مندرجات کا رخ کریں

"معانی الاخبار (کتاب)" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
imported>Mabbassi
imported>Mabbassi
سطر 27: سطر 27:
{{ستون خ}}
{{ستون خ}}


== خصویات ==
== خصوصیات ==
<!--
اس کتاب کی تالیف میں شیخ صدوق نے مخصوص طریقہ تالیف کو اختیار کیا جو قابل توجہ ہے:
روش شیخ صدوق در نگارش کتاب معانی الاخبار دارای ویژگی‌ہا و موارد قابل توجہی است:
* بعض احادیث و روایات کے معانی کا اپنے اساتید سے استفسار،
* اذعان صدوق بہ پرسیدن معانی برخی اخبار و احادیث از اساتید خویش
* حدیث سننے کے مقام اور وقت کا بیان،
* بیان و مکان زمان استماع حدیث
* لغویوں کے قول سے استناد کرنا،
* استناد بہ اقوال لغویین
* صدوق کے استدلالات [[کلام|کلامی]]  
* استدلالات [[کلام|کلامی]] صدوق
* [[آل یاسین]] کی قرآت میں روایات کا ذکر،
* ذکر روایاتی در قرائت [[آل یاسین]]
* دیگر مآخذوں کی طرف ارجاع دینا
* ارجاع بہ کتب و منابع دیگر
* اپنے معنائے مقصود کی تصحیح کیلئے [[اہل سنت]] کی مشہور احادیث کو شیعہ طریق سے نقل کرنا،
* ذکر احادیث مشہور [[اہل سنت]] از طریق شیعہ و تصحیح معنای مقصود از آن
* روایات کے [[اقسام حدیث|اسناد]] کی بحث۔<ref>صمد عبداللہی عابد، معانی الاخبار و سبک مؤلف در نگارش آن، ۱۳۸۶ش.</ref>
* بحث پیرامون اسناد روایات.<ref>صمد عبداللہی عابد، معانی الاخبار و سبک مؤلف در نگارش آن، ۱۳۸۶ش.</ref>


== اعتبار و ارزش‏ کتاب ==
== اعتبار و اہمیت ==
مصحح کتاب در ابتدای آن می‌نویسد:
اس کتاب کی تصحیح کرنے والے نے کتاب کے آغاز میں لکھا:
::''اہمیت این کتاب در جہت موضوع آن در میان دیگر آثار شیخ صدوق می‌باشد؛ چرا کہ این کتاب در مقام بیان مفاہیم احادیث و مشکلات اخبار از زبان [[اہل بیت]] است... و روزگار کتابی مانند این در این زمینہ بہ خود ندیدہ و بر سبک آن کتابی نوشتہ نشدہ و فواید آن در غیر آن یافت نمی‌شود''.<ref>صدوق، معانی الاخبار، ۱۳۷۹ق، ص۴.</ref>
::'''موضوع کے لحاظ سے یہ کتاب شیخ صدوق کی دیگر تالیفات میں اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ کتاب احادیث کے مفاہیم کے بیان اور اہل بیت کی مشکل احادیث کے بیان میں لکھی گئی ہے اور اس موضوع میں ایسی کتاب ابھی تک نہیں لکھی گئی اور نہ ہی اس روش کے کے مطابق تالیف ہوئی ہے نیز اس میں موجود فوائد دیگر کتب میں موجود نہیں ہیں۔'''<ref>صدوق، معانی الاخبار، ۱۳۷۹ق، ص۴.</ref>


