مندرجات کا رخ کریں

"عبد الکریم حائری" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>E.musavi
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
imported>E.musavi
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 47: سطر 47:
==نسب، ولادت، وفات و اولاد==
==نسب، ولادت، وفات و اولاد==


عبد الکریم حائری ۱۲۷۶ ق میں میبد کے علاقہ مہرجرد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد جعفر کو ایک دیندار اور پرہیز گار انسان بتایا گیا ہے۔
عبد الکریم حائری ۱۲۷۶ ق<ref>بامداد، ج۲، ص۲۷۵</ref> میں میبد کے علاقہ مہرجرد کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد جعفر کو ایک دیندار اور پرہیز گار انسان بتایا گیا ہے۔<ref>کریمی جهرمی، ص۱۳ ـ ۱۴</ref>


ان کے پانچ بچے تھے دو بیٹے جن کے اسمائ مرتضی اور مہدی ہیں، اور تین بیٹیاں جن کی شادیاں محمد تویسرکانی، احمد ہمدانی اور سید محمد محقق داماد سے ہوئیں۔  
ان کے پانچ بچے تھے دو بیٹے جن کے اسمائ مرتضی اور مہدی ہیں، اور تین بیٹیاں جن کی شادیاں محمد تویسرکانی، احمد ہمدانی اور سید محمد محقق داماد سے ہوئیں۔<ref>فیاضی، ص۱۱۴ ـ ۱۱۵</ref>


شیخ حائری کی وفات ۱۷ ذی القعدہ ۱۳۵۵ ق (۱۰ بہمن ۱۳۵۵ ش) میں [[قم]] میں تقریبا ۱۵ سال قیام کرنے کے بعد ہوئی۔ حکومت کی طرف سے محدودیت ایجاد کئے جانے کے باوجود ان کی جنازہ کی شان کے ساتھ تشییع ہوئی اور آیت اللہ سید صادق قمی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں [[حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا]] کے حرم میں مسجد بالای سر میں دفن کیا گیا۔  
شیخ حائری کی وفات ۱۷ ذی القعدہ ۱۳۵۵ ق (۱۰ بہمن ۱۳۵۵ ش) میں [[قم]] میں تقریبا ۱۵ سال قیام کرنے کے بعد ہوئی۔ حکومت کی طرف سے محدودیت ایجاد کئے جانے کے باوجود ان کی جنازہ کی شان کے ساتھ تشییع ہوئی اور آیت اللہ سید صادق قمی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں [[حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا]] کے حرم میں مسجد بالای سر میں دفن کیا گیا۔<ref>حسینی زنجانی، ج۱، ص۱۰۷؛ امینی، مروری...، ص۲۰، ۳۶ ـ ۳۷</ref>


==تعلیم و تحصیل==
==تعلیم و تحصیل==
سطر 57: سطر 57:
===[[ایران]]===
===[[ایران]]===


شیخ عبد الکریم حائری کے خالو میر ابو جعفر نے ان میں بے پناہ استعداد دیکھی تو وہ انہیں اپنے ساتھ اپنے شہر اردکان لے گئے اور مکتب میں ان کا داخلہ کرایا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنی والدہ کے پاس مہرجرد میں رہے۔
شیخ عبد الکریم حائری کے خالو میر ابو جعفر نے ان میں بے پناہ استعداد دیکھی تو وہ انہیں اپنے ساتھ اپنے شہر اردکان لے گئے اور مکتب میں ان کا داخلہ کرایا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنی والدہ کے پاس مہرجرد میں رہے۔<ref>کریمی جهرمی، ص۲۰ ـ ۲۱</ref>


کچھ مدت کے بعد وہ یزد گئے اور مدرسہ محمد تقی خان جو مدرسہ خان کے نام سے معروف تھا، میں سکونت اختیار کی اور وہاں سید حسین وامق، سید یحیی بزرگ جو مجتہد یزدی کے نام سے معروف تھے، جیسے علمائ سے ادبیات عرب پڑھی۔
کچھ مدت کے بعد وہ یزد گئے اور مدرسہ محمد تقی خان جو مدرسہ خان کے نام سے معروف تھا، میں سکونت اختیار کی اور وہاں سید حسین وامق، سید یحیی بزرگ جو مجتہد یزدی کے نام سے معروف تھے، جیسے علمائ سے ادبیات عرب پڑھی۔<ref>مرسلوند، ج۳، ص۵۹</ref>


===عراق===
===عراق===


انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے ۱۲۹۸ ق میں اپنی والدہ کے ہمراہ [[عراق]] کا سفر کیا۔ پہلے وہ [[کربلا]] گئے اور وہاں تقریبا دو سال تک فاضل اردکانی کے زیر نظر اس سلسلہ کو آگے بڑھایا۔ [[فقہ]] و [[اصول فقہ]] کے سطوح کے دروس کو وہاں پڑھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے تعلیمی سلسلہ کو آگے اور میرزا محمد حسن شیرازی سے استفادہ کرنے کے لئے [[سامرا]] کا رخ کیا۔  
انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے ۱۲۹۸ ق میں اپنی والدہ کے ہمراہ [[عراق]] کا سفر کیا۔ پہلے وہ [[کربلا]] گئے اور وہاں تقریبا دو سال تک فاضل اردکانی کے زیر نظر اس سلسلہ کو آگے بڑھایا۔ [[فقہ]] و [[اصول فقہ]] کے سطوح کے دروس کو وہاں پڑھا۔<ref>کریمی جهرمی، ص۲۳ ـ ۲۴</ref> اس کے بعد انہوں نے اپنے تعلیمی سلسلہ کو آگے اور میرزا محمد حسن شیرازی سے استفادہ کرنے کے لئے [[سامرا]] کا رخ کیا۔<ref>حائری یزدی، مرتضی، ص۸۰ ـ ۸۲</ref>


