صارف:Mohsin/تختہ مشق 2
ضامن آہو امام رضاؑ کے مشہور القابات میں سے ایک ہے۔ یہ لقب لوگوں میں رائج ایک معروف واقعے سے ماخوذ ہے، اگرچہ یہ واقعہ معتبر حدیثی مصادر میں موجود نہیں ہے۔ اس مشہور حکایت کے مطابق ایک آہو شکاری کے جال میں پھنس جاتا ہے اور اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے امام رضاؑ سے مدد طلب کرتا ہے۔ امام رضاؑ اس آہو کی ضمانت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلا کر دوبارہ شکاری کے پاس واپس آجائے۔ اس واقعے کا قدیم ترین اشارہ چوتھی صدی ہجری کے شاعر ابن حمّاد سے منسوب ایک شعر میں ملتا ہے۔
بعض محققین کے نزدیک اس لقب کی اصل بعض معتبر تاریخی واقعات ہیں، مثلاً امام رضاؑ کے روضۂ اقدس میں آہو کا پناہ لینا، یا سلطان سنجر کے بیٹے کے شفا پانے کا واقعہ، جس کے نتیجے میں امام رضاؑ کی قبر مبارک پر باقاعدہ بارگاہ تعمیر کی گئی۔ بعض روایات میں اس سے ملتے جلتے واقعات رسول اکرمؐ اور بعض دیگر ائمہؑ کے بارے میں بھی نقل ہوئے ہیں۔ ضامنِ آہو کا یہ واقعہ شیعہ ثقافت، شاعری، مصوری اور دیگر فنون پر گہرے اثرات چھوڑ چکا ہے۔ اس موضوع پر متعدد فن پارے تخلیق کیے گئے، جن میں ایران کے مشہور آرٹسٹ محمود فرشچیان کا وہ فن پارہ مشہورہے جسے "حریمِ حفاظت" فن پارہ کہا جاتا ہے۔
شیعہ ثقافت میں ضامنِ آہو
ضامنِ آہو امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کے مشہور القابات میں سے ایک ہے، جس کی بنیاد لوگوں میں مشہور ایک داستان پر ہے۔ref>میرآقایی، «ضامن آهو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص11.</ref> محققین کے مطابق یہ داستان معتبر تاریخی و حدیثی منابع میں موجود نہیں ہے۔[1] حیوانات کی حمایت کے حامل مضمون والی اس معروف روایت کے مطابق، ایک آہو شکاری کے قبضے میں تھا۔ اس نے امام رضاؑ سے عرض کی کہ اسے اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی اجازت دلوا دیں۔ امامؑ نے شکاری کے سامنے اس کی ضمانت دی۔ آہو اپنے بچوں کے پاس گیا، دودھ پلایا اور پھر وعدے کے مطابق واپس آگیا۔ شکاری اس وفاداری اور امامؑ کے مقام سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے آہو کو آزاد کر دیا۔[2]
کہا جاتا ہے کہ اس داستان کا سب سے قدیم ذکر (تفصیلات کے بغیر) چوتھی صدی ہجری کے امامی فقیہ علی بن حماد بصری کے ایک شعر میں ملتا ہے، جسے پہلی مرتبہ کتاب المناقب[3] میں نقل کیا گیا۔[4]
ترجمه: وہ علی بن موسیٰ ہیں جن کی پناہ میں سب لوگوں کے سامنے ایک آہو آگیا۔ وہ ہستی جن کے والد مرتضیٰ (امیر المؤمنین علیؑ) ہیں، جو عظمت، رفعت اور سربلندی کے مالک ہیں۔
امام رضاؑ کو ضامنِ آہو کے لقب سے خصوصاً ایران، برصغیر پاک و ہند اور دیگر بہت سے علاقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔[5] بعض دینی متون میں "ضامن" ہونے کا مفہوم آہو کی ضمانت نہیں بلکہ اپنے زائرین کی شفاعت کی ضمانت دینا بیان کیا گیا ہے۔[6]
معتبر مصادر میں موجود وہ واقعات جو ضامنِ آہو سے متعلق ہیں
