مسودہ:سورہ نساء آیت نمبر 157
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | نساء |
| آیت نمبر | 157 |
| پارہ | 6 |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | حضرت عیسی کا انجام |
سورہ نساء کی آیت نمبر 157 یہودیوں کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے جس میں انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو قتل کیے جانے کے بعد انہیں صلیب پر چڑھائے جانے کی بات کی ہے۔ یہ آیت اس دعوے کو ان کے دیگر بعض اعمال کی طرح ان امور میں شمار کرتی ہے جو ان پر عذاب الٰہی کے مستحق ہونے کا سبب بنے۔ شیعہ مفسرین کے مطابق واقعہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰؑ سے مشابہت رکھنے والے ایک شخص کو ان کی جگہ قتل کیا گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا ہے، جبکہ سورہ نساء کی آیت 158 میں حضرت عیسیٰؑ کے خدا کی طرف بلند کیے جانے اور دشمنوں سے نجات پانے کا ذکر ہے۔
مفسرین قرآن کے مطابق سورہ نساء کی آیت نمبر 157 اور 158 حضرت عیسیٰؑ کے انجام کے بارے میں یہودیوں اور مسیحیوں کے مختلف نظریات کو بیان کرتی ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالی نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مختلف آراء کو محض گمان پر مبنی اور علم و یقین سے خالی قرار دیا ہے۔
حضرت عیسیٰؑ کے قتل کے عقیدے کی نفی
سورہ نساء کی آیت نمبر 157 یہودیوں کے اس دعوے کی تردید کرتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو قتل کیے جانے کے بعد انہیں صلیب پر چڑھایا گیا ہے۔[1] شیخ طوسی کے مطابق یہ آیت، سورہ نساء کی آیت نمبر 155 اور 156 کے ساتھ مل کر اہل کتاب کے بعض گناہوں اور ان اعمال کو بیان کرتی ہے جن کی وجہ سے وہ عذابِ الٰہی کے مستحق ٹھہرے ہیں۔[2] اس کے بعد سورہ نساء کی آیت نمبر 158 میں حضرت عیسیٰؑ کے خدا کی طرف عروج اور دشمنوں کے ہاتھوں سے نجات پانے کا ذکر کیا گیا ہے۔[3]
شیعہ مفسر جوادی آملی کے مطابق بنی اسرائیل کی سابقہ تاریخ، خصوصاً انبیاء کے قتل کے سلسلے میں ان کے رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے، حضرت عیسیٰؑ کو قتل کیے جانے کا دعویٰ بھی ان کے کفر آمیز عقائد میں شمار ہوتا ہے۔[4] بعض مفسرین نے حضرت عیسیٰؑ کے قتل اور انہیں صلیب پر چڑھایے جانے دونوں کی بیک وقت نفی کو اس دعوے کی مکمل تردید قرار دیا ہے۔[5] اسی طرح بعض مفسرین کے نزدیک یہودیوں کے نقل شدہ کلام میں لفظ ’’رسولُ اللہ‘‘ کا استعمال طنز یا حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کی تحقیر کے طور پر کیا گیا ہے۔[6]
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾
اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے خدا کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان پر اصل معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ یقینا اس کے متعلق شک میں ہیں اور انہیں گمان کی پیروی کرنے کے سوا کوئی علم نہیں ہے۔ اور انہوں نے یقینا ان کو قتل نہیں کیا۔
سورہ نساء آیت نمبر 157
شیعہ مفسر محمد صادقی تہرانی کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کے عدم قتل کے بارے میں قرآن کا جو نظریہ ہے وہ بعض مسیحی دانشوروں اور مسیحی فرقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔[7]
حضرت عیسیٰؑ سے مشابہ شخص
اکثر مفسرین نے آیت کے جملے ’’ولکن شُبِّه لهم‘‘ کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے بجائے کسی دوسرے شخص کو قتل یا سولی پر چڑھایا گیا ہے؛ گویا حضرت عیسیٰؑ کی جگہ اسے قتل یا سولی پر چڑھایا گیا۔[8] بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ رومی سپاہی حضرت عیسیٰؑ کے چہرے سے پوری طرح واقف نہیں تھے، اس لیے انہوں نے کسی دوسرے شخص کو حضرت عیسیٰؑ سمجھ لیا۔[9] علامہ طباطبائی نے ایک اور احتمال بھی نقل کیا ہے۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ عیسیٰ نام کے دو افراد آپس میں مشتبہ ہوگئے ہوں، جن کے درمیان تقریباً پانچ سو سال کا فاصلہ تھا۔ ان میں سے ایک نبی برحق تھا، جسے قتل نہیں کیا گیا، جبکہ دوسرا جھوٹا مدعی تھا جسے سولی دی گئی۔[10]