سامرا میں عبد الکریم حائری کا دورہ تعلیمی ۱۳۰۰ سے ۱۳۱۲ ق پر محیط ہے جس میں پہلے دو سے تین سال انہوں نے سطوح عالی کے فقہ و اصول کے دروس [[شیخ فضل اللہ نوری]]، میرزا ابراہیم محلاتی زیرازی، میرزا مہدی شیرازی جیسے اساتذہ کے محضر میں مکمل کئے۔ اس کے بعد فقہ و اصول کے درس خارج کے لئے سید محمد فشارکی اصفہانی اور میرزا محمد تقی شیرازی اور کچھ مدت تک [[میرزا محمد حسن شیرازی]] کے دروس میں شرکت کی اور [[میرزا حسین نوری]] کے [[اجازہ روایت]] حاصل کیا۔  
سامرا میں عبد الکریم حائری کا دورہ تعلیمی ۱۳۰۰ سے ۱۳۱۲ ق پر محیط ہے جس میں پہلے دو سے تین سال انہوں نے سطوح عالی کے فقہ و اصول کے دروس [[شیخ فضل اللہ نوری]]، میرزا ابراہیم محلاتی زیرازی، میرزا مہدی شیرازی جیسے اساتذہ کے محضر میں مکمل کئے۔ اس کے بعد فقہ و اصول کے درس خارج کے لئے سید محمد فشارکی اصفہانی اور میرزا محمد تقی شیرازی اور کچھ مدت تک [[میرزا محمد حسن شیرازی]] کے دروس میں شرکت کی<ref>حائری یزدی، مرتضی، ص۸۷ ـ ۸۸ و ۹۳ ـ ۹۴</ref> اور [[میرزا حسین نوری]] کے [[اجازہ روایت]] حاصل کیا۔<ref>حبیب آبادی، ج۶، ص۲۱۱۸</ref>


سید محمد فشارکی اور عبد الکریم حائری نے میرزای بزرگ (متوفی ۱۳۱۲ ق) کے انتقال کے چند ماہ کے بعد سامرا سے نجف اشرف نقل مکان کیا۔ حائری نجف اشرف میں سید محمد فشارکی اور آخوند خراسانی کے دروس میں شرکت کیا کرتے تھے اور وہ سید محمد فشارکی کے آخر عمر میں ان کی دیکھ بھال اور مراقبت کیا کرتے تھے۔
سید محمد فشارکی اور عبد الکریم حائری نے میرزای بزرگ (متوفی ۱۳۱۲ ق) کے انتقال کے چند ماہ کے بعد سامرا سے نجف اشرف نقل مکان کیا۔<ref>شریف رازی، ج۱، ص۲۸۳ ـ ۲۸۴</ref> حائری نجف اشرف میں سید محمد فشارکی اور آخوند خراسانی<ref>استادی، ص۵۱</ref> کے دروس میں شرکت کیا کرتے تھے اور وہ سید محمد فشارکی کے آخر عمر میں ان کی دیکھ بھال اور مراقبت کیا کرتے تھے۔<ref>حائری یزدی، مرتضی، ص۳۹ و ۸۷ ـ ۸۸</ref>


===ایران واپسی===
===ایران واپسی===


عبد الکریم حائری سید محمد فشارکی کی رحلت کے بعد ۱۳۱۶ ق میں ایران واپس آ گئے اور سلطان آباد (موجودہ اراک) میں انہوں نے حوزہ درس تشکیل دیا۔
عبد الکریم حائری سید محمد فشارکی کی رحلت کے بعد ۱۳۱۶ ق میں ایران واپس آ گئے اور سلطان آباد (موجودہ اراک) میں انہوں نے حوزہ درس تشکیل دیا۔<ref>استادی، ص۴۴ ـ ۵۱</ref>


==عراق کا دوبارہ سفر==
==عراق کا دوبارہ سفر==


۱۳۲۴ ق میں عبد الکریم حائری حوزہ اراک کی فعالیت میں استقلال نہ ہونے اور انقلاب مشروطہ کی وجہ حالات نا امن ہونے کے سبب [[نجف اشرف]] واپس لوٹ گئے اور دوبارہ [[آخوند خراسانی]] کے درس میں شریک ہونے لگے اور ان کے علاوہ [[سید محمد کاظم طباطبایی یزدی]] درس میں بھی شرکت کرتے رہے۔ البتہ وہ انقلاب مشروطہ کے موافقین و مخالفین کے اختلاف و نزاع سے دور رہنے کی غرض سے کچھ ماہ کے بعد [[کربلا]] چلے گئے۔  
۱۳۲۴ ق میں عبد الکریم حائری حوزہ اراک کی فعالیت میں استقلال نہ ہونے اور انقلاب مشروطہ<ref>محقق داماد، مصطفی ص۴۳ ـ ۴۴؛ صدرایی خویی، ص۱۷؛ نیکوبرش، ص۴۶ ـ ۴۷</ref> کی وجہ حالات نا امن ہونے کے سبب [[نجف اشرف]] واپس لوٹ گئے<ref>بامداد، ج۲، ص۲۷۵</ref> اور دوبارہ [[آخوند خراسانی]] کے درس میں شریک ہونے لگے اور ان کے علاوہ [[سید محمد کاظم طباطبایی یزدی]] درس میں بھی شرکت کرتے رہے۔ البتہ وہ انقلاب مشروطہ کے موافقین و مخالفین کے اختلاف و نزاع سے دور رہنے کی غرض سے کچھ ماہ کے بعد [[کربلا]] چلے گئے۔<ref>کریمی جهرمی، ص۵۵</ref>


وہ تقریبا ۸ سال تک [[کربلا]] میں رہے اور اسی زمانہ میں وہ حائری کے لقب سے ملقب ہوئے۔ انہوں نے کربلا میں تدریس کرنا شروع کر دی اور مشروطہ کے سلسلہ کی صف آرایی سے محفوظ رہنے اور اس معاملہ میں اپنی بے طرفی ثابت کرنے کی غرض سے ایک کتاب [[آخوند خراسانی]] کی اور ایک کتاب [[سید محمد کاظم یزدی]] کی تدریس کیا کرتے تھے۔
وہ تقریبا ۸ سال تک [[کربلا]] میں رہے اور اسی زمانہ میں وہ حائری کے لقب سے ملقب ہوئے۔ انہوں نے کربلا میں تدریس کرنا شروع کر دی اور مشروطہ کے سلسلہ کی صف آرایی سے محفوظ رہنے اور اس معاملہ میں اپنی بے طرفی ثابت کرنے کی غرض سے ایک کتاب [[آخوند خراسانی]] کی اور ایک کتاب [[سید محمد کاظم یزدی]] کی تدریس کیا کرتے تھے۔<ref>کریمی جهرمی، ص۵۵ ـ ۵۶</ref>