احمد مہدوی دامغانی کے مطابق، امام رضاؑ کو ضامنِ آہو کہنے کی اصل وجہ ایک دوسرا واقعہ ہے، جو قدیم اور معتبر منابع میں موجود ہے۔[7] شیخ صدوق نے کتاب عیون اخبار الرضا میں نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ امام رضاؑ کی شہادت کے بعد آنحضرتؑ کے حرم میں رونما ہوا ہے۔ اس واقعے کے مطابق ابومنصور بن عبد الرزاق نامی ایک شخص ایک آہو کے شکار میں تھا۔ آہو بھاگتے ہوئے امام رضاؑ کے مزار کی دیوار تک پہنچا اور دیوار کے ایک شگاف میں داخل ہو کر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ شکاری نے اسے ایک الٰہی نشانی سمجھا اور اس کے بعد ہمیشہ امام رضاؑ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہا، جو قبول ہوتی رہیں۔[8]
علامه مجلسی نے بحار الانوار میں اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ نقل کیا ہے۔ ان کے مطابق سلطان سنجر کے زمانے میں سلطان یا اس کے ایک وزیر کا بیٹا بیمار تھا۔ وہ شکار کے دوران ایک ایسے آہو کے پیچھے آیا جو امام رضاؑ کے حرم میں پناہ لے چکا تھا۔ شہزادہ نے یہ منظر دیکھا، قبر مبارک پر حاضر ہوا اور اللہ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ اسی واقعے کے بعد سلطان سنجر نے امام رضاؑ کے مزار پر ایک عظیم بارگاہ تعمیر کروائی۔[9] بعض محققین اسی واقعے کو امام رضاؑ کے لقب "ضامنِ آہو" کی اصل بنیاد قرار دیتے ہیں۔[10]
واقعہ رونما ہونے کا مقام
مشہور روایت کے مطابق، آہو کی ضمانت کا واقعہ امام رضاؑ کے مرو کی جانب سفر کے دوران سمنان اور دامغان کے درمیان پیش آیا، اسی نسبت سے اس مقام کو "آہوان" کہا جانے لگا۔[11] البتہ اس نام کی دوسری وجوہ بھی بیان کی گئی ہیں، مثلاً؛ امام رضاؑ کا اس مقام پر چند آہوؤں سے گفتگو کرنا جنہوں نے آپؑ کو دشمنوں کی خبر دی،[12] یا اس علاقے میں آہوؤں کی کثرت ہونا وغیرہ۔[13]
دیگر معصومینؑ اور آہو کی ضمانت
امام رضاؑ کے علاوہ دیگر معصومینؑ کے بارے میں بھی آہو کی ضمانت کے واقعات نقل ہوئے ہیں، اگرچہ "ضامنِ آہو" کا لقب صرف امام رضاؑ کے ساتھ مشہور ہوا۔[14] فضل بن حسن طبرسی نے کتاب إعلامُ الوَریٰ میں رسول اکرمؐ کے بارے میں اسی نوعیت کا واقعہ نقل کیا ہے،[15] شیخ مفید نے کتاب الاِختصاص میں امام زین العابدینؑ کے متعلق ایک روایت بیان کی ہے[16] اور [محمد بن حسن صفار قمی|محمد بن حسن صفّار]] نے کتاب بَصائر الدَرَجات میں امام جعفر صادقؑ[17] کے بارے میں ایسا ہی واقعہ نقل کیا ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ مختلف معصومینؑ کے بارے میں اس کے مشابہ واقعات کا پیش آنا عقلاً ناممکن نہیں، بلکہ یہ ایک ممکن امر ہے۔[18]
اس واقعے کے ثقافت اور فن پر اثرات
ضامن آہو کی داستان نے ادب اور فن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔[19] یہ واقعہ داستان گوئی[20] پردہ خوانی[21] اور فارسی شاعری پر بڑے پیمانے پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔[22] آٹھویں صدی ہجری کے شاعر تاج الدین حسن بن سلیمان المعروف سلیمی تونی نے اس واقعے کو ایک منفرد انداز میں کربلا کے غم سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق، آہو نے امام رضاؑ سے دیر سے واپس آنے کی وجہ یہ بیان کی کہ جمعہ کے دن وہ حضرت امام حسینؑ کی مجلسِ عزا میں شریک ہوگیا تھا۔
[23] ترجمہ: آہو نے عرض کیا: آج جمعہ کا دن تھا، میں اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو دیکھا کہ جنگل کے تمام جانور حضرت امام حسینؑ کی عزاداری میں جمع ہیں۔ میں بھی ان کی مجلس میں شریک ہو گیا۔ اے مولا! میری تاخیر کی یہی ایک وجہ تھی۔ آپؑ کے قدموں کی خاک پر قربان، اے انسانوں اور جانوں کے بادشاہ!
