مسودہ:امت مسلمہ
امتِ مسلمہ، عقیدے کی بنیاد پر مسلمانوں کے مجموعے کو کہا جاتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام مسلمان ایک امت شمار ہوتے ہیں اور ان کے درمیان وحدت، اخوت اور باہمی ذمہ داری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ امتِ مسلمہ کا تصور قرآن کریم، اسلامی سیاسی فکر اور بالخصوص امام خمینی کے نظریات میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
تعریف اور مبانی
امتِ مسلمہ سے مراد عقیدے کی بنیاد پر مسلمانوں کی اجتماعی وحدت کو کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اسلام قومی اور جغرافیائی حدود کو—جو عصرِ حاضر میں مسلمانوں کی تقسیم کا سبب بنی ہوئی ہیں—ثانوی حکم کے طور پر تسلیم کرتا ہے، تاہم اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمانوں کو تدریجاً ایک متحد اور منظم امت کی صورت اختیار کرنی چاہئے۔[1]
قرآن کریم کی متعدد آیات میں مسلمانوں کو امت واحدہ کے طور پر متعارف کراتے ہوئے ایک متحد معاشرے اور الٰہی حکومت کے قیام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[2] ان آیات کی روشنی میں امتِ مسلمہ کا قیام صرف ایک سماجی تصور نہیں بلکہ ایک دینی ہدف سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے گیارہویں مادے میں امتِ مسلمہ کے اتحاد پر صراحت کے ساتھ تاکید کی گئی ہے۔ اس شق کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عمومی پالیسی کو امتِ مسلمہ کی وحدت اور یگانگت کی بنیاد پر استوار کرے اور عالمِ اسلام کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی وحدت کے تحقق کے لیے مسلسل کوشش کرے۔[3]
امام خمینی کے افکار میں امت مسلمہ کا تصور
امتِ مسلمہ کا تصور امام خمینی کے سیاسی و فکری نظام میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ عالم اسلام کی مثالی صورت کو امتِ مسلمہ کے مفہوم میں دیکھتے تھے اور اس کے عملی تحقق کے لیے نظری اور عملی دونوں سطحوں پر کوشاں رہے۔[4]
امام خمینی کے نزدیک امتِ مسلمہ کے قیام کے لیے انفرادیت، نسل پرستی اور قوم پرستی کے محدود دائروں سے باہر نکلنا، ظلم و جور کی روک تھام، مشترکہ اعتقادات کی بنیاد پر اتحاد، اور ایک عظیم الٰہی مقصد کے لیے محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنا ناگزیر ہے۔[5]
امام خمینی اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی اور فکری تعلقات کے حامی تھے تاکہ قرآن اور پیغمبر اکرمؐ جیسے مشترکہ اصولوں اور مفادات کی بنیاد پر ایک واحد امتِ مسلمہ کا ظہور ممکن ہو اور عالمِ اسلام کے مسائل حل کیے جا سکیں۔[6] ان کے مطابق اسلامی ممالک پر مشتمل ایک مؤثر طاقت اور بلاک کی تشکیل، عالمِ اسلام کے واحد معاشرے کے قیام کی راہ ہموار کرتی ہے۔[7]
امام خمینی خودمختار اسلامی ریاستوں کے وجود کو امتِ مسلمہ کے قیام میں رکاوٹ نہیں سمجھتے تھے؛ تاہم ان کے نزدیک یہ ریاستیں اسلامی اصولوں کی پابند اور اسلام کے مفادات کی تابع ہونی چاہئیں۔[8]
امام خمینی کے نزدیک مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کی بیداری، نیز استعماری قوتوں کے منصوبوں کے مقابلے میں ہوشیاری، اسلامی ممالک کی پسماندگی کے اسباب کی درست شناخت اور دینی و قرآنی تعلیمات کی جامع معرفت پر موقوف ہے۔[9]
حوالہ جات
- ↑ دہقانی فیروزآبادی، سیاست خارجی جمہوری اسلامی ایران، ص167۔
- ↑ قصص، 5؛ انبیاء، 105۔
- ↑ اصل 11 امت واحد اسلامی
- ↑ بابایی زارچ، امت و ملت در اندیشہ امام خمینی، ص187۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ، ج20، ص344؛ چہل حدیث، ص309–310۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ، ج7، ص199۔
- ↑ دہقانی فیروزآبادی، سیاست خارجی جمہوری اسلامی ایران، ص352۔
- ↑ بابایی زارچ، امت و ملت در اندیشہ امام خمینی، ص294۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ، ج7، ص392–393۔
مآخذ
- قرآن کریم.
- سیدروحاللہ، امامخمینی، شرح چہل حدیث، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امامخمینی، چوتھی اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
- سیدروحاللہ، امامخمینی، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امامخمینی، پانچویں اشاعت، 1389ہجری شمسی۔
- علیمحمد، بابایی زارچ، امام خمینی کے افکار میں امت و ملت، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، پہلی اشاعت، 1383ہجری شمسی۔
- سیدجلال، دہقانی فیروزآبادی، اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی، تہران، سمت، تیسری اشاعت، 1389ہجری شمسی۔