==ایران واپسی==
==ایران واپسی==


ان کے کربلا میں قیام کے دوران ان سے اراک لوٹ آنے سلسلہ میں کئی بار درخواست کی جاری رہی۔ آخر کار وہ اپریل ۱۳۳۳ ق مطابق ۱۲۹۳ ش میں اراک پلٹ آئے اور آٹھ سال کے قیام کے زمانہ میں انہوں نے وہاں حوزہ چلانے کے ساتھ ساتھ فقہ و اصول کی تدریس بھی جاری رکھی۔
ان کے کربلا میں قیام کے دوران ان سے اراک لوٹ آنے سلسلہ میں کئی بار درخواست کی جاری رہی۔ آخر کار وہ اپریل ۱۳۳۳ ق مطابق ۱۲۹۳ ش<ref>صفوت تبریزی، ص۷۳</ref> میں اراک پلٹ آئے اور آٹھ سال کے قیام کے زمانہ میں انہوں نے وہاں حوزہ چلانے کے ساتھ ساتھ فقہ و اصول کی تدریس بھی جاری رکھی۔


عبد الکریم حائری نے میرزا [[محمد تقی شیرازی]] کے خط کے جواب میں جو انہوں نے [[سید محمد کاظم یزدی طباطبایی]] (۱۳۳۷ ق۔ ۱۲۹۸ ش) کے انتقال کے بعد انہیں تحریر کیا تھا اور جس میں انہوں نے ان سے [[نجف اشرف]] لوٹ آنے اور منصب مرجعیت کے لئے مہیا ہونے کو کہا تھا، ایران میں قیام کو اپنا فریضہ بتایا اور انہوں نے ایران اور اہل ایران کو گمراہی اور انحطاط فکری کے راستے پر گامزن ہونے کے خدشہ اور تشویس کا اظہار کیا۔  
عبد الکریم حائری نے میرزا [[محمد تقی شیرازی]] کے خط کے جواب میں جو انہوں نے [[سید محمد کاظم یزدی طباطبایی]] (۱۳۳۷ ق۔ ۱۲۹۸ ش) کے انتقال کے بعد انہیں تحریر کیا تھا اور جس میں انہوں نے ان سے [[نجف اشرف]] لوٹ آنے اور منصب مرجعیت کے لئے مہیا ہونے کو کہا تھا، ایران میں قیام کو اپنا فریضہ بتایا اور انہوں نے ایران اور اہل ایران کو گمراہی اور انحطاط فکری کے راستے پر گامزن ہونے کے خدشہ اور تشویس کا اظہار کیا۔<ref>آقا بزرگ طهرانی، طبقات...، قسم ۳، ص۱۱۶۴؛ کریمی جهرمی، ص۵۶؛ صدرایی خویی، ص۱۷ ـ ۱۸</ref>


==حوزہ علمیہ قم کی تاسیس==
==حوزہ علمیہ قم کی تاسیس==


۱۳۳۷ ق میں عبد الکریم حائری نے [[امام علی رضا علیہ السلام]] کی زیارت کے قصد سے [[مشہد مقدس]] کا سفر کیا اور راستہ میں کچھ دن قم میں قیام کیا اور اس شہر کے حالات اور حوزہ علمیہ سے متعارف ہوئے۔
۱۳۳۷ ق میں عبد الکریم حائری نے [[امام علی رضا علیہ السلام]] کی زیارت کے قصد سے [[مشہد مقدس]] کا سفر کیا اور راستہ میں کچھ دن قم میں قیام کیا اور اس شہر کے حالات اور حوزہ علمیہ سے متعارف ہوئے۔<ref>شریف رازی، ج۱، ص۲۸۶؛ مرسلوند، ج۳، ص۵۹ ـ ۶۰</ref>


ماہ رجب ۱۳۴۰ ق میں انہوں نے ایک بار پھر قم کے بعض علمائ کی دعوت پر اور [[حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا]] کی زیارت کے قصد سے قم کا سفر کیا۔ وہاں وہ علمائ اور مومنین کے استقبال اور [[قم]] میں قیام کرنے کی خواہش سے روبرو ہوئے۔ پہلے تو وہ کشمکش کا شکار ہوئے لیکن پھر بعد میں انہوں نے بعض علمائ خاص طور پر محمد تقی بافقی کے اسرار پر فیصلہ استخارہ پر چھوڑا اور استخارہ کرنے کے بعد انہوں میں قم میں قیام کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اور وہ ارادہ قم میں عظیم حوزہ علمیہ کی تاسیس کا سبب بنا اور عبد الکریم حائری کو آیت اللہ اور موسس کا لقب دیا گیا۔
ماہ رجب ۱۳۴۰ ق میں انہوں نے ایک بار پھر قم کے بعض علمائ کی دعوت پر اور [[حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا]] کی زیارت کے قصد سے قم کا سفر کیا۔ وہاں وہ علمائ اور مومنین کے استقبال اور [[قم]] میں قیام کرنے کی خواہش سے روبرو ہوئے۔ پہلے تو وہ کشمکش کا شکار ہوئے لیکن پھر بعد میں انہوں نے بعض علمائ خاص طور پر محمد تقی بافقی کے اسرار پر فیصلہ استخارہ پر چھوڑا اور استخارہ کرنے کے بعد انہوں میں قم میں قیام کرنے کا ارادہ کر لیا۔ اور وہ ارادہ قم میں عظیم حوزہ علمیہ کی تاسیس کا سبب بنا اور عبد الکریم حائری کو آیت اللہ اور موسس کا لقب دیا گیا۔<ref>آقا بزرگ طهرانی، طبقات...، قسم ۳، ص۱۱۵۹؛ فیض قمی، ج۱، ص۳۳۱ ـ ۳۳۴؛ کریمی جهرمی، ص۵۸ ـ ۵۹</ref>


