مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

نا محرم اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو نسبی، سببی یا رضاعی محرمیت نہ رکھتا ہو۔[1] نا محرم سے پردہ اور نگاہ کے تمام احکام کی رعایت، واجب ہے[2] اور اس سے شادی کرنا حرام نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ کچھ مقامات پر شادی کے حرام ہونے کے باوجود بھی مرد اور عورت ایک دوسرے کے نامحرم ہوتے ہیں۔[3]

مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاعخلعمباراتعقد نکاح
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ

فقہی احکام میں نامحرم پر نگاہ ڈالنے، اس کو چھونے اور اس کے سامنے لباس پہننے کے خاص شرائط ہیں۔ ان ہی میں سے ایک یہ ہے کہ نامحرم مرد کے لئے نامحرم عورت کے بدن پر نظر ڈالنا حرام ہے اور اسی طرح سے اس کے چہرہ کو لذت کی نگاہ سے دیکھنا اور مسلسل اس پر نگاہ ڈالنا بھی حرام ہے۔[4] نامحرم کا بدن چھونا اور اس سے ہاتھ ملانا حرام ہے۔[5]

شیعہ فقہ کے مطابق، جن بعض نامحرموں سے شادی کرنا حرام ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

  1. مرد اپنی سالی سے شادی نہیں کر سکتا ہے جب تک کہ اس کی بیوی زندہ ہو یا اس کی طلاق نہ ہوئی ہو۔[6]
  2. اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو 9 بار طلاق دے دے تو وہ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔[7]
  3. وہ عورت جو عدہ طلاق میں ہونے کے باوجود، کسی مرد سے شادی کرلے۔[8]
  4. شادی شدہ عورت جس نے شوہر ہونے کے باوجود یا شادی شدہ مرد جس نے بیوی ہونے کے باجود، زنا کیا ہو۔[9]
  5. جس سے لواط کیا گیا ہے اس کی ماں، بہن اور بیٹی لواط کرنے والے پر حرام ہو جاتی ہیں۔[10]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. دیکھئے: بنی ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، ۱۳۸۵ش، احکام نکاح۔
  2. دیکھئے: محمودی، مسائل جدید از دیدگاہ علما و مراجع تقلید، ۱۳۷۹ش، ص۲۸۔
  3. دیکھئے: بنی ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، ۱۳۸۵ش، احکام نکاح۔
  4. بنی ‌ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، ۱۳۸۵ش، احکام نکاح، مسالہ ۲۴۳۳۔
  5. نجفی، جواہر الكلام، دار إحياء التراث العربی، ج۲۹، ص۱۰۰۔
  6. بنی ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، ۱۳۸۵ش، احکام نکاح، مسالہ ۲۳۹۰۔
  7. مفيد، المقنعۃ، مؤسسہ نشر اسلامی، ج۱، ص۵۰۱۔
  8. بنی ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، ۱۳۸۵، احکام نکاح، مسالہ ۲۳۹۸۔
  9. بنی ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، ۱۳۸۵ش، احکام نکاح، مسالہ۲۴۰۰۔
  10. بنی ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، ۱۳۸۵ش، احکام نکاح، مسالہ ۲۴۰۵.


منابع

  • بنی‌ ہاشمی خمینی، سید محمد حسن، رسالہ توضیح المسائل سیزدہ مرجع، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۸۵ش۔
  • مفيد، محمد بن محمد، المقنعۃ، قم، مؤسسہ نشر اسلامی، بےتا۔
  • محمودی، سید محسن، مسائل جدید از دیدگاہ علما و مراجع تقلید، قم، ناصر، ۱۳۷۹ش۔
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الكلام، بیروت، دار إحياء التراث العربی، بے تا۔