صارف:E.musavi

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

زین العابدین کے معنی عبادت گزاروں کی زینت کے ہیں اور یہ شیعوں کے چوتھے امام، امام علی بن الحسین علیہ السلام کے مشہور ترین القاب میں سے ہے۔

امام علی بن حسین کو کثرت زہد و عبادت کے سبب زین العابدین کا لقب عطا کیا۔ اہل سنت فقیہ و محدث مالک بن انس سے نقل ہوا ہے کہ امام روز و شب میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، ان کی عبادت کی وجہ سے انہیں زین العابدین کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سے نقل ہوا ہے کہ تاریخ اسلام میں ان کے علاوہ کسی اور کو یہ لقب عطا نہیں ہوا ہے۔

کتاب علل الشرایع میں منقول روایت کے مطابق: دوسری صدی ہجری سے ہی امام سجاد علیہ السلام کو زین العابدین کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اہل سنت فقیہ و محدث شہاب زہری جب بھی امام علی بن الحسین سے کوئی روایت نقل کرتے تھے تو انہیں زین العابدین کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ سفیان بن عیینہ (107۔198 ھ) نے ان سے سوال کیا کہ کیوں آپ انہیں زین العابدین کہتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ایک حدیث کی طرف اشارہ کیا: روز قیامت جب منادی ندا دے گا کہ زین العابدین کہاں ہیں؟ تو گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے فرزند علی بن الحسین صفوں کے درمیان سے چلے آ رہے ہیں۔

کتاب کشف الغمہ میں نقل ہوا ہے کہ آپ کو زین العابدین کے لقب سے ملقب ہونے کا سبب یہ ہے کہ ایک شب آپ محراب عبادت میں نماز تہجد پڑھنے میں مشغول تھے کہ شیطان ایک بڑے اژدھے کی شکل میں ظاہر ہوا تا کہ آپ کی عبادت میں خلل ڈال سکے۔ امام (ع) نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اس نے آپ کے انگوٹھے پر کاٹا۔ آپ نے پھر بھی توجہ نہیں کی۔ جب نماز تمام ہوئی تو آپ نے دیکھا کہ شیطان ہے تو آپ نے اس کی مذمت کی اور اسے بھگا کر دوبارہ نماز میں مشغول ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے ایک آواز سنی جس میں تین بار ندا دے کر کہا گیا: انت زین العابدین (آپ عبادت کرنے والوں کی زینت ہیں) اس واقعہ کے بعد سے عوام میں یہ بات مشہور ہو گئی اور آپ کو زین العابدین کہا جانے لگا۔


حوالہ جات


مآخذ

  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمہ فی معرفة الأئمہ، رضی، ۱۴۲۱ ھ
  • ذهبی، محمد بن احمد، العبر فی خبر من غبر، تحقیق ابو هاجر محمد سعید بن بسیونی زغلول، بیروت، دار الکتب العلمیہ، بی‌تا.
  • صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، قم، کتاب‌ فروشی، ۱۳۸۵ش/۱۹۶۶ ء
  • قرشی، باقر شریف، حیاة الامام زین العابدین، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۹ ھ