سید محمد تقی خوانساری کے علاوہ جو ان کے ہمراہ قم آئے تھے، ان کے بہت سے شاگرد جن میں سید احمد خوانساری، [[سید روح اللہ خمینی]]، [[سید محمد رضا گلپایگانی]] اور [[محمد علی اراکی]] شامل ہیں، [[قم]] منتقل ہو گئے۔
سید محمد تقی خوانساری کے علاوہ جو ان کے ہمراہ قم آئے تھے، ان کے بہت سے شاگرد جن میں سید احمد خوانساری، [[سید روح اللہ خمینی]]، [[سید محمد رضا گلپایگانی]] اور [[محمد علی اراکی]]<ref>استادی، ص۵۴ ـ ۶۴</ref> شامل ہیں، [[قم]] منتقل ہو گئے۔


[[سید ابو الحسن اصفہانی]] اور میرزا [[محمد حسین نائینی]]، جنہوں نے ۱۳۰۲ ش میں عراق سے جلا وطن ہونے کے بعد تقریبا آٹھ ماہ قم میں قیام کیا۔ انہوں نے بھی حوزہ علمیہ قم کے استحکام اور ثبات میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔
[[سید ابو الحسن اصفہانی]] اور میرزا [[محمد حسین نائینی]]، جنہوں نے ۱۳۰۲ ش میں عراق سے جلا وطن ہونے کے بعد تقریبا آٹھ ماہ قم میں قیام کیا۔ انہوں نے بھی حوزہ علمیہ قم کے استحکام اور ثبات میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔<ref>آقا بزرگ طهرانی، طبقات...، قسم ۳، ص۱۱۶۰ ـ ۱۱۶۱؛ صفوت تبریزی، ص۷۷</ref>


حوزہ علمیہ قم کی شہرت ہونے اور وہاں علمائ و اساتذہ اور مختلف حوزات کے طلاب اور جدید طلاب کے وارد ہونے کی وجہ طلاب کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو گئے۔  
حوزہ علمیہ قم کی شہرت ہونے اور وہاں علمائ و اساتذہ اور مختلف حوزات کے طلاب اور جدید طلاب کے وارد ہونے کی وجہ طلاب کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو گئے۔<ref>استادی، ص۷۷ ـ ۷۸</ref>


عبد الکریم حائری چونکہ شیعوں کے بزرگ حوزات علمیہ [[سامرا]]، [[نجف]] اور [[کربلا]] سے آشنائی رکھتے تھے اور انہیں ان کے مدیریت کے شیوہ اور روش، سابقہ ذمہ داران کی خامی و خوبی کی اطلاع تھی اور وہ اراک کے حوزہ میں اس کا تجربہ حاصل کر چکے تھے، اور وہ ہر چیز سے زیادہ حوزہ کے ثبات اور ارتقائ کے سلسلہ میں فکر اور پلاننگ کرتے تھے۔ حوزہ کی تعلیمی روش میں تبدیلی، ابواب فقہی کا تخصصی کرنا، حوزہ کے طلاب کی سطح علمی کو بلند کرنا، حتی خارجی زبانوں کی تعلیم دینا، خلاصہ یہ کہ محقق و مجتہد تربیت کرنا ان کے اہداف میں شامل تھا۔
عبد الکریم حائری چونکہ شیعوں کے بزرگ حوزات علمیہ [[سامرا]]، [[نجف]] اور [[کربلا]] سے آشنائی رکھتے تھے اور انہیں ان کے مدیریت کے شیوہ اور روش، سابقہ ذمہ داران کی خامی و خوبی کی اطلاع تھی اور وہ اراک کے حوزہ میں اس کا تجربہ حاصل کر چکے تھے، اور وہ ہر چیز سے زیادہ حوزہ کے ثبات اور ارتقائ کے سلسلہ میں فکر اور پلاننگ کرتے تھے۔ حوزہ کی تعلیمی روش میں تبدیلی، ابواب فقہی کا تخصصی کرنا، حوزہ کے طلاب کی سطح علمی کو بلند کرنا، حتی خارجی زبانوں کی تعلیم دینا، خلاصہ یہ کہ محقق و مجتہد تربیت کرنا ان کے اہداف میں شامل تھا۔<ref>حسینی زنجانی، ج۱، ص۱۲۴؛ کریمی جهرمی، ص۴۷؛ مصطفی محقق داماد، ص۶۷ ـ ۶۸، ۸۷ ـ ۸۸، ۹۲</ref>


===مرجعیت===
===مرجعیت===
سطر 103: سطر 103:
حالانکہ شیخ عبد الکریم حائری نے کبھی بھی خود کو معرض مرجعیت میں قرار نہیں دیا بلکہ انہوں نے حوزہ عراق کے علمی ماحول کو ترک کرکے اس سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا۔ ۱۳۳۷ ش سے ۱۳۳۹ ش تک سید محمد کاظم یزدی، شیخ الشریعہ اصفہانی اور محمد تقی شیرازی کے ارتحال کے بعد تک حائری اراک میں مقیم تھے اور بعض افراد جو مرجع تقلید کی تلاش میں تھے انہوں نے ان کی طرف رجوع کیا۔
حالانکہ شیخ عبد الکریم حائری نے کبھی بھی خود کو معرض مرجعیت میں قرار نہیں دیا بلکہ انہوں نے حوزہ عراق کے علمی ماحول کو ترک کرکے اس سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا۔ ۱۳۳۷ ش سے ۱۳۳۹ ش تک سید محمد کاظم یزدی، شیخ الشریعہ اصفہانی اور محمد تقی شیرازی کے ارتحال کے بعد تک حائری اراک میں مقیم تھے اور بعض افراد جو مرجع تقلید کی تلاش میں تھے انہوں نے ان کی طرف رجوع کیا۔


