غلامی کو حرام قرار دیا ہے۔

اسلام میں غلامی کا بتدریج خاتمہ

اسلام کے ظہور کے وقت غلامی مختلف معاشروں میں عام تھی۔ اسلام نے غلامی کے بنیادی تصور کو تسلیم تو کیا لیکن اس پر مخصوص پابندیاں عائد کر کے اسے محدود کر دیا۔ فقہی اصطلاح میں اس قسم کی قبولیت کو "حکم امضائی" کہا جاتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر نے غلامی کے بتدریج خاتمے کو یقینی بنایا اور اس کے فوری خاتمے سے غلاموں اور ان کے مالکوں کی زندگی میں خلل پڑ سکتا تھا۔

غلام بنانے کے راستوں پر پابندیاں

اسلام سے پہلے انسانوں کو مختلف طریقوں سے غلام بنایا جاتا تھا، جیسے قبیلوں پر چھاپہ مار کر، لوگوں کو اغوا کر کے، قرض ادا نہ کر سکنے کی صورت میں یا اولاد کو بیچ کر۔ اسلام نے ان طریقوں کو ممنوع قرار دیا اور غلام بنانے کو صرف دو صورتوں تک محدود کر دیا:

  • کفار حربی کے قیدی: جہاد (شرعی جنگ) میں، حکومتِ اسلامی کی نگرانی میں۔
  • کافر ذمی کا قاتل: جسے مقتول مسلمان کے ورثا معاف کر سکتے ہیں، قصاص لے سکتے ہیں یا غلام بنا سکتے ہیں۔
  • مالک کی زندگی کے معیار کے مطابق کھانے پینے اور لباس کی فراہمی۔
  • تشدد اور طاقت سے زیادہ کام لینے کی ممانعت۔
  • شادی کا حق، یہاں تک کہ آزاد انسان سے بھی۔
  • "مکاتبہ" کے ذریعے محدود ملکیت کا امکان۔
  • عبادات اور سزاؤں میں تخفیف: اسلام نے غلاموں کے لیے عبادات میں کئی تخفیفیں رکھی ہیں۔ غلام جهاد، زکوٰۃ، حج و عمرہ اور نماز جمعہ سے معاف ہیں نیز بعض حدود جیسے حد زنا اور کفارہ ظہار میں ان کے لیے آدھی سزا ہے۔

فقه اسلامی میں غلاموں کی آزادی کے طریقے

اسلام نے غلاموں کے تدریجی آزاد ہونے کے لیے کئی طریقے مقرر فرمائے ہیں:

غلاموں کی لازمی آزادی:

بعض مذہبی اور قانونی حالات غلام کی آزادی کا سبب بنتے تھے، جیسے بعض گناہوں اور جرائم کا کفارہ (مثلاً قتل، قسم توڑنا، ظہار، اور جان بوجھ کر روزہ توڑنا)، نذر کو پورا نہ کرنا، یا بعض جاہلیت کے رسوم۔ نیز زکوٰۃ کے اخراجات میں سے، "ام ولد" (وہ لونڈی جس سے مالک کے اولاد ہو) کی وراثت، رشتہ داروں کی ملکیت میں آنا، عضو کی خرابی، سخت بیماری، مالک کی موت کے بعد اس کی وصیت، یا غلام غیر مسلم کے مسلمان ہونے سے آزادی ممکن تھی۔

ترغیبی طریقے:

  • عتق: غلام کو رضاکارانہ طور پر آزاد کرنا، جو ایک مستحب عمل ہے اور احادیث میں اس کے لیے جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات جیسے اجر بیان ہوئے ہیں۔
  • مکاتبہ: ایک ایسا معاہدہ جس کے تحت غلام ایک مقررہ رقم ادا کر کے اپنی آزادی حاصل کر سکتا تھا نیز مالک کو اس معاہدے کو فسخ کرنے کا حق حاصل نہ تھا۔

غلام کے آزاد ہونے کے بعد، آزاد کرنے والے اور آزاد ہونے والے کے درمیان ایک خاص قانونی اور سماجی تعلق قائم ہو جاتا تھا جسے ولاء عتق کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں، اگر غلام کا کوئی نسبی وارث نہ ہوتا تو آزاد کرنے والا اس کا وارث بنتا تھا نیز "ضمان جریرہ" (غیر عمدی جرائم کی دیت کی ادائیگی) کا ذمہ دار ہوتا تھا۔

اسلام میں غلامی کا اخلاقی پہلو

اسلام نے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے نیز سورہ نساء کی آیت 36 میں ان کے ساتھ احسان کو والدین کے ساتھ احسان کے ہمرکاب ذکر کیا گیا ہے۔ اسلامی احادیث میں بھی غلاموں کے حقوق، ان کے کھانے پینے اور لباس کی فراہمی، ان سے محبت اور جذباتی تعلق رکھنے نیز ان پر ظلم کرنے سے پرہیز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے بہترین انسان اس شخص کو قرار دیا ہے جو اپنے غلاموں کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہو۔

پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ معصومینؑ کا غلاموں کے ساتھ برتاؤ

تاریخی اور حدیثی منابع میں پیغمبر اسلام ﷺ اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ برتاؤ کے واقعات درج ہیں۔ وہ ان کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے، مشکل کاموں میں ان کی مدد کرتے، تحقیر آمیز لہجے میں بات نہیں کرتے تھے نیز انہیں تعلیم دیتے تھے۔ بعض آزاد کردہ غلام بعد میں علمی اور سماجی شخصیات بن گئے۔

معصومین علیہم السلام کی ایک سنت غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا بھی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے تمام غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کر دیا تھا نیز آپ ﷺ کی رحلت کے وقت کوئی غلام یا لونڈی آپ کی میراث میں نہیں چھوڑی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق، حضرت علی علیہ السلام نے تقریباً ایک ہزار غلاموں کو خرید کر آزاد کیا۔ اسی طرح امام سجاد علیہ السلام نے بھی قریب ایک ہزار غلام آزاد کیے۔

شیعہ ائمہ علیہم السلام میں سے سات کی مائیں لونڈیاں تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بات نسب اور سماجی حیثیت کے بجائے فضیلت اور تقویٰ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے نیز اس زمانے کے معاشرے میں نسل پرستی اور طبقاتی امتیاز کو کم کرنے میں مؤثر رہی ہے۔