مندرجات کا رخ کریں

"علامہ حلی" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,141 بائٹ کا اضافہ ،  10 جنوری 2017ء
م
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 48: سطر 48:
علامہ حلی [[ایران]] کب تشریف لائے اس کی کوئی دقیق تاریخ مشخص نہیں۔ لیکن یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ سنہ 705 ہجری قمری میں انہوں نے سلسلہ [[ایلخانیان]] کے بادشاہ [[سلطان محمد خدابندہ]] کی دعوت پر ایران کا سفر کیا۔ [[تاج الدین آوی]] نے بادشاہ کے دربار میں علامہ حلی کی رسائی کیلئے زمینہ ہموار کیا۔ <ref>مستدرک الوسائل، ج ۲، ص۴۰۶</ref> علامہ حلی کی ایران میں داخلے کے بعد ایک دن کسی مجلس میں [[اہل سنت]] کے مذاہب اربعہ کے مختلف علماء منجملہ [[نظام الدین مراغہ ای|خواجہ نظام الدین عبدالملک مراغہ‌ای]] کے ساتھ مناظرہ کیا۔ ان مناظرے میں علامہ حلی نے [[امام علی(ع)]] کی [[ولایت]] و [[امامت]] اور مذہب [[شیعہ]] کی حقانیت کو پادشاہ کے سامنے ثابت کیا۔ یہ واقعہ پادشاہ کے مذہب شیعہ اختیار کرنے کا باعث بنا اور انہوں نے اپنا نام "الجایتو" سے سلطان محمد خدابندہ میں تبدیل کیا اور [[شیعہ]] مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا۔<ref>خوانساری، روضات الجنات، ج۲، ص ۲۷۹ و ۲۸۰</ref> مختلف تاریخی منابع میں سلطان محمد خدابندہ کی مذہب شیعہ اختیار کرنے میں علامہ حلی کے کردار کی طرف اشارہ ہوا ہے۔<ref>ابن بطوطہ، سفرنامہ، ج۲، ص ۵۷ و امین، اعیان الشیعہ، ج۲۴، ص ۲۳۱ بہ بعد</ref>
علامہ حلی [[ایران]] کب تشریف لائے اس کی کوئی دقیق تاریخ مشخص نہیں۔ لیکن یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ سنہ 705 ہجری قمری میں انہوں نے سلسلہ [[ایلخانیان]] کے بادشاہ [[سلطان محمد خدابندہ]] کی دعوت پر ایران کا سفر کیا۔ [[تاج الدین آوی]] نے بادشاہ کے دربار میں علامہ حلی کی رسائی کیلئے زمینہ ہموار کیا۔ <ref>مستدرک الوسائل، ج ۲، ص۴۰۶</ref> علامہ حلی کی ایران میں داخلے کے بعد ایک دن کسی مجلس میں [[اہل سنت]] کے مذاہب اربعہ کے مختلف علماء منجملہ [[نظام الدین مراغہ ای|خواجہ نظام الدین عبدالملک مراغہ‌ای]] کے ساتھ مناظرہ کیا۔ ان مناظرے میں علامہ حلی نے [[امام علی(ع)]] کی [[ولایت]] و [[امامت]] اور مذہب [[شیعہ]] کی حقانیت کو پادشاہ کے سامنے ثابت کیا۔ یہ واقعہ پادشاہ کے مذہب شیعہ اختیار کرنے کا باعث بنا اور انہوں نے اپنا نام "الجایتو" سے سلطان محمد خدابندہ میں تبدیل کیا اور [[شیعہ]] مذہب کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا۔<ref>خوانساری، روضات الجنات، ج۲، ص ۲۷۹ و ۲۸۰</ref> مختلف تاریخی منابع میں سلطان محمد خدابندہ کی مذہب شیعہ اختیار کرنے میں علامہ حلی کے کردار کی طرف اشارہ ہوا ہے۔<ref>ابن بطوطہ، سفرنامہ، ج۲، ص ۵۷ و امین، اعیان الشیعہ، ج۲۴، ص ۲۳۱ بہ بعد</ref>


