مندرجات کا رخ کریں

"امام جعفر صادق علیہ السلام" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>E.musavi
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 8: سطر 8:
  | منصب          =[[شیعوں]] کے چھٹے امام
  | منصب          =[[شیعوں]] کے چھٹے امام
  | کنیت          =ابو عبد اللہ
  | کنیت          =ابو عبد اللہ
  | تاریخ ولادت    =[[17 ربیع الاول]]، 83 ھ۔
  | تاریخ ولادت    =[[17 ربیع الاول]] 83 ھ
  | جائے ولادت      =[[مدینہ]]
  | جائے ولادت      =[[مدینہ]]
  | مدت امامت      =34 سال ([[سنہ 114ھ|114ھ]] تا [[سنہ 148ھ|148ھ]])
  | مدت امامت      =34 سال ([[سنہ 114ھ|114ھ]] تا [[سنہ 148ھ|148ھ]])
سطر 22: سطر 22:
  | عمر            =65 سال
  | عمر            =65 سال
}}
}}
'''جعفر بن محمد''' <small>([[سنہ 83 ہجری قمری|83]]-[[سنہ 148 ہجری قمری|148ھ]])</small>، '''امام جعفر صادقؑ''' کے نام سے مشہور، [[شیعہ|شیعوں]] کے چھٹے اور [[اسماعیلی|اسماعیلیوں]] کے پانچویں [[امام]] ہیں۔ آپ کی امامت 34 سالوں (114-148ھ) پر محیط تھی جس میں [[بنی امیہ]] کے آخری پانچ خلفا یعنی [[ہشام بن عبدالملک]] سے آخر تک اور [[بنی عباس]] کے پہلے دو خلفا [[سفاح]] اور [[منصور دوانیقی]] بر سر اقتدار رہے ہیں۔ آپ کی [[امامت]] کے دوران چونکہ بنی امیہ اپنے زوال کے ایام سے گذر رہی تھی اسلئے آپ کو دوسرے [[ائمہ]] کی بنسبت زیادہ علمی امور کی انجام دہی کا موقع ملا۔ آپ کے شاگردوں اور راویوں کی تعداد 4000 ہزار تک بتائی گئی ہیں۔ [[اہل بیتؑ]] سے منسوب احادیث میں سے اکثر احادیث امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہیں اسی بنا پر شیعہ مذہب کو [[مذہب جعفریہ]] کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔<br />
'''جعفر بن محمد''' (83۔148 ھ) '''امام جعفر صادقؑ''' کے نام سے مشہور، اپنے والد [[امام محمد باقر (ع)]] کے بعد [[شیعہ اثنا عشری]] کے چھٹے [[امام]] ہیں۔ آپ کی مدت [[امامت]] 34 سال (114-148 ھ) تھی۔ جس میں [[بنی امیہ]] کے آخری پانچ خلفا [[ہشام بن عبدالملک]] سے آخر تک اور [[بنی عباس]] کے پہلے دو خلفا [[سفاح]] اور [[منصور دوانیقی]] آ کے معاصر ہیں۔ آپ کو حکومت کے ضعف کی وجہ سے دوسرے [[ائمہ]] کی بنسبت زیادہ علمی امور کی انجام دہی کا موقع ملا۔ آپ کے شاگردوں اور راویوں کی تعداد 4000 ہزار تک بتائی گئی ہیں۔ [[اہل بیتؑ]] سے منسوب احادیث میں سے اکثر امام صادقؑ سے نقل ہوئی ہیں۔ اسی بنا پر شیعہ مذہب کو [[مذہب جعفریہ]] کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
امام صادقؑ کو [[اہل سنت]] کے فقہی پیشواؤں کے ہاں بھی بڑا مقام حاصل ہے۔ [[ابوحنیفہ]] آپ کو مسلمانوں میں سب سے زیادہ علم و معرفت کا حامل سمجھتے تھے۔  
 
