مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

سنہ 9 ہجری، ہجرت سے شروع ہونے والے کیلنڈر کا نواں سال ہے۔ اس سال مختلف قبائل کی نمائندگی میں بہت سے گروہ اور وفد پیغمبر اکرم (ص) کے پاس مدینہ آئے اور اسلام اور اس کی پیروی کا اظہار کیا۔ اسی سبب اس سال کو سال الوفود (گروہوں کا سال) نام دیا گیا ہے۔

اس سال کا پہلا دن 1 محرم جمعہ بمطابق 23 اپریل 630 عیسوی اور آخری دن دوشنبہ 29 ذی الحجہ بمطابق 11 اپریل 631 عیسوی ہے۔[1]

فہرست

سال 9 ہجری قمری کے واقعات

  • جزیرہ نما عرب کے مختلف قبائل کا اسلام قبول کرنا۔ اسلام لانے والے وفود کی کثرت کے سبب اس سال کا نام سال الوفود پڑ گیا۔[2]
  • غزوہ تبوک میں شرکت سے بعض صحت مند افراد کی بہانہ بازی اور ان کے بارے میں آیات نازل ہونا۔[4]
  • ۶ سریوں کا پیش آنا: سریہ عُیینة بن حِصن فزاری، سریہ ضحاک بن سُفیان کِلابی، وہ سریہ جس میں ثمامہ اسیر ہوا، سریہ عَلقَمة بن مُجَزّز مُدلِجی، سریہ علی بن ابی طالب (ع)، سریہ عُکّاشہ بن مِحصَن۔[5]
  • جنگ میں شرکت سے منافقین کی عہد شکنی اور ان کے سلسلہ میں آیات کا نازل ہونا۔[6]
  • صحابی پیغمبر (ص) اور تاریخ اسلام میں قصہ گوئی کی ثقافت کی ابتداء کرنے والے تمیم بن اوس بن خارجہ داری کا اسلام قبول کرنا۔[8]
  • آیت اخوت کا نزول اور مسلمین کے درمیان عقد اخوت جاری کرنا۔
  • رسول خدا (ص) نے بریدہ بن حصیب کو خراج وصول کرنے کے لئے اسلم اور غفار بھیجا۔
  • اصحاب عقبہ کا واقعہ پیش آیا۔[9]

وفات

  • ام کلثوم بنت رسول اللہ (ص)[13] کی وفات، بعض نے انہیں رسول خدا (ص) کی گود لی ہوئی بیٹی کہا ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. سایٹ تبدیل تاریخ هجری
  2. ابن هشام، السیرة النبویه، ج۲، ص۵۶۰
  3. السیرة النبویة، ج‏۲، ص۵۱۵؛ دلائل النبوة، ج‏۵، ص۴۶۹
  4. توبه: ۴۹؛ سیره ابن هشام، ج۴، ص۱۵۹، به نقل از: آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، ص۵۱۱.
  5. آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، ص۵۰۴ـ۵۱۰.
  6. توبه: ۸۱ـ۸۲. سیره ابن هشام، ج۴، ص۱۶۰، به نقل از: آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، ص۵۱۱.
  7. مفید، ارشاد، ص۷۰، به نقل از: آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، ص۵۱۵.
  8. نک: ابن حجر، فتح الباری، ج ۲۱، ص۳۹؛ ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج ۲، ص۴۴۸.
  9. تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۶۸ و التنبیه و الاشرف، ص۲۳۶ و معارف ابن قتیبه، ۳۴۳ و امتاع الاسماع، ج۱، ص۴۷۹ و البدایه و النهایه، ج۵، ص۲۰ و سیره حلبیه، ج۳، ص۱۴۲، به نقل از: آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، ص۵۲۳.
  10. سیره ابن هشام، ج۴، ص۱۷۳ و امتاع الاسماع، ج۱، ص۴۸۰، به نقل از: آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، ص۵۲۴.
  11. مفید، الارشاد، ج۱، صص۱۶۶-۱۷۱.
  12. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۷۸ق، ج۳، ص۹۹.
  13. تاریخ طبری، ج۸، المتخب من کتاب ذیل المذیل، ص۶
  14. الصحیح من سیرة النبی الاعظم، ج۲، ص۲۱۸


منابع

  • قرآن کریم
  • ابن ہشام، عبد الملک، السیرۃ النبویۃ، تحقیق: السقا، مصطفی، الأبیاری، ابراہیم، شلبی، عبد الحفیظ، دار المعرفۃ، بیروت، چاپ اول، بی ‌تا
  • بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین، دلائل النبوۃ و معرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ، تحقیق: قلعجی، عبد المعطی، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، چاپ اول، ۱۴۰۵ ق
  • مفید، الارشاد، تحقیق: مؤسسۃ آل البیت (علیہم السلام) لاحیاء التراث، قم: المؤتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، ۱۴۱۳ ق
  • آیتی، محمد ابراہیم، تاریخ پیامبر اسلام محمد، با تجدید نظر و اضافات ابوالقاسم گرجی، چ۶، تہران، مؤسسہ انتشارات و چاپ دانشگاہ تہران، ۱۳۷۸ ش
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، دارالحدیث، قم، ۱۴۲۶ق/۱۳۸۵ ش
  • بلاذری، أحمد بن یحیی، جمل من انساب الأشراف، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶ ع
  • طبری، تاریخ الأمم و الملوک‏، دوم، بیروت، دار التراث‏، ۱۳۷۸ ق