===علامہ حلی کا مشہور مناظرہ===<!--
===علامہ حلی کا مشہور مناظرہ===
[[محمدعلی مدرس تبریزی|میرزا محمدعلی مدرس]] در کتاب [[ریحانۃ الادب]] بہ نقل از [[علامہ مجلسی]] در شرح [[من لایحضرہ الفقیہ]] می‌نویسد: روزی سلطان [[اولجایتو|الجایتو محمد مغولی]] مجلسی تشکیل داد و علمای [[اہل سنت]] را جمع کرد و علامہ حلی را نیز فرا خواند. علامہ در ہنگام ورود کفش خود را زیر بغل گرفت و بہ سلطان سلام کرد و در کنار او نشست. بہ او گفتند چرا بہ سلطان [[سجدہ]] و ادب نکردی؟ گفت: حضرت [[پیامبر(ص)|رسول‌اللہ]] سلطان‌السلاطین بود و مردم بہ او سلام می‌کردند و در [[آیہ]] شریفہ ہم آمدہ است «{{حدیث|فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّۃ مِّنْ عِندِ اللَّہ مُبَارَكَۃ طَيِّبَۃ}}».<ref>چون بہ خانہ‌‏ہايى [كہ گفتہ شد] درآمديد بہ يكديگر سلام كنيد، درودى كہ نزد خدا مبارك و خوش است (نور: ۶۱).</ref> علاوہ بر اینکہ در میان ما و شما اختلافی نیست کہ سجدہ مخصوص [[خدا]]ست.
[[محمدعلی مدرس تبریزی|میرزا محمدعلی مدرس]] اپنی کتاب [[ریحانۃ الادب]] میں [[علامہ مجلسی]] سے کتاب [[من لایحضرہ الفقیہ]] کی شرح میں لکھتے ہیں: ایک دن [[اسلطان محمد خدا بندہ]] نے ایک مجلسی منعقد کیا اور [[اہل سنت]] کے بڑے بڑے علماء کو مدعو کیا نیز علامہ حلی کو بھی اس مجلس میں دعوت دی گئی۔ علامہ حلی نے مجلس میں داخل ہوتے وقت جوتے اپنی بغل میں رکھ کر پادشاہ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ درباریوں نے علامہ سے پوچھا کہ کیوں آپ نے پادشاہ کو [[سجدہ]] اور احترام نہیں کیا؟ اس موقع پر علامہ نے جواب دیا: [[پیغمبر اکرم(ص)]] تمام پادشاہوں کے پادشاہ تھے اور انہیں سب سلام کرتے تھے اور قرآن میں بھی آیا ہے کہ "{{حدیث|فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّۃ مِّنْ عِندِ اللَّہ مُبَارَكَۃ طَيِّبَۃ|ترجمہ= جب م گھر میں داخل ہو جاؤ تو ایک دوسرے کو سلام کیا کرو! یہ سلام خدا کے نزدیک مبارک اور پسندیدہ ہے}}" <ref> سورہنور/آیت نمبر61۔</ref> اس کے علاوہ ہمارے اور تمہارے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سجدہ صرف [[خدا]] کے ساتھ مختص ہے۔


گفتند چرا کنار سلطان نشستی؟ گفت: چون غیر از آنجا جای خالی ندیدم و [[حدیث]] نبوی است کہ در حین ورود بہ مجلس، ہرجای خالی یافتی بنشین. گفتند: نعلین چہ ارزشی داشت کہ آن را بہ مجلس سلطان آوردی؟ گفت: ترسیدم حنفی‌مذہب آن را بدزدد چنان‌کہ رئیسشان کفش پیامبر(ص) را دزدید. حنفی‌ہا معترض شدند کہ [[ابوحنیفہ]] در زمان آن حضرت وجود نداشتہ است. علامہ گفت فراموشم شد! گویا دزد کفش، شافعی بودہ است.
انہوں نے کہا پس کیوں تم پادشاہ کے قریب جا کر بیٹھ گئے ہو؟ علامہ نے جواب دیا: کیونکہ اس کے علاوہ کوئی جگہ خالی نہیں تھی اور حدیث میں آیا ہے کہ جب تم کسی مجلس میں جاؤ تو جہاں کہیں جگہ خالی ہو وہیں بیٹھ جاؤ۔ پوچھا گیا: ان جوتوں کی کیا حیثیت تھی کہ تم اسے پادشاہ کے دربار میں لے آئے ہو؟ علامہ نے جواب دیا: مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ مذہب حنفی والے میرے جوتے چوری نہ کر لیں جس طرح ان کے پیشواؤں نے پیغمبر اکرم(ص) کی جوتیاں چوری کی تھیں۔ یہ سنا تھا کہ مذہب حنفی کے ماننے والوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ [[ابوحنیفہ]] تو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں موجود نہیں نہیں تھا۔ علامہ نے کہا معاف کیجئے گا مجھ سے غلطی ہوگئی وہ شخص شافعی تھا، اس طرح یہ گفتگو اور اعتراض شافعی، مالکی اور جنبلیوں کے ساتھ تکرار ہوا۔ اس موقع پر علامہ حلی نے پادشاہ کی طرف رخ کر کے کہا: اب حقیقت روشن ہو گئی کہ مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کا پیشوا پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں موجود نہیں تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نظریات ان کی اپنی اختراع ہے اس کا وحی اور پیغمبر اکرم(ص) کے تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن مذہب [[شیعہ]] جو [[امام علی(ص)|امیرالمؤمنین]] حضرت علی(ع) کے پیروکار ہیں جو پیغمبر اکرم(ص) کے وصی، جانشین اور نفس پیغمبر ہیں۔ علامہ نے اس مناظرہ کے آخر میں ایک نہایت فصیح اور بلیغ [[خطبہ]] بھی دیا جس سننے کے بعد پادشاہ نے مذہب شیعہ اختیار کیا۔<ref>مدرس، ریحانۃ الادب، ج ۳ و ۴، ص۱۶۹.</ref>


