مندرجات کا رخ کریں

"حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا" کے نسخوں کے درمیان فرق

imported>E.musavi
imported>E.musavi
سطر 67: سطر 67:


==سیاسی موقف==
==سیاسی موقف==
حضرت فاطمہؑ کی مختصر زندگی میں مختلف معاشرتی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی موقف بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ [[ہجرت مدینہ]]، [[غزوہ احد|جنگ احد]]،<ref> ابن ‌کثیر، السیرہ النبویہ، 1396ھ، ج3، ص58۔</ref> [[غزوہ خندق|جنگ خندق]] کے موقع پر زخمیوں کی دیکھ بھال، مجاہدین تک جنگی سازو سامان کی ترسیل اور <ref> طبرسی، مجمع البیان فی تفسیرالقرآن، 1415ھ، ج8، ص125-135۔</ref> [[فتح مکہ]]<ref> واقدی، المغازی، 1409ھ، ج2، ص635۔</ref> کے موقع پر آپ کی موجودگی سماجی سرگرمیوں میں سے ہیں لیکن آپ کے سیاسی موقف کا اظہار پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مختصر عرصے میں اسلامی حکومت کے سیاسی منظر نامے پر حضرت فاطمہؑ کا سیاسی موقف کچھ یوں دیکھنے میں آیا:<blockquote>[[واقعہ سقیفہ بنی‌ ساعدہ|سقیفہ بنی ساعدہ]] میں [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|پیغمبر اکرمؐ]] کے بعد [[ابوبکر بن ابی‌ قحافہ|ابوبکر]] کی بطور [[خلافت|خلیفہ]] تقرری کے بعد ان کی بیعت سے انکار، [[مہاجرین]] و [[انصار]] کے سرکردہ لوگوں سے خلافت کیلئے [[امام علیؑ]] کی برتری کا اقرار لینا، [[باغ فدک]] کی دوبارہ مالکیت کے لئے سعی و کوشش، [[مسجد نبوی]] میں [[مہاجرین]] و [[انصار]] کی بھری محفل سے خطاب اور دروازے پر مخالفین کے حملے کے وقت حضرت علیؑ کا دفاع۔ محققین کے مطابق [[پیغمبر اکرمؐ]] کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہؑ نے جس رد عمل کا اظہار فرمایا ہے وہ حقیقت میں ابوبکر اور ان کے حامیوں کی جانب سے خلافت کے غصب کئے جانے پر اعتراض اور احتجاج تھا۔<ref> فرہمند پور، «سیرہ سیاسی فاطمہ»، ص309-316۔</ref></blockquote>
حضرت فاطمہؑ کی مختصر زندگی میں مختلف معاشرتی سرگرمیوں کے علاوہ سیاسی موقف بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ [[ہجرت مدینہ]]، [[غزوہ احد|جنگ احد]]،<ref> ابن ‌کثیر، السیرہ النبویہ، 1396ھ، ج3، ص58۔</ref> [[غزوہ خندق|جنگ خندق]] کے موقع پر زخمیوں کی دیکھ بھال، مجاہدین تک جنگی ساز و سامان کی ترسیل اور<ref> طبرسی، مجمع البیان فی تفسیرالقرآن، 1415ھ، ج8، ص125-135۔</ref> [[فتح مکہ]]<ref> واقدی، المغازی، 1409ھ، ج2، ص635۔</ref> کے موقع پر آپ کی موجودگی سماجی سرگرمیوں میں سے ہیں لیکن آپ کے سیاسی موقف کا اظہار پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مختصر عرصے میں اسلامی حکومت کے سیاسی منظر نامے پر حضرت فاطمہؑ کا سیاسی موقف کچھ یوں دیکھنے میں آیا:<blockquote>[[واقعہ سقیفہ بنی‌ ساعدہ|سقیفہ بنی ساعدہ]] میں [[محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|پیغمبر اکرمؐ]] کے بعد [[ابوبکر بن ابی‌ قحافہ|ابوبکر]] کی بطور [[خلافت|خلیفہ]] تقرری کے بعد ان کی بیعت سے انکار، [[مہاجرین]] و [[انصار]] کے سرکردہ لوگوں سے خلافت کیلئے [[امام علیؑ]] کی برتری کا اقرار لینا، [[باغ فدک]] کی دوبارہ مالکیت کے لئے سعی و کوشش، [[مسجد نبوی]] میں [[مہاجرین]] و [[انصار]] کی بھری محفل سے خطاب اور دروازے پر مخالفین کے حملے کے وقت حضرت علیؑ کا دفاع۔ محققین کے مطابق [[پیغمبر اکرمؐ]] کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہؑ نے جس رد عمل کا اظہار فرمایا ہے وہ حقیقت میں ابوبکر اور ان کے حامیوں کی جانب سے خلافت کے غصب کئے جانے پر اعتراض اور احتجاج تھا۔<ref> فرہمند پور، «سیرہ سیاسی فاطمہ»، ص309-316۔</ref></blockquote>
