مرکزی مینیو کھولیں

ویکی شیعہ β

بہشت آدم، خلقت کی ابتداء میں حضرت آدم اور حَوّا کا محل سکونت ہے۔ قرآن کی تین سورتوں میں اس کا تذکرہ آیا ہے۔ حضرت آدم و حوا کو اس بہشت میں بہت سارے نعمتوں سے منعم ہونے کے ساتھ ساتھ دو چیزوں سے ممانعت کی گئی تھی وہ شجرہ ممنوعہ کے نزدیک نہ جانا اور اس کا پھل نہ کھانا تھا۔ لیکن حضرت آدم و حوا شیطان کے وسوسے میں آکر شجرہ ممنوعہ کے قریب گئے اور اس کا پھل کھائے جس کے نتیجے میں انہیں بہشت سے نکالے گئے۔

بہشت آدم کے بارے میں تین نظریے پائے جاتے ہیں: 1- زمین پر ایک باغ، 2- آسمانوں میں برزخی بہشت 3- وہی بہشت موعود۔

فہرست

بہشت آدم کی کیفیت

جس بہشت میں حضرت آدم و حوا کو ابتدائے خلقت میں رکھا گیا تھا اس کے بارے میں تین نظریات پائے جاتے ہیں:

  • زمین پر ایک باغ: بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ جس بہشت میں حضرت آدم و حَوّا کو رکھا گیا تھا وہ زمین پر ایک سرسبز و شاداب باغ تھا۔ اس بہشت کے زمینی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ بہشت موعود میں شیطان کا داخلہ ممنوع ہے اس بنا پر وہاں پر شیطانی وسوسے کا امکان نہیں جس سے انسان سے غلطی کا امکان بھی ختم ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب انسان بہشت موعود میں داخل ہو جاتا ہے تو وہ وہاں پر ہمیشہ کے لئے رہیں گے وہاں سے باہر نہیں نکالا جائے گا جبکہ حضرت آدم ایک دو شیطان کے وسوسے میں آئے دوسری بات ان کو وہاں سے نکالا گیا۔ بعض احادیث میں بھی بہشت آدم کا بہشت آخرتی نہ ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[1]
  • بہشت موعود: بعض احادیث کے مطابق بہشت آدم وہی بہشت اخروی تھا۔[2] بعض در نہج البلاغہ میں امام علیؑ کے پہلے خطبے سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام علیؑ فرماتے ہیں: "خدا نے حضرت آدم کو وعدہ دیا تھا کہ اسے دوبارہ بہشت میں لوٹا دیا جائے گا۔"[3] اس عبارت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کو بہشت میں دوبارہ لوٹا دئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہاں پر پہلے بھی موجود تھا اور دوسری طرف سے سب جانتے ہیں کہ حضرت آدم آئنده جس بہشت میں جائیں گے وہ آخرتی بہشت ہی ہے۔[4]
  • بہشت برزخی: اس سلسلے میں موجود تیسرا نظریہ یہ ہے کہ بہشت آدم نہ بہشت موعود تھی اور نہ زمین پر کوئی باغ بلکہ یہ دنیا اور آخرت کے درمیان میں برزخی بہشت تھی۔ اس بہشت میں بہشت آخرتی کی بعض خصوصیات جیسے دایمی شادابی، بھوک اور پیاس کی تکلیف کا نہ ہونا، گرمی اور سردی کا نہ ہونا وغیره اسی طرح بعض زمینی خصوصیات بھی اس میں تھی جیسے شیطان اور اس کے وسوسے کا موجود ہونا۔ یہ نظریہ حقیقت میں پہلے اور دوسرے نظریے کا جمع ہے۔[5]

قرآن میں بہشت آدم کا تذکرہ

قرآن میں سورہ بقرہ، اعراف اور طہ میں حضرت آدم و حوا کی خلقت کا تذکرہ کرتے ہوئے بہشت آدم کا بھی ذکر آیا ہے۔[6] قرآنی آیات کے مطابق حضرت آدم و حوا کا پہلا محل سکونت بہشت ہے۔

