مندرجات کا رخ کریں

"عمرۃ القضاء" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  11 اکتوبر 2020ء
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 4: سطر 4:
   
   
==وجہ تسمیہ==
==وجہ تسمیہ==
[[سنہ 7 ہجری قمری|7ھ]]<ref>بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۵۳۔</ref> کو [[پیغمبر اسلامؐ]] مسلمانوں کے ساتھ [[حج]] اور عُمرے کی نیت سے [[مکہ]] تشریف لے گئے۔<ref>ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۵۵۔</ref> یہ حج اور عُمرہ چونکہ پچھلے سال کے حج اور عمرے کی قضا محسوب ہوتی تھی اس لئے اسے "عمرۃ القضاء" کہا جاتا ہے۔<ref> مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۲، ص۱۰۷۔</ref>
[[سنہ 7 ہجری قمری|7ھ]]<ref>بلاذری، أنساب الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۵۳۔</ref> کو [[پیغمبر اسلامؐ]] مسلمانوں کے ساتھ [[حج]] اور عُمرہ کی نیت سے [[مکہ]] تشریف لے گئے۔<ref>ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۵۵۔</ref> یہ حج اور عُمرہ چونکہ پچھلے سال کے حج اور عمرہ کی قضا محسوب ہوتی تھی اس لئے اسے "عمرۃ القضاء" کہا جاتا ہے۔<ref> مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۲، ص۱۰۷۔</ref>


پچھلے سال یعنی [[سنہ 6 ہجری قمری|6ھ]] کو مسلمان [[عمرہ مفردہ|عُمرہ]] کی نیت سے [[مکہ]] چلے گئے تھے؛<ref>ابن‌کثیر،‌ البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۴۔</ref> لیکن مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیا۔ آخر کار مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح ہوئی جو [[صلح حدیبیہ]] کے نام سے مشہور ہے۔ اس صلح‌نامے کے تحت یہ طے پایا کہ مسلمان اس سال واپس مدینے چلے جائیں گے اور اگلے سال یعنی 7ھ کو حج اور عمرہ انجام دینے کیلئے مکہ آ سکتے ہیں۔<ref>بیہقی، دلائل النبوۃ، ۱۴۰۵ق، ج۴، ص۱۴۵۔</ref>
پچھلے سال یعنی [[سنہ 6 ہجری قمری|6ھ]] کو مسلمان [[عمرہ مفردہ|عُمرہ]] کی نیت سے [[مکہ]] چلے گئے تھے؛<ref>ابن‌کثیر،‌ البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۱۶۴۔</ref> لیکن مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیا۔ آخر کار مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح ہوئی جو [[صلح حدیبیہ]] کے نام سے مشہور ہے۔ اس صلح‌نامے کے تحت یہ طے پایا کہ مسلمان اس سال واپس مدینے چلے جائیں گے اور اگلے سال یعنی 7ھ کو حج اور عمرہ انجام دینے کیلئے مکہ آ سکتے ہیں۔<ref>بیہقی، دلائل النبوۃ، ۱۴۰۵ق، ج۴، ص۱۴۵۔</ref>
confirmed، templateeditor
9,292

ترامیم