مندرجات کا رخ کریں

صارف:Mohsin/تختہ مشق 2

ویکی شیعہ سے
سید عبد الرحیم موسوی
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ
کوائف
آبائی شہرقم
ملکایران
تاریخ/مقام شہادت28 فروری 2026ء
دیناسلام
مذہبشیعہ
سیاسی کوائف
پیشرومحمد باقری
علمی و دینی معلومات


سید عبد الرحیم موسوی (19960–2026ء) المعروف سرلشکر موسوی، ایران کے اعلیٰ فوجی افسر اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ تھے۔ وہ 28 فروری سنہ 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے دوران تہران میں ہونے والے دفاعی کونسل کے اجلاس میں علی شمخانی، محمد پاکپور اور عزیز نصیر زادہ کے ہمراہ شہید ہوئے۔[1]

تہران اور قم میں ان کی تشییع جنازہ ہوئی؛ بعد از آں ان کے جسد خاکی کو 3 اپریل سنہ 2026ءکو حرم حضرت معصومہؑ کے صحن امام ہادیؑ (عتیق) میں محمد سعید ایزدی کے پہلو میں دفن کیا گیا۔[2]

سپہ سالار موسوی کی آواز:
«میں ایک ایرانی سپاہی ہوں۔ اگر میں اس قوم اور اس کے عقائد کی خاطر ہزار مرتبہ بھی مارا جاؤں، تب بھی مجھے اس قوم کی محبت میں دوبارہ زندہ ہو کر اس کے دشمنوں سے لڑنا اور شہید ہونا پسند ہے۔ اے ایرانی قوم! میں دل کی گہرائیوں سے آپ سے محبت کرتا ہوں۔»

سید عبد الرحیم موسوی ستمبر 2005ء سے جولائی 2016ء تک ایرانی بری فوج کے نائب کمانڈر اور ایرانی افواج کے اسٹریٹجک مطالعاتی مرکز کے سربراہ رہے۔ اس سے قبل وہ بری فوج میں منصوبہ بندی، پروگرام اور تربیت کے شعبوں میں نائب سربراہ کے عہدوں پر فائز رہے۔ 21 اگست سنہ 2017ء کو بریگیڈیئر جنرل سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انہیں ایرانی بری فوج کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔[3] 28 مئی 2019ء کو اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہوئے انہیں فضائی دفاعی کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کا کمانڈر بھی مقرر کیا گیا۔[4]

جون 2025ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ میں محمد باقری کی شہادت کے بعد ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر سید علی حسینی خامنہ ای (شہادت:یکم مارچ 2026ء) نے انہیں مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا سربراہ مقرر کیا؛[5] یہ منصب پہلی مرتبہ کسی بری فوج کے کمانڈر کو سونپا گیا تھا۔

سید عبد الرحیم موسوی سنہ 1960ء میں قم میں پیدا ہوئے[6] اور انہوں نے سنہ 1979ء میں ایرانی فوج میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے دفاعی نظم و نسق میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، سنہ 1997ء میں دافوس کورس سے فارغ التحصیل ہوئے اور امام علیؑ ملٹری یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔[7]

قم میں سید عبد الرحیم موسوی کی تشییع جنازہ (3 اپریل 2026ء)

عبد الرحیم موسوی نے ایران عراق جنگ کے دوران والفجر 4، والفجر 9، بیت المقدس 5، قادر اور نصر سمیت متعدد فوجی آپریشنز میں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 96 ماہ جنگی خدمات انجام دیں۔[8] وہ صہیونی حکومت اور امریکہ کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔ اپریل 2018ء میں ایک تقریر کے دوران انہوں نے کہا تھا:[9]

«ہم دفاعِ مقدس کے دور کی طاقت اور عوام کی راہیانِ نور، دفاعِ مقدس کے علاقوں اور دفاعِ مقدس کی تعلیمات سے وابستگی کے ذریعے امریکہ کو اس کی طاقت کے تخت پر شکست دینے میں کامیاب ہوں گے اور ان شاء اللہ صہیونی حکومت کی عمر 25 سال سے بھی کم کر دیں گے۔»[10]

حوالہ جات

  1. «سپہبد عبدالرحیم موسوی بہ شہادت رسید»، خبرگزاری ایلنا.
  2. «پیکر شہید سپہبد موسوی در حرم حضرت معصومہ(س) آرام گرفت»، خبرگزاری تسنیم.
  3. فرماندہ کل ارتش و جانشین رئیس ستاد کل نیروہای مسلح منصوب شدند، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای.
  4. «انتصاب فرماندہ قرارگاہ پدافند ہوایی خاتم‌الانبیاء و فرماندہ پدافند ہوایی ارتش»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای.
  5. «رہبر انقلاب اسلامی درپی شہادت سردار سپہبد محمدحسین باقری در حکمی امیر سرلشکر سید عبدالرحیم موسوی را بہ ریاست ستاد کل نیروہای مسلح منصوب کردند»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت‌اللہ العظمی خامنہ‌ای.
  6. «زندگینامہ-سید-عبدالرحیم-موسوی-1339»، ہمشہری آنلاین.
  7. «سوابق امیر موسوی فرماندہ جدید ارتش»، شبکہ العالم.
  8. امیر سید عبدالرحیم موسوی جانشین رئیس ستادکل نیروہای مسلح شد+سوابق، خبرگزاری فارس؛ سوابق سرلشکر «موسوی» فرماندہ جدید ارتش، خبرگزاری دفاع مقدس.
  9. بزرگ‌ترین آرمان و آرزویم محو و نابودی رژیم صہیونیستی است، خبرگزاری مہر.
  10. «عمر رژیم صہیونیستی را کمتر از 25 سال بہ پایان می‌رسانیم»، خبرگزاری مشرق.

مآخذ