ضامن آہو کے موضوع پر متعدد تصویری شاہکار بھی تخلیق کیے گئے ہیں، جن میں استاد محمود فرشچیان کا مشہور فن پارہ "حریمِ حفاظت" خاص شہرت رکھتا ہے۔[24] تیرہویں صدی ہجری اور اس سے پہلے کے شعراء کے کلام میں بھی امام رضاؑ کو "ضامن" کہا گیا ہے، لیکن چودھویں صدی ہجری کے بعد اس موضوع پر شاعری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔[25] ان میں سے ایک شاعر محمد یزدی نے یہ اشعار کہے ہیں:
ترجمہ: اگر تیری آنکھوں کا آہو دل چرا لے تو کیا غم، جب طوس کا بادشاہ خود ضامنِ آہو ہے۔
[27] ترجمہ: اے آہوں اور آہوؤں کے ضامن! آپ غزلوں کا حسین ترین مضمون ہیں۔ آپ کا عشق اشعار کی دھن ہے اور آپ کی یاد ضرب المثلوں کے ساز کی مضراب ہے۔ جب شکاری آپ جیسے ہوں تو دام سے رہائی کی آرزو بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ تمام معانی آپ کی معرفت پر حیران ہیں اور غزلوں کی ہر آہو آپ کے حسن و جاذبیت کی اسیر ہے۔ آپ کی بارگاہ پر حاضری نو بیاہتا دلہنوں کا سرمایۂ افتخار ہے اور آپ کی زیارت ان کی زندگی کی خوشیوں کا آغاز۔ بے شمار زائر اپنے دلوں کی آرزوئیں لے کر حاضر ہوتے ہیں؛ کوئی بوڑھا کسی کے سہارے اور کوئی بچہ اپنے والدین کی آغوش میں۔
حوالہ جات
- ↑ محمدی ریشهری و دیگران، حکمتنامه رضوی، 1393شمسی، ج1، ص26.
- ↑ میرآقایی، «ضامن آهو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص11.
- ↑ نگاه کنید به: ابنشهرآشوب، المناقب، 1379ھ، ج4، ص348.
- ↑ برجی، «آهو»، ص236-237.
- ↑ برجی، «آهو»، ص206.
- ↑ ملاحظہ کیجیے: علامه مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج53، ص315؛ جزائری، کشف الاسرار، 1408ھ، ج1، ص273؛ بحرانی اصفهانی، عوالم العلوم، 1413ھ، ج22، ص10.
- ↑ مهدوی دامغانی، چهار مقاله درباره مولی الموالی علی(ع) و داستان ضامن آهو، 1385شمسی، ص113.
- ↑ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ھ، ج2، ص285-286.
- ↑ علامه مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج48، ص328.
- ↑ الیوسفی الغروی، «شبهة و ردّ: السائح التائه»، ص199.
- ↑ حقیقت، «آهوان»، ص885.
- ↑ عرفانمنش، جغرافیای تاریخی هجرت امام رضا(ع) از مدینه تا مرو، 1376شمسی، ص116.
- ↑ «سفرنامه خراسان»، 1388شمسی، ص630.
- ↑ برجی، «آهو»، ص206.
- ↑ طبرسی، اعلام الوری، 1417ھ، ج1، ص81.
- ↑ شیخ مفید، الاختصاص، 1413ھ، ص299.
- ↑ صفار، بصائر الدرجات، 1404ھ، ص349.
- ↑ جزایری، ریاض الابرار، 1427ھ، ج2، ص21.
- ↑ خزائی و دیگران، «مقایسه ساختار و مفهوم در آثار نقاشی برگرفته از قصه ضامن آهو»، ص40.
- ↑ سیّدان، «نقالی»، ص553.
- ↑ محدثی، فرهنگ عاشورا، 1376شمسی، ص86.
- ↑ میرآقایی، «ضامن آهو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص15.
- ↑ شورای جهانی مراکز شیعی،https://www.wocoshiac.org/fa/shia-contex-fa/shiite-poems-and-poets/shiite-poems/zamene-ahoo
- ↑ خزائی و دیگران، «مقایسه ساختار و مفهوم در آثار نقاشی برگرفته از قصه ضامن آهو»، ص41.
- ↑ میرآقایی، «ضامن آهو و تجلی آن در شعر فارسی»، ص18.
- ↑ احمدی بیرجندی و نقویزاده، مدایح رضوی در شعر فارسی، 1377شمسی، ص132.