ان کے قم کی طرف ہجرت اور وہاں سے ان کی شہرت میں اضافہ ہونے کے بعد سے رفتہ رفتہ ان کے مقلدین کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا اور یہاں تک کہ بہت سے ایرانی حتی غیر ایرانی اور دوسرے ممالک کے افراد جیسے عراقی و لبنانی ان کی تقلید کرنے لگے۔
ان کے قم کی طرف ہجرت اور وہاں سے ان کی شہرت میں اضافہ ہونے کے بعد سے رفتہ رفتہ ان کے مقلدین کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا اور یہاں تک کہ بہت سے ایرانی حتی غیر ایرانی اور دوسرے ممالک کے افراد جیسے عراقی و لبنانی ان کی تقلید کرنے لگے۔<ref>مستوفی، ج۳، ص۶۰۱؛ حائری یزدی، مهدی، ص۱۸، ۷۶</ref>


==شیوہ تدریس==
==شیوہ تدریس==
سطر 109: سطر 109:
شیخ عبد الکریم حائری حوزہ علمیہ [[سامرا]] کے مکتب کی روش اور میرزای شیرازی کی روش سے الہام لیتے ہوئے تدریس کیا کرتے تھے۔ اس روش کے مطابق، کسی مسئلہ کو پیش کرنے کے بعد، اس پر بغیر کسی طرح کا اظہار نظر کئے بغیر، پہلے مختلف نظریات اور ان کے دلائل کا بیان ہوتا پھر استاد شاگردوں سے نظر خواہی کرتا اور ان سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد، تمام آرائ و نظریات کی جمع بندی پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنا نظریہ پیش کرتا ہے اور آخر میں شاگردوں کو اجازہ ہوتی تھی کہ وہ استاد کے نظریہ پر بحث اور اس پر اعتراض اور تنقید کریں۔
شیخ عبد الکریم حائری حوزہ علمیہ [[سامرا]] کے مکتب کی روش اور میرزای شیرازی کی روش سے الہام لیتے ہوئے تدریس کیا کرتے تھے۔ اس روش کے مطابق، کسی مسئلہ کو پیش کرنے کے بعد، اس پر بغیر کسی طرح کا اظہار نظر کئے بغیر، پہلے مختلف نظریات اور ان کے دلائل کا بیان ہوتا پھر استاد شاگردوں سے نظر خواہی کرتا اور ان سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد، تمام آرائ و نظریات کی جمع بندی پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنا نظریہ پیش کرتا ہے اور آخر میں شاگردوں کو اجازہ ہوتی تھی کہ وہ استاد کے نظریہ پر بحث اور اس پر اعتراض اور تنقید کریں۔


اسی طرح وہ روزانہ اگلے درس کے موضوع کے بارے میں اطلاع دے دیتے تھے، موضوع درس معین کر دیتے تھے تا کہ طلاب اس کا پہلے سے مطالعہ کرکے کلاس میں حاضر ہوں۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ اصول فقہ کے مباحث مختصر اور عملی طور پر ذکر کئے جائیں۔ اسی سبب سے انہوں نے اپنی تالیف درر الاصول میں اسی روش پر عمل کیا ہے اور وہ اصول فقہ کا مکمل دورہ چار سال کی مدت میں مکمل کر لیتے تھے۔  
اسی طرح وہ روزانہ اگلے درس کے موضوع کے بارے میں اطلاع دے دیتے تھے، موضوع درس معین کر دیتے تھے تا کہ طلاب اس کا پہلے سے مطالعہ کرکے کلاس میں حاضر ہوں۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ اصول فقہ کے مباحث مختصر اور عملی طور پر ذکر کئے جائیں۔ اسی سبب سے انہوں نے اپنی تالیف درر الاصول میں اسی روش پر عمل کیا ہے اور وہ اصول فقہ کا مکمل دورہ چار سال کی مدت میں مکمل کر لیتے تھے۔<ref>کریمی جهرمی، ص۷۴ ـ ۷۵؛ محقق داماد، علی، ص۵۰، ۵۵</ref>


==اساتذہ==
==اساتذہ==
سطر 123: سطر 123:
* میرزا مهدی شیرازی
* میرزا مهدی شیرازی
* فاضل اردکانی
* فاضل اردکانی
* [[سید محمد کاظم طباطبایی]]
* [[سید محمد کاظم طباطبایی]]<ref>حائری یزدی، ص۳۹-۸۰-۸۲-۸۷</ref>
{{ستون خ}}
{{ستون خ}}


سطر 145: سطر 145:
* [[سید محمد رضا گلپایگانی]]
* [[سید محمد رضا گلپایگانی]]
* ملا علی معصومی همدانی
* ملا علی معصومی همدانی
* [[سید شهاب ‌الدین مرعشی نجفی]]
* [[سید شهاب ‌الدین مرعشی نجفی]]<ref>شریف رازی، ج۱، ص۵۹، ۸۷ـ ۸۸</ref>
* سید رضا موسوی زنجانی
* سید رضا موسوی زنجانی<ref>جعفر سعیدی (پژوم)، ۱۳۸۶، ص ۵۰.</ref>
{{ستون خ}}
{{ستون خ}}


سطر 152: سطر 152:
===خصوصیات و عام المنفعہ کارنامے===
===خصوصیات و عام المنفعہ کارنامے===


عبد الکریم حائری خوش اخلاق، شوخ طبع، معتدل اور ظاہر سازی و ریا کاری سے دور رہنے والے انسان تھے۔ رقومات شرعیہ کے استعمال میں بیحد محتاط تھے اور ان کی زندگی میں زہد اور سادہ زیستی حاکم تھی۔  
عبد الکریم حائری خوش اخلاق، شوخ طبع، معتدل اور ظاہر سازی و ریا کاری سے دور رہنے والے انسان تھے۔ رقومات شرعیہ کے استعمال میں بیحد محتاط تھے اور ان کی زندگی میں زہد اور سادہ زیستی حاکم تھی۔<ref>کریمی جهرمی، ص۵۲ ـ ۵۴؛ محقق داماد، علی، ص۴۷۴۸</ref>


