مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

تبدیلیاں

محمد بن عمر کشی

34 بائٹ کا اضافہ، 21:50، 31 جولائی 2018ء
کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
}}
'''ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی'''، کشی کے لقب سے معروف علمائ علمائے شیعہ میں سے ہیں۔ نقل حدیث کے سلسلہ کی معتبر شخصیت اور ماہر علم رجال ہیں۔
==سوانح عمری==
ابو عمر محمد بن عمر بن عبد العزیز کا لقب کشی ہے۔ ان کا تعلق کش (ما ورائ وراء النہر کا ایک شہر جو نخشب سے نزدیک اور سبز کے نام سے مشہور ہے) سے ہے۔<ref>«کش»، لغت‌ نامه دهخدا</ref> یہ علاقہ اس وقت ریاست ازبکستان کے جنوب میں واقع ہے۔
چوتھی صدی ہجری کے نیمہ اول میں کشی [[شیخ کلینی]] کے معاصر ہیں اور ان کے اور [[شیخ کلینی]] کے بہت سے اساتذہ اور تلامذہ مشترک ہیں۔<ref>اختیار معرفه معرفت الرجال، مقدمه، مقدمہ، ص۴</ref> ان کی وفات ۳۴۰ ہجری قمری کے قریب ذکر کی گئی ہے۔<ref>حسینی دشتی، معارف و معاریف، ج۸، ص۵۱۶؛ نقل از تنقیح المقال و اعلام زرکلی.</ref>
==نقل حدیث میں مقام==
شیعوں کی رجالی کتب اور منابع میں کشی کو ایک ثقہ و معتبر راوی، روایات اور علم رجال سے آگاہ اور صاحب علم کثیر ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ ان سب کے باوجود اس بات پر بھی تاکید کی گئی ہے کہ انہوں نے ضعیف راویوں سے بھی روایات نقل کی ہیں۔<ref>الفهرست، الفہرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصه ص۴۹۷خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶؛ رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتهی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref>
==مذہب==
علمائے رجال نے کشی کے مسلک کے بارے حسن الاعتقاد و مستقیم المذہب جیسی تعبیرات استعمال کی ہیں کہ جو ان کے شیعہ ہونے کو بیان کرتی ہیں۔<ref>الفهرست، الفہرست، طوسی، ص۱۴۱؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷ خلاصه خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتهی منتہی المقال، ابوعلی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref> [[نجاشی]] کہتے ہیں: کشی نے [[عیاشی]] کے گھر میں علم حاصل کیا ہے جو شیعوں کی رفت و آمد کا مقام تھا۔ <ref>رجال نجاشی، ص۳۷۲، نقل از منتہی المقال، ابوعلی ابو علی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref>
==مشایخ و اساتذہ==
کشی کے استاد کے طور پر فقط [[عیاشی]] کا نام ذکر کیا گیا ہے<ref>رجال نجاشی، ص۳۷۲؛ رجال شیخ طوسی، ص۴۹۷خلاصه ص۴۹۷خلاصہ الاقوال، حلی، ص۱۴۶ نقل از منتهی منتہی المقال، ابوعلی ابو علی حائری، ج۶، ص۱۴۴</ref> اور ان کے دوسرے اساتذۃ کے نام کا کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔ البتہ ان کے بعض مشایخ، جن سے انہوں نے روایات نقل کی ہیں، کا شمار ان کے استادوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ان میں بعض وہ جن کے اسما خود رجال کشی میں ذکر ہوئے ہیں، ذیل الذکر ہیں:
{{ستون آ|2}}
*آدم بن محمد قلانسی بلخی
==تالیف==
کشی [[اختیار معرفۃ الرجال|معرفۃ الناقلین عن الائمۃ الصادقین]] نامی کتاب کے مولف ہیں۔ جس میں رجال [[شیعہ ]] و غیر شیعہ کو جمع کیا گیا ہے اور [[شیخ طوسی]] نے اس کا خلاصہ [[اختیار معرفۃ الرجال]] کے نام سے کیا ہے۔ اس وقت صرف وہی خلاصہ موجود ہے اور اصل کتاب دسترسی میں نہیں ہے۔<ref>الامین، اعیان الشیعة، الشیعo، ج۱۰، ص ۲۷-۲۸.</ref>
==حوالہ جات==
*ابو علی حائری، منتهی المقال، اول، موسسه آل البیت، قم، ۱۴۱۶ق.
*طوسی، اختیار معرفه الرجال، مقدمه حسن مصطفوی، دانشگاه مشهد، ۱۳۴۸ش.
 
{{علمائے رجال}}
[[fa:محمد بن عمر کشی]]
16,429
ترامیم