امام صادقؑ کو [[اہل سنت]] کے فقہی پیشواؤں کے یہاں بھی بڑا مقام حاصل ہے۔ ابو حنیفہ و مالک بن انس نے آپ سے روایت نقل کی ہے۔ [[ابو حنیفہ]] آپ کو [[مسلمانوں]] کے درمیان سب سے بڑا عالم سمجھتے تھے۔  
 
[[بنی امیہ]] کی حکومت رو بزوال ہونے نیز [[امامیہ|شیعوں]] کی جانب سے حاکم وقت کے خلاف قیام کرنے کی دعوت کے باوجود آپ نے قیام نہیں فرمایا۔ [[ابومسلم خراسانی]] اور [[ابوسلمہ]] کی طرف سے خلافت کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق درخواست کو بھی آپ نے رد فرمایا۔ اسی طرح اپنے چچا [[زید بن علی]] کی تحریک میں بھی آپ شریک نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے پیروکاروں کو بھی قیام کرنے سے پرہیز کرنے کی سفارش فرماتے تھے۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود حاکمان وقت کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ یہاں تک کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے آپ [[تقیہ]] کیا کرتے تھے اور اپنے پیروکاروں کو بھی تقیہ کرنے کی سفارش فرماتے تھے۔<br />
[[بنی امیہ]] کی حکومت رو بزوال ہونے نیز [[امامیہ|شیعوں]] کی جانب سے حاکم وقت کے خلاف قیام کرنے کی دعوت کے باوجود آپ نے قیام نہیں فرمایا۔ [[ابومسلم خراسانی]] اور [[ابوسلمہ]] کی طرف سے خلافت کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق درخواست کو بھی آپ نے رد فرمایا۔ اسی طرح اپنے چچا [[زید بن علی]] کی تحریک میں بھی آپ شریک نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے پیروکاروں کو بھی قیام کرنے سے پرہیز کرنے کی سفارش فرماتے تھے۔ لیکن ان سب چیزوں کے باوجود حاکمان وقت کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ یہاں تک کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے سیاسی دباؤ کی وجہ سے آپ [[تقیہ]] کیا کرتے تھے اور اپنے پیروکاروں کو بھی تقیہ کرنے کی سفارش فرماتے تھے۔<br />
امام صادقؑ نے زیادہ سے زیادہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ رابطے میں رہنے، درپیش شرعی سوالات کا جواب دینے، وجوہات شرعیہ کے دریافت اور اپنے پیروکاروں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے [[وکالت|وکالتی]] نظام تشکیل دیا۔ اس نظام میں آپ کے بعد آنے والے اماموں کے دور میں وسعت آتی گئی یہاں تک کہ [[غیبت صغرا]] کے دور میں عروج پر پہنچ گیا۔ آپ کے دور امامت میں [[غالی|غالیوں]] کی فعالیتوں میں بھی شدت آگئی۔ جس کی وجہ سے آپ نے اس سوچ کے خلاف نہایت سخت اقدامات انجام دیئے یہاں تک کہ غالیوں کو [[کافر]] اور [[مشرک]] قرار دیا۔<br />
امام صادقؑ نے زیادہ سے زیادہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ رابطے میں رہنے، درپیش شرعی سوالات کا جواب دینے، وجوہات شرعیہ کے دریافت اور اپنے پیروکاروں کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے [[وکالت|وکالتی]] نظام تشکیل دیا۔ اس نظام میں آپ کے بعد آنے والے اماموں کے دور میں وسعت آتی گئی یہاں تک کہ [[غیبت صغرا]] کے دور میں عروج پر پہنچ گیا۔ آپ کے دور امامت میں [[غالی|غالیوں]] کی فعالیتوں میں بھی شدت آگئی۔ جس کی وجہ سے آپ نے اس سوچ کے خلاف نہایت سخت اقدامات انجام دیئے یہاں تک کہ غالیوں کو [[کافر]] اور [[مشرک]] قرار دیا۔<br />
گمنام صارف