وہ طلاب علوم دینی کی وضع زندگی کا خاص خیال رکھتے تھے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کے سلسلہ میں خاص توجہ دیتے تھے۔ کبھی کبھی وہ بذات خود ان کے کمروں میں جاتے تھے اور ان کے درس و مباحثہ کی طرف توجہ کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے تھے اور محنتی و پر کار افراد کی تشویق کیا کرتے تھے۔
وہ طلاب علوم دینی کی وضع زندگی کا خاص خیال رکھتے تھے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کے سلسلہ میں خاص توجہ دیتے تھے۔ کبھی کبھی وہ بذات خود ان کے کمروں میں جاتے تھے اور ان کے درس و مباحثہ کی طرف توجہ کے بارے میں آگاہی حاصل کرتے تھے اور محنتی و پر کار افراد کی تشویق کیا کرتے تھے۔<ref>محقق داماد، علی، ص۴۱ ـ ۴۲</ref>


وہ عوام کے آرام اور آسایش اور ان کی مختلف پریشانیوں کو دور کرنے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کے منجملہ عام المنفعہ کاموں میں  قم کے سہامیہ اسپتال کی تاسیس اور فاطمی اسپتال کی تاسیس و تعمیر کے سلسلہ میں تشویق شامل ہیں۔  
وہ عوام کے آرام اور آسایش اور ان کی مختلف پریشانیوں کو دور کرنے کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کے منجملہ عام المنفعہ کاموں میں  قم کے سہامیہ اسپتال کی تاسیس اور فاطمی اسپتال کی تاسیس و تعمیر کے سلسلہ میں تشویق شامل ہیں۔<ref>روزنامه اطلاعات، ۳۰ و ۳۱ فروردین ۱۳۱۰</ref>


وہ اہل بیت (ع) سے بیحد تعلق خاطر رکھتے تھے۔ جوانی کے ایام میں وہ سامرا میں نوحہ خوانی کرتے تھے۔ انہوں نے ایران میں ایام فاطمیہ دوم (اول سے سوم جمادی الثانی) میں سوگواری کو رواج دیا۔ انہوں نے تعزیہ اور شبیہ خوانی کی جگہ روضہ خوانی کی مجالس کو رواج دیا اور وہ مذہبی مجالس و محافل میں غیر مستند چیزوں کے بیان کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔  
وہ اہل بیت (ع) سے بیحد تعلق خاطر رکھتے تھے۔ جوانی کے ایام میں وہ سامرا میں نوحہ خوانی کرتے تھے۔ انہوں نے ایران میں ایام فاطمیہ دوم (اول سے سوم جمادی الثانی) میں سوگواری کو رواج دیا۔ انہوں نے تعزیہ اور شبیہ خوانی کی جگہ روضہ خوانی کی مجالس کو رواج دیا اور وہ مذہبی مجالس و محافل میں غیر مستند چیزوں کے بیان کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔<ref>کریمی جهرمی، ص۴۸ ـ ۵۰؛ رضوی، ص۱۵۱ ـ ۱۵۴</ref>


===سیاسی میدان میں===
===سیاسی میدان میں===


بہت سے شواہد موجود ہیں جن پر تکیہ کرتے ہوئے شیخ عبد الکریم حائری کو بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی مسائل میں دخالت نہ کرنا، بلکہ شدت کے ساتھ اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا، وہ بھی اس قدر شدت سے کہ اس چیز نے بعض افراد میں حیرت بلکہ اعتراض کا جزبہ پیدا کر دیا، مصلحت سے زیادہ ان کی طبع خاطر سے تعلق رکھتا تھا۔
بہت سے شواہد موجود ہیں جن پر تکیہ کرتے ہوئے شیخ عبد الکریم حائری کو بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی شخصیت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی مسائل میں دخالت نہ کرنا، بلکہ شدت کے ساتھ اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا، وہ بھی اس قدر شدت سے کہ اس چیز نے بعض افراد میں حیرت بلکہ اعتراض کا جزبہ پیدا کر دیا،<ref>کریمی جهرمی، ص۶۱ ـ ۶۲؛ حائری، عبدالحسین، ص۱۶۱ ـ ۱۶۲</ref> مصلحت سے زیادہ ان کی طبع خاطر سے تعلق رکھتا تھا۔


ان کا رویہ قم میں وارد ہونے سے پہلے بھی حکومت ایران کے ساتھ نا مرتبط سیاسی مسائل کو لیکر ایسا ہی تھا۔ مثلا ان علمائ کے درمیان جنہوں نے سن 1330 ق کے محرم میں، جب عبد الکریم حائری کربلا میں موجود تھے، غیر ملکی افواج کے قبضہ کے اعتراض میں نجف و کربلا کو ترک کرکے کاظمین کا رخ کیا اور تقربیا تین ماہ وہاں قیام کیا جن میں میرزا محمد تقی شیرازی، شیخ الشریعہ اصفہانی، نائینی، سید ابو الحسن اصفہانی و آقا ضیائ عراقی کا ذکر منابع تاریخی میں ذکر ہوا ہے، لیکن اس فہرست میں حائری شامل نہیں ہیں۔ لہذا انہیں ان کے استاد فشارکی کی طرح ان علمائ میں شمار کرنا چاہیئے جو نہ صرف یہ کہ مسائل سیاسی میں حصہ نہیں لیتے تھے بلکہ سیاسی و جنجالی مسائل سے دور ہی رہتے تھے۔
ان کا رویہ قم میں وارد ہونے سے پہلے بھی حکومت ایران کے ساتھ نا مرتبط سیاسی مسائل کو لیکر ایسا ہی تھا۔ مثلا ان علمائ کے درمیان جنہوں نے سن 1330 ق کے محرم میں، جب عبد الکریم حائری کربلا میں موجود تھے، غیر ملکی افواج کے قبضہ کے اعتراض میں نجف و کربلا کو ترک کرکے کاظمین کا رخ کیا اور تقربیا تین ماہ وہاں قیام کیا جن میں میرزا محمد تقی شیرازی، شیخ الشریعہ اصفہانی، نائینی، سید ابو الحسن اصفہانی و آقا ضیائ عراقی کا ذکر منابع تاریخی میں ذکر ہوا ہے،<ref>نظام الدین زاده، ص۱۵۴ ـ ۱۵۵</ref> لیکن اس فہرست میں حائری شامل نہیں ہیں۔ لہذا انہیں ان کے استاد فشارکی کی طرح ان علمائ میں شمار کرنا چاہیئے جو نہ صرف یہ کہ مسائل سیاسی میں حصہ نہیں لیتے تھے بلکہ سیاسی و جنجالی مسائل سے دور ہی رہتے تھے۔<ref>شکوری، ص۱۱۶ به بعد؛ امینی، اهتمام...، ص۱۹۱</ref>