معانی الأخبار مانند دیگر کتاب‏ہای شیخ صدوق، پیوستہ مورد توجہ علما و فقہای شیعہ قرار داشتہ و از معتبرترین اصول روایی شیعہ بہ شمار می‌‏آید و روایات آن در بسیاری از مجموعہ‏‌ہای بزرگ روایی شیعہ مانند [[کتب اربعہ]]، [[بحار الانوار]]<ref>مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ ق، ج۱، ص۷.</ref> و [[وسائل الشیعۃ]]<ref>حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ ق، ج۱، ص۵۳، ۶۰، ۶۹ و...</ref> آمدہ و بہ آن استناد شدہ است.[[پروندہ:ترجمہ معانی الاخبار.jpg|بندانگشتی|150px|معانی الاخبار ترجمہ شیخی]]
[[شیخ صدوق]] کی معانی الأخبار انکی دیگر تالیفات کی مانند مسلسل علما اور شیعہ فقہا کی نگاہ میں مخصوص اہمیت کی حامل رہی ہے بلکہ اسے ایک [[شیعہ]] کی معتبر اصول روائی میں سے سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب کی [[روایات]] دیگر بڑے  حدیثی مجموعوں جیسے  [[کتب اربعہ]] اور [[بحار الانوار]] میں مذکور ہوئی ہیں۔<ref>مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ ق، ج۱، ص۷.</ref> و [[وسائل الشیعۃ]]<ref>حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۱۴ ق، ج۱، ص۵۳، ۶۰، ۶۹ و...</ref>
== پژوہش‌ہای پیرامون کتاب ==
== کتاب کی تحقیقات ==
[[آقا بزرگ تہرانی]] کتابی را بہ داوود بن حسن بن یوسف اوالی بحرانی نسبت دادہ کہ ''معانی الاخبار'' را بر اساس حروف الفبا تنظیم کردہ است.<ref>تہرامی، الذریعہ، ج۲۱، ص۲۲۶.</ref>ہمچنین کتاب ''شرح معانی الاخبار'' توسط [[ملا عبدالنبی طسوجی|ملا عبدالنبی طَسّوجی]] نگاشتہ شدہ است.<ref>تہرانی، الذریعہ، ج۱۴، ص۷۲.</ref>
[[آقا بزرگ تہرانی]] داوود بن حسن بن یوسف اوالی بحرانی سے منسوب ایک کتاب ذکر کی اور کہا : اس کتاب میں '''معانی الاخبار''' کی احادیث کو الف با کی ترتیب کے مطابق لکھا گیا۔<ref>تہرامی، الذریعہ، ج۲۱، ص۲۲۶.</ref>ہمچنین کتاب ''شرح معانی الاخبار'' توسط [[ملا عبدالنبی طسوجی|ملا عبدالنبی طَسّوجی]] نگاشتہ شدہ است.<ref>تہرانی، الذریعہ، ج۱۴، ص۷۲.</ref>


این کتاب توسط توسط آقا محمد ابراہیم بن محمدعلی آبادی یزدی<ref>تہرانی، الذریعہ، ج۲۶، ص۲۰۳.</ref> و عبدالعلی محمدی شاہرودی بہ فارسی ترجمہ شدہ است. ہمچنین ترجمہ‌ای نیز توسط حمیدرضا شیخی انجام شدہ است.<ref>صدوق، معانی الاخبار، حمیدرضا شیخی، قم، فکرآوران، ۱۳۸۹ش.</ref>
اس کتاب کو محمد ابراہیم بن محمدعلی آبادی یزدی نے تحقیق کیا<ref>تہرانی، الذریعہ، ج۲۶، ص۲۰۳.</ref> اور عبدالعلی محمدی شاہرودی نے اسے فارسی میں ترجمہ کیا۔اسی طرح ایک اور فارسی ترجمہ حمیدرضا شیخی نے کیا۔<ref>صدوق، معانی الاخبار، حمیدرضا شیخی، قم، فکرآوران، ۱۳۸۹ش.</ref>
 
== طباعت اور مخطوطات ==
*  [[مشہد مقدس]] کے [کتابخانہ آستان قدس رضوی]] میں  [[شیخ حر عاملی]] کے ہاتھ کا لکھاہ ہوا ایک نسخہ موجود ہے۔
*  [[علامہ طباطبایی]] کے کتابخانے میں موجود نسخے کو  محمد بن محمد محسن بن مرتضی مشہور بنام '''علم الہدی''' ۱۰۷۳ق کے ساتھ میزان اور تصحیح کیا گیا ۔
* [[کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی]] میں موجود خطی نسخہ.<ref>صدوق، معانی الاخبار، ۱۳۷۹ق، مقدمہ کتاب.</ref>{{سخ}}
یہ کئی مرتبہ ایران طبع ہو چکی ہے۔


== نسخہ‏‌ہا و چاپ ==
* نسخہ‌ای در [[کتابخانہ آستان قدس رضوی]] در [[مشہد مقدس]]. این نسخہ بہ خط [[شیخ حر عاملی]] می‌‏باشد.
* نسخہ‏‌ای در کتابخانہ [[علامہ طباطبایی]]. این نسخہ را محمد بن محمد محسن بن مرتضی مشہور بہ علم الہدی در تاریخ ۱۰۷۳ق تصحیح و مقابلہ نمودہ است.
* نسخہ ‏اى در [[کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی]].<ref>صدوق، معانی الاخبار، ۱۳۷۹ق، مقدمہ کتاب.</ref>{{سخ}}
این کتاب بارہا در ایران چاپ شدہ است.
-->
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات|2}
{{حوالہ جات|2}
گمنام صارف