===سقیفہ کی مخالفت===
===سقیفہ کی مخالفت===
{{اصلی|واقعہ سقیفہ بنی‌ ساعدہ}}
{{اصلی|واقعہ سقیفہ بنی‌ ساعدہ}}
سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے حوالے سے منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وہاں پر موجود [[صحابہ]] کی جانب سے [[ابوبکر بن ابی‌ قحافہ|ابوبکر]] کی بعنوان [[خلیفہ]] بیعت کے بعد حضرت فاطمہؑ نے حضرت علیؑ اور بعض صحابہ مانند [[طلحۃ بن عبیداللہ|طلحہ]] اور [[زبیر بن عوام|زبیر]] کے ساتھ مل کر صحابہ کے اس اقدام کی مخالفت کی<ref> ابن‌ ابی ‌الحدید، شرح نہج‌ البلاغۃ، 1378ھ، ج1، ص123۔</ref> کیونکہ [[حجۃ الوداع]] کے موقع پر [[غدیر خم]] کے مقام پر [[پیغمبر اکرمؐ]] نے امام علیؑ کو اپنا جانشین معین فرمایا تھا۔<ref> امینی، الغدیر، ج1، ص33۔</ref> تاریخی شواہد کے مطابق حضرت فاطمہؑ حضرت علیؑ کے ہمراہ چیدہ چیدہ اصحاب کے گھروں میں جاتیں، ان سے مدد اور نصرت طلب کرتی تھیں۔ صحابہ آپ کی اس درخواست کے جواب میں کہتے اگر ابوبکر کی [[بیعت]] سے پہلے یہ مطالبہ کرتے تو ہم علیؑ کی حمایت کرتے لیکن اب ہم ابوبکر کی بیعت کر چکے ہیں۔ جب صحابہ [[امام علی علیہ السلام|حضرت علیؑ]] کی حمایت سے انکار کرتے تو آپ انہیں خبردار کرتیں کہ ابوبکر کی بیعت [[خدا]] کی ناراضگی اور عذاب کا باعث ہے۔<ref> ابن ‌قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسۃ، 1380شمسی، ص28۔</ref>
سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے حوالے سے منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وہاں پر موجود [[صحابہ]] کی جانب سے [[ابوبکر بن ابی‌ قحافہ|ابوبکر]] کی بعنوان [[خلیفہ]] بیعت کے بعد آپ نے حضرت علیؑ اور بعض صحابہ مانند [[طلحۃ بن عبیداللہ|طلحہ]] اور [[زبیر بن عوام|زبیر]] کے ساتھ مل کر صحابہ کے اس اقدام کی مخالفت کی<ref> ابن‌ ابی ‌الحدید، شرح نہج‌ البلاغۃ، 1378ھ، ج1، ص123۔</ref> کیونکہ [[حجۃ الوداع]] کے موقع پر [[غدیر خم]] کے مقام پر [[پیغمبر اکرمؐ]] نے امام علیؑ کو اپنا جانشین معین فرمایا تھا۔<ref> امینی، الغدیر، ج1، ص33۔</ref> تاریخی شواہد کے مطابق حضرت فاطمہؑ حضرت علیؑ کے ہمراہ چیدہ چیدہ اصحاب کے گھروں میں جاتیں، ان سے مدد اور نصرت طلب کرتی تھیں۔ صحابہ آپ کی اس درخواست کے جواب میں کہتے اگر ابوبکر کی [[بیعت]] سے پہلے یہ مطالبہ کرتے تو ہم علیؑ کی حمایت کرتے لیکن اب ہم ابوبکر کی بیعت کر چکے ہیں۔ جب صحابہ [[امام علی علیہ السلام|حضرت علیؑ]] کی حمایت سے انکار کرتے تو آپ انہیں خبردار کرتیں کہ ابوبکر کی بیعت [[خدا]] کی ناراضگی اور عذاب کا باعث ہے۔<ref> ابن ‌قتیبہ دینوری، الامامۃ و السیاسۃ، 1380شمسی، ص28۔</ref>
===باغ فدک اور خطبۂ فدکیہ===
===باغ فدک اور خطبۂ فدکیہ===
{{اصلی|خطبہ فدکیہ}}
{{اصلی|خطبہ فدکیہ}}
گمنام صارف