عبد الکریم حائری کو اپنے سماجی مقام کی وجہ سے آخر عمر میں سیاسی امور میں حصہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان برسوں میں ان کے لئے سب سے اہم چیلینچ رضا شاہ کے ساتھ تعلق نبھانا تھا۔ جس زمانہ میں رضا شاہ فوج کا سالار تھا اس زمانہ میں ان دونوں نے درمیان نسبتا بہتر روابط تھے۔ رضا شاہ کے تخت سلطنت پر بیٹھنے سے لیکر کشف حجاب کا مسئلہ پیش آنے سے پہلے تک دونوں کے درمیان روابط کو نہ اچھا کہا جا سکتا ہے نہ ہی برا۔ لیکن ۱۳۱۴ ش میں کشف حجاب کے واقعہ کے بعد سے شیخ کے انتقال ۱۳۱۵ ش تک دونوں کے تعلقات خراب رہے۔ کشف حجاب کا واقعہ پیش آنے کے بعد شیخ نے ۱۱ تیر ۱۳۱۴ ش کو رضا شاہ کو ٹیلی گرام کے ذریعہ اس قانون کو خلاف شرع ہونے کا اعلان کیا اور اس سے اسے روکنے کی اپیل کی۔ اس کے بعد سے ان دونوں کے درمیان روابط بطور کلی قطع ہو گئے اور حتی شیخ کے پاس آنے جانے والوں پر بھی نظر رکھی جانے لگی۔  
عبد الکریم حائری کو اپنے سماجی مقام کی وجہ سے آخر عمر میں سیاسی امور میں حصہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان برسوں میں ان کے لئے سب سے اہم چیلینچ رضا شاہ کے ساتھ تعلق نبھانا تھا۔ جس زمانہ میں رضا شاہ فوج کا سالار تھا اس زمانہ میں ان دونوں نے درمیان نسبتا بہتر روابط تھے۔<ref>دولت آبادی، ج۴، ص۲۸۹</ref> رضا شاہ کے تخت سلطنت پر بیٹھنے سے لیکر کشف حجاب کا مسئلہ پیش آنے سے پہلے تک دونوں کے درمیان روابط کو نہ اچھا کہا جا سکتا ہے نہ ہی برا۔<ref>حائری یزدی، مهدی، ص۶۴</ref> لیکن ۱۳۱۴ ش میں کشف حجاب کے واقعہ کے بعد سے شیخ کے انتقال ۱۳۱۵ ش تک دونوں کے تعلقات خراب رہے۔ کشف حجاب کا واقعہ پیش آنے کے بعد شیخ نے ۱۱ تیر ۱۳۱۴ ش کو رضا شاہ کو ٹیلی گرام کے ذریعہ اس قانون کو خلاف شرع ہونے کا اعلان کیا اور اس سے اسے روکنے کی اپیل کی۔<ref>حائری یزدی، مهدی، ص۸۳</ref> اس کے بعد سے ان دونوں کے درمیان روابط بطور کلی قطع ہو گئے اور حتی شیخ کے پاس آنے جانے والوں پر بھی نظر رکھی جانے لگی۔<ref>حائری یزدی، مهدی، ص۶۵</ref>


البتہ بعض افراد نے ان کے بہت سے سیاسی مسائل اور حکومت معاملات میں ٹکراو سے اجتناب اور دوری کا مہم ترین سبب حوزہ علمیہ قم کے تحفظ کا اہتمام ذکر کیا ہے۔ ان کے نظریات کے مطابق شیخ حائری آگاہی رکھتے ہوئے اور متوجہ ہوئے بھی حکومت سے مربوط معاملات میں وارد نہیں ہوتے تھے۔ چونکہ ان کا ماننا تھا کہ ایسے دور اور حالات میں رضا شاہ پہلوی کے مقابلہ میں موقف اختیار کرنے کا نتیجہ سوائے حوزہ علمیہ قم کی تباہی اور بربادی کے کچھ نہ ہوتا۔ لہذا انہوں نے نہایت دور اندیشی، درایت، برد باری کے ساتھ عمل کرتے ہوئے ایران میں حوزہ بلکہ دین و مذہب کی حیات کو باقی رکھا۔
البتہ بعض افراد نے ان کے بہت سے سیاسی مسائل اور حکومت معاملات میں ٹکراو سے اجتناب اور دوری کا مہم ترین سبب حوزہ علمیہ قم کے تحفظ کا اہتمام ذکر کیا ہے۔ ان کے نظریات کے مطابق شیخ حائری آگاہی رکھتے ہوئے اور متوجہ ہوئے بھی حکومت سے مربوط معاملات میں وارد نہیں ہوتے تھے۔ چونکہ ان کا ماننا تھا کہ ایسے دور اور حالات میں رضا شاہ پہلوی کے مقابلہ میں موقف اختیار کرنے کا نتیجہ سوائے حوزہ علمیہ قم کی تباہی اور بربادی کے کچھ نہ ہوتا۔ لہذا انہوں نے نہایت دور اندیشی، درایت، برد باری کے ساتھ عمل کرتے ہوئے ایران میں حوزہ بلکہ دین و مذہب کی حیات کو باقی رکھا۔<ref>شریف رازی، ج۱، ص۲۹ ـ ۳۰، ۵۳ ـ ۵۴؛ امینی، اهتمام...، ص۱۹۸</ref>