- ↑ https://kouchesaresher.blogfa.com/category/14
مآخذ
- ابنشهرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابیطالب(ع)، قم، علامه، 1379ق.
- احمدی بیرجندی، احمد، و سید علی نقویزاده، مدایح رضوی در شعر فارسی، مشهد، بنیاد پژوهشهای اسلامی، 1377ش.
- الیوسفی الغروی، محمدهادی، «شبهة و ردّ: السائِحُ التائِه»، در مجلۀ رسالة الثقلین، شماره 4، ذوالحجة 1413ق.
- «انیمیشن آقای مهربان شب میلاد امام رضا از شبکه پویا پخش میشود»، در خبرگزاری شبستان، تاریخ درج خبر: 20 اسفند 1391ش، تاریخ بازدید 16 فروردین 1405ش.
- برجی، یعقوبعلی، مدخل «آهو»، در دانشنامه امام رضا، قم، مرکز بین المللی ترجمه و نشر المصطفی، 1394ش.
- «تندیس طلایی هشتمین جشنواره پویانمایی به انیمیشن "آقای مهربان" رسید»، در خبرگزاری ایسنا، تاریخ درج خبر: 20 اسفند 1391ش، تاریخ بازدید 16 فروردین 1405ش.
- جزایری، سید نعمتالله، ریاض الابرار فی مناقب الائمة الاطهار، بیروت، مؤسسة التاریخ العربی، 1427ق.
- جزایری، سید نعمتالله، کشف الاسرار فی شرح الاستبصار، قم، مؤسسه دار الکتاب، 1408ق.
- حقیقت (رفیع)، عبدالرفیع، «آهوان»، وحید، شماره 46، مهر 1346ش.
- خزائی، محمد، و حجتالله حسنوند، و غلامعلی حاتم، و محمد عارف، «بررسی ارتباط آموزههای دینی با ساختار و مفهوم در قصه ضامن آهو»، در فصلنامه تخصصی زبان و ادب فارسی، شماره 52، پاییز 1401ش.
- خزائی، محمد، و حجتالله حسنوند، و غلامعلی حاتم، و محمد عارف، «مقایسه ساختار و مفهوم در آثار نقاشی برگرفته از قصه ضامن آهو»، در مجله پیکره، شماره 24، تابستان 1400ش.
- «سفرنامه خراسان»، در کتاب سفرنامههای خطی فارسی تألیف گروهی از نویسندگان، تهران، نشر اختران، 1388ش.
- سیّدان، مریم، «نقالی»، در جلد ششم از دانشنامه زبان و ادب فارسی، تهران، فرهنگستان زبان و ادب فارسی، 1384ش.
- شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الاختصاص، قم، المؤتمر العالمی لألفیة الشیخ مفید، 1413ق.
- شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا(ع)، تهران، جهان، 1378ق.
- صفار، محمدبنحسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد(ص)، قم، کتابخانه آیتالله مرعشی نجفی(ره)، 1404ق.
- طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری بأعلام الهدی، قم، مؤسسة آلالبیت(ع)، 1417ق.
- عرفانمنش، جلیل، جغرافیای تاریخی هجرت امام رضا(ع) از مدینه تا مرو، مشهد، بنیاد پژوهشهای اسلامی، 1376ش.
- علامه مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعة لدُرَر أخبار الائمه الأطهار(ع)، بیروت، دار اِحیاء التراث العربی، 1403ق.
- محدثی، جواد، فرهنگ عاشورا، قم، نشر معروف، 1376ش.
- محمدی ریشهری، محمد، و گروهی از پژوهشگران، حکمتنامه رضوی، قم، دار الحدیث، 1393ش.
- «معرفی انیمیشن بچه زرنگ»، سایت فیلیمو، تاریخ بازدید 13 شهریور 1403ش.
- بحرانی اصفهانی، عبدالله بن نورالله، عوالم العلوم و المعارف و الاحوال من الآيات و الاخبار و الاقوال، تحقیق: محمدباقر موحد ابطحی اصفهانی، قم، مؤسسة الامام المهدی(عج)، 1413ق.
- مهدوی دامغانی، احمد، چهار مقاله درباره مولی الموالی علی(ع) و داستان ضامن آهو، تهران، امیرکبیر، 1385ش.
- میرآقایی، سید هادی، «ضامن آهو و تجلی آن در شعر فارسی»، در مجله فرهنگ مردم، شماره 43 و 44، پاییز و زمستان 1391ش.