مندرجات کا رخ کریں

صارف:Mohsin/تختہ مشق 2

ویکی شیعہ سے

الْحَسَنُ وَ الْحُسَینُ إِمَامَانِ قَامَا أَوْ قَعَدَا رسول اکرمؐ سے مروی ایک حدیث ہے جو امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی امامت کی طرف اشارہ کرتی ہے، چاہے وہ قیام کریں یا قعود (بیٹھ جائیں)۔ یہ حدیث حسنین علیہما السلام کی امامت پر نص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس حدیث میں "قیام" سے مراد امام حسینؑ کا حق کے قیام اور ظلم کی نابودی کے لیے مبارزہ ہے اور "قعود" سے مراد امام حسن علیہ السلام کا معاویہ کے ساتھ صلح کرنا ہے۔

حدیث کا یہ مضمون شیعہ امامیہ، زیدیہ اور اسماعیلیہ منابع میں تین روایات کے ساتھ آیا ہے: پہلی، امام حسن علیہ السلام سے جو معاویہ کے ساتھ صلح کی حکمت بیان کرتے ہوئے؛ دوسری، ابوایوب انصاری سے جنگ جمل میں امام علی علیہ السلام کی حقانیت بیان کرنے کے لیے؛ اور تیسری، ابوذر غفاری سے رسول خداؐ کی آخری عمر کے دنوں میں۔ محدثین نے اس حدیث کو صحیح، مشہور، دوسری روایات کے ذریعے تأیید شدہ قرار دیا ہے یہ حدیث مسلمانوں کے یہاں مورد اجماع احادیث میں سے بھی شمار ہوتی ہے۔

حدیث کی مختلف روایات اور اہمیت

حدیث "الْحَسَنُ وَ الْحُسَینُ إِمَامَانِ قَامَا أَوْ قَعَدَا"؛ امام حسنؑ اور امام حسینؑ دونوں امام ہیں چاہے قیام کریں یا صلح کریں؛ پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے۔[1] یہ حدیث شیخ صدوق،[2] شیخ مفید،[3] خَزّاز قمی،[4] ابن‌ عُقده کوفی [5]اور قاضی نعمان مغربی[6] کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔

شیخ صدوق کی کتاب میں منقول ایک روایت کے مطابق، امام حسنؑ نے معاویہ کے ساتھ صلح کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں اس حدیث کا حوالہ دیا اور اپنی صلح کو "قعود" کا مصداق قرار دیا۔[7] ابن عقده کوفی کی روایت میں، جنگ جمل کے دوران بعض لوگوں نے ابو ایوب انصاری پر اعتراض کیا کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کیوں جنگ کررہے ہیں؛ تو انہوں نے یہ حدیث سنائی۔[8] خزاز قمی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ابوذر غفاری نے رسول اکرمؐ کی آخری عمر میں آنحضرتؐ سے یہ حدیث سنی تھی۔[9] ابن عقده، خزاز قمی اور قاضی نعمان[10] کی روایات میں "و أَبوهما خیرٌ منهما؛ اور ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے" کا جملہ بھی آیا ہے۔

شیخ مفید نے روایت کو "ابْنَای هَذَانِ إِمَامَانِ قَامَا أَوْ قَعَدَا؛ میرے یہ دونوں بیٹے امام ہیں چاہے وہ قیام کریں یا بیٹھ جائیں" کے الفاظ میں نقل کیا ہے[11] اور اسے حسنین علیہما السلام کی امامت پر نص قرار دیا ہے۔[12] اس حدیث کو شیعہ منابع میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی امامت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[13]

قیام اور قعود کا مفہوم

علامہ مجلسی نے روایت میں «قیام» (کھڑے ہونے) سے مراد امامت اور معاشرے کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنا لیا ہے جبکہ «قعود» (بیٹھنے) سے مراد کسی اعلیٰ مصلحت یا تقیّہ کی بنا پر اس ذمہ داری سے وقتی طور پر دستبردار ہونا بیان کیا ہے۔[14] مرتضی مطہری کے نزدیک قیام سے مراد امام حسینؑ کی انقلابی جدوجہد اور ظلم کے خلاف قیام ہے، جبکہ قعود سے مراد امام حسنؑ کا معاویہ کے ساتھ مصلحتاً صلح کرنا اور حالات کے مطابق انتظار کی روش اختیار کرنا ہے۔[15] شیعہ محقق راضی آل یاسین نے بھی اپنی "کتاب صلح الحسنؑ]] میں صلح کے اسباب کے تاریخی تجزیے کے ضمن میں اسی روایت سے استدلال کیا ہے۔[16]

روایت کی اسناد اور اعتبار

شیخ مفید اور قاضی نعمان نے اس روایت کی سند ذکر نہیں کی ہے؛[17] تاہم شیخ صدوق کی روایت میں ابنِ عقدہ کوفی اور خزّاز قمی کے ذریعے اس کی سند بیان کی گئی ہے۔[18] شیخ صدوق کی روایت ابو سعید عقیصا کے واسطے سے امام حسنؑ سے منقول ہے۔

