صارف:E.musavi

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

میر شمس الدین عراقی (۸۴۵۔۹۳۲ ھ)، امام موسی کاظم (ع) کی نسل سے ہیں۔ ان کا شمار کشمیر میں تشیع کو رواج دینے والوں میں ہوتا ہے۔

انہوں نے کشمیر میں تشیع کی تبلیغ کی۔ جس کی بنیاد پر وہاں بعض لوگوں نے مذہب شیعہ کو اختیار کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے اس بات کا زمینہ فراہم کیا کہ کشمیر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے خطبوں میں شیعوں کے بارہ اماموں کے نام لئے جائیں۔ ان کے دیگر کارناموں میں کشمیر کے علاقے میں مسجد و خانقاہ کی تعمیر اور بت خانے کی تخریب شامل ہیں۔

محمد علی کشمیری نے فارسی زبان میں تحفۃ الاحباب کے نام سے ایک کتاب میر شمس الدین عراقی کے بارے میں تحریر کی ہے۔ اس میں انہوں نے ان کی سوانح حیات اور کارناموں کا ذکر کیا ہے۔


سوانح حیات

ثقافتی سرگرمیاں

کشمیر میں تشیع کی ترویج

تعمیر مسجد و خانقاہ

علمی فعالیت

حوالہ جات


مآخذ

  • ریاحی، محمد حسین و منتظر القائم، اصغر، «نقش و تأثیر شخصیت‌ های ایرانی در کشمیر با تکیہ بر تواریخ محلی کشمیر و تذکره‌ها (قرن ہشتم تا یازدهم ہجری)»، پژوهش‌ های تاریخی، شماره ۲۸، زمستان ۱۳۹۴ش.
  • سعیدی، مدخل اراک در دایرة المعارف بزرگ اسلامی، ج۷.
  • ضابط، حیدر رضا، «تشیع در شبہ قاره ہند» در مجلہ پژوهش‌ های اجتماعی، اسلامی، شماره ۱۲، بہار ۱۳۷۷ش.
  • عطایی، عبد الله، «نقش و جایگاه میر شمس‌الدین عراقی در گسترش تشیع در کشمیر بر اساس تحفة الاحباب»، در مجلہ شبہ قاره (ویژه‌ نامہ نامہ فرہنگستان)، ش۱، فروردین ۱۳۹۲ش.
  • متو، غلام‌ محمد، «نقش میر شمس‌الدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، سخن تاریخ، شماره۸، بہار ۱۳۸۹ش.

معینی‌ نیا، مریم و عالم‌ زاده، ہادی، ظہور و سقوط چکان در کشمیر، فصلنامہ تاریخ و تمدن اسلامی، شماره ۱۷، بہار و تابستان ۱۳۹۲ش.