مندرجات کا رخ کریں

"حضرت ایوب" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,748 بائٹ کا اضافہ ،  4 جولائی 2020ء
سطر 63: سطر 63:
عہد عتیق کی 39 کتابوں میں سے ایک کتاب ایوب ہے۔ اس کتاب میں خدا کی طرف سے حضرت ایوب کو عطا کی گئی نعمات،<ref>کتاب مقدس، ایوب، ۱:۱-۶</ref> ان سے امتحان لئے جانے کی داستان، شیطان کا ان کے بدن اور مال دو دولت پر مسلط ہونا<ref>کتاب مقدس، ایوب، ۱-۲۔</ref> اور بعض جوانوں کا حضرت ایوب سے خطا سرزند کا اعتراف لینے کی کوشش<ref>کتاب مقدس، ایوب، ۳-۲۷۔‌</ref> وغیره سے بحث ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عہد عتیق میں قرآن کے برخلاف حضرت ایوب کو ایک بے صبر اور ناشکر انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔<ref> کلباسی، «نقد و بررسی آرای مفسران در تفسیر آیہ ۴۴ سورہ ص و تازیانہ‌زدن ایوب بہ ہمسرش»، ص۱۲۰۔</ref> اسی طرح کتاب مقدس حضرت ایوب کی قسم کی داستان ذکر نہیں ہوئی ہے۔<ref> کلباسی، «نقد و بررسی آرای مفسران در تفسیر آیہ ۴۴ سورہ ص و تازیانہ‌زدن ایوب بہ ہمسرش»، ص۱۲۰۔</ref>
عہد عتیق کی 39 کتابوں میں سے ایک کتاب ایوب ہے۔ اس کتاب میں خدا کی طرف سے حضرت ایوب کو عطا کی گئی نعمات،<ref>کتاب مقدس، ایوب، ۱:۱-۶</ref> ان سے امتحان لئے جانے کی داستان، شیطان کا ان کے بدن اور مال دو دولت پر مسلط ہونا<ref>کتاب مقدس، ایوب، ۱-۲۔</ref> اور بعض جوانوں کا حضرت ایوب سے خطا سرزند کا اعتراف لینے کی کوشش<ref>کتاب مقدس، ایوب، ۳-۲۷۔‌</ref> وغیره سے بحث ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عہد عتیق میں قرآن کے برخلاف حضرت ایوب کو ایک بے صبر اور ناشکر انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔<ref> کلباسی، «نقد و بررسی آرای مفسران در تفسیر آیہ ۴۴ سورہ ص و تازیانہ‌زدن ایوب بہ ہمسرش»، ص۱۲۰۔</ref> اسی طرح کتاب مقدس حضرت ایوب کی قسم کی داستان ذکر نہیں ہوئی ہے۔<ref> کلباسی، «نقد و بررسی آرای مفسران در تفسیر آیہ ۴۴ سورہ ص و تازیانہ‌زدن ایوب بہ ہمسرش»، ص۱۲۰۔</ref>


==فلسفہ ابتلاء==
حضرت ایوب کی بیماری اور اولاد سے محروم ہونا خدا کی طرف سے ایک امتحان تھا۔ اہل سنت مفسر قُرطُبی کے مطابق حضرت ایوب کی حالت ان امتحانات سے پہلے، امتحانات کے دوران اور امتحانات کے بعد، یکسان تھی یعنی ہر حال میں آپ خدا کا شکر ادا کرتے رہے۔<ref>قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۶، ص۲۱۶۔</ref> اسی طرح [[علامہ طباطبایی]] نے ایک حدیث نقل کی ہے اس کے مطابق حضرت ایوب پر آنے والی مصیبت کی علت یہ تھی کہ لوگ ان کے بارے میں [[ربوبیت]] کا دعوا نہ کریں اور خدا کی طرف سے عطا کرده نعمتوں کو دیکھ کر خود ان کو خدا نہ سمجھ بیٹھیں؛ اسی طرح اس کا ایک اور فلسفہ یہ بھی تھا کہ ان کو دیکھ کر دوسرے عبرت حاصل کریں اور کسی کمزور، فقیر یا بیمار شخص کو اس کی ضعیفی، فقر و تنگدستی اور بیماری کی وجہ سے پست نہ سمجھیں کیونکہ ممکن ہے خدا اس کمزور شخص کو طاقتور، فقیر کو غنی اور بیمار شخص کو صحت و سلامتی عنایت کرے؛ اور یہ بھی جان لیں کہ یہ خدا ہی ہیں جو جس کو چاہے مریض کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ انبیاء میں سے کیوں نہ ہو ارو جس کو چاہے شفا عطا کرتا ہے۔<ref> طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۷، ص۲۱۴-۲۱۷۔</ref>
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات2}}
{{حوالہ جات2}}
confirmed، templateeditor
9,251

ترامیم