شیخ طبرسی کے مطابق بعض لوگوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کی حضرت عیسیٰؑ کے مصلوب ہونے کی خبر کو متواتر قرار دے کر واقعۂ صلیب کے وقوع پر دلیل بنایا ہے؛ لیکن طبرسی کے نزدیک اس بات کا امکان موجود ہے کہ مصلوب کیے جانے والے شخص کی شناخت میں غلطی ہوئی ہو۔[11] جوادی آملی نے بھی ان روایات کو متواتر قرار دینے کو قبول نہیں کیا، کیونکہ اس واقعے کے عینی گواہوں کی تعداد محدود تھی۔[12]
امام محمد باقرؑ سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ آسمان کی جانب حضرت عیسیٰؑ کے عروج کی رات ان کے ایک ساتھی نے حضرت عیسیٰؑ کی خواہش پر ان کی جیسی شکل اختیار کرلی۔ عروج حضرت عیسیٰؑ کے بعد یہودیوں نے اسی شخص کو قتل کرکے سولی پر چڑھا دیا۔[13]
حضرت مسیحؑ کے بارے میں اختلاف
سورہ نساء کی آیت نمبر 157 میں حضرت عیسیٰؑ کے قتل اور انہیں سولی دیے جانے کی نفی کرنے کے بعد ان کے بارے میں لوگوں کے اختلاف اور محض گمان پر قائم عقائد کو بے اعتبار قرار دیا گیا ہے۔[14] مفسرین نے اس اختلاف کے موضوع کے بارے میں دو بنیادی نظریات بیان کیے ہیں؛ پہلا نظریہ: اختلاف حضرت عیسیٰؑ کے مقام و مرتبے کے بارے میں تھا؛ یہودیوں نے ان کی نبوت کو قبول نہیں کیا، جبکہ عیسائیوں نے ان کے مقام و مرتبے میں غلو کیا۔ دوسرا نظریہ: اختلاف حضرت عیسیٰؑ کے قتل کیے جانے کے بارے میں تھا۔ کچھ لوگ انہیں مقتول سمجھتے تھے، جبکہ کچھ دوسرے اس نظریے کو قبول نہیں کرتے تھے۔ مذکورہ آیت دونوں صورتوں میں اس اختلاف کو محض گمان اور علم و یقین سے عاری امر قرار دیتی ہے۔[15]
حوالہ جات
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، 305ـ306؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص198۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج3، ص382۔
- ↑ مغنیہ، تفسیر کاشف، 1424ھ، ج2، ص485۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص308ـ309۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج5، ص132۔
- ↑ مغنیہ، تفسیر کاشف، 1424ھ، ج2، ص484 ـ 485؛ صادقی تہرانی، الفرقان، 1406، ج7، ص424۔
- ↑ صادقی تہرانی، الفرقان، 1406ھ، ج7، ص428 ـ 429۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص306؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص198۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج5، ص132۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1352شمسی، ج5، ص133۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج3، ص234ـ235۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص313۔
- ↑ حویزی، نور الثقلین، 1373شمسی، ج1، ص569۔
- ↑ جوادی آملی، تسنیم، 1394شمسی، ج21، ص310ـ311۔
- ↑ رضایی اصفہانی، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج4، ص367۔
مآخذ
- جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، ج21، قم، مرکز نشر اسراء، 1394ہجری شمسی۔
- حویزی، عبدعلی بن جمعہ، نور الثقلین، قم، اسماعیلیہ، 1373ہجری شمسی۔
- رضایی اصفہانی، محمدعلی، تفسیر قرآن مہر، قم، عصر ظہور، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، تاریخ اشاعت درج نہیں۔
- صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنہ، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1406ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1352ہجری شمسی۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1415ھ۔
- مغنیہ، محمدجواد، التفسیر الکاشف، ایران، دار الکتاب الاسلامی، 1424ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