بہشت آدم میں شجرہ ممنوعہ

تفصیلی مضمون: شجرہ ممنوعہ

جب حضرت آدم و حوا بہشت میں مستقر ہو گئے تو ان کو درخت ممنوعہ کے قریب نہ جانے اور اس کا پھل نہ کھانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن شیطان کے وسوسے میں آکر انہوں نے اس درخت کا پھل کھا لئے۔ اس نافرمانی کی وجہ سے حضرت آدم و حوا کے جسم سے ان کا لباس اتر گیا اور وہ بہشت سے بھی نکالے گئے۔ میوہ ممنوعہ کی داستان کا تذکرہ قرآن میں تین جگہوں پر آیا ہے۔ تورات میں بھی مختلف انداز میں اس واقعے کا ذکر کیا گیا ہے۔ درخت ممنوعہ کی ماہیت کے بارے میں کئی نظریے پائے جاتے ہیں: بعض مفسرین درخت کے ظاہری معنی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے گندم،[7] انگور،[8] انجیر،[9] کھجور،[10] ترنج،[11] کافور[12] اور بیر قرار دیتے ہیں۔[13] جبکہ بعض مفسرین درخت کی تأویل کرتے ہوئے اسے حسد اور علم قرار دیتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. فخر رازی، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، ۱۴۲۰ق، ج۳، ص۴۵۲۔
  2. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۱، ص۱۴۳۔
  3. شریف الرضی، نہج البلاغہ، ۱۴۱۳ق، خطبہ اول، ص۱۰۔
  4. بہشتی کہ آدم در آن سکونت داشت کدام بہشت است؟ پایگاہ اینترنتی اسلام کوئست۔
  5. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۱، ص۱۳۲۔
  6. سورہ بقرہ، آیہ ۳۵؛ سورہ اعراف، آیہ ۱۹ و ۲۰؛ سورہ طہ، آیہ ۱۱۵، ۱۱۷ و ۱۲۰۔
  7. ابن کثیر، تفسیر القرآن، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۸۳؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۶۹؛ طبری، جامع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۰؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۲۰۔
  8. طبری، جامع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۲؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۲۰؛ مجلسی، بحارالأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۱، ص۱۶۵۔
  9. طبری، جامع البیان، ۱۴۱۵ق، ج۱، ص۳۳۳؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۲۰؛ مجلسی، بحارالأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۱، ص۱۶۵۔
  10. سیوطی، الدرالمنثور، ۱۹۸۳م، ج۱، ص۵۳۔
  11. سیوطی، الدر المنثور، ۱۹۸۳م، ج۱، ص۵۳۔
  12. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۲۰۔
  13. حسن بن علی العسکری (ع)، التفسیر المنسوب إلی الإمام ابی محمد الحسن بن علی العسکری(ع)، ۱۴۰۹ق، ص۲۲۲؛ مجلسی، بحارالأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۱، ص۱۹۰۔


مآخذ

  • ابن‌کثیر، ابوالفداء اسماعیل الدمشقی، تفسیر القرآن العظیم، با مقدمہ دکتر عبدالرحمن المرعشلی، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۴۱۲ق۔
  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، تحقیق محمد جعفر یاحقی و دکتر محمدمہدی ناصح، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، ۱۴۰۸ق۔
  • حسن بن علی العسکری (ع)، التفسیر المنسوب إلی الإمام ابی محمد الحسن بن علی العسکری (ع)، قم ، مدرسۃ الإمام المہدی، ۱۴۰۹ق۔
  • سیوطی، جلال الدین عبدالرحمن، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، بیروت، دارالفکر، ۱۹۸۳م۔
  • شریف الرضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، تحقیق: عزیزاللہ عطاردی قوچانی، تہران، بنیاد نہج البلاغہ، ۱۴۱۳ق۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان، فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ اعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۳ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۵ق۔
  • طبری، ابوجعفر محمد بن جریر، جامع البیان عن تأویل آی القرآن، با مقدمہ خلیل المیس، تحقیق صدقی جمیل العطار، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۵ق۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق۔
  • مجلسی، محمّد باقر، بحارالأنوار، بیروت، الوفاء، ۱۴۰۳ق۔
  • بہشتی کہ آدم در آن سکونت داشت کدام بہشت است؟ پایگاہ اسلام کوئست۔ تاریخ ثبت: ۱۳۹۳/۰۶/۰۹ش، تاریخ بازدید: ۱۳۹۶/۰۲/۱۰ش۔