ابنِ ابی جمہور نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔[19] علامہ مجلسی کے نزدیک بھی یہ روایت دیگر مستند اور مشہور روایات[20] سے تائید شدہ ہے۔[21] اسی طرح ابن شہرآشوب کے مطابق اس روایت کا رسول خداؐ سے منقول ہونا اہلِ قبلہ کے درمیان محلِ اجماع ہے۔[22]

حوالہ جات

  1. بحرانی اصفهانی، عوالم العلوم، ۱۳۸۲شمسی، ص۳۲۱.
  2. شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵شمسی، ج۱، ص۲۱۱.
  3. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۱، ص۳۰؛ شیخ مفید، الفصول المختارة، ۱۴۱۳ھ، ص۳۰۳.
  4. خزاز رازی، کفایة الاثر،‌ ۱۴۰۱ھ، ص۳۶-۳۸.
  5. ابن‌عقده کوفی، فضائل أمیر المؤمنین علیه‌السلام، ۱۴۲۴ھ، ص۱۶۶-۱۶۸.
  6. ابن‌حیون، دعائم الاسلام،‌ ۱۳۸۵ھ، ج۱، ص۳۷.
  7. شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵شمسی، ج۱، ص۲۱۱.
  8. ابن‌عقده کوفی، فضائل أمیر المؤمنین علیه‌السلام، ۱۴۲۴ھ، ص۱۶۶-۱۶۸.
  9. خزاز رازی، کفایة الاثر،‌ ۱۴۰۱ھ، ص۳۶-۳۸.
  10. ابن‌حیون، دعائم الاسلام،‌ ۱۳۸۵ھ، ج۱، ص۳۷.
  11. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۱، ص۳۰؛ شیخ مفید، الفصول المختارة، ۱۴۱۳ھ، ص۳۰۳.
  12. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۱، ص۳۰.
  13. طبرسی، إعلام الوری، ۱۳۹۰ھ، ص۲۱۰؛ شیخ حر عاملی، اثبات الهداة، ۱۴۲۵ھ، ج۲، ص۱۵۴ و ج۴، ص۳۳.
  14. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۴۴، ص۱۶.
  15. «بیانات در نشست سه‌جانبه با شهید مطهری و دکتر شریعتی»،‌ سایت دفتر حفظ و نشر آثار آیت الله خامنه‌ای.
  16. آل‌یاسین، صلح الحسن علیه‌السلام، ۱۴۱۲ھ، ص۱۹۹-۲۰۰.
  17. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ھ، ج۱، ص۳۰؛ شیخ مفید، الفصول المختارة، ۱۴۱۳ھ، ص۳۰۳.
  18. شیخ صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۲۱۱؛ ابن‌عقده کوفی، فضائل أمیر المؤمنین علیه‌السلام، ۱۴۲۴ھ، ص۱۶۶؛ خزاز رازی، کفایة الاثر،‌ ۱۴۰۱ھ، ص۳۶ و ص۱۱۴.
  19. ابن‌ابی‌جمهور، عوالی اللئالی، ۱۴۰۵، ج۳، ص۱۲۹-۱۳۰.
  20. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۴۳، ص۲۷۸.
  21. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳۵، ص۲۶۶.
  22. ابن‌شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۳۹۴؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۴۳، ۲۹۱.

مآخذ

  • آل‌یاسین، راضی، صلح الحسن علیه‌السلام، بیروت، الاعلمی فی المطبوعات، ۱۴۱۲ق.
  • ابن‌ابی‌جمهور، محمد بن زین الدین، عوالی اللئالی العزیزیة فی الأحادیث الدینیة، قم،‌ دار سیدالشهداء، ۱۴۰۵ق.
  • ابن‌حیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الإسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الاحکام،‌ قم، آل البیت، ۱۳۸۵ق.
  • ابن‌شهرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی‌طالب، قم، علامه، ۱۳۷۹ق.
  • ابن‌عقده کوفی، احمد بن محمد، فضائل أمیر المؤمنین علیه‌السلام، قم، دلیل ما، ۱۴۲۴ق.
  • بحرانی اصفهانی، عبد الله بن نورالله، عوالم العلوم و المعارف والأحوال- الإمام علی بن أبی طالب علیه‌السلام، قم، مؤسسة الإمام المهدی عجّل الله تعالی فرجه الشریف، ۱۳۸۲ش.
  • «بیانات در نشست سه‌جانبه با شهید مطهری و دکتر شریعتی»،‌ سایت دفتر حفظ و نشر آثار آیت الله خامنه‌ای، تاریخ بازدید ۱۷ دی ۱۴۰۲ش.
  • خزاز رازی، علی بن محمد، کفایة الأثر فی النصّ علی الأئمة الإثنی عشر،‌ قم، بیدار، ۱۴۰۱ق.
  • شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، إثبات الهداة بالنصوص و المعجزات، بیروت، الاعلمی فی المطبوعات، ۱۴۲۵ق.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، قم، کتابفروشی داوری، ۱۳۸۵ش.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الفصول المختارة، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الهدی، تهران،‌ اسلامیه، ۱۳۹۰ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.