ہمین گفتگو و اعتراض دربارہ شافعیان، مالکیان و حنبلیان تکرار شد. علامہ رو بہ سلطان کرد و گفت: حالا مکشوف شد کہ ہیچ‌یک از رؤسای مذاہب اربعہ در زمان پیامبر(ص) نبودہ است و آرای آنان، رأی و نظر اختراعی خودشان است؛ اما مذہب [[شیعہ]] تابع [[امیرالمؤمنین]] است کہ وصی و برادر آن حضرت بودہ و بہ منزلہ نفس و جان وی است. علامہ در ادامۂ مناظرہ [[خطبہ]] بلیغی خواند و سلطان در انتہای مناظرہ شیعہ شد.<ref>مدرس، ریحانۃ الادب، ج ۳ و ۴، ص۱۶۹.</ref>
علامہ سلطان محمد خدابندہ کی وفات تک ایران ‌میں مقیم رہے اور مذہب حقہ کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران میں اقامت کے دوران علامہ حلی پادشاہ کے تمام مسافرتوں میں ہمراہ رہے اور ان کی ہی تجویز پر پادشاہ نے ایک سیار مدرسہ بھی تاسیس ہوا یوں علامہ جہاں بھی جاتے خیمہ نصب کئے جاتے یوں علامہ درس و تدریس میں مشغول ہو جاتے تھے۔<ref>خواندمیر، تاریخ حبیب السیر، ج۳، ص ۱۹۷ و شوشتری، مجالس المؤمنین، ج۲، ص ۳۶۰</ref>


علامہ تا زمان مرگ سلطان محمد خدابندہ در ایران ‌ماند و بہ نشر معارف و فرہنگ تشیع ‌پرداخت. ہمچنین در ہمہ سفر‌ہا ہمراہ سلطان بود و بہ پیشنہاد او مدرسہ سیاری از خیمہ و چادر ساختہ ‌شد تا در مواقع سفر حمل شدہ و در ہرکجا کہ کاروان اقامت نمود، علامہ بہ تدریس و مباحثہ بپردازد.<ref>خواندمیر، تاریخ حبیب السیر، ج۳، ص ۱۹۷ و شوشتری، مجالس المؤمنین، ج۲، ص ۳۶۰</ref>
==اساتذہ==
 
{{ستون آ|4}}
==اساتید==
*[[شیخ یوسف سدید الدین]] (والد علامہ)
{{ستون-شروع|4}}
*[[شیخ یوسف سدید الدین]] (پدرش)
*[[محقق حلی‏]]
*[[محقق حلی‏]]
*[[سید بن طاووس|سید رضی الدین علی بن طاووس]]‏
*[[سید بن طاووس|سید رضی الدین علی بن طاووس]]‏
سطر 74: سطر 72:
*[[شیخ فاروقی واسطی]]
*[[شیخ فاروقی واسطی]]
*[[شیخ تقی الدین عبداللہ بن جعفر کوفی]]
*[[شیخ تقی الدین عبداللہ بن جعفر کوفی]]
{{پایان}}
{{ستون خ}}


==شاگردان==
==شاگرد==
{{ستون-شروع|3}}
{{ستون آ|3}}
برخی از شاگردان او عبارت‌اند از:
علامہ کے بعض شاگردوں کے اسامی درج ذیل ہیں:
*محمد بن حسن بن یوسف حلی،[[فخرالمحققین]]  (فرزند علامہ)
*محمد بن حسن بن یوسف حلی،[[فخرالمحققین]]  (فرزند علامہ)
*[[سید عمیدالدین عبدالمطلب]] (خواہرزادہ‌اش)‏
*[[سید عمیدالدین عبدالمطلب]] (بھانجہ)‏
*[[سید ضیا الدین عبداللہ حسینی اعرجی حلی]] (خواہرزادہ‌اش)
*[[سید ضیا الدین عبداللہ حسینی اعرجی حلی]] (بھانجہ)
* سید محمد بن قاسم حسنی مشہور بہ [[ابن معیہ]]‏
* سید محمد بن قاسم حسنی معروف بہ [[ابن معیہ]]‏
*[[رضی الدین ابوالحسن علی بن احمد حلی]]
*[[رضی الدین ابوالحسن علی بن احمد حلی]]
*[[قطب الدین رازی]]
*[[قطب الدین رازی]]
سطر 89: سطر 87:
*[[تقی الدین ابراہیم بن حسین آملی]]
*[[تقی الدین ابراہیم بن حسین آملی]]
*[[محمد بن علی جرجانی]]
*[[محمد بن علی جرجانی]]
{{پایان}}
{{ستون خ}}
==تالیفات==
==تالیفات==<!--
{{اصلی|آثار علامہ حلی}}
{{اصلی|آثار علامہ حلی}}
[[پروندہ:محل مقبرہ علامہ حلی در حرم حضرت علی.jpg|بندانگشتی|نقشہ محل مقبرہ علامہ حلی در [[حرم امیرالمومنین]]]]
[[پروندہ:محل مقبرہ علامہ حلی در حرم حضرت علی.jpg|بندانگشتی|نقشہ محل مقبرہ علامہ حلی در [[حرم امیرالمومنین]]]]
confirmed، templateeditor
8,966

ترامیم