صارف:E.musavi

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

موسی بن مہدی بن منصور (145۔170 ھ)، ہادی عباسی کے نام سے مشہور، سلسلہ حکومت بنی عباس کا چوتھا خلیفہ تھا جس نے تقریبا 14 ماہ حکومت کی۔ اس کی حکومت میں سادات و شیعہ تحت نظر تھے اور ان کو ملنے والے وظیفے قطع ہوگئے تھے۔ اس کے دور حکومت میں مدینہ میں قیام صاحب فخ وجود میں آیا۔ جسے اس نے سرکوب کر دیا۔ ہادی عباسی کی نظر میں قیام صاحب فخ میں علویوں کی تحریک کے اصلی محرک امام موسی کاظم (ع) تھے۔ لہذا جیسا کہ بعض منابع میں ذکر ہوا ہے، وہ آپ کے قتل کے درپئے تھا، لیکن اسے عملی کرنے سے پہلے وہ خود ہی اس دنیا سے چلا گیا۔ اس نے زنادقہ سے برخورد کے سلسلہ میں اپنے باپ مہدی عباسی کی سیاست پر عمل کیا اور ان میں سے بہت سے افراد کو تہہ تیغ کیا۔

تاریخی منابع کے مطابق، ہادی عباسی چاہتا تھا کہ وہ ہارون کے بجائے اپنے کمسن بیٹے جعفر کو ولی عہد مقرر کرے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس کے بعد اس کا بھائی ہارون خلیفہ بنا۔

سوانح حیات

موسی بن مہدی بن منصور، جس کا لقب ہادی ہے، سفاح، منصور دوانیقی اور مہدی عباسی کے بنی عباس کا چوتھا خلیفہ تھا۔ اس کا باپ مہدی عباسی اور ماں ایک کنیز تھی جس کا نام خیزران تھا۔ محرم سن 169 ھ میں وہ 25 برس کی عمر خلافت تک پہچا۔ وہ دوسرے خلفا کی بنسبت سب سے کم عمری میں اس منصب پر پہچا۔

اس کا باپ مہدی عباسی اس کی تربیت پر خاص دیتا تھا یہاں تک کہ 16 سال کی عمر میں وہ ولی عہد اول منتخب ہوا اور فوج کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ مہدی عباسی آخر عمر میں چاہتا تھا کہ وہ ہادی کی جگہ اپنے دوسرے بیٹے ہارون کو ولی عہد بنائے لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہی اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

ہادی عباسی اپنے باپ مہدی عباسی کی موت کے وقت جرجان میں تھا اور اہل طبرستان سے جنگ کر رہا تھا۔ اس کے بھائی ہارون نے اسی دن اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور عباسی خاندان کے بزرگوں اور فوج کے سرداروں سے اس کے لئے بیعت حاصل کی۔

ہادی چاہتا تھا کہ وہ ہارون کی جگہ اپنے سات سالہ کمسن بیٹے جعفر کو اپنا ولی عہد مقرر کرے اور اس سلسلہ میں اس نے بہت کوشش کی۔ اس نے ہارون کو قانع کرنا چاہا تا کہ وہ خود ولایت عہدی سے کنارہ کشی اختیار کر لے۔ لیکن ہارون نے اس بات سے بچنے کے لئے راہ فرار اختیار کی اور جب تک اس کا بھائی زندہ رہا اس نے دار الحکومت کا رخ نہیں کیا۔

ہادی جسمانی اعتبار سے قوی تھا۔ وہ شجاع اور امور حکومت میں ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ سخی مشہور ہے۔ حالانکہ وہ ان سب کے باوجود ایک سخت گیر، جسور اور متعصب انسان شمار کیا جاتا ہے۔ اپنے ہونٹوں میں نقص کی وجہ سے وہ موسی ااطبق بھی مشہور تھا۔ وہ عربی ادب اور تاریخ کا شوقین اور موسیقی کا دلدادہ تھا۔