==تالیفات==
==تالیفات==
سطر 174: سطر 174:
عبد الکریم حائری کی مہم ترین کتاب درر الفوائد ہے جسے درر الاصول بھی کہا جاتا ہے۔ اس تالیف میں ایک طرف تو ان کے استاد فشارکی کے اصولی ریشہ اور مبانی کا تذکرہ کیا گیا ہے تو دوسری طرف اس میں آخوند خراسانی کے مہم ترین اصولی آرا و نظریات بیان کئے گئے ہیں۔
عبد الکریم حائری کی مہم ترین کتاب درر الفوائد ہے جسے درر الاصول بھی کہا جاتا ہے۔ اس تالیف میں ایک طرف تو ان کے استاد فشارکی کے اصولی ریشہ اور مبانی کا تذکرہ کیا گیا ہے تو دوسری طرف اس میں آخوند خراسانی کے مہم ترین اصولی آرا و نظریات بیان کئے گئے ہیں۔


ان کے اپنے اظہار کے مطابق انہوں نے اس کتاب کی پہلی جلد میں اپنے استاد فشارکی اور دوسری جلد میں آخوند خراسانی کے نظریات سے استفادہ کیا ہے۔  
ان کے اپنے اظہار کے مطابق انہوں نے اس کتاب کی پہلی جلد میں اپنے استاد فشارکی اور دوسری جلد میں آخوند خراسانی کے نظریات سے استفادہ کیا ہے۔<ref>طبسی، ص۶۳</ref>


ان کے بعض شاگردوں جیسے میرزا محمود آشتیانی، میرزا محمد ثقفی، محمد علی اراکی و سید محمد رضا گلپایگانی نے ان کی کتاب درر الفوائد پر تعلیقات لکھی ہیں۔ جن میں سے بعض طبع ہو چکی ہیں۔
ان کے بعض شاگردوں جیسے میرزا محمود آشتیانی، میرزا محمد ثقفی، محمد علی اراکی و سید محمد رضا گلپایگانی نے ان کی کتاب درر الفوائد پر تعلیقات لکھی ہیں۔ جن میں سے بعض طبع ہو چکی ہیں۔<ref>کریمی جهرمی، ص۱۰۳ ـ ۱۰۵</ref>


قم میں قیام کے دوران بیحد مشغول رہنے کے سبب انہیں تالیف کتب کا موقع کم فراہم ہوا۔ اس کے باوجود انہوں نے گرانقدر کتب تالیف کی ہیں جنہیں چار قسموں میں بیان کیا جا سکتا ہے:  
قم میں قیام کے دوران بیحد مشغول رہنے کے سبب انہیں تالیف کتب کا موقع کم فراہم ہوا۔ اس کے باوجود انہوں نے گرانقدر کتب تالیف کی ہیں جنہیں چار قسموں میں بیان کیا جا سکتا ہے:  


تالیفات: ان کی پانچ تالیفات ذکر ہوئی ہیں جن کے اسمائ یہ ہیں: درر الفوائد، کتاب النکاح، کتاب الرضاع، کتاب المواریث اور کتاب الصلوۃ۔
تالیفات: ان کی پانچ تالیفات ذکر ہوئی ہیں جن کے اسمائ یہ ہیں: درر الفوائد، کتاب النکاح، کتاب الرضاع، کتاب المواریث اور کتاب الصلوۃ۔<ref>کریمی جهرمی، ص۹۹ ـ ۱۰۱</ref>


کتب فقہی پر حواشی: جیسے سید محمد کاظم یزدی کی کتاب العروۃ الوثقی اور ملا مہدی نراقی کی تالیف انیس التجار پر حاشیے۔
کتب فقہی پر حواشی: جیسے سید محمد کاظم یزدی کی کتاب العروۃ الوثقی اور ملا مہدی نراقی کی تالیف انیس التجار پر حاشیے۔<ref>آقا بزرگ طهرانی، الذریعه، ج۲، ص۴۵۳ و ج۲۰، ص۱۵ و ج۲۲، ص۴۰۵ ـ ۴۰۶ و ج۲۵، ص۸۷</ref>


اپنے اساتذہ کے دروس پر تقریرات لکھنا: اس کے ضمن فقط ان کے استاد فشارکی کے اصول فقہ کے دروس کی تقریرات ذکر ہوئی ہیں۔
اپنے اساتذہ کے دروس پر تقریرات لکھنا: اس کے ضمن فقط ان کے استاد فشارکی کے اصول فقہ کے دروس کی تقریرات ذکر ہوئی ہیں۔<ref>آقا بزرگ طهرانی، الذریعه...، ج۴، ص۳۷۸</ref>


ان کے دروس کی تقریرات: ان تقریرات کو ان کے شاگردوں نے تحریر کیا ہے: جیسے رسالۃ الاجتہاد والتقلید، کتاب البیع و کتاب التجارۃ، یہ تینوں کو محمد علی اراکی نے تدوین کیا ہے اور ان کے دروس کی تقریرات کو سید محمد رضا گلپایگانی و میرزا محمود آشتیانی نے تحریر کیا ہے۔
ان کے دروس کی تقریرات: ان تقریرات کو ان کے شاگردوں نے تحریر کیا ہے: جیسے رسالۃ الاجتہاد والتقلید، کتاب البیع و کتاب التجارۃ، یہ تینوں کو محمد علی اراکی نے تدوین کیا ہے اور ان کے دروس کی تقریرات کو سید محمد رضا گلپایگانی و میرزا محمود آشتیانی نے تحریر کیا ہے۔<ref>کریمی جهرمی، ص۱۰۵</ref>


توضیح المسائل اور کتب فتاوی: جیسے ذخیرۃ المعاد، مجمع الاحکام، مجمع المسائل، منتخب الرسائل، وسیلۃ النجات اور مناسک حج بطور مستقل ذکر ہوئی ہیں۔
توضیح المسائل اور کتب فتاوی: جیسے ذخیرۃ المعاد، مجمع الاحکام، مجمع المسائل، منتخب الرسائل، وسیلۃ النجات اور مناسک حج بطور مستقل ذکر ہوئی ہیں۔<ref>    آقا بزرگ طهرانی، الذریعه، ج۲، ص۴۵۳ و ج۲۰، ص۱۵ و ج۲۲، ص۴۰۵ ـ ۴۰۶ و ج۲۵، ص۸۷</ref>


==گوشہ عکس==
==گوشہ عکس==
گمنام صارف