موت

اس نے تقریبا 14 ماہ حکومت کی اور سن 170 ھ میں بغداد میں 25 یا 26 برس کی عمر میں وفات پائی۔ بعض کے مطابق اس کی موت کا سبب بیماری تھی اور بعض کے مطابق اسے اس کی ماں کے حکم سے نیند کی حالت میں قتل کیا گیا۔ اس کے بھائی ہارون نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور بغداد کے عیسی آباد علاقہ میں اسے دفن کیا گیا۔

علویوں سے سلوک

تاریخی منابع کے مطابق وہ شیعوں پر سختی کرتا تھا اور ان کے ساتھ بے رحمی سے پیش آتا تھا۔ اس نے وہ تمام وظیفے جو مہدی عباسی کے زمانے میں شیعوں کو ملتے تھے، قطع کر دیئے۔ ابو الفرج اصفہانی نے ان باتوں کا سبب اس خوف کو قرار دیا ہے جو اسے شیعوں اور علویوں کے قیام سے تھا۔ اسی طرح سے اس نے اپنے تمام گورنروں کو حکم دیا کہ وہ شیعوں کے حرکات و سکنات کو زیر نظر رکھیں اور ان کے درمیان اپنے جاسوس چھوڑیں۔ اس کے زمانے میں تمام علویوں کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ روزانہ شب میں دار الامارہ میں حاضر ہو کر اپنی حاضری ثبت کرائیں۔

قیام فخ کی سرکوبی

مفصل مضمون: قیام شہید فخ

ہادی عباسی کی سختیوں نے حجاز میں شیعوں پر حلقہ تنگ کر دیا، یہاں تک کہ ان حالات سے نجات پانے کے لئے انہوں نے امام علی (ع) کی اولاد میں سے ایک علوی بزرگ حسین بن علی بن حسن کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں قیام کے لئے تشویق کیا۔ حالانکہ بعض کا ماننا ہے کہ حسین بن علی جو صاحب فخ کے نام سے مشہور ہیں، وہ بھی مدتوں سے یہی چاہتے تھے اور یہ مانتے تھے کہ حکومت علویوں کا حق ہے۔ ہادی عباسی کے ظلم و ستم نے ان کے لئے یہ راہ ہموار کر دی۔

انہوں نے قیام کے لئے زمینہ فراہم ہونے کے ساتھ سن 169 ھ میں اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ ابتدا میں انہوں نے مدینہ کو فتح کیا اور تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا اور بنی عباس کی حکومت کے کارندوں کو قید میں ڈال دیا۔ انہوں نے مسجد نبوی کو اپنی حکومت کا مرکز قرار دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مکہ کی سمت حرکت کی اور مکہ سے 6 میل کے فاصلہ پر فخ نامی درہ میں پڑاو ڈالا۔

اسی وقت عباسی فوج عیسی بن موسی کی سر کردگی میں فخ کے مقام پر پہچی اور جنگ کے بعد حسین اور ان کے ساتھی شکست کے بعد قتل کر دیئے گئے۔ یہ واقعہ تاریخ میں واقعہ فخ کے نام سے مشہور ہو گیا اور حسین بن علی بن حسن شہید فخ یا صاحب فخ کے عنوان سے مشہور ہو گئے۔ ایک روایت کی مطابق جس کی نسبت امام علی رضا (ع) کی طرف دی گئی ہے، یہ واقعہ، واقعہ کربلا کے بعد علویوں کے لئے دردناک ترین واقعہ تھا اور اس کے سلسلہ میں بہت سے مرثیے نظم کئے گئے ہیں۔

امام موسی کاظم (ع) سے سلوک

ہادی عباسی نے واقعہ فخ کے بعد امام موسی کاظم (ع) پر علویوں کو قیام کے لئے ورغلانے کا الزام لگایا اور انہیں اس قیام کا اصلی قصوروار ٹہرایا۔ یہی سبب ہے کہ بعض محققین کے مطابق اس نے امام کاظم (ع) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اسے عملی جامہ پہناتا، موت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔

زنادقہ سے مقابلہ کی سیاست جاری رکھنا

ہادی عباسی اپنے باپ مہدی عباسی کی طرح زنادقہ سے متنفر تھا اور ان کے تعاقب و مجازات کے درپئے رہتا تھا۔ اس نے ایک گروہ کا خاتمہ کیا جن میں یزدان بن باذان و علی بن یقطین شامل تھے اور اسی طرح سے اس نے ان کے ایک گروہ کو جنہوں نے جزیرہ کے علاقہ میں قیام کیا تھا، قتل کیا۔

حوالہ جات


مآخذ

  • ابن اثیر، عز الدین، الکامل، بیروت، دار صادر، ۱۹۶۵ ع
  • ابن اعثم الکوفی، ابو محمد احمد، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الأضواء، چاپ اول، ۱۴۱۱ق
  • ابن الطقطقی، محمد بن علی، الفخری، تحقیق عبد القادر محمد مایو، بیروت، دار القلم العربی، ۱۴۱۸ق
  • ابن العمرانی، محمد بن علی بن محمد، الإنباء فی تاریخ الخلفاء، تحقیق قاسم السامرائی، قاہرہ، دار الآفاق العربیہ، ۱۴۲۱ق
  • ابن جوزی، ابو الفرج عبد الرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۲ق
  • ابن حزم، جمہرة أنساب العرب، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۳ق
  • ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، تاریخ ابن خلدون، تحقیق خلیل شحادة، بیروت، دار الفکر، چاپ دوم، ۱۴۰۸ق
  • ابن عماد حنبلی، شہاب الدین ابو الفلاح، شذرات الذهب فی اخبار من ذہب، تحقیق الأرناؤوط، بیروت، دار ابن کثیر، چاپ اول، ۱۴۰۶ق
  • ابن عنبہ، احمد بن علی، عمدة الطالب في أنساب آل ابی طالب، قم، انصاریان، ۱۴۱۷ق/۱۳۸۳ش.
  • ابن قتیبہ، ابو محمد عبد الله بن مسلم، المعارف، تحقیق ثروت عکاشہ، قاہره، الہیئہ المصریہ العامہ للکتاب، چاپ دوم، ۱۹۹۲ ع
  • ابن کثیر، البدایہ و النهایہ، دار الفکر، بیروت، بی‌ تا
  • ابن مسکویہ، ابوعلی مسکویہ الرازی، تجارب الامم، تحقیق ابو القاسم امامی، تہران، سروش، ۱۳۷۹ش
  • اصفہانی، ابو الفرج علی بن حسین، مقاتل الطالببین، تحقیق سید احمد صقر، بیروت، دار المعرفہ، بی‌ تا
  • اصفہانی، ابو الفرج علی بن حسین، الاغانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۴ ع
  • حسین، جاسم، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ترجمہ سید محمد تقی آیت اللہی، تہران، امیر کبیر، ۱۳۷۶ش
  • خضری، سید احمد رضا، تاریخ خلافت عباسی، تہران، سمت، ۱۳۸۳ش
  • دینوری، ابو حنیفہ احمد بن داود، اخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر، قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبد السلام تدمری، بیروت، دار الکتاب العربی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، ۱۳۸۷ق
  • طقوش، سہیل، دولت عباسیان، ترجمہ حجت الله جودکی، قم، پژوہشکده حوزه و دانشگاه، ۱۳۸۰ش.
  • مسعودی، أبو الحسن علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دار الہجرة، ۱۴۰۹ق
  • مسعودی، علی بن الحسین، التنبیہ والإشراف، تصحیح عبد الله اسماعیل الصاوی، قاہرہ، دار الصاوی، بی‌ تا
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، البدء و التاریخ، بیروت، مکتبہ الثقافہ الدینی، بی‌ تا
  • یعقوبی، احمد بن أبی‌ یعقوب، تاریخ یعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌ تا